آیت نمبر ۲

نور وجدان

لائبریرین
آیتِ حق

آیت حق نمبر ۲

آپ نے سوچا کبھی طسم کیا ہے؟ لباس بندگی میں دید کے بعد طلوع آفتاب کی روشنی لیے مجلی ہستی جسکو روشنی دی گئی ..موسی علیہ سلام کا آگ کے لیے جانا اور روشنی سے سرفراز کیا جانا ..مگر رحمن کی رحمت میں "ت " اور "ن " کا فرق ہے....

خدا کی آیات میں کھو جانے کے بعد فنائیت سے ہوتے احترام کے وضو سے تقدس کی نماز پڑھی جاتی ہے. عشق کا قاف جس دل میں قبلہ بن جاتا ہے، تو منزلِ نماز کے بعد منزلِ جہاد آتی ہے. نفس سے لڑنا، جہاد اکبر ہے. آیتِ حق جس کو ملے تو اس سے باقی آیات منعکس ہونے لگ جاتی ہیں ..اس سے پنجتن پاک کی سوندھی خوشبو تن من کو پاک کیے دیتی ہے.

لکھنا تو بہانہ ٹھہرا، میں اظہارِ محبت میں مجسم ہوجاتی ہوں. جس وقت نظر کرم کی جاتی ہے، بندہ خود میں محو ہوجاتا ہے... اس خیال میں خدا کی تلاش شُروع ہوجاتی ہے ..

خدا کہاں ملے گا؟ عرشِ معلی پر یا عرشِ حِجاز پر؟ عرش کے پاس جو پانی ہے اس کے پاس عکس کس کا تلاش کروں؟ جو تلاش میں ہوتے، وہ پہلے سے ہی خُدا کے زیرِ سایہ ہوتے، فقط ان کو پہچان کا دھوکا ہوتا ہے ... وہ روح میں ہے، جبل الورید کے قریب ہے .. پتھر سے براق نمودار ہوتے متلاشی کو اُچک نہ لے....! وہ شجر جس پر وہ خودی ایستادہ ہُوا تھا، وہ شجر متلاشی خود تو نہیں کہیں؟

متلاشی ارواح کو پاک آیات پسند ہوتی ہیں .. بی بی پاک مریم، پاک طینت ایسی ہیں کہ متلاشی کو گمان ہونے لگتا ہے کہ وہ اُنہی کا خمیر ہے، انہی سے دم پذیر ہے. ان کے سائے سے ملنے والی روشنی مسحور رکھتی ہے. جب کبھی سایہ منور ہوتا ہے تو خوش بختی پر نازاں ہُوا جاتا ہے .. ان کے تبسم میں الوہیت عین العین وحّیت ہے. دو ارواح کا ملن ہوتا ہے تو تار پاک سے نغمہ جاوداں نکلتا ہے. ان کا لباس سفید ہے ... ان سے پوچھا جاتا ہے خدا کَہاں ملے گا تو ان کی جانب سے جواب دیا جاتا ہے کہ خدا دل میں موجود ہوتا ہے ..ان سے پوچھا جاتا ہے کہ جلوہ کب ہوگا؟ وہ کہتی ہیں کہ جب ہوگا تب پوچھنے کی نوبت کہاں آئے گی؟
 

سیما علی

لائبریرین
نوری بہترین تخلیق پر بھرپور داد و تحسین ۔دعاگو ہوں کہ اللّہ ہر قدم پہ آپکی رہنمائی فرمائے۔اور آپکا یہ سفر پوری آب وتاب سے جاری رہے۔ آمین۔۔۔۔۔

صوفیائے کرام عشق حقیقی کی بنیاد اس حدیث قدسی کو مانتے ہیں :

کنتُ کنزاً مَخْفِیاً فَأحْبَبْتُ أن اُعرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ لاُعرَفَ۔
(ترجمہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں ایک مخفی خزانہ تھا میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں پس میں نے خلق کو پیدا کیا تاکہ پہچانا جاؤں)
اس حدیث کا ذکر کرنے کے بعداگر میر کا یہ شعر پڑھا جائے کہ:
لایا ہے مرا شوق مجھے پردے سے باہر
ورنہ میں وہی خلوتی راز نہاں ہوں

منقول
 
آخری تدوین:
Top