آج کا دن !!!!!!

سیما علی

لائبریرین

اسرار الحق مجاز کا یومِ پیدائش​

19 اکتوبر !1911
آج معروف رومانوی اور انقلابی شاعر اسرار الحق مجاز کا یومِ پیدائش ہے۔

پیدائش: 19 اکتوبر 1911ء – وفات: 5 دسمبر 1955ء)
——

اسرار الحق مجاز 19 اکتوبر 1911ء میں قصبہ رودولی ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ان کی تاریخ وفات 5 دسمبر 1955 ہے۔ان کا حقیقی نام اسرارالحق اور مجازؔ تخلص اختیار کیا۔
تعلیم کے لیے مجازؔ لکھنؤ آئے اور یہاں سے ہائی اسکول پاس کیا۔ لکھنؤ سے اس قدر لگاؤ ہوا کہ مجازؔ نے اپنے تخلص میں لکھنؤ جوڑ لیا اور مجازؔ لکھنوی کے نام سے جانے گئے۔
مجازؔ نے 1935 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کیا تھا۔
1936میں دہلی ریڈیو اسٹیشن سے شائع ’آواز‘ کے پہلے مدیر مجازؔ ہی تھے۔ انہوں نے کچھ وقت بمبئی انفارمیشن میں بھی کام کیا تھا اور پھر لکھنؤ آکر ’نیا ادب‘ اور ’پرچم‘ کی ادارت کی۔ اس کے بعد دہلی میں ہارڈنگ لائبریری سے منسلک ہوئے تھے۔
مجازؔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے رکن تھے۔ مجلس ادارت "نیا اَدب” لکھنؤ اجرا 1939ء کے بھی رکن تھے۔
3دسمبر 1955کو لکھنؤ میں مجازؔ ایک مشاعرے میں شامل ہوئے تھے۔ اس کے دو دن بعد یعنی 5 دسمبر 1955کو وہ انتقال کر گئے تھے۔
2008 میں ایک ڈاک ٹکٹ حکومت ِ ہند کی جانب سے مجاز کی یاد میں جاری ہوا تھا ۔
——
مجھے سنے کوئی مست بادہ عشرت
مجاز ٹوٹے ہوئے دل کی ایک صدا ہوں میں
——
یوں تو دنیا کا ہر ایک شاعر اپنے شاعرانہ موضوعات کی بنا پر چھاپ چھوڑ جاتا ہے۔ عوام میں شاعروں کی گروہ بندی عام طور پر ان کی فکری جہتوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں لیا جانا چاہئے کہ ایک شاعر خالصتاََ ایک ہی موضوع کو اپنا نصب العین بنانا ہے۔ بلکہ وہ بیک وقت بہت ساری الجھنوں، خیالوں اور حقیقتوں سے نبرد آزما ہوتا ہے۔ اور یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ وقت کے بہاو کے ساتھ ساتھ اس کی فکر بھی تسلسل کے ساتھ ارتقاء پذیر ہوتی ہے اور بعض اوقات تو ایک شاعر کے ابتدائی اور اختتامی افکار میں زمین و آسمان کا افتراق نظر آتا ہے۔
اسرار الحق مجاز اردو کی شاعری کے وہ آفتاب ہیں جو افق پر چھاتے چھاتے ڈوب گئے اسرارلحق مجاز کی شاعرانہ بصیرت اور ان کی زندگی کا دیولیہ پن کو سمجھنے کیلئے ان کے ہم عصر دوست رفقاء اور زمانے کے مزاج کو بھی سمجھنا ہوگا۔ اس سے پہلے ہم براہ راست مجاز کی میخواری کا ذکر کریں۔ ہم مجاز کے ایک دیرینہ ہمدم پرکاش پنڈت کے ان ذریں خیالات پر نظر دوڈائیں جن سے ہم استفادہ کرکے مجاز کی شخصیت اور شاعرانہ بصیرت تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ چنانچہ پرکاش پنڈت مجاز کا تعارف ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں:
