”اردو محفل “ کے شاعرسے مکالمہ (نیاسلسلہ)

در اصل شرط بہت کڑی ہے! ’’غیر رسمی‘‘ اور ’’غیر روایتی‘‘ بات ہونی چاہئے۔
روایتی رسمی سے قطع نظر میں اِس کوشش میں ہوں کہ وہ کچھ کہہ سکوں جو میرا سچ ہے۔
 
’’جاؤ میاں! کسی گھسیارے سے جا کے سیکھو، میں تو قلعے کی زبان بولتا ہوں‘‘۔ مرزا غالب نے تو یہ بات عوام اور خواص کی روزمرہ کے حوالے سے کہی تھی، تاہم یہاں اس سوال کا جزوی جواب بھی ملتا ہے کہ ’’اچھے شعر کا معیار کیا ہے؟‘‘۔ پہلے بات ہو چکی کہ ادب میں شائشتگی اور شستگی ہونی چاہئے، جمالیات کی بات بھی ہو چکی۔ نثر اور شعر کا تھوڑا سا تقابل بھی ہو چکا۔ پروفیسر انور مسعود سے بھی سنا (1990ء) کہ: شعر وہ ہے جو آپ کو چھیڑ دے اور ذہن اس کے پیچھے یوں لپکے جیسے بچہ تتلی کے پیچھے دوڑتا ہے۔
شعر کا تعلق اصلاً محسوسات اور ان کے ابلاغ سے ہے۔ محسوسات کو ہم فزکس کیمسٹری کی طرح لگے بندھے پیمانوں سے نہیں ناپ سکتے۔ ابلاغ میں شاعر اور قاری دونوں کا اپنا اپنا حصہ ہے۔ ایک شاعر کے ایک ہزار قاری ہوں تو لازمی نہیں کہ تمام قارئین کو شعر کا یکساں ابلاغ ہوا ہے۔ زبان کون سی شستہ ہے کون سی نہیں، اس پر بھی اتفاقِ رائے محال ہے۔ جمالیاتی اقدار بھی متفرق اور کہیں کہیں انفرادی ہو سکتی ہیں۔ ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ شعر جتنا ’’بہترین‘‘ ہو سکے ہونا چاہئے، تاہم اس ’’بہترین‘‘ کو گراف پر لکیرنا بھی ممکن نہیں۔ تو پھر؟ کہاں جائیے گا؟!! ہم جس پیمانے کی بھی بات کریں وہ شاعر اور قاری دونوں کی مشترکہ معاشرتی کی اقدار کی مناسبت سے ہو گا۔ بہ این ہمہ، ہم شعر کے معیار کا تعین کرنے والے عناصر کی بات تو کر ہی سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔​
 
