احسان، ایوانِ ادب ، چکعال،

  1. احسان الٰہی احسان

    کنجِ غزل میں ہم نے جہاں کو بسا دیا

    کنجِ غزل میں ہم نے جہاں کو بسا دیا اس زندگی کو ایک فسانہ بنا دیا آدم سے ابتدا ہوئی اک داستان کی پھر اس کے حرف حرف پہ تارا ٹکا دیا چہروں پہ لکھ کے چھوڑ دیں ساری عبارتیں آوارہ خواہشوں کو ہوا میں اڑا دیا لکھتے رہے ہیں سانحہ اس ہست و نیست کا خالی زمین میں بھرا میلہ لگا دیا ہر رہگزر سے اپنا پتہ...
Top