کلیاتِ اسمٰعیل میرٹھی- ص 1 تا 200

نایاب

لائبریرین
(١٨١)

غریب شیخ پہ ہر دم دلتیاں جھاڑیں
کریں مساجد و کعبہ سے فرار
کہاں ہے ان کا ٹھکانا ۔ کدھر ہے ان کا مقام
وہی ہے بیت صنم اور خانہ خمار
بگھارتے ہیں تصوف تو کون دے گا داد
کہاں ہیں سعدی و حافظ ۔ سنائی و عطار
کریں گے اس قدر ایمان و دین کی تفضیع
کہ گویا ہیں کوئی ہفتاد پشت کے کفار
اگرچہ ہاتھ میں تسبیح ہلب پہ ہو توبہ
بنینگے شعر میں ہاں مے پرست و بادہ گسار
ہے چرض پیر تو مدت سے شاعروں کا پیر
پہ کوستے ہیں اسے یہ مرید ناہنجار
جمال یوسف و اعجاز عیسی و موسی
ہیں ان کی گندہ دہانی کے سامنے سب خوار
نہ کچھ خدا کا لحاظ اور نہ انبیا کا ادب
یہ ان کی نور بھری شاعری ؛ ؛ خدا کی مار
ہے ان کی طبع دنی عنکبوت کا جالا

۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔

(١٨٢)

اور ان کی بندش مضموں ہے مکھیوں کا شکار
کسی عمارت رسی کا گر بیان کریں
محیط کون و مکان اس پہ تنگ ہو ناچار
جو اس کی نیو ہو گاؤ زمین کے سم سے پرے
تو اس کا کنگرہ بالائے گنبد دوار
وہ توڑتے نہیں لقمہ مبالغہ کے بدوں
بغیر بہنگی کی جس طرح چل سکے نہ کہار
سدا دروغ کی کرتی ہیں مکھیاں بھن بھن
چپک رہا ہے لبوں پر جو شیرہ گفتار
لکھیں جو قصہ تو دیو و پری کا افسانہ
لگا دیں کذب کے ڈھیر اور جھوٹ کے انبار
کریں چڑیل کو حوران خلد سے نسبت
بنائیں اونٹ کٹیلی کو گلشن بیخار
جب ان پہ ہوتے ہیں مضمون مبتذل وارد
تو گویا عرش سے اتری چمار کو بیگار
کریں جو مدح کسی چر کٹے کی وہ بالفرض
تو پھر سکندر و دارا ہیں اس کے باج گزار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(183)

بنائیں اس کے تئیں بر و بحر کا سلطاں
جو فی المثل ہو کسی کوردہ کا نمبردار
لکھیں وہ دھوم کہ ہو گرد جشن جمشیدی
جو رقعہ شادی کا لکھوائے کوئی ساہوکار
بنانا پر کا کبوتر تو ہے بہت آسان
سوئی کو پھاولہ کہنا تو کچھ نہیں دشوار
ہے سچ تو یہ کہ انھیں شاعروں کے قالب میں
لیا ہے جھوٹ نے کلجگ میں آن کر اوتار
مشاعرہ ہو ۔ تو لڑتے ہیں جیسے ٹینی مرغ
لہولہان ہیں پنجے شکستہ ہے منقار
وہ خود فروش بنے آج اوستاد زماں
کہ جن سے کوئی ٹکے سیکڑا نہ لے اشعار
اگر سنیں کہ ہوا ہے فلاں رئیس علیل
تو پہلے قطعہ تاریخ کر رکھیں تیار
اجڑ گئے ہیں وہ تھان اور لد گئے ڈیرے
جہاں کداتے تھے یہ بھانڈ کاغزیں رہوار
جہاں خوشامدیوں ۔ شاعروں کی تھی بھرتی

۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١٨٤)

اب ایسی کاٹھ کی الو نہیں کوئی سرکار
تو اب وہ پھرتے ہیں ناچار مانگتے پھرتے
بنا کے کاسہ گدائی کا پرچہ اخبار
کسی کی مدح سرائی کسی کی بد گوئی
اڈیٹری کی بھی کرنے لگے ہیں مٹی خوار
کلام دیکھو تو صورت حرام سر تا سر
سلاح بر درد کس نیست درمیان حصار

فلسفی علما

نہ شاعروں ہی پہ تنہا پڑے ہیں یہ پتھر
کہ عالموں کا بھی اس دور میں یہی ہے شعار
وہیں ہیں آج ۔ جہاں تھے یہ دس صدی پہلے
گیا ہے قافلہ دور ۔ اب ٹٹولتے ہیں غبار
وہی ہیں یاد پورانے اصول یونانی
جنھیں علوم جدیدہ نے کر دیا بے کار
وہی قدیم زمانہ کا فلسفہ سڑیل
ہو جیسے کہنہ کھنڈر کی ڈھئی ہوئی دیوار
ہنوز فخر و مباہات اس پہ کرتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔

(١٨٥)

وہ جن کے سر پر فضیلت کی ہے بندھی دستار
ہے درس میں وہی ترتیب مادہ اب تک
کہ پہلے خاک ہے پھر آب ۔ پھر ہوا پھر نار
اگرچہ ہو گئے تحلیل خاک و باد اور آب
مگر ہیں علم میں ان کے وہی عناصر چار
ہے آسمان طواف زمین میں مصروف
ہے آفتاب ابھی چرخ چار میں پہ سوار
وہی ہے ڈھانچ پرانا نظام ہیئت کا
جڑے ہوئے ہیں فلک میں ثوابت و سیار
وہی ہے مسلہ خرق والتیام ہنوز
کہ جس کا اب نہ کوئی مدعی نہ جانب دار
وہی حساب ہے لکھا ہے جو خلاصہ میں
گھٹے بڑھے گا نہ اک صفر تا بروز شمار
جو کہہ گئے ہیں فلاطوں اور بطلیموس
اسی کی بحث ہے اب تک اسی کی ہے تکرار
جو شرح چغمنی و میبذی میں لکھا ہے
زروئے کشف کھلے تھے وہ غیب کے اسرار

،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،​
 

نایاب

لائبریرین
(١٨٦)

جو شمس بازغہ میں آچکا سو ہے الہام
کہ ہے مسائل حکمیہ کا اسی پہ مدار
بھرا ہوا انھیں کج بحثیوں سے ہے منطق
کہ ایک کو جو کہیں دو تو پھر نہ ہو انکار
ہوا دلائل وہمیہ سے جو کچھ ثابت
تو پھر مشاہدہ بے سود تجربہ بے کار
نہ جن کے ہاتھ میں پیسہ نہ شکل کھانے کی
وہ کھائے بیٹھے ہیں اشکال منطقی پہ ادھار
دماغ خشک میں ان کے جو کچھ سمایا ہے
اسی کی پچ ہے وہی ڈینگ اور وہی اصرار
بسی ہوئی ہے ابھی تک وہی پرانی بو
کچھ ایسی پی ہے کہ گھٹتا نہیں ہے جس کا خمار
ہیں عاقلوں کے لئے آیت خداوندی
یہ آسمان و زمین اور نجوم پر انوار
نہیں ہے گوشہ خاطر کا اس طرف میلان
کہ غور کیجئے قدرت کے دیکھ کر آثار
ہے کس طریق پہ ارض و سما کی پیدایش

۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١٨٧)

ہے کس کے قبضہ میں جمازہ جہاں کی مہار
ہے موسموں کی بھلا یہ الٹ پلٹ کیون کر
کبھی عمل ہے خزاں کا کبھی ہے دخل بہار
کبھی کا دن ہے بڑا اور کبھی کی رات بڑی
یہ کس روش سے ہوا اختلاف لیل و نہار
یہ کس نے پھیر دیا موسمی ہوا کا رخ
یہ کیوں ہے باد تجارت کی متصل رفتار
نسیم بری و بحری میں چھیڑ چھاڑ ہے کیوں
کہ رات دن نہ اسے چین ہے نہ اس کو قرار
ہوا ہے بحر سے کیوں کر ہوا کا دامن تر
اڑائے نار شعاعی نے کس طرح یہ بخار
کیا ہے کس نے بتاؤ سحاب کو تسخیر ؟
میان ارض و سمامثل طاہر پردار
ہے کیونکہ گرم یہ ہنگامہ برف و باراں کا
سدا بروئے زمین خاص کر سر کہسار
یہ اوس کیا ہے ۔ کہر کیا ہے ۔ اور بادل کیا ؟
یہ بادلوں سے برستی ہے کس طرح بوچھار

۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١٨٨)

دیا ہے کس نے یہ آب حیات کا چھینٹا
کہ لہلہائے زمیں پہ ہرے بھرے اشجار
ہے پہاڑ سے چشمے رواں ہوئے دریا
اگے نہال ۔ کھلے پھول ۔ اور لگے اثمار
رواں ہے ساحت دریا پہ کس طرح کشتی
چڑھے ہوئے ہیں مسافر ۔ لدا ہوا ہے بار
کہ جس کے فیض سے دولت سمیٹتے ہیں لوگ
اسی کے نفع سے قائم ہے فرقہ تجار
ہوا ہے بحر میں کیوں کر یہ جذر و مد پیدا
یہ کیا ہیں زلزلہ الارض اور جبال النار
دبے پڑے ہیں فلزات اور جواہر کیوں ؟
ہوا زمیں سے پہاڑوں کا کس طرح پے ابھار
ہوئی ہے کب طبقات زمین کی ترتیب ؟
نئی زمین بناتا ہے کون سا معمار
غرض کہ صنعت حق کے نکات ہیں بے حد
کہ جن سے عالم کون و فساد ہے سر شار
نہ ان مظاہر قدرت پہ ڈالتے ہیں نگاہ

۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١٨٩)

نہ ان رموز کی تحقیق ہے نہ استفسار
ہے جن علوم سے انساں کے حال میں برکت
ہیں جو علوم صنائع کے قبلہ و کعبہ
ہے جن فنون سے حسن معاشرت کا سنگار
ہے جن علوم سے انساں کی زندگی سر سبز
ہیں جن فنون سے اہل زمانہ برسرکار
یہ ان کے نام پہ کہتے ہیں د ۔ ف ۔ اور ع ؛
یہ ان پہ کرتے ہیں لاحول اور استغفار
یہ نعمتوں سے خدا کی ہوئے ہیں سخت نفور
یہ خوبیوں سے تمدن کی ہیں بہت بیزار
یہ ڈھونڈتے ہیں وہی لیکھ اور وہی چھکڑا
اگرچہ ریل کی سیٹی نے کر دیا بیدار
یہاں پڑاہے ابھی مرغ نامہ بر بسمل
وہاں پیام اڑی لے کے برق کی رفتار
رفل کے سامنے کچھ کام دے سکے گی بھلا ؛
پرانی وضع کی بندوق وہ بھی توڑے دار

۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١٩٠)

