اب اس کے بعد ترا اور کیا ارادہ ہے-مقبول عامر

عمر سیف

محفلین
اب اس کے بعد ترا اور کیا ارادہ ہے
کہ میرا صبر ترے جبر سے زیادہ ہے
​

تو بوئے گل کی طرح اُڑ رہا ہے اور کوئی
تری تلاش میں برسوں سے پا پیادہ ہے
​

میں جنگ جیت کے تم کو معاف کر دوں گا
تمہاری سوچ سے بڑھ کر یہ دل کشادہ ہے
​

غریب شہر سمجھتی ہے جس کو یہ دنیا
وہ شخص خواب جزیروں کا شاہزادہ ہے
​

میں‌ سرگراں تھا مگر اتنا مضطرب تو نہ تھا
رگوں میں‌ آگ رواں ہے کہ موجِ بادہ ہے
​

جدا نہیں مری رنگِ زمین سے عامر
یہ اڑتی دھول مرے جسم کا لبادہ ہے
​
​
​
مقبول عامر​
 

سید زبیر

محفلین
لا جواب ، بہت عمدہ انتخاب
غریب شہر سمجھتی ہے جس کو یہ دنیا​
وہ شخص خواب جزیروں کا شاہزادہ ہے​
​
​
​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top