Recent content by ریحان احمد ریحانؔ

  1. ریحان احمد ریحانؔ

    ہر نفس عمرِ گزشتہ کی ہے میت فانی زندگی نام ہے مر مر کے جیے جانے کا

    ہر نفس عمرِ گزشتہ کی ہے میت فانی زندگی نام ہے مر مر کے جیے جانے کا
  2. ریحان احمد ریحانؔ

    صرف شعر

    یوں بھی کچھ لوگ انہیں لوٹ کے لے جاتے ہیں کچھ طبیعت بھی فقیروں کی غنی ہوتی ہے
  3. ریحان احمد ریحانؔ

    حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو

    حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو
  4. ریحان احمد ریحانؔ

    صرف شعر

    رات کا پچھلا پہر آوارگی یہ نیند کا بھوج ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر چلے جاتے
  5. ریحان احمد ریحانؔ

    سائنسی شاعری

    رات دن گردش میں ہیں سات آسماں ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبراویں کیا غالب
  6. ریحان احمد ریحانؔ

    ہونٹوں پہ تبسم ہے آنکھوں میں نمی ہے

    سر بہت مشکور ہوں آپ کا کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت ضائع کر کے میری اس غزل کی اصلاح کی اللہ آپ کو اس کی جزائے خیر عطا فرمائے
  7. ریحان احمد ریحانؔ

    کسی کو کیسے بتائیں ضرورتیں اپنی مدد ملے نہ ملے آبرو تو جاتی ہے

    کسی کو کیسے بتائیں ضرورتیں اپنی مدد ملے نہ ملے آبرو تو جاتی ہے
  8. ریحان احمد ریحانؔ

    ہم صبح پرستوں کی یہ ریت پرانی ہے۔۔ہاتھوں میں قلم رکھنا یا ہاتھ قلم رکھنا

    ہم صبح پرستوں کی یہ ریت پرانی ہے۔۔ہاتھوں میں قلم رکھنا یا ہاتھ قلم رکھنا
  9. ریحان احمد ریحانؔ

    آج کا شعر

    گلہ تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا کہاں سے نکلے صدا لا الہ الااللہ علامہ اقبال
  10. ریحان احمد ریحانؔ

    تاسف سید علی گیلانی صاحب کا سانحہ رحلت

    انا للہ و انا الیہ راجعون آہ زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی بخشش فرما کر انہیں جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
  11. ریحان احمد ریحانؔ

    جہل اب جلوہ فگن ہے آئینہ خانوں کے بیچ

    وعلیکم السلام یاسر بھائی آپ نے جن غلطیوں نشاندھی کی میں ان غور کروں گا آپ کا بہت شکریہ
  12. ریحان احمد ریحانؔ

    جہل اب جلوہ فگن ہے آئینہ خانوں کے بیچ

    استادِ محترم یاسر شاہ محمّد احسن سمیع :راحل: ظہیراحمدظہیر
  13. ریحان احمد ریحانؔ

    جہل اب جلوہ فگن ہے آئینہ خانوں کے بیچ

    شیخ جی بیٹھے ہوئے ہیں ایسے فرزانوں کے بیچ جیسا دیوانہ کوئی بیٹھا ہو دیوانوں کے بیچ مے کہاں کی، جام کس کا، کون ہے ساغر بکف محتسب بیٹھے ہوئے ہیں اب تو میخانوں کے بیچ تو کہ گل پیکر تھا تیرا جسم تھا عینِ بہار تو بھلا کیوں رہتا ہم سے سوختہ جانوں کے بیچ کوئی تو بولے کہ یہ دستِ ستم زنجیر ہو...
  14. ریحان احمد ریحانؔ

    کچھ تو ہی کھول یہ کیا رازِ نہاں ہے سائیں

    یاسر بھائی بہت شکریہ آپ کا
Top