بہ این ہمہ، ہم شعر کے معیار کا تعین کرنے والے عناصر کی بات تو کر ہی سکتے ہیں۔​
تاہم ان میں کسی عنصر کو دوسروں پر قطعی ترجیح نہیں دے سکتے۔
اظہار کا ٹُول یعنی لفظیات اور زبان:۔ اس میں شائستگی بہت لازم ہے، ہمیں شعر میں کوئی تلخ بات بھی کرنی ہو تو لازم ہے وہ تلخی الفاظ کے حسنِ ترتیب، حسنِ انتخاب اور حسنِ ادا کو متاثر نہ کرے۔ بقول انور مسعود: ’’تلخ بات تو کوئی بھی برداشت نہیں کرتا یار! شوگر کوٹڈ پلز ہونے چاہئیں، یہ نہیں کہ سِر وِچ ڈانگ کڈھ مارو۔‘‘ عشقِ مجازی کو لے لیجئے، محبوب کو کٹھور، ظالم، بے رحم، قاتل اور پتہ نہیں کیا کچھ کہا جاتا ہے۔ سیدھے سبھاؤ بات کی جائے تو یہ صاف گالیاں بنتی ہیں۔ شاعر بات کرتا ہے اور یہی کچھ ایسے انداز میں کہہ جاتا ہے کہ خود محبوب بھی سنے تو اسے اچھا لگے۔ یہ وصف شاید ’’سلیقہ‘‘ کہلائے گا؟ شاعر اپنے محبوب سے کہنا چاہتا ہے کہ: ’’چل اوئے وڈا پھنے خان! تو شے کیا ہے؟ تو نہیں جانتا نا، اور نہ مانتا ہے تو چل، آج کے بعد تیرا خیال تک نہیں آئے گا مجھے!‘‘۔ محبوب تو محبوب، سننے والے کہہ اٹھیں گے کہ اس کا دماغ چل گیا ہے۔ لیکن کچھ ایسی ہی بات اگر یوں کی جائے:
جا، تری یاد کو دل بدر کر دیا​
تیرے شایاں جو تھا کر دیا فیصلہ​
تو قاری اور سامع شاعر سے متفق ہو یا نہ ہو، بات کا لطف لیتا ہے۔
ملائمت اور سلاست:۔ یہ میرا سب سے بڑا مسئلہ ہے، میں اس کو بہت اہمیت دیتا ہوں خاص طور پر غزل کے لئے۔ نہ صرف یہ کہ لہجہ ملائم ہو اور الفاظ اپنے دقیق یا بوجھل معانی کے ہوتے ہوئے بوجھل محسوس نہ ہوں۔ اب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ شعر میں ساری سلیس اردو لکھی جائے، پھر شاعر کی اپنی ایک علمی اور فکری سطح ہے اور اُسے ایک باریک بات اپنے قاری تک پہنچانی ہے یا کسی دقیق فلسفیاتی حوالے سے بات کرنی ہے تو اس میں شوکتِ لفظی تو آئے گی۔ میں نے اپنے ایک مضمون ’’حکمِ اذاں‘‘ میں اقبال کے ہاں ’’عالمانہ سلاست‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ محفل پر وہ مضمون موجود ہے، لنک تلاش کر کے پیش کر دوں گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔​
 
ملائمت کا دائرہ صرف الفاظ کے چناؤ تک محدود نہیں ہونا چاہئے، بلکہ صوتیت (ادائیگی) میں بھی ہو۔ قریب المخارج یا ہم مخرج حروف صوتیت میں ٹکرانے نہ پائیں اور قاری کو شعر کی تلاوت میں کوئی دقت یا رکاوٹ پیش نہ آئے۔
اعتذار:
لفظ ’’تلاوت‘‘ اصطلاحاً کتاب اللہ کے لئے خاص ہے۔​
لیکن یہاں اسے اس کے لفظی معانی میں لیجئے گا:​
’’پیچھے پیچھے آنا‘‘ ’’لکھے ہوئے کو پڑھنا‘‘ وغیرہ۔​

زبان کے معروف قواعد کی پابندی:۔ یہ معاملہ فی زمانہ بہت نازک ہوتا جا رہا ہے۔ اس پر مزید بات بعد میں، ان شاء اللہ۔
 
ان کے کلام کی خاص بات عالمانہ سلاست ہے۔فنِ شعر کی عمومی اصطلاح ’’سلاست‘‘ اقبال کے کلام پر یوں موزوں نہیں بیٹھتی کہ ان کے ہاں سادہ اور آسان فہم الفاظ کی بجائے فارسی کی بھاری بھرکم تراکیب زیادہ مستعمل ہیں۔ سحرطرازی کی بات یہ ہے قاری کو ان تراکیب کی ثقالت کا احساس تک نہیں ہوتا، اور وہ انہیں سلاست کے ساتھ پڑھتا چلا جاتا ہے۔​
 
اہلِ محفل کو اپنے مطالعے میں شریک کرتا ہوں۔

  • ’’غزل بہت آسان صنف سخن ہے۔ غزل کہنے کی محض رسم پوری کرنی ہو تو چند قافیے کاغذ پر لکھ لیجیے، مضمون وہ خود سجھادینگے، ردیف مضمون کی بندش کا طریقہ سمجھا دے گی۔۔۔۔۔۔ ( اس کے بر خلاف) اگر غزل ذمے داری سے کہی جائے، اسے ذاتی تجربے کے اظہار کا ذریعہ بنایا جائے تو اس سے زیادہ صبر آزما کوئی دوسری صنف سخن نہیں۔ رسمی غزل کہنے والوں کے لیے جن سہولتوں کا اوپر ذکر ہوا ایک ذمہ دار غزل گو شاعر کے لیے وہی سہولتیں مشکلات کی شکل اختیار کرلیتی ہیں ۔۔۔ کیونکہ اسے تو اپنی بات اپنے لہجے میں کہنی ہے۔‘‘
فیس بک پر سید ضیاءالدین نعیم کی تازہ خوشہ چینی​
 
