اردو کا مستقبل، امکانات اور اندیشے

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

ماوراء

محفلین
اردو کا مستقبل، امکانات اور اندیشے

سنجے گوڈ بولے
کرشن مھشیوری​


اردو ہے جسکا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
ہندوستان میں دھوم ہماری زبان کی ہے​


میری آج کی گفتگو جس قدر محدود ہے اسکا اتنا ہی وسیع و لا محدود ہے۔ براہِ راست اس موضوع پر گفتگو کرنے سے قبل میں ‘ اردو زبان‘ کی مختصر تارخ بیان کرتا چلوں۔ زبان کے طور پر لفظ ‘اردو‘ ابھی کمسن اور نسبتاً نو عمر ہے۔ پرانے زمانے میں ‘اردو‘ نام کی کوئی زبان نہیں، جو لوگ قدیم اردو کی اصلاح استعمال کرتے ہیں وہ لسانی اور تاریخی اعتبار سے نادرست ہے۔

اردو کا نام​
بقول شمس الرحمٰن فاروقی: زبان کی حیثیت سے لفظ ‘اردو‘ پہلی بار ١٧٨٠ء کے آس پاس استعمال ہوا۔ اتفاق یہ کہ اولین استعمال کی تمام کی تمام، یا تقریباً تمام مثالیں صفحی ہی کے یہاں ہیں۔ دیوان اول ہی میں ہے۔

البتہ مصفحی کو ہے ریختے میں دعویٰ
یعنی کے ہے زبان داں اردو کی زبان کا​

اغلب ہے کہ یہاں ‘اردو‘ سے ‘ شاہجہان آباد کا شہر‘ مراد ہے نہ کہ ‘اردو زبان‘۔ فقرہ ‘اردو کی زبان‘ کے معنی وہ زبان سمجھنا جسکا نام ‘اردو‘ ہے اسی وقت صیحح ہو گا جب یہ یقین ہو کہ لفظ ‘اردو‘ کو ‘شاہجہان آباد‘ کے معنی میں نہیں استعمال کیا گیا ہے۔ شمال کے لوگ عرصہ دراز تک ‘اردو‘ کو ‘شاہجہان آباد‘ کے معنی میں بولتے تھے اور ‘زبان اردو‘ سے بعض اوقات ‘ فارسی‘ بھی مراد لی گئی ہے۔ خیر مصحفی کے دیوان چہارم (مرتبہ تقریباً ١٧٩٦ء) میں جو استعمال ہے وہ صاف طور پر ‘زبان اردو‘ کے معنی میں ہے۔ لکھنوء والوں کی شکایت میں مصحفی ایک مخمس میں کہتے ہیں :

ہر جائے گوش چشم بناناک کان کو
اپنی زبان سمجھے ہیں اردو زبان کو​

اسی طرح مصحفی کا ایک غیر مطبوعہ درج ذیل شعر جو علامہ حافظ محمد شیرانی نے اپنے ایک مضمون میں ‘اردو زبان‘ اور اسکے مختلف نام‘ میں درج کیا ہے۔ اس شعر کا زمانہ ١٧٧١ء سے ١٧٧٣ء کے آس پاس کا ہو سکتا ہے۔

خدا رکھے زبان ہم نے سنی ہے میر ومرزا کی
کہیں کس منہ سے ہم اے مصحفی اردو ہماری ہے
جس طرح بچے کی ولادت اور اسکے نام رکھنے کی رسم تک گو خاصہ کم عرصہ ہوتا ہے مگر اس قلیل عرصہ میں بھی اس بچے کو ماں، باپ اور اسکے دیگر احباب کئی ناموں سے پکارتے ہیں۔ اماں کا لال، دادی کا دلارا وغہرہ، اور اسکے اعضاء و حرکات میں اسکے والدین و رشتہ داروں کا وجود تلاش کیا جاتا ہے۔ اور پھر نام تجویز کیا جاتا ہے، اور وہ اسی نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ اردو کا بھی تقریباً کچھ ایسا ہی حال ہے، اسکے نام ‘اردو‘ سے قبل اسے مختلف ناموں سے پکارا، لکھا اور پڑھا گیا۔ اسے شروع میں ‘ہندی‘، ‘دہلوی‘، ‘گجری‘، ‘دکنی‘، اور پھر ‘ریختہ‘، کہا گیا۔ جبکہ برطانوی حکومت کے پیروکاروں نے اپنی لاعلمی، پسند اور سیاسی مصلحت کے طور پر اس زبان کو مختلف ناموں سے یاد کیا۔ انگریزوں کے اس زبان کے لیے دئیے گئے ناموں میں