ہلے گا ہاتھ وہ کیا ؛ جس پہ گر چکا فالج
چلے گی تیغ وہ کب ؛ جس کو کھا گیا زنگار
کیا ہے گردش گیتی نے جس کو ملیا میٹ
سمجھ رہے ہیں اسے یہ بزرگوار حصار

معلم

معلموں کو جو دیکھو تو روح دقیانوس ؛
ہیں وہ بھی وخمہ فارس کے استخواں بردار
وہی ہے ان کا پرانا طریقہ تعلیم
کہ جس میں زندہ دلی کے نہیں رہے آثار
وہی خوشامدی القاب اور وہی آداب
کہ جن سے تازہ ہے انشائے دل کشا کی بہار
ہو ایک انچھ کا مطلب تو ہاتھ بھر کی دعا
]اور ایک گر کی تمنائے دولت دیدار
طریق ترجمہ اب تک وہی ہے اوٹ پٹانگ ؛
پڑھیں جو لڑکے تو ہل ہل کے اور پکار پکار ؛
نہ چلنے پھرنے کی عادت نہ خو ریاضت کی
جواں ہیں پیر سے بدتر تو پیر زار و نزار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١٩١)

سوائے ضعف دماغ اور بھی مرض ہیں کئی
فتور ہاضمہ ۔ آشوب چشم ۔ ترلہ حار
مکان وہ جس میں کھچا کھچ بھرے ہوئے لونڈے
ہے جیلخانہ کی مانند تنگ و تیرہ و تار
ہوئے جو پڑھ کے مکاتب میں فارغ التحصیل
تو نوکری کے لئے کر رہے ہیں سوچ بچار
نہ ایسے علم سع واقف کہ کچھ کما کھائیں
نہ ایسے فن کی مہارت کہ کر سکیں بیوپار
نہ ہو سکیں گے ملازم کسی کچہری میں
کہ اس کے واسطے ہے مڈل کی سند درکار

طبیب

اسی روش پہ اطبا کا ہے مرض مزمن
ہنوز نبض طبابت کی سست ہے رفتار
وہی سدیدی و قانون و تحفہ و مخزن
خدا نے ان پہ لگا دی ہے مہر استمرار
مجربات وہی اور وہی ہیں دستورات
انھیں بھی مردہ پرستی کا ہے بڑا آزار

۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١٩٢ )

وہی ہے فصد وہی منضج اور وہی مسہل
وہی سناؤ گل سرخ و شربت دینار
معلجہ میں ترقی نہ کچھ مداوا میں
وہی سبب وہی تشخیص اور وہی تیمار
غذا بتائیں وہی دال مونگ یا کھچڑی
بلا سے ان کی مرے یا جئے کوئی بیمار
اگر مریض کی قسمت سے ہو گیا بحران
تو راس آئی دوا ۔ ورنہ اشتداد بخار
نہ کچھ دوا کی ہے تحقیق نے دوا سازی
وہی دوا ہے جو پوڑیہ میں باندھ دے عطار
نہ ٹھیک طور سے اجسام کی ہوئی تشریح
نہ تیز فن جراحت کے کر سکے اوزار
نہ کیمیا کے ہوئے حل و عقد سے آگاہ
نہ مفردات کی ترکیب کے کھلے اسرار
نہ فن قابلہ میں دست قابلت ہے
نہ ان کو شرح نباتات پر نظر زنہار
توہمات بھی داخل ہیں یاں طبابت میں

۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
 
پروف ریڈنگ:بار اول

(١)

فہرست مضامین کلیات اسمٰعیل
نمبرشمار | مضمون |نمبر صفحہ
(١)مثنویات
١ | صنائع الٓہی | ١
٢ | خدا کی صنعت |٥
٣ | خطبہ اول |٨
٣ | خطبہ دوم |٩
٤ | تھوڑا تھوڑا بہت ہو جاتا ہے | ١٠
٥ | ایک وقت میں ایک کام کرو | ١٢
٦ | ہوا چلی |١٣
٧ | پَن چکّی |١٣
٨ | اسلم کی بّلی |١٤
٩ | بچہ اور ماں |١٥
١٠ | ماں اور بچہ |١٦
١١ | ایک مور اور کلنگ |١٧
١٢| عجیب چڑیا| ١٨
١٣| ایک لڑکا اور بیر | ١٩
١٤| ایک پودا اور گھاس | ٢٠
١٥| ایک جگنو اور بچہ | ٢١
١٦| ایک گھوڑا اور اُس کا سایہ | ٢٢
١٧| ایک کتّا اور اُس کی پر چھائیں | ٢٣
١٨| ریل گاڑی | ٢٤
١٩ | ہماری گائے | ٢٥
٢٠ | سچ کہو | ٢٦
٢١ | ہمارا کتّا ٹیپو | ٢٧
٢٢ | شفق | ٢٨
٢٣ | رات | ٢٩
٢٤ | گرمی کا موسم | ٣٠
٢٥ | برسات | ٣١
٢٦ | ملمع کی انگوٹھی | ٣١
٢٧ | دال کی فریاد| ٣٢
٢٨ | دال چپاتی | ٣٣
٢٩ | دو مکھیاں | ٣٥
٣٠ | آب زلال | ٣٦
٣١ | موعظت | ٣٩
٣٢ | داناؤں کی نصیحت دل سے سنو | ٤٠

(٢)


[نمبرشمار | مضمون |نمبر صفحہ
٣٣ | چھوٹے کام کا بڑا نتیجہ | ٤١
٣٤ | اونٹ | ٤٢
٣٥ | شیر | ٤٣
٣٦ | کیڑا | ٤٥
٣٧ | ایک قانع مفلس | ٤٦
٣٨ | موت کی گھڑی | ٤٧
٣٩ | فادر ولیم | ٤٩
٤٠ | حبِ وطن | ٥٠
٤١ | انسان کی خام خیالی | ٥١
٤٢ | کوہ ہمالہ | ٥٣
٤٣ | بارش کا پہلا قطرہ | ٥٥
٤٤ | مثنوی بادمراد | ٥٧
٤٥ | ایک گنوار اور قوسِ قزح | ٦١
٤٦ | ترکِ تکبر | ٦٢
٤٧ | حیا | ٦٣
٤٨ | کچھوا اور خرگوش | ٦٤
٤٩ | مناقشہ ہوا و آفتاب | ٦٧
٥٠ | ناقدردانی | ٦٩
٥١ | جنگِ روم و روس | ٦٩
٥٢ | مکالمہ سیف و قلم | ٧٢
٥٣ | شمعِ ہستی | ٧٨
٥٤ | مثنوی فی العقائد | ٨١
٥٥ | حمد باری تعالی | ٨٣
٥٦ | یاد حضرت شیخ | ٨٥
٥٧ | صفتِ شیخ | ٩٠
٥٨ | مناجات | ٩١
٥٩ | غصہ کا ضبط | ١٠٠
٦٠ | ادب | ١٠١
٦١ | چغل خوری | ١٠١
٦٢ | آزادی غنیمت ہے | ١٠١
٦٣ | طلبِ خیر میں قناعت سے حرص بہتر ہے | ١٠٢
٦٤ | تکبر میں ذلت ہے اور تواضع میں عزت | ١٠٢
۔۔ | (٢) مثلث |
١ | اب آرام کرو | ١٠٣
۔۔ | (٣) مربع |
١ | اچھا زمانہ آنے والا ہے | ١٠٤
۔۔ | (٤) مخمس |
١ | چھوٹی چیونٹی | ١٠٦
٢ | کوشش کئے جاؤ | ١٠٧
٣ | میرا خدا میرے ساتھ ہے | ١٠٩

(٣)

[نمبرشمار | مضمون |نمبر صفحہ
٤ | صبح کی آمد | ١١١
٥ | قیصرۃ الہند سلامت رہے | ١١٤
۔۔ | (٥) نظم بے قافیہ |
١ | چڑیا کے بچے | ١١٥
٢| تاروں بھری رات | ١١٧
۔۔ | (٦) مسدس |
١ | ماں کی مامتا | ١١٨
٢ | مرثیہ سید اقبال احمد مرحوم | ١٢٢
٣ | مرثیہ پلیونا| ١٢٤
٤ | متفرق | ١٢٦
٥ | انسان | ١٤٨
۔۔ | (٧) مثمن |
١ | آثار سلف (کیفیت قلعہ اکبرآباد | ١٢٨
۔۔| (٨) ترجیع بند |
١ | نالۂ چند در فراقِ شیخ | ١٤٨
٢ | ہفت درودِ محمود | ١٥٤
۔۔ | (٩) قصائد |
١ | قصیدہ ١٨٦٩؁ ء | ١٥٨
٢ | قصیدہ ناتمام ١٨٦٩؁ ء | ١٦١
٣ | قصیدہ | ١٦٢
٤| خشک سالی ١٨٧٧ عیسوی | ١٦٥
٥ | شب برات ١٨٨٠ عیسوی | ١٦٧
٦ | عیدالفطر ١٨٨٠ عیسوی | ١٧٠
٧ | نذرانہ پیر جی ١٨٨١ عیسوی | ١٧٢
٨ | نذرانہ پیر جی | ١٧٤
٩ | جریدہ عبرت ١٨٨٥ عیسوی| ١٧٥
١٠| تہنیت جشن جوبلی ملکہ وکٹوریہ ١٨٨٧ عیسوی | ٢٠٥
١١ | جاڑا اور گرمی ١٨٨٨ عیسوی | ٢١٠
١٢ | تہنیت سالگرہ ملکہ وکٹوریہ ١٨٩٢ عیسوی | ٢١٤
١٣ | قصیدہ ناتمام | ٢١٥
۔۔ | (١٠) قطعات |
١ | ارل آف میو وائسرائے ہند ١٨٧٤ عیسوی | ٢١٦
٢ | شب برات ١٨٧٧ عیسوی | ٢١٧
٣ | شب برات ١٨٨٣ عیسوی | ٢١٨
٤ | قطعہ تاریخ وفات سر سالارجنگ بہادر ١٨٨٣ عیسوی | ٢١٩
٥ | عیدالفطر ١٨٨٠ عیسوی | ٢٢٠
٦ | عید الاضحٰے ١٨٨٤ عیسوی | ٢٢١
٧ | عید الاضحٰے ١٨٨٣ عیسوی | ٢٢٢
٨ | نذرانہ پیر جی ١٨٨٣ عیسوی | ٢٢٣






