گِدھ

ام اریبہ

محفلین
گِدھ

اور پھر وہاں صفائی کا وقت ہو گیا__________!!
ہسپتال کے سارے خاکروب جھاڑو اور ٹاکیاں لے کر نکل آئے۔ ایک جمعدار نے مور کی دم جیسا جھاڑو ہوا میں لہرایا اور پاس کھڑے ٹاکی برادر سویپر سے بولا " یہ بچہ مرتا ہے اور نہ ہی یہ مائی یہاں سے جاتی ہے، دیکھو خون سے سارا فرش گندا کر دیا- اگر صاحب راؤنڈ پر آگئے تو بے عزتی تو ہماری ہی ہوگی ناں"
ٹاکی بردار نے اثبات میں سر ہلایا اور بولا، "چلو اس مائی کی چھٹی کرائیں"
دونوں چلتےہوئے آخری سانسیں لیتے بچے کے قریب آئے اور بوڑھی نانی سے مخاطب ہو کر بولے ،" بڑی اماں تمہیں کتنی بار سمجھایا ہے ڈاکٹر صاحب میٹنگ میں ہیں ،تم اسے کسی پرائیویٹ ہسپتال میں کیوں نہیں لے جاتی ، اس کی جان کی دشمن کیوں بنی ہو؟"
بچے نے خالی آنکھوں سے اوپر کھڑے خاکروبوں کو دیکھا اور سوچا ، "کیا موت کے فرشتے ایسے ہوتے ہیں، بھدے ، بدبو دار اور گندے....!"
" نہیں۔۔" اس کے اندر سے آواز آئی،میرے مرحوم ماما، بابا بتایا کرتے تھے کہ فرشتے تو نور ہی نور ہوتے ہیں۔ ان کے پروں سے بھینی بھینی خوشبوئیں نکلتی ہیں اور ان کے لبادوں سے نرم اور ٹھنڈی روشنیاں پھوٹتی ہیں تو پھر وہ کہاں ہیں؟؟"
اس نے تھک کر آنکھیں بند کر لیں اور ساتھ ہی کانوں میں آوازوں کا ہجوم ٹھٹھک کر رک گیا۔ اس نے ایک لمبی ہچکی لی اور ہسپتال کے کوریڈور میں گونجتی ہوئی چیخ کے ساتھ ہی ساری روشنیاں بجھ گئیں-اب امن ہی امن تھا- سکون ہی سکون اورپھر پرائیویٹ ایمبولینس کے ڈرائیور نے اپنے ساتھی سے پوچھا " بڑھیا کے کھیسے (جیب) میں کچھ ہے بھی یا نہیں"
چھوٹے نے ٹاکی سے ہاتھ صاف کئے اور بولا، " استاد اگر اس کے پاس پیسے ہوتے تو وہ بچہ کسی ڈاکٹر کو نہ دکھا دیتی، بیچارہ یوں ہسپتال کے فرش پر تو نہ مرتا-"
"ہوں" استاد نے نفرت سے گردن کو جھٹکا دیا اور گاڑی سٹارٹ کر کے وہاں سے فرار ہو گیا-
اب وہاں لاش پر مجمع لگا تھا، نادار ،غریب اور بےبس لوگوں کا مجمع ، سب تاسف سے ہاتھ مل رہے تھے- سب قاتل ڈرائیوروں کو گالیاں دے رہے تھے- سب دبے دبے لفظوں میں ہسپتال کی انتظامیہ کو کوس رہے تھے-لیکن وہاں لاش کو گھر پہنچنے والا کوئی نہیں تھا- نہ بوڑھی نانی کے بازوؤں میں اتنی طاقت تھی کہ وہ ننھے نواسے کی لاش کو اٹھا کر ملتان کی تنگ گلیوں میں راستہ تلاش کر سکتی-
آخرمکھیوں نے سوچا چلو ہم ہی اس ننھی لاش کو کفن دیں، کہ کفن کے بغیر لاشیں برہنہ ہوتی ہیں-
ذرا دور سٹور میں درجنوں نئے سٹریچر پڑے تھے لیکن سٹور کیپر کو انھیں باہر نکالنے کی اجازت نہ تھی- ایمرجنسی میں نصف درجن بیڈ خالی تھے لیکن الاٹ کرنے والا کلرک کھانا کھانے گیا تھا-
فارمیسی میں دوائیاں اپنی میعاد پوری کر رہی تھیں، لیکن انکو حاصل کرنے کی سفارش نہیں تھی-
فریج میں خون کی بوتلیں اور زندگی بچانے والے سینکڑوں انجکشن تھے لیکن ڈاکٹر صاحب میٹنگ میں مصروف تھے.......
مکھیوں کے کفن میں چھپی لاش چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی ،،
" جہاں احساس نہیں ہوتا وہاں انسان نہیں گِدھ بستے ہیں اور گِدھوں کے شہر میں انسانوں کو مر ہی جانا چاہئے"
 