Hindostanic, Hindostanee, Indostan, Indostans

شامل ہیں۔ ان ناموں سے تقریباً اردو والے نا آشنا تھے۔ (ہاں آجکل دیونا گری میں لکھی اردو کو لوگ ہندوستانی کے نام سے ضرور یاد کرتے ہیں۔ )

ایک اور بات واضح کرتا چلوں کہ ‘ہندی‘ (آج کی جدید ہندی نہیں) ہو کو ‘زبان اردوئے معلٰی، کہا گیا، پھیر دھیرے دھیرے یہ نام گھٹ کر ‘زبان اردو‘ یا ‘اردو کی زبان‘ اور بالآخر ‘اردو‘ رہ گیا۔

اردو کے ہلکے تاریخی اسکیچ کے بعد اب بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ہندوستان میں اٹھارہ قومی زبانوں میں سے ایک اردو ہے، جو سیاسی اور ذاتی وجوہ کی بناء پر الجھی رہتی ہے۔ جبکہ پاکستان میں اردو واحد قومی زبان قبول اور تسلیم کی جا چکی ہے۔ مگر صبائی سطح پر اردو کی حیثیت ایک باندی کی سی ہے۔ اس وقت دنیا کے سو سے زائید ممالک میں کسی نہ کسی مقام پر کوئی نہ کوئی اردو بولنے، لکھنے اور پڑھنے والا موجود ہے۔ یعنی اردو بولنے، لکھنے اور پڑھنے والے ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اردو کی جڑیں، ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک میں ہیں اور اس حقیقت کی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ کوئی بے جڑ پودا تا دیر سلامت نہیں رہ سکتا۔ اس ‘ اردو‘ پودے کی جڑیں تو ہیں، مگر اب اسکی دیکھ بھال، پھیلاؤ کے لئے جڑوں کو پانی اور کھاد کی ضرورت ہے تا کہ یہ نہ صرف رہتی دنیا تک سلامت رہے بلکہ اپنی جڑوں کو مضبوط کرنے کے ساتھ پھول پھل اور گھنا سایہ بھی عطا کرتی رہے۔

اردو کے مسائل​
اردو کی کتابوں کی اشاعت میں ہر سال بتدریج اضافے کے باوجود اردو قارئین کی تعداد میں اضافہ کے بجائے کمی آ رہی ہے۔ مادہ پرستی کے غلبہ سے لیکر ٹی۔ وی چینلز تک اسے کے بہت سے اسباب ہیں۔ آج ہر طرف اردو کے کچھ خود ساختہ سر پرست پیدا ہوگئے ہیں، جنہیں صرف اپنے نام و نمود کی فکر ہے اور انہیں اپنی ناک سے آگے کبھی کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ انہیں اردو زبان اور اسکے مسائل سئ نہ تو کوئی دلچسپی ہے نہ حقیقی آگہی۔ آج اردو کو درپیش مسائل کا رونا رونے سے قبل ہمیں سنجیدگی کے ساتھ سوچنا ہو گا کہ ہم اردو داں اس کے لیے کیا کر رہے ہیں اور کیا کرنا ہے؟ اردو کا ایک مسئلہ اسکی تدریس وتعلیم کے میدان کا سکڑنا بھی ہے۔ آج یہ مسئلہ دن بہ دن زور پکڑتا جا رہا ہے۔ اردو تعلیم و تدریس کو فروغ دینا نہایت ہی اہم، ضروری اور ہمارے اولین اقدامات میں سے ایک ہونا چاہیے۔ کیا قومی اور کیا صوبائی سطح تقریباً آج ہندوستان کے ہر صوبے میں اس مسئلے پر باتیں تو سبھی کرتے ہیں مگر کوئی مثبت عمل نہیں ہو رہا۔ وہی پرانی مگر سچی بات دہرا رہا ہوں کہ آج بڑے سے بڑے ادیب شاعر کی اولادیں اردو سے نہ صرف نا آشنا ہیں بلکہ انہیں اس سے کچھ رغبت بھی نہیں۔ ہمیں انگریزی کے اس جملے پر عمل پیرا ہونا ہو گا کہ