(٤)
نمبر شمار ۔۔ مضمون ۔۔ نمبر صفحہ
٩ ۔۔ خواب راحت ١٨٨٧ عیسوی ۔۔ ٢٢٤
١٠ ۔۔ سر سید احمد خان و قانون ٹرسٹیاں ١٨٩٠ عیسوی ۔۔ ٢٢٧
١١ ۔۔ تہنیت سالگرہ ملکہ وکٹوریہ ١٨٩٢ عیسوی ۔۔ ٢٢٩
١٢ ۔۔ قطعہ تاریخ وفات سید اقبال احمد مرحوم ١٨٩٣ عیسوی ۔ ٢٣٠
١٣ ۔۔ مرثیہ مولوی حافظ رحیم اللہ صبا اکبر آبادی ١٨٩٣ عیسوی ۔۔ ٢٣٠
١٤ ۔۔ ایک گدھا شیر بنا تھا ۔۔ ٢٣٢
١٥ ۔۔ بخیلی اور فضولی ۔۔ ٢٣٣
١٦ ۔۔ کاشتکاری ۔۔ ٢٣٤
١٧ ۔۔ کاشتکاری ۔۔ ٢٣٥
١٨ ۔۔ قرض ۔۔ ٢٣٦
١٩ ۔۔ سب سے زیادہ بدنصیب کون ؟ ۔۔ ٢٣٧
٢٠ ۔۔ ہمت ۔۔ ٢٣٧
٢١ ۔۔ اپنے فعل پر پشیمانی ۔۔ ٢٣٧
٢٢ ۔۔ معافی میں سرور ہے ۔۔ ٢٣٧
٢٣ ۔۔ انتقام علاجِ خطا ہے ۔۔ ٢٣٨
٢٤ ۔۔ خطا کو خطا نہ جاننا ہلاکت ہے ۔۔ ٢٣٨
٢٥ ۔۔ ہر کام میں کمال اچھا ہے ۔۔ ٢٣٨
٢٦ دوراندیشی ۔۔ ٢٣٩
٢٧ ۔۔ بدی کے عوض میں نیکی کرنا ۔۔ ٢٣٩
٢٨ ۔۔ قول و فعل میں مطابقت چاہیئے ۔۔ ٢٣٩
٢٩ ۔۔ دل کی یکسوئی خلوت ہے ۔۔ ٢٣٩
(١١) غزلیات ٧٥ ۔۔ ٢٤٠
(١٢) رباعیات ٤٨ ۔۔٢٨٧
(١٣) ابیات ۔۔ ٢٩٦


(٥)
فارسی
نمبر شمار ۔۔ مضمون ۔۔ نمبر صفحہ
(١) مثنویات
١ ۔۔ آفتاب عالمتاب ۔۔ ٢٩٩
٢ ۔۔ مناظرہ میدان با کوہ ۔۔ ٣٠٠
٣۔۔ پنبہ دانہ ۔۔ ٣٠٣
٤ ۔۔ شیر ۔۔ ٣٠٦
٥ ۔۔ خجالت بر گناہ ۔۔ ٣٠٧
٦ ۔۔ کاخِ ویرانہ ۔۔ ٣٠٨
٧ ۔۔ ابر و باراں ۔۔ ٣٠٩
٨ ۔۔ پیرِ جلّاب و خرش ۔۔ ٣١٠
٩ ۔۔ چوبکے میانِ سیلاب ۔۔ ٣١٢
١٠ ۔۔ طفلکے و مادرش ۔۔ ٣١٣
١١ ۔۔ ابگیرے و رودے ۔۔ ٣١٤
١٢ ۔۔ دو جوے ۔۔ ٣١٥
١٣ ۔۔ کشفے و خرگوشے ۔۔ ٣١٦
١٤ ۔۔ طاؤس ۔۔ ٣١٧
١٥ ۔۔ شیرے و موشے ۔۔ ٣١٧
١٦ ۔۔ سگے ۔۔ ٣١٨
١٧ ۔۔ گرگے ۔۔ ٣١٩
١٨ ۔۔ محمود غزنوی ۔۔ ٣٢٠
١٩ ۔۔ بیرام و قاسم ۔۔ ٣٢١
٢٠ ۔۔ اورنگ زیب ۔۔ ٣٢٣
٢١ ۔۔ روباہے بے دُم ۔۔ ٣٢٤
٢٢ ۔۔ باد و آفتاب ۔۔ ٣٢٥
٢٣ ۔۔ گوزنے ۔۔ ٣٢٦
٢٤ ۔۔ بدی و نیکی ۔۔ ٣٢٧
٢٥ ۔۔ دور آخر ۔۔ ٣٢٩
(٢) قصائید
١ ۔۔ تشبیب قصیدہ ۔۔ ٣٤٣
٢ ۔۔ تشبیب قصیدہ ۔۔ ٣٤٣
(٣) قطعات
١ ۔۔ قطعہ ۔۔ ٣٤٥
٢ ۔۔ قطعہ ۔۔ ٣٤٧
٣ ۔۔ قطعہ ۔۔ ٣٤٨
٤ ۔۔ قطعہ ۔۔ ٣٤٩


(٦)

نمبر شمار ۔۔ مضمون ۔۔ نمبر صفحہ
٥ ۔۔ قطعہ تاریخ وفات سر سالار جنگ بہادر ۔۔ ٣٤٩
٦ ۔۔ دو کیسہ داریم ۔۔ ٣٥٠
(٤)غزلیات ۔۔ ٣٥١
(٥) متفرقات
١ ۔۔ مثنویات (٥) ۔۔ ٣٥٦
٢ ۔۔ قطعات (٦) ۔۔ ٣٥٧
٣ ۔۔ ابیات (١٧) ۔۔ ٣٥٩
ضمیمہ اُردو
مثنوی (کوّا) (١) ۔۔ ٣٦٢
مثلث (١) ۔۔ ٣٦٤
قطعات
١ ۔۔ مسلمانوں کی تعلیم ۔۔ ٣٦٥
٢ ۔۔ وفات ملکِ معظم ایڈورڈ ہفتم آنجہانی ۔۔ ٣٦٩
٣ ۔۔ مسلمان اور انگریزی تعلیم ۔۔ ٣٧٠
٤ ۔۔ غریب اور امیر ۔۔ ٣٧٢
غزلیات (٢) ۔۔ ٣٧٢
رباعیات (٥) ۔۔ ٣٧٤
 
پروف ریڈنگ : بار اوّل

(١)

بسم اللہ الرحمان الرحیم
کلّیاتِ اسمٰعیل
مثنویات
١ ۔۔۔ صنایع الٓہی

خدایا نہیں کوئی تیرے سوا
اگر تو نہ ہوتا تو ہوتا ہی کیا

تصّور تری ذات کا ہے محال
کسے یہ سکت اور کہاں یہ مجال

تعقل میں اتنی صفائی کہاں
تفکّر کو ایسی رسائی کہاں

یہاں عقل جاتی ہے آئی ہوئی
تخیّل پہ ہیبت ہے چھائی ہوئی

تفکّر کے جلتے ہیں پر اِس جگہ
تصوّر کا کٹتا ہے سر اِس جگہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٢)

