صابرہ امین

لائبریرین
جمال یار میں جس نے خمار دیکھا ہے
کہ اس نے دھوکے کو بھی اعتبار دیکھا ہے

جمال یار میں جس نے خمار دیکھا ہے
زمانےمیں اسے اختر شمار دیکھا ہے
 
غزل میری ترنم سے سنا کر
بڑے مشہور ہوتے جا رہے ہو

رہے ہو ساتھ جن کے تم ہمیشہ
انہیں سے دور ہوتے جارہے ہو

ذرا سے چار پیسے کیا کمائے
بہت مغرور ہوتے جا رہے ہو
 
Top