Charity begins at home​

اور اسکو آگے بڑھانا ہو گا۔ چراغ تلے اندھیرے والی بات کو غلط ثابت کرنے کے لئے اردو کے شاعروں اور ادیبوں کو پہلے انفرادی طور پر اپنی اولادوں کو اردو سے آشنا کرنے کی ضرورت ہے پھر اجتماعی طور پر اسکی ترقی کے لئے کوشاں ہونا پڑیگا۔


زبان اردو مذہب نہیں​

ہماری زبان “ اردو“ مذہب نہیں۔ اسے مذہب کے ساتھ جوڑنا
اسکے ساتھ دشمنی کرنے کے مترادف ہے۔ یہ غلط نظریہ کی ‘اردو صرف مسلمانوں کی زبان ہے‘ کو کچھ لوگ حقیقت کا جامہ پہنانے کی ناکام کوشش میں لگے ہوئے ہیں، جو سراسر غلط اور مضر ہے۔ اور اگر کچھ لوگ ایسا سوچتے ہیں تو اسمیں انکی نظر اور سوچ کا قصور ہے۔ تاریخ کے ساتھ حال اس بات کا گوارہ ہے کہ اس زبان کے لئے ہندو، مسلم اور عیسائی ہر کسی نے بلاامتیاز مذہب و ملت کام کیا ہے۔ یہ ہر اس فرد کی زبان ہے جو اس کے قریب آنا چاہتا ہے۔ جس طرح اس زبان میں دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر سمو لینے کی صلاحیت ہے، اسی طرح اس نے ہر حبِ اردو کو نہ صرف قبول کیا بلکہ عزت بھی بخشی۔ میر ہو یا بدھ قلندر سنگھ، فراق ہو یا فیض یا وزیر آغا ہو یا گوپی چند نارنگ ہر کسی نے اردو کی ارتنی ہی خدمت کی ہے اور اردو نے بھی ان کو عزت و شہرت سے مالا مال کیا ہے۔ آل احمد سرور ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:

“اردو کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ نہ تو یہ صرف ایک یا دو ریاستوں کی حدود میں مقید ہے نہ ایک مذہبی گروہ کے ماننے والوں میں۔ بلکہ خدا کے گھر کی طرح اسکی بہت سی ریاستوں میں بستیاں ہیں اور اسکے بولنے والے یا اس کے بولنے والے یا اس کے سمجھنے والے کشمیر سے کنیا کماری اور کلکتے سے کچھ تک پھیلے ہوئے ہیں، (پہچان اور پرکھ - - - - - ص نمبر ٦)


رسم الحظ​



اب بات کچھ اردو کے لباس یعنی رسم الحظ۔ جہاں تک رسم الحظ کو بدلنے کی بات ہے، اسے خوامخواہ مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ سیدھی سی بات ہے کہہ اس رسم الحظ کے بدلنے سے مکمل طور پر جائیگی۔ رسم الحظ کے بدلنے سے مکمل طور پر جائیگی۔ رسم الحظ بدلنے والی بات کہنے والوں کو شاید اسکا فوری نقصان نظر نہ آتا ہو مگر یہ حقیقت ہے کہ جو غیر اردو دان اس زبان کو سراہتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسکا رسم الحظ بدل کر اردو کا حلقہ وسیع ہو گا، یہ سراسر غلط مفروضہ ہے کیونکہ اس طرح سے جو اردوداں اردو کو ملیں گے، انکا تلفظ جس طرز کا ہو گا یہ سوچ کر ہی دل دہل جاتا ہے۔ واضح رہے کہ غیر اردوداں اگر اس زبان کے الفاظ و محاورات سے جس بناء پر متاثر ہیں وہ ہماری اس زبان کے دیگر لوازمات کے ساتھ اسکا انداز اور درست تلفظ ہی ہے جو صرف اردو رسم الحظ ہی میں ممکن ہے۔ مثال کے طور پر پڑوسن کو رومن میں Parosan یا Padosan لکھا جائے گا، تو اسکی شکل آگے چل کر ‘ پڈوسن‘ یا ‘ پروسن‘ ہو جائے گی۔ یہ صرف ایک عام اور ادنٰی مثال ہے، اسطرح کے ہزاروں الفاظ اور محاورات ہیں جنکا دیگر رسم الحظ دیگر رسم الحظ میں فوری اور وقتی تلفظ تو ممکن ہے مگر رسم الحظ کی تبدیلی مستقبل قریب میں اسکی شکل اور تلفظ کو برباد کر دیگی۔