زبان کے قواعد معروف ہیں۔ ترکیب سازی کیسے ہو سکتی ہے، کیسے نہیں ہو سکتی۔ کسی نئی بحث میں پڑنے سے کہیں بہتر ہے کہ مروجہ قواعد کی توقیر کی جائے۔ وحدت و جمع، تذکیر و تانیث، فاعل فعل اور مفعول کی مطابقت، ہجے تلفظ اور املاء۔ محاورہ اور ضرب المثل؛ شعر میں ان سب کا دھیان رکھنا ہوتا ہے۔ ہم آٹھ آٹھ آنسو رو سکتے ہیں، چار چار چھ چھ دس دس نہیں۔ چھینکا بلی کے بھاگوں ہی ٹوٹے گا اور چھینکا ہی ٹوٹے گا، دودھ کا جگ نہیں۔ مینہ چھاجوں برستا ہے، بارش چھاجوں نہیں برستی، اور چھاج چھاج ہی رہتا ہے کڑاہا نہیں بن سکتا۔ ہاں انہیں محاوروں اور ضرب الامثال کو معنویت دینا آپ کی فنی پختگی اور اعلیٰ اپچ کی دلیل ہو گا۔
 
شعر کی زمین اور عروضی معاملات:۔ ردیف اختیاری ہے، لیکن جب آپ نے ایک ردیف اپنا لی تو پھر اس کو نبھانا لازم ہے۔ قوافی میں بہت سے مباحث چل رہے ہیں، ان سے خبر دار رہئے اور اپنے تئیں کسی بھی ’’ارادی غلطی‘‘ سے گریز کیجئے۔ آپ کی یہ احتیاط آپ کو دوسروں کے لئے مثال بھی بنا سکتی ہے۔ اوزان کی غلطیوں سے بچنا بہت ضروری ہے، میں ذاتی طور پر نامانوس زمینوں (بحر، قافیہ، ردیف) سے کنی کتراتا ہوں، اگر آپ اس سے نبرد آزما ہونے کی اہلیت اور ہمت رکھتے ہیں تو ضرور ہوجئے۔ دیکھا یہی گیا ہے کہ مانوس بحروں میں کی گئی شاعری قاری کو زیادہ لبھاتی ہے۔ اور اساتذہ کے ہاں عام طور پر وہی انتیس تیس مانوس بحریں ملتی ہیں۔
 
موضوعِ سخن:۔ ہماری روز مرہ زندگی ایک نہیں ہزاروں موضوعات لئے ہوئے ہوتی ہے۔ کچھ موضوعات من حیث الانسان ہمارے ساتھ جڑے ہوئے ہیں: زندگی، جد و جہد، خدشات، امیدیں، آرزوئیں، محبت، نفرت، دشمنی وغیرہ، کچھ موضوعات ہر معاشرے کے خاص اپنے اپنے ہوتے ہیں، ان کو ملکی، سیاسی، سماجی، مذہبی، نظریاتی حوالوں کے موضوعات کہا جاتا ہے۔ کچھ واقعات اور حوادث موضوع بن جاتے ہیں، ان میں کچھ قلیل وقتی ہوتے ہیں، کچھ طویل، کچھ مستقل، کچھ ذاتی، کچھ ذاتی موضوعات کا پھیلاؤ و علیٰ ہٰذا القیاس۔ ان میں سے کوئی بھی موضوع شاعری میں آ سکتا ہے (کبھی ایک، کبھی ایک سے زیادہ، کبھی ایک پہلو سے، کبھی زیادہ جہتوں سے)۔
کسی عارضی اور وقتی موضوع پر شعر کہا جائے تو ظاہر ہے اس شعر کے بھی عارضی اور وقتی ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ کسی مستقل اور جامع تر موضوع پر شعر کہا جائے تو اس کا حوالہ جاتی دائرہ بھی اسی قدر مستقل اور جامع ہو گا، یوں بات آفاقیت تک پہنچتی ہے۔ شعر میں آفاقیت کا عنصر جتنا بلند ہو گا، شعر بھی اتنا بلند ہو گا (دیگر عناصر کی نفی مقصود نہیں ہے، ان کی اہمیت ساتھ ساتھ چلتی ہے)۔
 