کسی کی یہاں دال گلتی نہیں
کسی کی یہاں چال چلتی نہیں

نہ ٹھیری کوئی ناؤ اِس موج میں
نہ پہونچا کوئی تیر اِس اوج میں

جلا اِس ہوا میں نہ کوئی چراغ
پریشاں ہوئے دل تھکے سب دماغ

جو ہوتی مُشابہ ترے کوئی چیز
تو کچھ کام کرتی سمجھ یا تمیز

ترا کوئی ہم جنس و ہمتا نہیں
گماں کا یہاں پاؤں جمتا نہیں

سمجھ کیا ہے ؟ اور کیا سمجھ کی بساط ؟
سمندر سے قطرہ کا کیا ارتباط؟

چلی بوند لینے سمندر کی تھا
یکایک لیاموج نے اُس کو کھا

ہوئی آپ ہی گم تو پائے کسے؟
بتائے وہ کیا اور جتائے کسے؟

اگر تیری قدرت کی کاریگری
نہ کرتی سمجھ بوجھ کی رہبری

تو وہ سر پٹکتی ہی رہتی مدام
طلب میں بھٹکتی ہی رہتی مدام

بنائی ہے تو نے یہ کیا خوب چھت
کہ ہے سارے عالم کی جس میں کھپت

یہ سقفِ کُہن ہے ابھی تک نئی
اِسے دیکھتی یوں ہی دنیا گئی

زمین پر گئیں کِتنی نسلیں گزر
رہی اِس کی ہیئت پہ سب کی نظر

اسے سب نے پایااِسی ڈھنگ میں
اسے سب نے دیکھا اِسی رنگ میں

عجب ہے یہ خیمہ رسن ہے نہ چوب
ہمیشہ مُصفّا ہے بے رُفت و روب

نہ در ہے نہ منظر نہ کوئی شِگاف
اِدھر سے اُدھر تک ہے میدان صاف

جھروکا نہ کھڑکی نہ در ہے نہ چھید
عجب تیری قدرت عجب تیرے بھید


(٣)
کہیں جوڑ ہے اور نہ پیوند ہے
جدھر دیکھئے اُس طرف بند ہے

بنایا ہے کیا دست قدرت نے گول
چُرس ہے نہ جُھرّی نہ سلوٹ نہ جھول

عجب قدرتی شامیانہ ہے یہ
نظر کی پُہنچ کا ٹھکانہ ہے یہ

ہَوا کو دیا تو نے کیا خوب رنگ
سراسیمہ ہے عقل اور فکر دنگ

پرے اُس کی حد سے نہ جائے نظر
جہاں تک نظر جائے آئے نظر

یہ تارے جو ہیں آتے جاتے ہوئے
چمکتے ہوئے جگمگاتے ہوئے

نظر آ رہے ہیں عجب شان سے
ہیں لٹکے ہوئے سقفِ ایوان سے

چراغ ایسے روشن جو بن تیل ہیں
یہ تیری ہی قدرت کے سب کھیل ہیں

یہ لعل و گُہر ہیں جو بکھرے پڑے
زمین سے بھی ہیں اِن میں اکثر بڑے

کوئی اِن میں سورج کوئی اِن میں چاند
کہ یہ ماہ خور سامنے جن کے ماند

نظر میں جو اتنے سے آتے ہیں یہ
بہت دُور چکّر لگاتے ہیں یہ

پڑے اپنے چکّر میں ہیں گھومتے
ترے حکم کے ذوق میں جھومتے

یہ قائم ہیں تیری ہی تقدیر سے
بندھے ہیں بہم سخت زنجیر سے

گِھسے جو کبھی اور نہ ٹوٹے کبھی
نہ اِس بند سے کوئی چھوٹے کبھی

رسائی سے ہاتھوں کی برتر ہے وہ
نظر کے بھی قابو سے باہر ہے وہ

نہ سیمیں نہ زریں نہ وہ آہنی
مگر دستِ قدرت سے ہے وہ بنی

کُھلے کب ۔ کوئی اُس کو کھولے اگر
اُسے عقل پائے ٹٹولے اگر



(٤)
وہ زنجیر کیا ہے کشش باہمی
نہ اُس میں خلل ہو نہ بیشی کمی

عجب تو نے باندھی ہے یہ باگڈور
تُلا سب کا رہتا ہے آپس میں زور

یہ سب لگ رہے ہیں اُسی لاگ پر
لگاتے ہیں چکّر اُسی باگ پر

ہر اِک کے لئے اِک معیّن ہے دَور
وہی اِک وتیرہ وہی ایک طور

نشہ میں اطاعت کے سب چور ہیں
کہ قانونِ قدرت سے مجبور ہیں

سدا چال کا ایک انداز ہے
نہ کھٹکا نہ آہٹ نہ آواز ہے

کبھی چلتے چلتے ٹھٹکتے نہیں
طریقہ سے اپنے بھٹکتے نہیں

ہے اِن سب کا آئینِ ایجاد ایک
ہنر ایک ہے اور اُستاد ایک

یہ شاخیں ہیں سب ایک ہی اصل کی
بہاریں ہیں کُل ایک ہی فصل کی

ہر اک چیز ذرّہ سے تا آفتاب
بلاشبہ رکھتی ہے یکساں حساب

ہیں ذرّوں میں خورشید کی سی صفات
ہے خورشید بھی ذرّہء کائنات

حقیقت میں ہے یاں دورنگی کہاں
جہاں ذرّہ ہے اور ذرّہ جہاں

نہیں تیری قدرت سے کُچھ یہ بعید
کہ ہو ہر ستارہ جہانِ جدید

نہیں تیرے لطف و کرم سے عجب
کہ ہو اُس جہاں میں بھی مخلوق سب

ہو گرمی بھی سردی بھی برسات بھی
اندھیرا اُجالا بھی دن رات بھی

یہ ندّی یہ نالے۔سمندر۔پہاڑ
یہی بیل بوٹے درخت اور جہاڑ

ہوا بھی ہو اور لُطف باراں بھی ہو
خزاں بھی ہو فصلِ بہاراں بھی ہو

(٥)
ہو سر پر اسی طور سے آسمان
ہو پاؤں کے نیچے زمیں بھی وہاں

فلک پر ستارے بھی ہوں جلوہ گر
وہاں بھی ہو دورانِ شمس و قمر

ہوں انسان بھی اور حیوان بھی
ہر اک جنس کا سازوسامان بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔ ،،،،،،،،،،، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٢) خدا کی صنعت
جو چیز خدا نے ہے بنائی
اُس میں ظاہر ہے خوشنمائی

کیا خوب ہے رنگ ڈھنگ سب کا
چھوٹی بڑی جس قدر ہیں اشیا

روشن چیزیں بنائیں اُس نے
اچھّی شکلیں دکھائیں اس نے

ہر چیز کی ہے ادا ِنرالی
حِکمت سے نہیں ہے کوئی خالی

ہر چیز ہے ٹھیک ٹھیک لاریب
ہیں اُس کے تمام کام بے عیب

ننھّی کلیاں چٹک رہی ہیں
چھوٹی چڑیاں پھُدک رہی ہیں

اُس کی قدرت سے پھول مہکے
پھولوں پہ پرند آ کے چہکے

چڑیوں کے عجیب پر لگائے
اور پھول ہیں عِطر میں بسائے

چِڑیوں کی ہے بھانت بھانت آواز
پھولوں کا جدا جدا ہے انداز

محلوں میں امیر ہیں بہ آرام
ہے در پہ کھڑا غریب ناکام

ہے کوئی غنی تو کوئی مُحتاج
بے گھر ہے کوئی کسی کے گھر راج

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
 
پروف ریڈنگ : بار اوّل


(٦)

روزی دونوں کو دی خدا نے
معمور ہیں قدرتی خزانے

تاروں بھری رات کیا بنائی !
دن کو بخشی عجب صفائی !

موتی سے پڑے ہوئے ہیں لاکھوں
ہیرے سے جڑے ہوئے ہیں لاکھوں

کیا دودھ سی چاندنی ہے چھٹکی !
حیران ہو کر نگاہ ٹھٹکی !

تارے رہے صُبح تک نہ وہ چاند
آگے سُورج کے ہو گئے ماند

نیلا نیلا اب آسماں ہے
وہ رات کی انجمن کہاں ہے

شام آئی تو اُس نے پردہ ڈالا
پھر صُبح نے کر دیا اُجالا

جاڑا ۔ گرمی ۔ بہار ۔ برسات
ہر رُت میں نیا سماں نئی بات

جاڑے سے بدن ہے تھرتھراتا
ہر شخص ہے دن میں دُھوپ کھاتا

سردی سے ہیں ہاتھ پاؤں ٹھِرتے
سب لوگ الاؤ پر ہیں گِرتے

سرسوں پھولی بسنت آئی
ہولی پھاگن میں رنگ لائی

پھوٹیں نئی کونپلیں شجر میں
اِک جوش بھرا ہوا ہے سرمیں

جاڑے کی جو رُت پلٹ گئی ہے
دِن بڑھ گیا رات گَھٹ گَئی ہے

گرمی نے زمین کو تپایا
بھانے لگا ہر کسی کو سایہ

برسات میں دَل ہیں بادلوں کے
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے

رو آئی ہے زور شور کرتی
دامانِ زمین کو کترتی

کِس زور سے بہہ رہا ہے نالا
اونچے ٹیلے کو کاٹ ڈالا


(٧)


بل کھا کے ندی نکل گئی ہے
رُخ اپنا اُدھر بدل گئی ہے

دریا ہے رواں پہاڑ کے پاس
بستی ہے بسی اُجاڑ کے پاس

بستی کے اِدھر اُدھر ہے جنگل
جنگل ہی میں ہو رہا ہے منگل

مٹّی سے خدا نے باغ اُگائے
باغوں میں اُسی نے پھل لگائے

میوے سے لدی ہوئی ہے ڈالی
دانوں سے بھری ہوئی ہے بالی

سبزے سے ہرا بھرا ہے میداں
اونچے اونچے درخت ذی شاں

ہم کھیلتے ہیں وہاں کبڈّی
مبری ہے کوئی ۔۔ کوئی ہے پھِسِڈّی

گائیں بھینسیں عجب بنائیں
کیا دودھ کی ندّیاں بہائیں

پیدا کیے اونٹ بَیل گھوڑے
ہر شے کے بنا دئے ہیں جوڑے

روشن آنکھیں بنائیں دو دو
قدرت کی بہار دیکھنے کو

دو ہونٹ دیئے کہ مُنہ سے بولیں
شکر اُس کا کریں زبان کھولیں

ہر شے اُس نے بنائی نادِر
بیشک ہے خدا قوی و قادِر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٨)

(٣) خطبہ
حمد و سِپاس حِصہ اُس ذات پاک کا ہے
جو آسرا سہارا کُل کائنات کا ہے

جب کُچھ نہ تھا وہی تھا اس کے سوا نہ تھا کچھ
کچھ ہو نہ ہو وہ ہو گا ۔ قدرت ہے اُس کی کیا کچھ

کِن خوبیوں سے اُس نے اِس بزم کو سجایا
اور خلعتِ شرافت انسان کو پہنایا

اللہ رے اُس کی قدرت ! اللہ رے بے نیازی !
دی بعض کو بہ نسبت بعضوں کے سرفرازی

پھر خاص خاص بندے جو اُس نے چُن لیئے ہیں
کیا کیا بلند رتبے اُن کو عطا کئے ہیں

یاں بندگی ہے اور واں بندہ نوازیاں ہیں
یاں سر جھکا ہوا ہے واں سرفرازیاں ہیں

اِنسان ہی نہ ہوتا جو بندگی نہ ہوتی
اندھیر تھا جو دل میں یہ لَو لگی نہ ہوتی

طاعت کا آدمی کو فرمان کیوں ملا ہے
بے حد وہاں مہیؑا اِنعام اور صِلہ ہے

ہے اِذن عام لوگو ! خوانِ کرم پہ ٹوٹو
بھر بھر کے جھولیاں لو ۔ دوڑو ثواب لوٹو

تم بھی نہیں ہو محروم ۔ آؤ گناہ گارو !
گر صِدقِ دل سے اپنے غفؑار کو پکارو

تو پاؤ گے ہمیشہ توبہ کا دَر کھلا تم
رحمت ہے اُس کی بے حد کرتے ہو فکر کیا تم

ہر وقت باڑھ پر ہے لطف و کرم کا دریا
دو چار ہاتھ مارو ۔ لگتا ہے پار کھیوا

پھر اُس کی نعمتیں ہیں اور عیش ہیں جناں کے
افسوس ۔ جو نہ مانیں گُن ایسے مہرباں کے

میں حمد اُس کی ہر دم کرتا ہوں جان و دل سے
اور شکر ہے ٹپکتا اِس میری آب و گِل سے

میں اُس کی مغفرت کا ہوں جی سے آرزومند
توبہ ہے اُس کے آگے ۔ توبہ کا در نہیں بند

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(نوٹ) یہ دونوں خطبے خان بہادر ڈپٹی محمد صدیق صاحب رئیس میرٹھ کی فرمائش سے لکھے گئے تھے جب کہ اُن کا تعلق سرکار نظام سے تھا ۔(١٢)

(٩)


میں اُس سے چاہتا ہوں دُنیا میں تندرستی
دے اپنی راہ میں وہ میرے قدم کو چُستی

بادل برس پڑے کاش اُس کی عنایتوں کا
اُبلے زمینِ دل سے چشمہ ہدایتوں کا

رہنا گواہ تم بھی دیتا ہوں میں شہادت
ہے پاک ذات اُس کی بس قابلِ عبادت

اُس کے سوا تو کوئی معبود ہی نہیں ہے
ہاں ! اُس کے ہوتے کوئی موجود ہی نہیں ہے

یکتا ہے وہ ۔ کہاں ہے ؟ اُس کا شریک کوئی
میرے ہر اک دُکھ کی کرتا ہے چارہ جوئی

ہاں ! یہ بھی سُن رکھو تم دیتا ہوں میں گواہی
ہادی مرا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے بندہ الٓہی

تاجِ رسالت اُس کے سر پر خدا نے رکھا
اوروں سے اُس کو برتر صِدق و صفا نے رکھا

اُس کو خدا نے اپنا پیغام بر بنایا
بے کم و کاست اُس نے جو حُکم تھا سُنایا

وہ خاتمِ نبوؑت وہ سرورِ دو عالم
درگاہِ ایزدی کا تھا اِک سفیر اَعظم

حلم و وقار و نرمی خوش خوئی مہربانی
پیغمبری کی اُس میں تھی یہ کھُلی نشانی

خطبۂ دوم
لوگو ! سُنو کہ کوچ کی ساعت قریب ہے
جو جمع کر لے توشہ وُہی خوش نصیب ہے

جی بندگیِ حق سے چراتے ہو واہ وا !
حالانکہ دوستی کا بھی کرتے ہو اِدّعا

دوزخ سے نفرت اور یہ افعال زشت بھی !
کَوتَک تو ایسے اور امیدِ بہشت بھی !

