’رِنگ گرلز‘ کو جسم ڈھانپنے کی ہدایت!

arifkarim

معطل
’رِنگ گرلز‘ کو جسم ڈھانپنے کی ہدایت
  • 11 جون 2015
شیئر
’باکسنگ اصل میں انٹرٹیمنٹ کا ایک ذریعہ ہے‘
مختصر لباس پہنے ہوئے باکسنگ میچوں کے دوران ناظرین کو محظوظ کرنے والی ’رِنگ گرلز‘ روس میں ہمیشہ سے رہی ہیں، لیکن جلد ہی یہ لڑکیاں قصۂ پارینہ بننے جا رہی ہیں۔

روس میں باکسنگ کے سب سے بڑے پروموٹر میر بوسکا کہتے ہیں کہ مستقبل میں ان خواتین کو ااپنے جسم کو ڈھانپنا ہو گا تا کہ مختلف تہذیبوں اور علاقوں کے کھلاڑی اور باکسنگ کے مداح آرام سے کھیل سے لطف اندوز ہو سکیں۔

میر بوسکا کے بقول ’مسلمان باکسرز بھی ان مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں اور ہم ان کا احترام کرتے ہیں۔‘

دوسری جانب روس کے خبر رساں ادارے ’تاس‘ سے بات کرتے ہوئے ایک اور پروموٹر اینڈری ریابنسکی کا کہنا تھا کہ باکسنگ کے یہ مقابلے ’بین الاقوامی معیار کے مقابلے ہوتے ہیں، نہ کہ کوئی سٹرپ کلب جہاں خواتین نیم برہنہ ہو کر شائقین کی تواضع کرتی ہیں۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مسٹر ریابنسکی نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ رِنگ گرلز ایسے کپڑے پہنیں جن میں وہ ’خوبصورت دکھائی دینے کے ساتھ ساتھ حیا اور اچھے ذوق کی عکاسی کریں۔‘

باکسنگ شو
باکسنگ کا میچ ایک شو ہوتا ہے۔ یہ کوئی چرچ، مسجد یایہوری عبادت گاہ نہیں۔
مداح
باکسنگ کے مقابلوں میں رِنگ گرلز کا اصل کام رِنگ میں گھوم کر تختے یا بینر پر لکھا ہوا ہندسہ حاضرین کو دکھانا ہوتا ہے کون سا راؤنڈ شروع ہونے جا رہا ہے۔

روسی پروموٹرز کے اس اعلان کے بعد کھیلوں کے مبصرین نے انٹرنیٹ پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ باکسنگ کی مقبول ویب سائٹ پر مشہور ماہر آندرے بزڈیو نے لکھا ’ یہ کیا فضول بات ہے۔ آخر ہم یہاں تک پہنچے کیسے؟‘

’سچ پوچھیں تو باکسنگ اصل میں تفریح کا ایک ذریعہ ہے اور باکسنگ میں مذہب کا کوئی لینا دینا نہیں۔ باکسنگ کی دنیا ایک مکمل سکیولر دنیا ہے۔ اگر آپ کو باکسنگ نہیں دیکھنی تو نہ آئیں۔‘

اسی قسم کی حیرت اور خفگی کا اظہار ہمیں دیگر ذرائع ابلاغ میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ روسی حکومت کے اخبار ’روسیاسکیا گزٹ‘ کے مطابق ’اپنے جسم کی نمائش کرنے والی رِنگ گرلز کے بغیر باکسنگ کے میچ کا تصور کرنا ہی مشکل ہے۔‘

’سپورٹس ڈاٹ آر یو‘ پر پر باکسنگ کے بہت سے شائقین نے بھی روسی پروموٹرز کے اس اعلان کے خلاف خیالات کا اظہار کیا ہے اور کچھ نے مذہب اور باکسنگ کے کھیل کو مِلانے کے خیال پر اپنی بیزاری اور برہمی دکھائی ہے۔

ایک شخص نے لکھا کہ ’ باکسنگ کا میچ ایک شو ہوتا ہے۔ یہ کوئی چرچ، مسجد یایہوری عبادت گاہ نہیں۔‘

ایک دوسرے شخص کا خیال تھا کہ روس میں حقوق نسواں کی تحریک کے لیے ابھی بہت سفر باقی ہے۔ اس شخص کا کہنا تھا کہ کافی عرصے سے باکسنگ کے کھیل میں جوش و خروش ویسے ہی ختم ہو چکا ہے لیکن ’ باکسنگ کے غیر دلچسپ مقابلوں سے خوبصورت خواتین کو نکال باہر کرنا تو حد سے گزر جانے والی بات ہے۔‘
http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/06/150611_russia_ring_girls_sq
 
Top