اساتیذِ محفل

  1. محمدارتضیٰ آسی

    ایک کلام براے اصلاح "جو سرِ میداں سرِ زینبؑ سے چادر لے گئے"

    فراتِ سخن جو سرِ میداں سرِ زینبؑ سے چادر لے گئے پشت سے بیمار ؑکی وہ لوگ بستر لے گئے ہاتھ میں بے شیؑر کے اسلام کی تقدیر تھی اس لئے بے شیؑر کو ہمراہ سرور لے گئے شام کے بازار کی روداد میں روشن ہوا فاطمہ صغریٰؑ کو آخر کیوں نہ سرور لے گئے شاہ ؑ کی ہمشیر کو دہلیز سے ہو دج تلک ہاشمی عظمت سے عباسِؑ...
Top