دِین کا مُعاملہ ہو تو گویا ہیں نیم جاں
دنیا کے کاروبار میں یہ جاں فشانیاں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١٠)

دارالبقا کا بھول گئے اِہتمام تم
دارالفنا کو سمجھے ہو اپنا مقام تم

واللہ ہو گئی ہے تمہاری سمجھ خراب
پوچھا گیا وہاں تو بھلا دو گے کیا جواب

افسوس اِس سمجھ پہ عجب پُر غرور ہو
موت آ رہی ہے تم ابھی غفلت میں چور ہو

سوتے ہیں زیر خاک پڑے کس قدر عزیز
تم اپنے مستِ عیش ہو کرتے نہیں تمیز

چھوٹے بھی اور بڑے بھی جو تم سے تھے چل بسے
کیا سمجھے ہو ؟ رہیں گے تمہارے محل بسے

ہیہات اُن کے حال سے عبرت نہیں تمہیں
تحصیل جاہ و مال سے فرصت نہیں تمہیں

قرآں سنو ۔ تو ہو تمہیں اِس بات پر عُبور
اللہ کی طرف ہمیں جانا ہے بالضّرور

اللہ کا کلام ہے سب سے بلیغ تر
مالک ہے سب کا ۔ ہے اسے ہر بات کی خبر

قرانِ پاک کوئی پڑھے تو سُنوخموش
اللہ تم پے رحم کرے ہے وہ عیب پوش

(٤) تھوڑا تھوڑا مل کر بہت ہو جاتا ہے
بنایا ہے چڑیوں نے جو گھونسلہ
سو ایک ایک تِنکا اِکٹھّا کیا

گیا ایک ہی بار سورج نہ ڈوب
مگر رفتہ رفتہ ہوا ہے غُروب

قدم ہی قدم طے ہوا ہے سفر
گئیں لحظہ لحظہ میں عُمریں گُزر

سمندر کی لہروں کا تانتا سدا
کنارہ سے ہے آ کے ٹکرا رہا

سمندر سے دریا سے اُٹھتی ہے موج
سدا کرتی رہتی ہے دھاوا یہ فوج

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
 
پروف ریڈنگ : بار اوّل

(١١)

کراروں کو آخر گِرا ہی دیا
چٹانوں کو بالکل صفا چٹ کیا

برستا جو مینہ موسلادھار ہے
سو یہ ننھی بوندیوں کی بوچھار ہے

درختوں کے جھُنڈ اور جنگل گھنے
یوہیں پتّے پتّے سے مل کر بنے

ہوئے ریشہ سے بَن اور جھاڑ
بنا ذرّہ ذرّہ سے مِل کر پہاڑ

لگا دانہ دانہ سے غلّہ کا ڈھیر
پڑا لمحہ لمحہ سے برسوں کا پھیر

جو ایک ایک پل کر کے دِن کٹ گیا
تو گھڑیوں ہی گھڑیوں میں برس گَھٹ گیا

لکھا لکھنے والے نے ایک ایک حرف
ہوئی گڈیاں کتنی کاغذ کی صرف

ہوئی لکھتے لکھتے مُرتّب کتاب
اِسی پر ہر اک شے کا سمجھو حساب

ہر اِک علم و فن اور کرتب ہنر
نہ تھا پہلے ہی دن سے اِس ڈھنگ پر

یونہی بڑھتے بڑھتے ترقّی ہوئی
جو نیزہ ہے اب ۔ تھا وہ پہلے سوئی

جولاہے نے جوڑا تھا ایک ایک تار
ہوئے تھان جس کے گزوں سے شمار

یونہی پھوئیوں پھوئیوں بھری جھیل تال
یونہی کوڑی کوڑی ہوا جمع مال

اگر تھوڑا تھوڑا کرو صُبح و شام
بڑے سے بڑا کام بھی ہو تمام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١٢)

(٥) ایک وقت میں ایک کام

ہے کام کے وقت کام اچھا
اور کھیل کے وقت کھیل زیبا

جب کام کا وقت ہو کرو کام
بھولے سے بھی کھیل کا نہ لو نام

ہاں کھیل کے وقت خوب کھیلو
کوندو پھاندو کہ ڈنڈ پیلو

خوش رہنے کا ہے یہی طریقہ
ہر بات کا سیکھیئے سلیقہ

ہمّت کو نہ ہاریو خدا را
مت ڈھونڈیو غیر کا سہارا


اپنی ہّمت سے کام کرنا
مشکل ہو تو چاہئے نہ ڈرنا

جو کُچھ ہو سو اپنے دم قدم سے
کیا کام ہے غیر کے کرم سے

مت چھوڑیو کام کو ادھورا
بے کار ہے جو ہوا نہ پورا

ہر وقت میں صرف ایک ہی کام
پا سکتا ہے بہتری سے انجام

جب کام میں کام اور چھیڑا
دونوں ہی میں پڑ گیا بکھیڑا

جو وقت گزر گیا اکارت
افسوس ! ہوا خزانہ غارت

ہے کام کے وقت کام اچھّا
اور کھیل کے وقت کھیل زیبا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١٣)


(٦) ہوا چلی

ہونے کو آئی صبح تو ٹھنڈی ہوا چلی
کیا دھیمی دھیمی چال سے یہ خوش ادا چلی

لہرا دیا ہے کھیت کو ہلتی ہیں بالیاں
پودے بھی جھومتے ہیں لچکتی ہیں ڈالیاں

پھُلواریوں میں تازہ شگوفے کھِلا چلی
سویا ہوا تھا سبزہ اُسے تو جگا چلی

سرسبز ہوں درخت نہ باغوں میں تجھ بغیر
تیرے ہی دم قدم سے ہے بھاتی چمن کی سیر

پڑجائے اِس جہاں میں ہوا کی اگر کمی
چوپایہ کوئی زندہ بچے اور نہ آدمی

چِڑیوں کو یہ اُڑان کی طاقت کہاں رہے
پھر کائیں کائیں ہو نہ غُٹر غوں نہ چہچہے

بندوں کو چاہیئے کہ کریں بندگی ادا
اُس کی کہ جِس کے حکم سے چلتی ہے یہ سدا

(٧) پن چکّی

نہر پر چل رہی ہے پن چکّی
دھن کی پوری ہے کام کی پکّی

بیٹھتی تو نہیں کبھی تھک کر
تیرے پہیّہ کو ہے سدا چکّر

پیسنے میں لگی نہیں کچھ دیر
تو نے جھٹ پٹ لگا دیا اِک ڈھیر

لوگ لے جائیں گے سمیٹ سمیٹ
تیرا آٹا بھرے گا کتنے پیٹ

بھر کے لاتے ہیں گاڑیوں میں اناج
شہر کے شہر ہیں تِرے محتاج

تو بڑے کام کی ہے اے چکّی !
کام کو کر رہی ہے طے چکّی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١٤)


ختم تیرا سفر نہیں ہوتا
نہیں ہوتا مگر نہیں ہوتا

پانی ہر وقت بہتا ہے دَھل دَھل
جو گھُماتا ہے آ کے تیری کل

کیا تجھے چین ہی نہیں آتا
کام جب تک نبڑ نہیں جاتا

مینہ برستا ہو یا چلے آندھی
تو نے چلنے کی شرط ہے باندھی

تو بڑے کام کی ہے اے چکّی !
مجھ کو بھاتی ہے تیری لَے چکّی

علم سیکھو سبق پڑھو بچّو
اور آگے چلو بڑھو بچّو

کھیلنے کودنے کا مت لو نام
کام جب تک کہ ہو نہ جائے تمام

جب نبڑ جائے کام تب ہے مزہ
کھیلنے کھانے اور سونے کا

دل سے محنت کرو خوشی کے ساتھ
نہ کہ اُکتا کے خامُشی کے ساتھ

دیکھ لو چل رہی ہے پن چکّی
دُھن کی پوری ہے کام کی پکّی

(٨) اسلم کی بلّی
چھوٹی سی بلّی کو میں کرتا ہوں پیار
صاف ہے سُتھری ہے بڑی ہے کِھلار

گود میں لیتا ہوں تو کیا گرم ہے
گالے کی مانند رُواں نرم ہے

میں جو نہ چھیڑوں تو نہ جَھلّائے وہ
میں نہ ستاؤں تو نہ غُرّائے وہ

کھینچ کے دُم اب نہ ستاؤں گا میں
گھر میں سے باہر نہ بھگاؤں گا میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١٥)

اب نہ ڈرے گی وہ مِری مار سے
کھیلیں گے ہم دونوں بُہت پیار سے

صحن میں گھر میں کبھی میدان میں
کھیلیں گے در میں کبھی دالان میں

دم کو ہلا میرے پڑے گی وہ پاؤں
بولے گی پھر پیار سے یوں “ میاؤں میاؤں “

دوں گا اُسے گیند میں جب آن کر
جھپٹے گی وہ اُس پہ چوہا جان کر

تاک لگائے گی ۔ دبوچے گی خوب
مار نُہٹّے اسے نوچے گی خوب

ہم نے بڑے پیار سے پالا اِسے
کہتے ہیں سب چوہوں کی خالا اِسے

(٩) بچّہ اور ماں

اچھّی امّاں ! مُجھے بتا دو ابھی
کیوں ہے بچّہ کی مامتا اِتنی ؟

تم کو بچّہ سے کیوں یہ الفت ہے ؟
کس لئے اِس قدر محّبت ہے ؟

ماں نے بچّہ کو یوں جواب دیا
حیف ! تم جانتے نہیں بیٹا

کیسا لیٹا ہے یہ خوش وخُرّم
نہ کوئی فکر ہے نہ کوئی غم

نہ تو روتا نہ بِلبِلاتا ہے
گود میں کیا ہُمک کے آتا ہے

مُسکراتا ہے کیا ہی خوش ہو کر
جیسے چڑیا مگن ہو ڈالی پر

جبکہ سونے کا وقت ہے آتا
میرے سینہ سے ہے چمٹ جاتا

جب کہ آنکھوں میں نیند آتی ہے
بسترا اُس کا میری چھاتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
 

فرخ منظور

لائبریرین
جناب بات تو بالکل واضح ہے۔ کہ الٰہی کی املا الف لام کھڑا زبر ہ اور ی ہے۔ جبکہ آپ نے الف لام مد ہ ی لکھا ہے۔
یعنی صحیح املا ہے ا ل ٰ ہ ی اور آپ نے ل کے اوپر مد ڈال دی ہے۔
 
جناب بات تو بالکل واضح ہے۔ کہ الٰہی کی املا الف لام کھڑا زبر ہ اور ی ہے۔ جبکہ آپ نے الف لام مد ہ ی لکھا ہے۔
یعنی صحیح املا ہے ا ل ٰ ہ ی اور آپ نے ل کے اوپر مد ڈال دی ہے۔