شاعرانہ حربے:۔ جی ہاں، مجھے یہ لفظ بہت موزوں لگتا ہے۔
اب تک ہم نے شعر کے معیار پر جتنی بات کی ہے اس میں تخلیقی عنصر کا کماحقہٗ ذکر نہیں ہوا۔ جیسا ہم نے پہلے کہا شعر کہنے کی صلاحیت ایک ودیعت ہوا کرتی ہے۔ شاعر کا کام کسی بات، واقعے، صورتِ حال کو محض بیان کر دینا نہیں بلکہ اس کو شعر میں ڈھالنا ہے یعنی اپنے قاری کو چھیڑنا! اس عمل میں ایک تو انشاء پردازی ہے، شعر میں یا تو کوئی سوال ہو گا، یا سوال جیسا جواب ہو گا، یا کسی جذبہ، کیفیت وغیرہ میں قاری کو شریک کرنا مقصود ہو گا یہ کیفیت نگاری ہوئی۔ پھر فکر و فلسفہ بھی ہے، پیام بھی ہے! بات سے بات نکالنا بھی ہے، اس کو آپ مضمون آفرینی کہہ لیجئے۔ کسی نہ کسی طور ایک نقشہ ایسا بنانا ہے کہ قاری کی نظر میں کھب جائے، اس کو منظر آفرینی کا نام دے لیجئے۔ اس کے ساتھ ساتھ لفظوں کا چناؤ شاعر کے مزاج میں ہوتا ہے، اس کا کوئی فارمولا نہیں بنایا جا سکتا۔
غزل کی بات کریں تو اُس کی بحر الفاظ کا حیطہ طے کرتی ہے، قافیہ مضامین اور موضوعات سجھاتا ہے اور ردیف پوری غزل کو ایک ماحول دیتی ہے۔ مذکورہ بالا معاملات بدستور موجود! آپ خود اندازہ لگا لیجئے کہ یہ چومکھی بھی نہیں ہزار مکھی لڑائی ہے جو شاعر اپنے آپ سے بھی لڑتا ہے اور اپنے قاری سے بھی۔ شاید اسی لئے یہ جملہ مشہور و مقبول ہوا کہ: ’’شاعری خونِ جگر مانگتی ہے‘‘۔
 
شاعر کی لفظی اور فنی ترجیحات:۔ بہت فطری سی بات ہے کہ لکھاری کو کچھ خاص الفاظ اور تراکیب اچھے لگتے ہیں اور وہ بار بار اُن سے کام لیتا ہے۔ اس سے یہ قطعاً باور نہ کیا جائے کہ وہ اپنی اس محبوب لفظیات و تراکیب کا اسیر ہوتا ہے یا اس سے باہر نہیں جا سکتا۔ لفظیات اور تراکیب کا دوسرا سرا شعر کے موضوع سے جڑا ہوتا ہے، بحر اُن لفظیات پر کچھ پابندیاں لگاتی ہے اور ان سب عوامل کے تعامل میں ایک وہ کیفیت بنانی ہوتی ہے جسے چلئے ’’توازن‘‘ کا نام دے لیجئے۔
لفظی ترجیحات کے پیچھے ایک اور عامل ہوتا ہے، شاعر کا اپنا طرزِ فکر اور طرزِ احساس۔ یہ اس کی شخصیت کا حصہ ہوتا ہے۔ قلمکاروں سے میں ہمیشہ یہ سفارش کیا کرتا ہوں کہ وہ خود پر جبر نہ کریں اور اپنی شخصیت کو چھپانے پر محنت ضائع نہ کریں۔ آپ اپنی فکر کا حلقہ توڑ کر کچھ لکھ بھی لیں تو اُس پر خود آپ کا مطمئن ہونا بھی مشکل امر ہے۔ اسے جو بھی نام دے لیجئے، چلئے ’’فنی صداقت‘‘ کہے لیتے ہیں۔
آپ فن میں کتنے صادق ہیں، اور لفظی اور فنی ترجیحات میں کس حد تک توازن قائم کر سکتے ہیں؛ یہ بھی آپ کے شعری معیار کا ایک پیمانہ ہے۔
 
