ارادہ کر رہے ہیں ہم نجف کی سمت جانے کا - یکتا امروہوی

حسان خان

لائبریرین
ارادہ کر رہے ہیں ہم نجف کی سمت جانے کا
درِ شیرِ خدا پر عزم ہے اب سر جھکانے کا
نجف کا میکدہ ہو، ساقیِ کوثر ہوں اور ہم ہوں
سماں یہ ہو تو آ جائے مزہ پینے پلانے کا
بتا اے چرخ چھوڑا کس کو تو نے ظلم ڈھانے سے
رسولوں تک کو شکوہ ہی رہا تیرے ستانے کا
کھِلے ہیں اپنی شاخوں پر، تجھے یہ کیا ستاتے ہیں
سبب پھر کیا ہے، اے گلچیں گلوں سے خار کھانے کا
بڑی مجبوریوں میں چھوڑنا پڑتا ہے گلشن کو
ہے لاکھوں حسرتوں کی موت چھٹنا آشیانے کا
شہادت کی خبر سن کر وہ غازی مسکرا اٹھے
جو فرطِ غم سے بھولے تھے قرینہ مسکرانے کا
سیہ کارو! شبِ عاشور فوجِ شام میں آؤ
سلیقہ سیکھ لو حُر سے خطائیں بخشوانے کا
نہ کہیے انقلابِ دہر اگر اس کو تو کیا کہیے
کسی سے بے سبب گر رخ پلٹ جائے زمانے کا
ابو طالب کے کنبے نے سدا سر دے کے کچلا ہے
ارادہ جب بھی باطل نے کیا ہے سر اٹھانے کا
بتا اے کربلا تجھ کو قسم مظلوم کے سر کی
ہے کس بے سر کے سر سہرا تجھے جنت بنانے کا
حبیبِ شاہِ والا ناز کر تو اپنی قسمت پر
محمد کا نواسہ منتظر ہے تیرے آنے کا
حبیب = حبیب ابنِ مظاہر
اسی سے عظمتِ مضمونِ محضر جان لے دنیا
وفا عنوان ہے عباسِ غازی کے فسانے کا
منور وسعتِ کون و مکاں ہے جن کے جلووں سے
وہ اہلِ بیت اور تاریک گوشہ قید خانے کا
نہ سوئے لیٹ کر سیدھے کبھی سجاد راحت سے
نشاں تھا ہر جگہ پشتِ حزیں پر تازیانے کا
ملے گا مجھ کو قصرِ بے بہا جنت میں اے یکتا
بہانہ ہے غمِ شبیر میں آنسو بہانے کا
(یکتا امروہوی)
 

سید زبیر

محفلین
حسان خان ، سبحان اللہ بہت خوبصورت کلام شریک محفل کیا ہے
ابو طالب کے کنبے نے سدا سر دے کے کچلا ہے
ارادہ جب بھی باطل نے کیا ہے سر اٹھانے کا
جزاک اللہ
 
Top