ہیں یوں محبوب تجھے تیرے خیالوں والے
اب نہ ہوتے ہیں گوارا کھلے بالوں والے
ہے تلاش اب تو جوابات کی نکلے کوئی
ختم وہ دور ہوئے تھے جو سوالوں والے
بولتے ہیں تو بہت سوچ سمجھ کر بولیں
اس کی محفل میں لگے مونہہ پہ تالوں والے
رات کے وقت میسر نہیں آتے ہیں ہمیں
وہ خیالات جو ہیں دن کے اجالوں والے
یوں تو...