ابلاغ:۔ شاعر اور قاری دونوں کا اصل مسئلہ ہے۔ میں شعر اس لئے کہتا ہوں کہ میری فکر یا میرا احساس میرے قاری تک اپنی پوری جمالیاتی تب و تاب کے ساتھ پہنچے۔ یہاں کچھ میرا کام ہے اور کچھ میرے قاری کا۔ مجھے اپنی بات کو بہت زیادہ الجھائے بغیر قاری تک پہنچانا ہے اور قاری کا منصب یہ ہے کہ وہ میری بات کا ادراک کرے۔ اس کے لئے بنیادی بات ہے کہ میں اس زبان میں بات کروں جو ادب کے ایک قاری کے لئے اجنبی نہ ہو۔ زبانِ غیر کی بات ہو تو وہاں مترجم چاہئے اور اس میں کوئی قباحت نہیں۔ ہاں زبان کی چاشنی ترجمے میں کھو جایا کرتی ہے، تاہم یہ ایک الگ بحث ہے۔
قاری میں اور مجھ میں جتنی (فنی فکری مذہبی لسانی سماجی نفسیاتی سیاسی تخلیقی) سانجھ ہو گی، ابلاغ کی سطح اتنی ہی بلند ہو گی۔ اس میں ابہام کا نہ ہونا بہترین بات ہے۔ اصولی طور پر ابہام ابلاغ کی ضد ہے، تاہم بسا اوقات یہ واقع ہو جاتا ہے۔ کہیں میں پورے طور پر بات کر نہیں پایا، کہیں میرے لفظوں میں کچھ ایہام جیسی بات ہو گئی، قاری کی اور میری سانجھ کسی بات پر صفر ہے یا تقریباً صفر ہے، وغیرہ وغیرہ۔ فکری اور نظریاتی ٹکراؤ اور چیز ہے تضاد اور چیز ہے۔
ابہام اور ایہام کو ہم معنی سمجھ لینا تخلیق میں ابہام پیدا کرتا ہے۔ ایہام کو بطور صنعت استعمال کرنا کم از کم میرے بس میں نہیں، میرے ہم قلم جانیں اور ان کی صلاحیتیں جانیں۔
یوں خیالوں کی تصویر قرطاس پر کیسے بن پائے گی​
لفظ کھو جائیں گے فن کی باریکیاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے​
۔۔۔۔
 
میرا خیال ہے کہ بہت حد تک ہمیں اس سوال کا جواب بھی مل گیا

اردو محفل :

آپ کیا کہتے ہیں کہ کسی شاعر کے ہاں اسلوب کیسے ترتیب پاسکتا ہے ؟​

اگرچہ یہ مکمل جواب نہیں ہے۔ جو کچھ بھی ہے قبول فرمائیے گا۔

جناب التباس محمد وارث، محمد خلیل الرحمٰن، الف عین، مدیحہ گیلانی، محمد بلال اعظم، اور جملہ اصحابِ مجلس۔
 
اردو محفل :​
مملکت ِ ادب میں چلن عام ہے کہ لکھنے والے بالخصوص نئی نسل اپنے کام کو ” ادب کی خدمت“ کے منصب پر فائز دیکھتی ہے ۔۔ کیا ایسا دعویٰ قبل از وقت نہیں ؟​