جی آپ کی بات بالکل بجا ہے۔ لیکن اصل سکین شدہ متن میں "الٓہی" تھا ، دوسرا یہ کہ عام طور پر "الٰہی" استعمال ہوتا ہے۔سو اردو الفاظ کے استعمال میں تنوّع رہے تو میں نے پروف ریڈنگ میں "الٓہی" سے بدل دیا۔
اور باقی فیصلہ دوسری اور تیسری پروف ریڈنگ والے حضرات پر چھوڑ دیا (جو یقیناً مجھ سے زیادہ علم رکھنے کے باعث خود ہی مناسب لفظ چُن لیں گے)
 
پروف ریڈنگ : بار اوّل


(١٦)

نیند لے کر ہنسی خوشی سے اُٹھا
پھول گویا کھِلا چنبیلی کا

لگ گئی بھوک کہہ نہیں سکتا
پیاری نظروں سے ہے مُجھے تکتا

پیار کا میرے بس یہی ہے سبب
نہیں آتا بیان میں مطلب


(١٠) ماں اور بچّہ
بولی بچّہ سے ماں مِرے پیارے
صدقے امّاں ! جواب دو بارے

کہ ہے بچّہ کو ماں سے الفت کیوں ؟
رکھتا ہے اِس قدر محبّت کیوں ؟

دیا بچے نے یوں جواب سُنو !
اے ہے ! امّاں خبر نہیں تم کو

مجھ کو تکلیف سے بچاتی ہو
پیار سے گود میں بٹھاتی ہو

جی مرا بدمزہ اگر ہو جائے
میرے دُکھ کا تمہیں اثر ہو جائے

مجھ کو ہو درد تم کو حیرانی
چُپکے چُپکے کرو نگہبانی

اچھّے اچھّے کھِلاتی ہو کھانے
پیار کرتی ہو تم ۔ خدا جانے !

اور سب سے کہ آ رہے ہیں نظر
تم زیادہ ہو مہرباں مُجھ پر

جانتا ہوں عزیز سب سے تمہیں
چاہتا ہوں اِسی سبب سے تمہیں

پیاری امّاں کہا نہیں جاتا
نہیں مطلب بیان میں آتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(١٧)


(١١) ایک مور اور کُلنگ

دُم مور نے پھول کر دکھائی
اور بولا کلنگ سے کہ بھائی !

کیا خوب ہیں نقش! اور کیا رنگ!
دُنیا مُجھے دیکھ کر ہوئی دنگ

میری سی کہاں ہے آپ کی دم
کر سکتے نہیں مقابلہ تم

بولا اُس سے کلنگ ہنس کر
ہاں! آپ کے لاجواب ہیں پر

لیکن نہیں کچھ بھی کام آتے
بچّوں ہی کے دل کو ہیں لُبھاتے

اڑنے نہیں دیتی دم تمہاری
لیتے ہیں پکڑ تمہیں شکاری

یہ کہہ کے پروں کو پھٹپھٹا کر
بولا! اونچا ہوا پے جا کے

آؤ! کریں آسماں کا پھیرا
ُکُچھ دم ہے تو ساتھ دو نہ میرا

مُنہ اپنا سا لے کے رہ گیا مور
تھا اُس میں کہاں اُڑان کا زور

بھاتا ہے جنھیں نرا دکھاوا
وہ لوگ ہیں مور کے بھی باوا

بس اُن کو ہے ٹیپ ٹاپ کی دُھن
شیخی کے سوا نہیں کوئی گُن

دیکھیں کسے یاد ہے زبانی
مور اور کُلنگ کی کہانی

۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١٨)

(١٢) عجیب چڑیا

چڑیا ہم نے عجیب پالی
زنجیر اُس کے گلے میں ڈالی

دن رات ہو ۔ شام یا سویرا
لیتی ہے وہ جیب میں بسیرا

چڑیا سے بھی قد ہے اُس کا چھوٹا
ہے اُس کا بدن تمام پوٹا

پوٹے پہ جو غور سے نظر کی
پوٹا نہیں پوٹ ہے ہنر کی

گویا ہے۔ اگرچہ بے زبان ہے
ناداں ہے مگر حساب داں ہے

دانہ پانی نہیں وہ کھاتی
ہر دم ہے خوشی سے چہچہاتی

دن رات میں چھیڑ دو کسی آن
یہ چھیڑ ہے اُس کے جسم کی جان

جب تک جیتی ہے جاگتی ہے
لو کام تو چیز کام کی ہے

کہتی ہے کہ وقت کی خبر لو
جو کُچھ کرنا ہے جلد کر لو

غفلت کیجے تو ٹوکتی ہے
عجلت کیجے تو روکتی ہے

اِس طور سے کرتی ہے گزارہ
انڈے دیتی ہے دن میں بارہ

پھر اِتنے ہی رات کو ہے دیتی
دیتے ہی ہر ایک کو ہے سیتی

انڈے ہیں تمام اُس کے سچےّ
ایک ایک سے نکلے ساٹھ ۶۰ بچے

ہر بچّہ نے اُگلے ساٹھ دانے
ہر دانہ میں ہیں بھرے خزانے

جو دانہ گرا سو ہو گیا گم
ڈھونڈا کرو پھر نہ پاؤ گے تم

،،،،،،،،،،،،،،،

(١٩)

دانہ کی بتاؤں کیا میں قیمت
دانا سمجھیں اُسے غنیمت

جس نے اُسے پا لیا کہا واہ !
کیا بات ہے تیری بارک اللہ!

سچ مُچ تو لعلِ بے بہا ہے
گویا ہر درد کی دوا ہے

القصّہ ہے وہ عجب پرندہ
مُردہ اُسے کہہ سکیں نہ زندہ

(١٣) ایک لڑکا اور بیر

ایک لڑکا ہے بڑا ایمان دار
آزمائش ہو چکی ہے چند بار

ایک دن وہ نیک دل اور با حیا
اپنے ہمسایہ کے گھر میں تھا گیا

آدمی بالکل نہیں واں نام کو
کیونکہ ہمسایہ گیا ہے کام کو

تازہ تازہ بیر ڈلیا میں بھرے
بے حفاظت ہیں گھر کے اندر ہیں دھرے

لیکن اُس نے بیر کو چھیڑا نہیں
ہو نہ جائے شبہ چوری کا کہیں

آ گیا اتنے میں ہمسایہ وہاں
کھیل میں مصروف ہے لڑکا جہاں

اپنے بیروں میں نہ پائی کچھ کمی
ہو کے خوش لڑکے سے بولا آدمی

بیر یہ تم نے چُرائے کیوں نہیں ؟
کیوں چُراتا ؟ چور تھا کیا میں کہیں ؟

چور جب بنتے کہ کوئی دیکھتا
دیکھنے کو میں ہی خود موجود تھا

کُچھ بُرائی آپ میں گر پاؤں میں
پانی پانی شرم سے ہو جاؤں میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷

(٢٠)

واہ وا ! شاباش ! لڑکے واہ وا !
تو جواں مردوں سے بازی لے گیا

(١٤) ایک پودا اور گھاس

اتفاقاً ایک پودا اور گھاس
باغ میں دونوں کھڑے ہیں پاس پاس

گھاس کہتی ہے کہ اے میرے رفیق
کیا انوکھا اِس جہاں کا ہے طریق

ہے ہماری اور تمھاری ایک ذات
ایک قدرت سے ہے دونوں کی حیات

مٹی اور پانی ہوا اور روشنی
واسطے دونوں کے یکساں ہے بنی

تُجھ پہ لیکن ہے عنایت کی نظر
پھینک دیتے ہیں مُجھے جڑ کھود کر

سر اُٹھانے کی مجھے فُرصت نہیں
اور ہوا کھانے کی بھی رُخصت نہیں

کون دیتا ہے مُجھے یاں پھیلنے
کھا لیا گھوڑے گدھے یا بیل نے

تجھ پہ مُنہ ڈالے جو کوئی جانور
اُس کی لی جاتی ہے ڈنڈے سے خبر

اولے پالے سے بچاتے ہیں تجھے
کیا ہی عزت سے بڑھاتے ہیں تجھے

چاہتے ہیں تجھ کو سب کرتے ہیں پیار
کُچھ پتا اِس کا بتا اے دوستدار

اُس سے پودے نے کہا یوں سر ہلا
گھاس! سب بیجا ہے یہ تیرا گلا

مُجھ میں اور تجھ میں نہیں کُچھ بھی تمیز
صرف سایہ اور میوہ ہے عزیز

فائدہ اک روز مُجھ سے پائیں گے
سایہ میں بیٹھیں گے اور پھل کھائیں گے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷​
 
پروف ریڈنگ : بار اوّل


(٢١)

ہے یہاں عزّت کا سہرا اُس کے سر
جس سے پہونچے نفع سب کو بیشتر

(١٥) ایک جگنو اور بچّہ کی باتیں

سُناؤں تمہیں بات اک رات کی
کہ وہ رات اندھیری تھی برسات کی

چمکنے سے جگنو کے تھا اک سماں
ہوا پر اُڑیں جیسے چنگاریاں

پڑی ایک بچّہ کی اُن کی پر نظر
پکڑ ہی لیا ایک کو دوڑ کر

چمک دار کیڑا جو بھایا اُسے
تو ٹوپی میں جھٹ پٹ چھپایا اُسے

وہ جھم جھم چمکتا اِدھر سے اُدھر
پِھرا۔ کوئی رستہ نہ پایا مگر

تو غمگین قیدی نے کی التجا
کہ چھوٹے شکاری ! مُجھے کر رہا

جگنو
خدا کے لیے چھوڑ دے چھوڑ دے !
مِری قید کے جال کو توڑ دے !

بچّہ
کروں گا نہ آزاد اُس وقت تک
کہ میں دیکھ لوں دن میں تیری چمک

جگنو
چمک میری دن میں نہ دیکھو گے تم
اُجالے میں ہو جائے گی وہ تو گم

بچّہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(٢٢)

ارے چھوٹے کیڑے نہ دے دم مُجھے
کہ ہے واقفیت ابھی کم مُجھے

اُجالے میں دن کے کھلے گا یہ حال
کہ اتنے سے کیڑے میں ہے کیا کمال

دُھواں ہے نہ شعلہ نہ گرمی نہ آنچ
چمکنے کی تیرے کروں گا میں جانچ

جگنو
یہ قدرت کی کاریگری ہے جناب
کہ ذرّہ کو چمکائے جوں آفتاب

مُجھے دی ہے اس واسطے یہ چمک
کہ تم دیکھ کر مُجھ کو جاؤ ٹھٹک

نہ اَلَّڑھ پنے سے کرو پائمال
سنبھل کر چلو آدمی کی سی چال !