مجاز اردو شاعری کا کیٹس ہے
مجاز صیح ترقی پسند شاعر ہے
مجاز اچھا شاعر مگر گھٹیا شرابی ہے
مجاز جمالیات اور خریات کا شاعر تھا
مجاز نیم دیونہ مگر پرخلوص ہے
مجاز بذلہ سنج اور لطیفہ گو ہے
مجاز لکھنوی اردو کے و ہ شاعر ہیں جنھوں نے بہت ہی قلیل عمر پائی اور یہ کم عرصہ بھی غموں سے پُر تھا۔ ان کی زندگی اور شاعری دونوں شراب خواری کے ارد گرد گھومتی ہوئی نظر آتی ہے۔ جہاں تک ان کی شاعری کا تعلق ہے تو اردو کا یہ کیٹس بھی اپنی شاعری کا آغاز روایتی انداز سے کرتا ہے۔ چنانچہ ان کی ابتدائی شاعری بھی حسن و عشق، گل و بلبل ، طوطا و مینا اور ہجرو وصال جیسے قصوں سے لبریز ہے۔ لیکن بعد ازان انہوں نے رومانی شاعری کے ساتھ ساتھ انقلابی شاعری بھی کی ان تمام موضوعات سے بڑھ کر ایک موضوع یعنی میخواری ان کی شاعری کا محور و مرکز ہے رومانیت ہو یا انقلاب ، آغاز ہو یا انجام، ابتدا ہو یا اختتام، عروج ہو یا زوال غرض مجاز زندگی کے ہر ایک موڈ پر شراب سے لو لگائے ہوئے بیٹھے ہیں اور مجاز کی شاعری ساغر کی نہروں میں غوطہ زن نظر آتی ہے
——
مے گلفام بھی ہے،ساز عشرت بھی ہے، ساقی بھی
مگر مشکل ہے آشوب حقیقت سے گزر جانا
——
فیض احمد فیض نے جب اسرار الحق مجاز کی اولین ترین اور واحد کتاب’’ آہنگ۔’’ کا مقدمہ لکھا تو انھوں نے مجاز کی شاعری کے بارے میں خامہ فرسائی کرتے ہوئے لکھا تھا :’’ مجاز کی شاعری تین چیزوں کا مرکب ہے۔ ساز ، جام اور شمشیر۔ فیض تو یہان تک کہتے ہیں کہ ایک شعر کے لئے یہ تینوں چیزیں ہونا ضروری ہے اور اسی لئے مجاز تو دنیا کے ایک کامیاب ترین شاعر ہیں’’۔ مجاز اور میخواری کے رشتے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ طلوع شاعری میں بھی خمیریات کا برملا ذکر کرتے ہیں اور دوران شباب یعنیٰ آمد انقلاب سے ہوتے ہوئے جب ان کی زندگی غروب ہورہی تھی جب بھی یہ اپنی شاعری میں بادہ خواری کا ذکر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
——
اگر چہ شاعر پہلے ہی سے شراب خواری کے عادی تھے اور شاعری کی تمہید ہی شراب کے رنگ سے لکھتے ہیں لیکن دلی میں شاعر نے جو معاشہ لڑایا اور اسمیں ناکامی کی وجہ سے اسرار الحق مجاز نے اب کثرت سے پینا شروع کردیا تھا اور اکثر و بیشتر اسکا ذکر بھی اپنی شاعری میں بار بار کرتے ہیں
——
دل میں سوز غم کی اک دنیا لئے جاتا ہوں میں
آہ تیرے میکدے سے بے پیے جاتا ہوں میں
اسرار الحق مجاز کی زندگی اور شاعری بادہ خواری سے لبریز نظر آتی ہے۔ انھوں نے تقریباََ اپنی تمام تر غزلوں اور نغموں میں مے کشی کا ذ کر بڑے فخر سے کیا ہے۔ کلیات مجاز کا شاید ہی کوئی ایسا صفہ ہو جو شراب کے لعل رنگ سے نہ چھلکا ہو۔