اس سلسلے میں میں دو باتوں کا خاص طور پر کرتا چلوں۔ ایک یہ کہ ترکی کا رسم الحظ رومن کر کے اس کی ساتھ کھلواڑا ہوا ہے اس سے ہم سب بہ خوبی واقف ہیں۔ آج ترکی کا کلاسیکل ادب انھیرے میں دھکیل دیا گیا ہے۔ جو شاید ترکوں کی آئندہ نسل اپنے ترک کلاسیکل ادب سے تو کیا خود اپنے ادیبوں کے ناموں سے بھی ناواقف ہو گی۔ دوسری بات یہ کہ کچھی (Kutchi) ادب اپنی ایک الگ حیثیت رکھتا ہے۔ اسکو دنیا کے کسی بھی اچھے ادب کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے، مگر اسکی اشاعت و تدریج کے بیچ حائل دیوار صرف اس زبان کا اپنا رسم الحظ ہوتا تو یہ اپنی موجودہ حالت سے کچھ اور ہی ہوتا۔ ہمیں اوپر والے کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ ہماری زبان ‘اردو‘ کا اپنا رسم الحظ ہے، جو قائم اور دائم رہے گا۔ جب تک اردو لکھنے، سمجھنے اور پڑھنے والے موجود ہیں اردو ایک زبان کی حیثیت سے نہ صرف موجود رہے گی بلکہ اس کا رسم الحظ بھی یہی رہے گا۔
 

ماوراء

محفلین
اردو مشاعرے​

جب تک چھاپے خانے میسر نہ تھے تب بھی اردو شاعری کو سننے سنانے کی روایت عام تھی۔ کئی بڑے شہروں اور قصبوں میں آئے دن مشاعرے یا اس سے متعلق صحبتیں ہوتی رہتی تھیں۔ ان مشاعروں میں اٹھنے، بیٹھنے اور داد دینے کے اپنے قرینے اور انداز تھے۔ قاری یا سامع شاعر کی تخلیق کو تنقید نگاہ سے پرکھتا اور ماحول اتنا تیز ہو جاتا کہ حاضر جوابی اور نوک جھونک کے پھول برسنے لگتے تھے۔ یہ مشاعرے ابلاغ کا موثر ذریعہ بھی تھے اور نئے لکنھے والوں کی تربیت گاہ بھی۔ مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ آج مشاعروں کے نام جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی کی نظر سے چھپا ہوا نہیں۔ آجکل اس طرح کے مشاعروں میں ہر بار چند ایسے شعراء کو ہی شرکت کی دعوت دی جاتی ہے جن کا کسی نہ کسی حوالے سے کچھ نام ہے۔ اس حوالے سے بات ٹی۔وی اور ریڈیو اور دیگر اداروں تک جا پہنچی ہے کہ ان اداروں کی جانب سے سکہ بند مشاعرہ بازوں کے ایک مخصوص گروہ کا نام سامعین تک پہنچتا ہے، وہی معتبر ٹھہرتے ہیں۔ عموماً ایسے مشاعروں میں ایک مضحکہ صورت حال بھی سامنے آئی ہے کہ بعض شعراء مختلف موضاعاتی مشاعروں میں معمولی ردوبدل کے ساتھ ایک ہی قسم کے کلام سے اپنا کام چلا لیتے ہیں۔ ان باتوں سے میری مراد مشاعروں کی مخالفت کرنا نہیں ہے بلکہ یہ بتانا ہے کہ اردو مشاعرہ کا انسٹی ٹیوشن اپنی ادبی افادیت کھو ریا ہے۔ ادبی حوالے سے اب اسکی اہمیت گھٹتی جا رہی ہے۔ ہاں ثقافتی میلے کی صورت میں یہ بے شک چلتا اور چلتا رہے گا۔


