قمر جلالوی اس تیرے سر کی قسم فرق سرِ مو بھی نہیں

اس تیرے سر کی قسم فرق سرِ مو بھی نہیں​
جس قدر ہم ہیں پریشاں ترے گیسو بھی نہیں​
موت نے کتنا کج اخلاق بنایا ہے مجھے​
لوگ روتے ہیں مری آنکھ میں آنسو بھی نہیں​
رات بھر جلنا ہے آ جا ادھر اے پروانے​
قابلِ رحم یہاں میں بھی نہیں، تو بھی نہیں​
اب تو دامن پہ لہو ہے، کہو کیا کہتے ہو​
اب تو انکارِ ستم کا کوئی پہلو بھی نہیں​
جا تجھے ہم نے بس اے عمرِ رواں دیکھ لیا​
ہم تجھے اپنا سمجھتے تھے مگر تو بھی نہیں​
میری میت پہ یہ اظہارِ الم رہنے دے​
رونے والے تری آنکھوں میں تو آنسو بھی نہیں​
دلِ مایوس میں احساسِ خودی تک نہ رہا​
ایسا مرجھا گیا یہ پھول کہ خوشبو بھی نہیں​
سوچتا ہوں یہ کہ دنیا میں اندھیرا کیوں ہے​
تیرے چہرے پہ تو بکھرے ہوئے گیسو بھی نہیں​
کتنا ہمدرد ہے ہمدردیِ رہبر دیکھو​
کارواں لٹ گیا اور آنکھ میں آنسو بھی نہیں​
اے قمرؔ شب کے اندھیرے میں لحد ہے میری​
شمعِ تربت تو بڑی چیز ہے جگنو بھی نہیں​
 
سید شہزاد ناصر سرکار! لاجواب کلام منتخب کیا ہے
سدا آباد رہیں
اے قمرؔ شب کے اندھیرے میں لحد ہے میری
شمعِ تربت تو بڑی چیز ہے جگنو بھی نہیں
واہ کیا بات ہے
آداب عرض ہے حضور :)
پسند کرنے کا شکریہ
اللہ آپ کو ڈھیروں خوشیاں دے آمین
محترم ایک نظر ادھر بھی ڈالیں
http://www.urduweb.org/mehfil/threads/کب-میرا-نشیمن-اہل-چمن،-حبیب-ولی-محمد.65143/
 

سید زبیر

محفلین
سر ! بالکل صحیح ، اب تو
غنچے بھی اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں
غالبآ سن انہتر میں حبیب ولی محمد ٹی وی پر بہت آیا کرتے تھے ۔ کیا جادو ہے ان کی آواز میں ۔ وہ دور تھا سر!
راتیں تھیں چاندنی جوبن پہ تھی بہار
 
سر ! بالکل صحیح ، اب تو
غنچے بھی اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں
غالبآ سن انہتر میں حبیب ولی محمد ٹی وی پر بہت آیا کرتے تھے ۔ کیا جادو ہے ان کی آواز میں ۔ وہ دور تھا سر!
راتیں تھیں چاندنی جوبن پہ تھی بہار
کیا دور تھا وہ بھی :)
حبیب ولی محمد فریدہ خانم اقبال بانو استاد امانت علی خان
آپ کو مشہور پروگرام نکھار تو یاد ہو گا
اپنے وقت کا مقبول ترین پروگرام تھا :)
 

طارق شاہ

محفلین
اس ترے سر کی قسم فرق سرِ مُو بھی نہیں
جس قدر ہم ہیں پریشاں ترے گیسو بھی نہیں

سوچتا ہوں یہ کہ دنیا میں اندھیرا کیوں ہے
تیرے چہرے پہ تو بکھرے ہوئے گیسو بھی نہیں
کیا ہی اچھا ہے صاحب!
بہت لطف دیا انتخاب نے، تشکّر شیئر کرنے کا
بہت خوش رہیں
 
اس ترے سر کی قسم فرق سرِ مُو بھی نہیں
جس قدر ہم ہیں پریشاں ترے گیسو بھی نہیں

سوچتا ہوں یہ کہ دنیا میں اندھیرا کیوں ہے
تیرے چہرے پہ تو بکھرے ہوئے گیسو بھی نہیں
کیا ہی اچھا ہے صاحب!
بہت لطف دیا انتخاب نے، تشکّر شیئر کرنے کا
بہت خوش رہیں
آداب عرض پے :)
 
Top