ارفع کریم : اپنی آنکھیں کھول، سوئے منزل چل

سید زبیر

محفلین
دور کہیں تنہا ایک پرندہ تھا انگشت بدنداں
سوچتا تھا کہ یہ لوگ کیوں ہیں اتنے ناداں
​
جانتے ہوئے بھی کہ جانا ہے اُس کے پاس
کیوں نہیں‌آتے یہ بُرے کاموں سے باز
​
اے حضرتِ انساں تو راہِ راست پر نہیں ہے
جانا ہے کہیں اور تُو کہیں‌اور ہے
​
اپنی آنکھیں کھول، سوئے منزل چل
کہ آ رہا ہےترے سامنے ایک نیا کل
​
: ارفع کریم​
​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top