جام

  1. ل

    محبتوں کے جام

    محبتوں کے نا ہم کو پلاؤ جام ابھی کہیں نہ قرب سے عادت خراب ہوجائے نشہ نہ دید کا ہوجائے ہم کو اس درجہ فراق ہو کہ یہ جیون عذاب ہوجائے تمہاری دید سے ہم دور ہی بھلے رہتے یہی تھا ڈر کہ نہ ہم پہ عتاب ہو جائے کہو نا تم کچھ بھی سچ سے ہم کو خطرہ ہے کہیں نا گلشن الفت سراب ہو جائے تم اپنے دل سے کوئی...
Top