حالانکہ احمد جمال پاشانے اسرار الحق مجاز کے جو لطیفے جمع کئے ہیں ان میں بھی بہت ساری جگہوں پر شاعر کے شرابی ہونے کے شواہد ملتے ہیں۔شراب اور شراب سے منسلک شاعر تمام تر تراکیب، استعارے اور لفظیات کا بھر پور استعمال کرتے ہیں۔ خم کدہ ، خم ، خمریات،صراحی، بوتل ، مے خانہ ، میکش، میخوار، پیمانہ ، رند، رندی ،پی گلفام، گل گل۔ بادہ کش، مے ناب، نشہ ، سبو، جام، جام رنگین خمار مینا وغیرہ جیسے الفاظ کا بر محل استعمال کرتے ہیں۔؀
ہجر میں کیف اضطراب نہ پوچھ
خون دل شراب ہونا تھا
——
آپ کی مخمور آنکھوں کی قسم
میری میخواری ابھی تک راز ہے
——
ابھی رہنے دے کچھ دن لطف نغمہ مستی صہبا
ابھی یہ ساز رہنے دے ابھی یہ جام رہنے دے
——
اے مطرب بیباک کوئی اور بھی نغمہ
اے ساقی فیاض شراب اور زیادہ
اسرار الحق مجاز ایک درد مند دل رکھتے ہیں۔ یہ غریبوں ، کسانوں اور مظلوموں کے شاعر ہیں۔ انھیں مزدوروں کے ساتھ محبت ہے۔ ایک طرف شاعر اپنے آپ کو مزدوروں اور کسانوں کا شاعر گردانتے ہیں لیکن دوسری طرف انھیں اس بات پر بھی احساس کمتری ہے کہ لوگ اسے میخوار گردانتے ہیں۔
میری شب اب میری شب ہے میرا بادہ میرے جام
وہ میرا سوررواں !!!!!ماہ تمام !!!!!!!آہی گیا
——
منتخب کلام
——
ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن
تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
——
دفن کر سکتا ہوں سینے میں تمہارے راز کو
اور تم چاہو تو افسانہ بنا سکتا ہوں میں
——
کیا کیا ہوا ہے ہم سے جنوں میں نہ پوچھئے
الجھے کبھی زمیں سے کبھی آسماں سے ہم
——
یہ آنا کوئی آنا ہے کہ بس رسماً چلے آئے
یہ ملنا خاک ملنا ہے کہ دل سے دل نہیں ملتا
——
ہائے وہ وقت کہ جب بے پیے مدہوشی تھی
ہائے یہ وقت کہ اب پی کے بھی مخمور نہیں
——
یا تو کسی کو جرأت دیدار ہی نہ ہو
یا پھر مری نگاہ سے دیکھا کرے کوئی
——
وقت کی سعیٔ مسلسل کارگر ہوتی گئی
زندگی لحظہ بہ لحظہ مختصر ہوتی گئی
——
بلا شبہ اسرار الحق مجاز کی زندگی اور شاعری دونوں خمریات سے پر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مجاز اس کژت بھری شراب نوشی کی وجہ سے زندگی میں تین بار نروس بریک ڈاون کا شکار ہوگئے اور یہ نوجوان شاعر ۵ دسمبر ۱۹۵۵ء کو صرف ۴۰ سال کی عمر میں دار فانی سے کوچ کرگئے اور بقول جوش ملیح آبادی :
یہ کوئی مجھ سے پوچھے کہ مجاز کیا تھا اور کیا ہوسکتا تھا، اگر وہ بڑھاپے کی عمر تک آتا تو اپنے عہد کا سب سے بڑا شاعر ہوتا ، مگر افسوس کہ پینا اسکو کھا گیا”
——
ہم میکدے کی راہ سے ہوکر گزرے
ورنہ سفر حیات کا بے حد طویل تھا

اردو ریسرچ جنرل
 
Top