x boy

محفلین
گِدھ

اور پھر وہاں صفائی کا وقت ہو گیا__________!!
ہسپتال کے سارے خاکروب جھاڑو اور ٹاکیاں لے کر نکل آئے۔ ایک جمعدار نے مور کی دم جیسا جھاڑو ہوا میں لہرایا اور پاس کھڑے ٹاکی برادر سویپر سے بولا " یہ بچہ مرتا ہے اور نہ ہی یہ مائی یہاں سے جاتی ہے، دیکھو خون سے سارا فرش گندا کر دیا- اگر صاحب راؤنڈ پر آگئے تو بے عزتی تو ہماری ہی ہوگی ناں"
ٹاکی بردار نے اثبات میں سر ہلایا اور بولا، "چلو اس مائی کی چھٹی کرائیں"
دونوں چلتےہوئے آخری سانسیں لیتے بچے کے قریب آئے اور بوڑھی نانی سے مخاطب ہو کر بولے ،" بڑی اماں تمہیں کتنی بار سمجھایا ہے ڈاکٹر صاحب میٹنگ میں ہیں ،تم اسے کسی پرائیویٹ ہسپتال میں کیوں نہیں لے جاتی ، اس کی جان کی دشمن کیوں بنی ہو؟"
بچے نے خالی آنکھوں سے اوپر کھڑے خاکروبوں کو دیکھا اور سوچا ، "کیا موت کے فرشتے ایسے ہوتے ہیں، بھدے ، بدبو دار اور گندے....!"
" نہیں۔۔" اس کے اندر سے آواز آئی،میرے مرحوم ماما، بابا بتایا کرتے تھے کہ فرشتے تو نور ہی نور ہوتے ہیں۔ ان کے پروں سے بھینی بھینی خوشبوئیں نکلتی ہیں اور ان کے لبادوں سے نرم اور ٹھنڈی روشنیاں پھوٹتی ہیں تو پھر وہ کہاں ہیں؟؟"
اس نے تھک کر آنکھیں بند کر لیں اور ساتھ ہی کانوں میں آوازوں کا ہجوم ٹھٹھک کر رک گیا۔ اس نے ایک لمبی ہچکی لی اور ہسپتال کے کوریڈور میں گونجتی ہوئی چیخ کے ساتھ ہی ساری روشنیاں بجھ گئیں-اب امن ہی امن تھا- سکون ہی سکون اورپھر پرائیویٹ ایمبولینس کے ڈرائیور نے اپنے ساتھی سے پوچھا " بڑھیا کے کھیسے (جیب) میں کچھ ہے بھی یا نہیں"
چھوٹے نے ٹاکی سے ہاتھ صاف کئے اور بولا، " استاد اگر اس کے پاس پیسے ہوتے تو وہ بچہ کسی ڈاکٹر کو نہ دکھا دیتی، بیچارہ یوں ہسپتال کے فرش پر تو نہ مرتا-"
"ہوں" استاد نے نفرت سے گردن کو جھٹکا دیا اور گاڑی سٹارٹ کر کے وہاں سے فرار ہو گیا-
اب وہاں لاش پر مجمع لگا تھا، نادار ،غریب اور بےبس لوگوں کا مجمع ، سب تاسف سے ہاتھ مل رہے تھے- سب قاتل ڈرائیوروں کو گالیاں دے رہے تھے- سب دبے دبے لفظوں میں ہسپتال کی انتظامیہ کو کوس رہے تھے-لیکن وہاں لاش کو گھر پہنچنے والا کوئی نہیں تھا- نہ بوڑھی نانی کے بازوؤں میں اتنی طاقت تھی کہ وہ ننھے نواسے کی لاش کو اٹھا کر ملتان کی تنگ گلیوں میں راستہ تلاش کر سکتی-
آخرمکھیوں نے سوچا چلو ہم ہی اس ننھی لاش کو کفن دیں، کہ کفن کے بغیر لاشیں برہنہ ہوتی ہیں-
ذرا دور سٹور میں درجنوں نئے سٹریچر پڑے تھے لیکن سٹور کیپر کو انھیں باہر نکالنے کی اجازت نہ تھی- ایمرجنسی میں نصف درجن بیڈ خالی تھے لیکن الاٹ کرنے والا کلرک کھانا کھانے گیا تھا-
فارمیسی میں دوائیاں اپنی میعاد پوری کر رہی تھیں، لیکن انکو حاصل کرنے کی سفارش نہیں تھی-
فریج میں خون کی بوتلیں اور زندگی بچانے والے سینکڑوں انجکشن تھے لیکن ڈاکٹر صاحب میٹنگ میں مصروف تھے.......
مکھیوں کے کفن میں چھپی لاش چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی ،،
" جہاں احساس نہیں ہوتا وہاں انسان نہیں گِدھ بستے ہیں اور گِدھوں کے شہر میں انسانوں کو مر ہی جانا چاہئے"
حقیقت
 

عمراعظم

محفلین
قابلِ ستائش تحریر ۔
جن معاشروں میں سنگدلی عام ہو جائے اور رحمدلی آنکھیں موند لے، ایسے معاشروں کو گوشت خور حیوانوں کا انتظار کرنا چاہیئے، جو نہ امیر دیکھیں گے اورنہ ہی غریب۔
 
Top