ادبی جعلسازی​
اردو کے بہتر مستقل کے لئے اس سے متعلق ایک خطرناک وبا کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ گزشتہ نصف صدی سے عمومی طور پر اور اگزشتہ ربع صدی سے خصوصی طور پر انڈیا اور پاکستان سے بڑی تعداد میں لوگ مغربی ممالک میں جا بسے ہیں۔ ان میں سے بعض لوگ واقعتاً اور بخیل شاعر اور ادیب ہیں۔ مغرب میں جا بسنے سے پہلے بھی اردو ادب میں ان کا نام اور کام موجود تھا۔ لیکن ایک بڑی تعداد میں وہاں ایسے جعلی شاعر، افسانہ نگار اور ادیب پیدا ہو گئے ہیں جو خود ایک لفظ لکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے لیکن دولت کے بل پر ہندوستان یا پاکستان کے بعض شاعروں اور ادیبوں سے نہ صرف پوری پوری کتابیں لکھوا کر اپنے نام سے چھپوا رہے ہیں بلکہ پھر وہی لکھ کر دینے والے، ان کے اعزاز میں تقریبات کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔ ان کی شان میں جھوٹے قصیدے پڑھتے جاتے ہیں۔ دراصل جو لوگ اپنی جوانی مغرب میں اچھی طرح بسر کر چکے ہیں۔ اب مڈل ایج کے بحران کا شکار ہیں۔ ایک طرف ان کی اپنی اولادوں کی تربیت کی فکر ہے جو اب ان کے بس میں نہیں ہے، دوسری طرف وطن کی یاد تنگ کرنے لگی ہے۔ دولت کی فراوانی کے باعث کچھ نام ونمود کی طلب۔۔۔۔ایسے عوامل کا نتیجہ یہ نکلا کہ گزشتہ ربع صدی سے جو لوگ بالکل خاموش تھے۔ شعر و ادب میں جن کا کوئی انتہائی معمولی سا حوالہ بھی نہیں تھا۔ ایسے ایسے لوگ ایک سال میں دو دو مجموعے چھپوانے لگے اور تین سال میں چار مجموعوں کے خالق بن بیٹھے۔ انڈیا اور پاکستان کے جو لوگ ایسے جعلی لوگوں کہ لکھ کر دے رہے ہیں۔ اس سے جہاں بیرون ملک مقیم اصل اور حقیقی شاعروں اور ادیبوں کی حق تلفی ہو رہی ہے وہیں اردو ادب کو جعلسازی کا گودام بنایا جا رہے۔ ایسے تمام لوگوں کی بلاامتیاز نہ صرف نشاندہی ہونی چاہیے بلکہ ان کی شدید مذمت کی جانی چاہیے۔ تاکہ ادب سے ان کھوکھلے اور جعلی لوگوں کو خارج کیا جا سکے۔ اس سلسلہ میں اگر کوئی واضح فیصلہ کر لیا جائے تو میں خود بہت سے ایسے لوگوں کی نشاندہی کرنے کے لیے تیار ہوں۔


رسائل اور اخبارات

اسی طرح ادبی رسائل کی صورت میں بھی وسیع ذریعہ ابلاغ ہمارے سامنے ہے، جو شاید ادبی تربیت گاہ کا کردار مشاعروں سے کہیں بہتر کرتا ہے۔ ایسے ادبی رسائل کی اشاعت و ترویج اور مالی مسائل کے حل کے سلسلے میں ہمیں نہایت سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔ ان مسائل کو اپنے مسائل سمجھ کر ہمیں انکے لیے مددگار ثابت ہونا ہو گا، اردو صحافت کا بھی حال اور مستقبل درخشاں بنانے کے لیے ادبی رسائل کے ساتھ ساتھ اردو اخبارات کو خرید کر پڑھنے کی عادت ڈالنی ہو گی اور یہ فعل ان رسائل اور اخبارات کی بہتری اور ترقی میں مثبت کردار ادا کرے گا۔ ایک تازہ سروے (اعداوشمارہ) کے مطابق ہندوستانی اخبارات میں مقبولیت کے لحاظ سے ایک اردو روزنامہ کو چھوتھا نمبر حاصل ہے، جو اردو والوں کے لئے نہ صرف باعثِ فخر ہے بلکہ اردو کے سندر مستقبل کی طرف بڑھتا ہوا ایک اور قدم ہے۔


