اخترعثمان -- " دل نہیں مانتا، مجبور ہیں، تب مانگتے ہیں "

طارق شاہ

محفلین
غزل
اخترعثمان
دل نہیں مانتا، مجبور ہیں، تب مانگتے ہیں
مسئلہ پیٹ کا ہے، شوق سے کب مانگتے ہیں
کیا زمانہ تھا، کہ جب اوج پہ تھی بے طلبی
ہم سے درویشِ خدا مست بھی، اب مانگتے ہیں
جا بجا آئے نظر، پھیلتے ہاتھوں کی قطار
شیوائے اہلِ سخاوت ہے کہ سب مانگتے ہیں
سر، کہ اک بوجھ ہے دم بھر کو، اُتر جائے گا
دستِ جلاد فقط جُنبشِ لب مانگتے ہیں
حاکمِ وقت سے کہتے تھے گدایانِ جہاں
کیا نوازیں گے بھلا، آپ بھی جب مانگتے ہیں
یوں تو کِس کو ہے یہاں آئنہ بینی کا دماغ
چند خوش ذوق ہیں، اب تک تری چھب مانگتے ہیں
اختر عثمان
 
Top