(١٦)ایک گھوڑا اور اُس کا سایہ

ایک گھوڑا تھا نہایت عیب دار
اپنے سایہ سے بدکتا بار بار

اُس سے مالک نے خفا ہو کر کہا
سُن تو احمق ! جس سے تو ہے ڈر رہا

جسم کا تیرے ہی تو سایہ ہے وہ
ُکُچھ درندہ ہے نہ چوپایہ ہے وہ

جسم رکھتا ہے نہ اُس کے جان ہے
تو بڑا ڈرپوک۔ او نادان! ہے

یوں دیا گھوڑے نے مالک کو جواب
سچ کہا یہ آپ نے لیکن جناب !

آدمی سے بڑھ کے میں وہمی نہیں
اَن ہوئی باتوں کا ہے جس کو یقیں

بھُوت کا قصہ کہانی کے سوا
کُچھ نشاں گھر میں نہ جنگل میں پتا
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

(٢٣)

بھوت سے ڈرنا بھی کوئی بات ہے
کیا ہی وہمی آدمی کی ذات ہے

سایہ تو آنکھوں سے آتا ہے نظر
کیا عجب ہے جو ہوا مُجھ پر اثر

اپنے دُکھ کا کیجیئے اوّل علاج
دوسروں کا پوچھیئے پیچھے مزاج

(١٧) ایک کتّا اور اُس کی پرچھائیں

مُنہ میں ٹکڑا لیئے ہوتے کُتّا
ایک دریا کو تیر کر اُترا

پانی آئینہ سا رہا تھا چمک
نظر آتی تھی تہ کی مٹّی تک

اپنی پرچھائیں پر کیا جو غور
اس کو سمجھا کہ ہے یہ کتّا اور

مُنہ میں ٹکڑا دبا رہا ہے یہ
گہرے پانی میں جا رہا ہے یہ

حرص نے ایسا بے قرار کیا
جھٹ سے غرّا کے اُس پے وار کیا

جونہیں ٹکڑے پہ اُس کے مُنہ مارا
اپنا ٹکڑا بھی کھو دیا سارا

واں نہ ٹکڑا نہ اور کُتّا تھا
وہم تھا ۔ وہم کے سوا کیا تھا

یونہیں جتنے ہیں لالچی نادان
کر کے لالچ اُٹھاتے ہیں نقصان

باندھتے ہیں کہاں کہاں کے خیال
اور کھو بیٹھتے ہیں اپنا مال

تم ہوس میں سڑی نہ بن جاؤ
جو ملے اُس کو کام میں لاؤ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٢٤)

(١٨) ریل گاڑی

حیواں ہے نہ وہ انساں جن ہے نہ وہ پری ہے
سینہ میں اُس کے ہردم اک آگ سی بھری ہے

کھا پی کے آگ پانی چنگھاڑ مارتی ہے
سر سے دھوئیں اُڑا کر غصّہ اُتارتی ہے

وہ گھورتی گرجتی بھرتی ہے اک سپاٹا
ہفتوں کی منزلوں کو گھنٹوں میں اُس نے کاٹا

آتی ہے شور کرتی جاتی ہے غل مچاتی
وہ اپنے خادموں کو ہے دور سے جگاتی

بے خوف بے محابا ہر دم رواں دواں ہے
ہاتھی بھی اُس کے آگے اِک مورِ ناتواں ہے

آندھی ہو یا اندھیرا ہے اُس کو سب برابر
یکساں ہے نور و ظلمت اور روز و شب برابر

اتّر سے لے دکن تک پورب سے لے پچھاں تک
سب ایک کر دیا ہے پُہنچی ہے وہ جہاں تک

بجلی ہے یا بگولا ۔ بھونچال ہے کہ آندھی
ٹھیکہ پہ ہے پہونچتی بچنوں کی ہے وہ باندھی

ہر آن ہے سفر میں کم ہے قیام کرتی
رہتی نہیں معطّل ۔ پھرتی ہے کام کرتی

پردیسیوں کو جھٹ پٹ پہونچا گئی وطن میں
ڈالی ہے جان اُس نے سوداگری کے تن میں

ہر چیز سے نرالی ہے چال ڈھال اُس کی
پاؤ گے صنعتوں میں کمتر مثال اُس کی

برکت سے اُس کی بے پر پردار بن گئے ہیں
ملک اُس کے دم قدم سے گلزار بن گئے ہیں

ہم کہہ چکے مفّصل ۔ جو کُچھ ہے کام اُس کا
جب جانیں تم بتا دو بن سوچے نام اُس کا

جی ہاں سمجھ گیا میں ۔ پہلے ہی میں نے تاڑی
وہ دیکھو آگرہ سے آتی ہے ریل گاڑی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٢٥)

(١٩) ہماری گائے
رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے ہماری گائے بنائی

اُس مالک کو کیوں نہ پکاریں
جس نے پلائیں دودھ کی دھاریں

خاک کو اُس نے سبزہ بنایا
سبزہ کو پھر گائے نے کھایا

کل جو گھاس چری تھی بن میں
دودھ بنی اب گائے کے تھن میں

سبحان اللہ دودھ ہے کیسا
تازہ گرم سفید اور میٹھا

دودھ میں بھیگی روٹی میری
اُس کے کرم نے بخشی سیری

دودھ دہی اور مَٹّھا مسکا
دے نہ خدا تو کس کے بس کا

گائے کو دی کیا اچھّی صورت
خوبی کی ہے گویا مورت

دانہ دُنکا بھوسی چوکر
کھا لیتی ہے سب خوش ہو کر

کھا کر تنکے اور ٹھیڑے
دودھ ہے دیتی شام سویرے

کیا ہی غریب اور کیسی پیاری
صبح ہوئی جنگل کو سدھاری

سبزہ سے میدان ہرا ہے
جھیل میں پانی صاف بھرا ہے

پانی موجیں مار رہا ہے
چرواہا چمکار رہا ہے

پانی پی کر چارہ چر کر
شام کو آئی اپنے گھر پر

دوری میں جو دن ہے کاٹا
بچّہ کو کس پیار سے چاٹا

۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
 
پروف ریڈنگ : بار اوّل


(٢٦)

گائے ہمارے حق میں ہے نعمت
دودھ ہے دیتی کھا کے بنسپت

بچھڑے اُس کے بیل بنائے
جو کھیتی کے کام میں آئے

رب کی حمد و ثنا کر بھائی
جس نے ایسی گائے بنائی

(٢٠) سچ کہو

سچ کہو سچ کہو ہمیشہ سچ
ہے بھلے مانسوں کا پیشہ سچ

سچ کہو گے تو تم رہو گے عزیز
سچ تو یہ ہے کہ سچ ہے اچھّی چیز

سچ کہو گے تو تم رہو گے شاد
فکر سے پاک رنج سے آزاد

سچ کہو گے تو تم رہو گے دلیر
جیسے ڈرتا نہیں دلاور شیر

سچ سے رہتی ہے تقویت دل کو
سہل کرتا ہے سخت مشکل کو

سچ ہے ساری معاملوں کی جان
سچ سے رہتا ہے دل کو اطمینان

سچ میں راحت ہے اور آسانی
سچ سے ہوتی نہیں پشیمانی

سچ ہے دنیا میں نیکیوں کی جڑ
سچ نہ ہو تو جہان جائے اُجڑ

سچ کہو گے تو دل رہے گا صاف
سچ کرا دے گا سب قصور معاف

سچ سے زنہار درگزر نہ کرو
دل میں کچھ خوف اور خطر نہ کرو

جس کو سچ بولنے کی عادت ہے
وہ بڑا نیک با سعادت ہے

۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٢٧)

وہی دانا ہے جو کہ ہے سچّا
اس میں بڈّھا ہو یا کوئی بچّا

ہے بُرا جھوٹ بولنے والا
آپ کرتا ہے اپنا مُنہ کالا

فائدہ اُس کو کُچھ نہ دے گا جھوٹ
جائے گا ایک روز بھانڈا پھوٹ

جھوٹ کی بھول کر نہ ڈالو خو
جھوٹ ذلّت کی بات ہے اَخ تھو!!

(٢١ ) ہمارا کُتّا ٹیپو

ٹیپو ہے اِس کا نام یہ کُتّا عجیب ہے
بڈّھا ہے با ادب ہے نہایت غریب ہے

ہم دونوں بھائی بہنوں سے الفت ہے اِس قدر
جب دیکھتا ہے دور سے آتا ہے دوڑ کر

افسوس میرے ٹیپو ! حیراں ہوں کیا کروں
کِس ڈھب سے تیرے ساتھ محبّت کیا کروں

آتا ہے کم جہاں میں تجھ سا رفیق ہاتھ
جاتا ہوں جب میں سیر کو رہتا ہے میرے ساتھ

میں دودھ پی رہا ہوں تو بیٹھا ہے میرے پاس
کُچھ شک نہیں کہ تو ہے وفادار۔ حق شناس

البتہ میں بھی کرتا ہوں صرف اِس قدر سلوک
دیتا ہوں ایک ٹکڑا کہ دب جائے تیری بھوک

لیکن مُجھے یقیں ہے اگر کُچھ نہ دوں تجھے
دیکھے گا پھر بھی پیار کی نظروں سے تو مُجھے

اِس واسطے کہ تو ہے وفادار حق شناس
مالک کا اپنے تجھ کو بہت ہے لحاظ و پاس

ٹیپو ہمارے گھر کا پُرانا رفیق ہے
بڈّھا ہے با وفا ہے نہایت شفیق ہے

جنگل کو جائیں ڈھور تو جاتا ہے ساتھ ساتھ
جب گھر کو واپس آئیں تو آتا ہے ساتھ ساتھ

۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٢٨)

بیچارہ گھر کی چوکسی کرتا ہے رات بھر
اور دن میں کھیلتا ہے مرے ساتھ اِدھر اُدھر

(٢٢) شفق

شفق پھولنے کی بھی دیکھو بہار
ہَوا میں کھلا ہے عجب لالہ زار

ہوئی شام بادل بدلتے ہیں رنگ
جنہیں دیکھ کر عقل ہوتی ہے دنگ

نیا رنگ ہے اور نیا روپ ہے
ہر ایک روپ میں یہ وہی دھوپ ہے

طبیعت ہے بادل کی رنگت پہ لوٹ
سنہری لگائی ہے قدرت نے گوٹ

ذرا دیر میں رنگ بدلے کئی
بنفشی و نارنجی و چنپئی

یہ کیا بھید ہے ! کیا کرامات ہے !
ہر اک رنگ میں اک نئی بات ہے

یہ مغرب میں جو بادلوں کی ہے باڑ
بنے سونے چاندی کے گویا پہاڑ

فلک نیلگوں اُس میں سُرخی کی لاگ
ہرے بن میں گویا لگا دی ہے آگ

اب آثار ظاہر ہوئے رات کے
کہ پردے چھٹے لال بانات کے

۔۔۔۔۔،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٢٩)

