ہے لطف خموشی میں نہ آہوں میں مزہ ہے

قرۃالعین اعوان

لائبریرین
ہے لطف خموشی میں نہ آہوں میں مزہ ہے
بے کیفئ دل ان دنوں حد سے سوا ہے

جا ئز نہیں اندیشئہ جاں عشق میں اے دل
ہشیار کہ یہ مسلک ِتسلیم و رضا ہے

پہنچا دیا مجھ کو یہ کہاں جوشِ طلب نے
رہبر ہے جہاں کوئی نہ منزل کا پتا ہے

اب اس میں تڑپنے کی سکت ہی نہیں باقی
کیوں دل کو مرے نشترِ غم چھیڑ رہا ہے

اے دوست میں کیا محویتِ دل کو چھپاؤں
جب حسنِ تصور بھی ترا ہوش ربا ہے

کچھ دیر کو آئے تھے وہ تصور میں لیکن
اب تک دل پر شوق میں اک حشر بپا ہے

اک ربطِ محبت کا ہی احساس ہے دل میں
کچھ اور نہ احساسِ جفا ہے نہ وفا ہے

بے خود کئے رہتی ہیں تصور کی فضائیں
اپنی شبِ تنہائی کا عالم ہی جدا ہے

فطرت کی عطا ہیں مرے جذباتِ محبّت
اندازِ تغزل ہی مرا سب سے جدا ہے

میں عارفی اب اپنے ہی دل سے ہوں پشیماں
اب مجھ کو شکا یت ہے کسی سے نہ گلہ ہے
ڈاکٹر محمّد عبدالحئ صا حب
 

سید زبیر

محفلین
میں عارفی اب اپنے ہی دل سے ہوں پشیماں
اب مجھ کو شکا یت ہے کسی سے نہ گلہ ہے
بہت عمدہ کلام اور بہترین انتخاب شریک محفل کرنے کا شکریہ
 
Top