نتائج تلاش

  1. نادیہ عنبر

    ایک شعر

    پھول جیسی نر م و نازک لڑ کی تھی وہ سیاست<دوروں نے جسے خش و خا شاک کیا
  2. نادیہ عنبر

    کاش کہ زندگی ہوتی

    کاش کہ زندگی ہوتی ترے وجہیہ چہرے جیسی دیدہ زیب ترے ہو نٹوں جیسی بھر پور آنکھوں جیسی پرُنور کاش کہ ہوتا تری نرم باہوں کا ساتھ گرم سانسوں کا احساس لمحہ لمحہ گرتی احساس کی شبنم کاش کہ زندگی ہوتی کسی معصوم بچے کی ہنسی کسی ساز کا نغمہ کاش کہ کاش کہ
  3. نادیہ عنبر

    السلام علیکم آپ سب کیسے ہیں؟میرے پیج پہ آئیں

    السلام علیکم آپ سب کیسے ہیں؟میرے پیج پہ آئیں
Top