اختیار

نور وجدان

لائبریرین
اختیار میں ہے تو کہو اللہ اللہ اور اختیار کہنے کا ہو تو کہو "محمد رسول اللہ " صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم. انسان نے سمجھا ہے کہ یہ اسکا اختیار ہے بلکہ یہ تو نوازا جاتا ہے انسان ہے. انسان عجلت کے دائرے سے نکلتا تو فہم کا دائرہ مل جاتا مگر ادراک کا در اس پر وا ہونے سے رہ گیا. انسان کا اختیار کہیں نہیں چلتا بلکہ اس کے بجائے طوھا کرھا چلنا اللہ کا اختیار ہے اور منشائے الہی یہی ہے کہ طریقہ ء نبی ختم الرسل، وجہ تخلیق بشر، بلیغ للسان، رشکِ کروبیان اختیار کیا جائے. وہ یاد کیجیے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجور جس درخت سے کھایا کرتے تھے، وہ گھٹلی زمین میں گئی اور نیا پودا لائی مگر اب نام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے یہ گھٹلی. ہم سب ان کے نام کی گھٹلیاں ہیں. اندر ان کا نام ہے. اندر ان کی نگاہ ہے، اندر ان کی نظر ہے. تم سب جھک جاؤ اور کہو " یارسول اللہ " سلام! سلام! سلام! رویتِ شمس الضحیی نے لیل و نہار کا خاتمہ کردیا. نہ فراق رہا، نہ وصال کا نوحہ، جنبش کی لرزش میں ادب تھا کہ اٹھی نگاہ، تیرِ نگاہ سے جگر پارہ پارہ، دل فگار، بدن ریزہ ریزہ ہوجانا ہے. جھکی نگاہ سے پالیا جائے ورنہ تب و تابِ حسنِ تابش میں جلنا مزہ بھی، لطف بھی اور حسن بھی. شمع بنایا جاتا ہے تو روشنی پھیل جاتی ہے اور جب روشنی پھیلتی ہے آنکھ اشکبار ہو جاتی ہے. اکھیاں روون تے کہو: اللہ اللہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لی تسبیح ہے اور جب کہو محمد محمد محمد "صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " تو جانو ملائک، کروبیان ، روحی، اللہ سب مل کے درود دیے جارہے ہیں. " ایک " نے " ایک " پر نگاہ کی اور نگاہ سے نگاہ میں دوئی ختم ہوئی اور ظاہر و باطن ایک ہوگیا
..وہی ظاہر اور وہی باطن. جس جس نے شہادت دی کہ وہ ہیں، وہ شاہد سے شہید ہوا اور شہید کے لیے دیدار ہے. دیدار شیریں! وصل شہد آگیں! لمس گلابِ سیں اور رنگ آتشیں! یہ کیا ہوا؟ فلک نے جھک کے نگاہ کی ہے اور فلک و زمین کا انجذاب ہے
 
Top