اردو محفل :​
ادب کی حقیقی معنوں میں خدمت کیا ہے ؟​

یہ دونوں سوال در اصل ایک ہیں۔ دوسرے سوال کا جواب بنیاد فراہم کرتا ہے۔ دیکھئے! بیس، پچاس، سو، دو سو غزلیں کہہ لینا یا نظموں کی کتاب چھپوا لینا، بلاشبہ ایک کام ہے، آپ کا شمار اہلِ قلم میں ہوتا ہے، آپ کو اعتماد ملتا ہے، ادب کے خزینے میں کچھ عمدہ شاعری کا اضافہ ہوتا ہے۔ اسی بات کو نثر پر منطبق کر لیجئے۔ اس کام کو کام تسلیم نہ کرنا قلم کار کے ساتھ زیادتی ہے۔

حقیقی معنوں میں ادب کی خدمت یہ ہے کہ میں اور آپ کوئی ایسی طرح ڈال جائیں کہ بعد والوں کو اسے قبول کرنے میں شرمندگی نہ ہو۔ ایسے ادبی مسائل پر بحث کریں جو ہنوز کسی حتمیت تک نہیں پہنچے۔ اس میں نظم، نثر، تحقیق، تنقید، تنقیح کی تقسیم نہ کیجئے یہ ایک ہمہ جہتی مسئلہ ہے۔ زبان پر کام کیجئے، عروض پر کام کیجئے، یا جو بھی آپ کا من پسند شعبہ ہے اس میں کام کیجئے اور اس طرح کیجئے کہ جو مسائل آپ کو دقیق لگ رہے ہیں اُن کو آنے والوں کے لئے آسان بنانے کی طرف پیش رفت کا سامان کر سکیں یا ایسی پیش رفت کے لئے راہ ہموار کر جائیں۔

گستاخی معاف، یہاں ایک بات بہت اہم ہے۔ آپ کو اپنی ذات سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہے پڑے گا، اور خود اپنے ہی کئے ہوئے کام کے نتیجے میں اگر آپ کا اپنا کوئی نظریہ بھی غلط ثابت ہوتا ہے تو اس کو غلط ماننا پڑے گا۔
 
اردو محفل :​
نظم کی بات الگ مگراسالیب ِ غزل میں”لسانیاتی تداخل“ کے نام پرعلاقائی بولیوں، زبانوں بالعموم و بالخصوص انگریزی زبان کے الفاظ زبردستی ٹھونسے جارہے ہیں، کیا غزل اس کی متحمل ہوسکتی ہے؟​

اردو محفل :​
لسانیاتی تشکیل اور اس کے عوامل کے جواز کے طور پر تہذیب و ثقافت سے یکسر متضاد نظریات کے حامل بدیسی ادیبوں کے حوالے پیش کیے جاتے ہیں ۔۔ کیا زبانِ اردو اوراصنافِ ادب مزید کسی لسانیاتی تمسخر کی متحمل ہوسکتی ہیں ؟؟​

یہ دونوں سوال بھی ’’مسلسل‘‘ ہیں۔ میں اپنی علاقائی زبانوں کے الفاظ قبول کرنے میں کچھ قباحت نہیں سمجھتا۔ لیکن ایک شرط پر! بات چونکہ غزل کے حوالے سے ہوئی اور میں نے خود اس کو اردو ادب کا عطر قرار دیا، تو عطر میں ملاوٹ؟ صرف اور صرف ایک صورت میں قابلِ قبول ہے کہ اس کی مہک میں چاشنی آئے۔ آپ سندھی بلوچی پشتو پنجابی کشمیری سے کوئی بھی لفظ لیجئے اگر استعمال کر سکتے ہیں اور وہ بھی اس طرح کہ غزل کی ملائمت قائم رہے، لفظ کھردرا محسوس نہ ہو اور معانی کی سطح پر بھی اپنا جواز رکھتا ہو، تو درست۔ نہیں تو معذرت!
یہ بات ہمیں کھلے دل سے تسلیم کرنی ہو گی کہ نہ صرف اردو بلکہ دنیا کی تمام زبانیں کئی کئی زبانوں کے ایسے اختلاط سے وجود میں آئی ہیں جسے آپ آٹا گوندھنے سے تشبیہ دے سکیں۔ آٹے میں آپ نمک مرچ، آلو، گوبھی کچھ بھی ڈال لیجئے پہلے اس کو باریک کرنا ہوتا ہے اور پھر اس کو گیلا کر کے کوٹ پیٹ اور لپیٹ کے عمل سے گزارنا ہوتا ہے کہ سب کچھ ایک دوسرے میں گھل مل جائے۔ ذائقہ ہر چیز کا اپنا اپنا رہے گا مگر اس کو الگ نہیں کیا جا سکے گا۔ اور یہ عمل نسلوں بلکہ صدیوں میں ہوا کرتا ہے، جمعہ جمعہ آٹھ دن یہاں مؤثر نہیں ہوتے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق اردو میں اصلاً انیس سے زیادہ بڑی زبانوں کی لفظیات اور محاورے ہیں جن میں سے اکثر کا ہمیں یہی پتہ ہے کہ یہ اردو کا ہے اور بس۔ مقامی زبانوں کو آنے دیجئے لیکن ذرا سلیقے کے ساتھ۔
 
