اعجاز عبید خليل الرحمن

  1. اسامہ جمشید

    نعت مصطفى صلى اللہ عليہ وسلم . . .

    نعت مصطفى صلى اللہ عليہ وسلم . . . رات تھا چاند تھا تاروں ميں رہا كرتا تھا مشعلِ امن تھا ہر دل ميں جلا كرتا تھا پھول بھى اس كى نزاكت پہ فدا ہوتے تھے وہ جو ہرلفظ ميں خوشبوسى كہا كرتا تھا جانتا تھا وہ ترے درد كو دنيا ليكن پھر بھى وہ سينہ سِپر ہو كہ چلا كرتا تھا سارى دھرتى كا جگر بن كے تڑپتا...
  2. اسامہ جمشید

    اس رات نے مڑ كر ديكھا تھا

    بروز اتوار 7 سپٹمبر 2014 كو لكھي گئي ايك نظم (اس رات نے مڑ كر ديكھا تھا) ہم دور كسي اك وادي ميں لا وارث سے كچے گھر ميں تنها رات كو سوچ رهے تھے ہم جيسے خود كو بھول گئے اس رات بڑي بے چيني تھي كچھ مٹي كي بو نے ستايا اور آگ لگا دي قطروں نے اس گرتے گرتے پاني كے ہم دل كے پھوڑے پھوڑ گئے اس رات ميں...
  3. اسامہ جمشید

    دشت سے صحرا سے كهيں دور ميں بيٹھا تها هوا

    منه كيسے كيسوں كو لگايا تيري خاطر اور كيسے كيسوں كو تيري بات سنا ئي دنيا ميري دنيا سے كهيں دور چلي جا اس خود غرض سے دلدل ميں كبھي نيند نه آئي پھر لوگ ملے لوگ بھي كيا خوب تھے وه لوگ جب غور سے ديكھا انهيں خوب هنسي آئي دل چاها كه كاٹ كے پھينكوں دريا ميں بها دوں زخموں نے ميرے گھر پر هي كيوں گھات...
Top