ہندوستانی فلمیں​
مشاعرے کے بعد جس نے اردو کو عام فہم کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے وہ ہندوستانی فلمیں ہیں۔ ان فلموں میں شامل مکالمات اور گیتوں نے کافی حد تک اردو زندہ رکھا ہوا ہے۔ ماضی سے آج تک اگر ہندوستانی فلموں پر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات واضح اور صاف ہے کہ گیتوں اور مکالمات میں جو زبان استعمال کی جاتی ہے اسے نام چاہے کچھ بھی دیا جائے یا سرٹیفیکیٹ پر کسی زبان کا نام کیوں نہ لکھا ہوا ہو مگر یہ صرف اور صرف ‘اردو‘ ہی ہے۔ آج عام انسان سے لیکر سیاسی رہنماؤں تک تک، ہر انسان اپنی گفتگو کو وزن دار بنانے کے لیے اردو کے اشعار و محاورات کا استعمال باعثِ فخر سمجھتا ہے۔ مختصر یہ کہ اردو کو عام فہم کرنے میں ان فلمی گیتوں اور مکالمات کسی اسر سے زیادہ نہ سہی تو کم حصہ بھی نہیں۔ اردو نے اپنے ماضی کے سرمائے کے ساتھ اپنا ادبی سفر شان سے جاری رکھا ہوا ہے، یہ زبان ادبی لحاظ سے دنیا کی کسی بھی دوسری زبان سے کسی صورت پیچھے نہیں۔ ہمیں کسی پر الزام تراشی کے بغیر سنجیدگی کے ساتھ اردو کے مسائل اور مستقبل کے بارے میں سوچنا ہو گا۔ اسکے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہو گا۔ آج اردو والوں نے جو چھوٹی چھوٹی ادبی گروہ بندی کی ہوئی ہے اسکو مسمار کرنا ہو گا اور دنیا بھر میں اردو کے جو ادارے قائم ہیں انکے درمیان رابطہ کرنے کی کوشش کرنی ہو گی۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ :

‘اردو کو لیڈروں کی نہیں مخلص کارکنوں کی ضرورت ہے‘​

آخر میں فراق کی ایک رباعی کے ساتھ وہی بات دہراتا چلوں کہ ‘ جب تک اردو لکھنے، بولنے اور سمجھنے والے موجود ہیں ‘اردو‘ ایک زبان کی حیثیت سے زندہ ہے اور زندہ رہے گی۔ (انشاءاللہ)


آنکھیں ہیں تو دیکھ ان ترانوں کا کمال
الفاظ کے زیر و بم سے اڑتا ہے گلال
اوروں کے یہاں کہاں یہ تیور، یہ رچاؤ
کیا سے کیا کر دیا اردو کا جمال​
 
ماورا بہترین مضمون شامل کیا ہے ، مبارکباد کی مستحق ہو تم بھی اور فریب بھی کہ اس نے ڈھونڈ کر اس مضمون کو وکی پر منتقل کر دیا۔
 

قیصرانی

لائبریرین
بہت دن گزرے کہ اسے پڑھا تھا، لیکن میرا خیال تھا کہ اس موضوع پر مزید بھی پیغام ہوں گے، اس لیے پیغام نہ لکھا۔ ابھی فریب بھائی کا شکریہ کہ انہوں نے اس کو وکی پر نہ صرف منتقل کر دیا، بلکہ اس کا لنک بھی دے دیا۔ بہت خوب فریب بھائی، اسی طرح‌ جو بھی مضمون منتقل کریں، اس پر لکھ دیا کریں کہ یہ منتقل ہو گیا ہے اور اس کا لنک بھی یہ ہے :)
غلام
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top