رہی بات بدیسی زبانوں کی، پہلے ایک وضاحت کہ یہاں بدیسی سے سیاسی تقسیم مراد نہ لی جائے۔ بارڈر لائنیں بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں، وہ ہمارا موضوع نہیں۔ ہر وہ زبان بدیسی ہے جو کسی دُور کی تہذیب سے تعلق رکھتی ہے۔ اس میں بھی کچھ الفاظ البتہ ایسے ہو سکتے ہیں جو اردو میں یوں سما جائیں کہ اجنبیت کا احساس نہ ہو۔
پروفیسر انور مسعود کی ایک اور بات یہاں بیان کرنے کے قابل ہے۔ انہوں نے کہا: ’’پنجابی میری مادری زبان ہے، اردو میری قومی زبان ہے، فارسی میری تہذیبی زبان ہے اور عربی میری دینی زبان ہے۔ مجھے ہر زبان اپنی اپنی سطح پر عزیز ہے‘‘۔
ہاں مجھے اردو ہے پنجابی سے بھی بڑھ کر عزیز​
شکر ہے انور مری سوچیں علاقائی نہیں​

انگریزی فرانسیسی جرمن جاپانی میں تو غزل ہوتی ہی نہیں! غزل پر میرے لئے جناب الف عین اور جناب محمد وارث کی رائے کہیں زیادہ معتبر ہے اس بیان کے مقابلے میں جو لارڈ بائرن، موپساں وغیرہ کے حوالے سے بیان کیا جائے۔ انگریزی میں کہانی ہے، مختصر کہانی ہے؛ ان کے جو بھی خواص ہیں وہ اپنی جگہ درست، مگر انگریزی میں افسانہ نہیں ہے۔ کوئی دو چار دس مختصر کہانیاں افسانے جیسی ہوں تو بھی یہ کہنا زیادتی ہے کہ افسانہ انگریزی کی مختصر کہانی سے پیدا ہوا۔ ہائیکو جاپان والوں کا ادبی سرمایہ ہے، بجا اور یہ بھی بجا کہ ان کے ہاں یہ صنف موضوع کے اعتبار سے ہے، ہیئت کے اعتبار سے نہیں۔ جیسے ہمارے ہاں نظم میں حمد و نعت ہے، بہاریہ ہے، واسوخت ہے، غزل ہے، قصیدہ ہے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ ہمارے دانشور اس کی ہیئت پر مصروفِ بحث ہیں اور اردو میں اس کے اوزان کا تعین نزاع بنا ہوا ہے۔ صاحبو! جاپانی زبان کے تو میٹرز ہی ہم سے نہیں ملتے۔ انگریزی کے میٹرز بھی اردو سے مختلف ہیں، تو پھر میں اپنی توانائیاں وہاں صرف کیوں کروں؟ اگر مجھے میڑز پر ہی کام کرنا ہے تو مجھے اپنے موجودہ عروضی نظام پر بات کرنی چاہئے۔ بجائے اس کے کہ چینی زبان کی سر اور لے کا اردو متبادل کیا ہے۔
 
Top