(٢٣) رات
گیا دن ہوئی شام آئی ہے رات
خدا نے عجب شے بنائی ہے رات

نہ ہو رات تو دن کی پہچان کیا
اٹھائے مزہ دن کا انسان کیا

ہوئی رات خلقت چھٹی کام سے
خموشی سی چھائی سرِ شام سے

لگے ہونے اب ہاٹ بازار بند
زمانے کے سب کار بہوار بند

مسافر نے دن بھر کیا ہے سفر
سرِ شام منزل پہ کھولی کمر

درختوں کے پتّے بھی چُپ ہو گئے
ہَوا تھم گئی پیڑ بھی سو گئے

اندھیرا اُجالے پہ غالب ہوا
ہر اک شخص راحت کا طالب ہوا

ہوئے روشن آبادیوں میں چراغ
ہوا سب کو محنت سے حاصل فراغ

کسان اب چلا کھیت کو چھوڑ کر
کہ گھر میں کرے چین سے شب بسر

تھپک کر سُلایا اُسے نیند نے
تردد بھُلایا اسے نیند نے

غریب آدمی جو کہ مزدور ہیں
مشقّت سے جن کے بدن چور ہیں

وہ دن بھر کی محنت کے مارے ہوئے
وہ ماندے تھکے اور ہارے ہوئے

نہایت خوشی سے گئے اپنے گھر
ہوئے بال بچّے بھی خوش دیکھ کر

گئے بھول سب کام دھندے کا غم
سویرے کو اُٹھّیں گے اب تازہ دم

کہاں چین یہ بادشہ کو نصیب
کہ جس بے غمی سے ہیں سوتے غریب

۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٣٠)

(٢٤) گرمی کا موسم

مئی کا آن پہونچا ہے مہینہ
بہا چوٹی سے ایڑی تک پسینا

بجے بارہ۱۲ تو سورج سر پہ آیا
ہوا پیروں تلے پوشیدہ سایا

چلی لُو اور تڑاقی کی پڑی دھوپ
لپٹ ہے آگ کی گویا کڑی دھوپ

زمیں ہے یا کوئی جلتا توا ہے
کوئی شعلہ ہے یا پچھوا ہوا ہے

در و دیوار ہیں گرمی سے تپتے
بنی آدم ہیں مچھلی سے تڑپتے

پرندے اُڑ کے ہیں پانی پہ گرتے
چرندے بھی ہیں گھبرائے سے پھرتے

درندے چھپ گئے ہیں جھاڑیوں میں
مگر ڈوبے پڑے ہیں کھاڑیوں میں

نہ پوچھو کُچھ غریبوں کے مکاں کی
زمین کا فرش ہے چھت آسماں کی

نہ پنکھا ہے نہ ٹٹّی ہے نہ کمرہ
ذرا سی جھونپڑی محنت کا ثمرہ

امیروں کو مبارک ہو حویلی
غریبوں کا بھی ہے اللہ بیلی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
 
[font=&quot] [/font]
[font=&quot](٣١)

(٢٥) [/font][font=&quot]برسات[/font][font=&quot]

وہ دیکھو اُٹھی کالی کالی گھٹا
ہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا

گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئی
ہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئی

گھٹا آن کر مینہ جو برسا گئی
تو بے جان مٹّی میں جان آ گئی

زمین سبزے سے لہلہانے لگی
کسانوں کی محنت ٹھکانے لگی

جڑی بوٹیاں پیڑ آئے نکل
عجیب بیل پتّے عجب پھول پھل

ہر اک پیڑ کا اک نیا ڈھنگ ہے
ہر اک پھول کا ایک نیا رنگ ہے

یہ دودن میں کیا ماجرا ہو گیا
کہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا

جہاں کل تھا میدان چٹیل پڑا
وہاں آج ہے گھاس کا بن کھڑا

ہزاروں پھُدکنے لگے جانور
نکل آئے گویا کہ مٹّی کے پر


(٢٦) [/font][font=&quot]ملمّع کی انگوٹھی[/font][font=&quot]

چاندی کی انگوٹھی پہ جو سونے کا چڑھا جھول
اوچھی تھی لگی بولنے اِترا کے بڑا بول

چاندی کی انگوٹھی کہ نہ میں ساتھ رہوں گی
وہ اور ہے میں اور یہ ذلّت نہ سہوں گی

میں قوم کی اونچی ہوں بڑا میرا گھرانا
وہ ذات کی گھٹیا ہے نہیں اُس کا ٹھکانا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،۔÷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٣٢)

میری سی چمک اِس میں نہ میری سی دمک ہے
چاندی ہے کہ ہے رانگ مُجھے اِس میں بھی شک ہے

میری سی کہاں چاشنی میرا سا کہاں رنگ
وہ مول میں اور تول میں میرے نہیں پاسنگ

اے دیکھنے والو تمھیں انصاف سے کہنا
چاندی کی انگوٹھی بھی ہے کچھ گہنوں میں گہنا

یہ سُنتے ہی چاندی کی انگوٹھی بھی گئی جل
اللہ رے ملمّع کی انگوٹھی تیرے چھل بل

سونے کے ملمّع پہ نہ اترا میری پیاری
دو دن میں بھڑک اُس کی اُتر جائے گی ساری

کُچھ دیر حقیقت کو چھپایا بھی تو پھر کیا
جھوٹوں نے جو سچّوں کو چڑایا بھی تو پھر کیا

مت بھول کبھی اصل کو اپنی اری احمق !
جب تاؤ دیا جائے گا ہو جائے گا مُنہ فق

سچّے کی تو عزّت ہی بڑھے گی جو کریں جانچ
مشہور مثل ہے کہ نہیں سانچ کو کُچھ آنچ

کھوٹے کو کھرا بن کے نِکھرنا نہیں اچھّا
چھوٹے کو بڑا بن کے اُبھرنا نہیں اچھّا

(٢٧) [/font][font=&quot]دال کی فریاد[/font][font=&quot]

ایک لڑکی بگھارتی ہے دال
دال کرتی ہے عرض یوں احوال

ایک دن تھا ہری بھری تھی میں
ساری آفات سے بری تھی میں

تھا ہرا کھیت میرا گہوارہ
وہ وطن تھا مُجھے بہت پیارا

پانی پی پی کے تھی میں لہراتی
دھوپ لیتی کبھی ہَوا کھاتی

مینہ برستا تھا جھُوکے آتے تھے
گودیوں میں مُجھے کھلاتے تھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٣٣)

یہی سورج زمین تھے ماں باوا
مُجھ سے کرتے تھے نیک برتاوا

جب کیا مُجھ کو پال پوس بڑا
آہ ۔۔۔۔ ظالم کسان آن پڑا

گئی تقدیر یک بیک جو پلٹ
کھیت کا کھیت کر دیا تلپٹ

خوب لوٹا دھڑی دھڑی کر کے
مُجھ کو گونوں میں لے گئے بھر کے

ہو گئی دم کی دم میں بربادی
چھِن گئی ہائے میری آزادی !

کیا بتاؤں کہاں کہاں کھینچا
دال منڈی میں مجھ کو جا بینچا

ایک ظالم سے واں پڑا پالا
جس نے چکّی مُجھ کو دَل ڈالا

ہوا تقدیر کا لکھا پورا
دونوں پاٹوں نے کر دیا چورا

نہ سُنی میری آہ اور زاری
خوب بنیئے نے کی خریداری

چھانا چھلنی میں چھاج میں پھٹکا
قید خانہ میرا بنا مٹکا

پھر مقدّر مُجھے یہاں لایا
تم نے تو اور بھی غضب ڈھایا

کھال کھینچی الگ کئے چھلکے
زخم کیونکر ہرے نہ ہوں دل کے

ڈالیں مرچیں نمک لگایا خوب
رکھ کے چولہے پہ جی جلایا خوب

اس پے کفگیر کے ٹہوکے ہیں
اور ناخن کے بھی کچوکے ہیں

میرے گلنے کی لے رہی ہو خبر
دانت ہے آپ کا مرے اوپر

گرم گھی کر کے مجکو داغ دیا
ہائے تم نے بھی کچھ نہ رحم کیا

ہاتھ دھو کر پڑی ہو پیچھے تم
جان پر آ بنی حواس ہیں گم

اچھی بی بی تمھیں کرو انصاف
ظلم ہے یا نہیں (قصور معاف )

کہا لڑکی نے میری پیاری دال
مجکو معلوم ہے ترا سب حال

تو اگر کھیت سے نہیں آتی
خاک میں مل کے خاک ہو جاتی

یا کوئی گائے بھینس چر لیتی
پیٹ میں اپنے تجکو بھر لیتی

میں تو رتبہ ترا بڑھاتی ہوں
اب چپاتی سے تجکو کھاتی ہوں

نہ ستانا نہ جی جلانا تھا
یوں تجھے آدمی بنانا تھا

اگلی بیتی کا تو نہ کر کچھ غم
مہربانی تھی سب نہ تھا یہ ستم

(٢٨) [/font][font=&quot]دال چپاتی [/font][font=&quot]

اور سُنو ایک حکایت نئی
دال چپاتی میں جھڑپ ہو گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٣٤)

دال لگی کہنے کہ میرا مزہ
کرتا چپاتی کو بھی ہے با مزہ

میرے بدوں اِس کو بھلا کھائے کون
]روکھی چپاتی میں مزہ پائے کون

بلکہ نری دال اگر کھائیے
ہونٹ ہی بس چاٹتے رہ جایئے

کرتا ہے درویش جو روٹی طلب
دال چپاتی اُسے دیتے ہیں سب

دیکھ لو اُس وقت میری برتری
نیچے ہے وہ اور میں اوپر دھری

بیٹھتی ہوں چڑھ کے چپاتی پہ میں
مونگ دلا کرتی ہوں چھاتی پہ میں

اِس کے سوا دیکھیئے میرا سنگار
پہلے مصالح ہے پھر اُس پر بگھار

مجکو پکاتے ہیں سبھی اد بدا
کھاتے ہیں سب شاہ سے لے تا گدا

میری فضیلت میں نہیں کوئی شک
واہ رے میں اور مرا آب و نمک

ذائقہ خوشبو پے مِری لوٹ ہے
دل پہ چپاتی کے یہ ہی چوٹ ہے

دال نے شیخی جو بگھاری بڑی
سُن کے چپاتی بھی اُچھل ہی پڑی

بے ادبی کر نہ میری شان میں
میری طفیلی ہے تو ہر خوان میں

دال ہو سالن ہو کہ چٹنی اچار
سب ہیں میرے ساتھ کے خدمت گزار

کوفتہ ہو قورمہ ہو یا کباب
تھام کے چلتے ہیں یہ میری رکاب

چٹ پٹی ترکاریاں جب ہوویں ساتھ
دال کو پھر کون لگاتا ہے ہاتھ

دال کا دانہ بھی نہ چکھّے کوئی
بلکہ رکابی میں نہ رکھے کوئی

دال تو اِک ہارے کا ہتیار ہے
کھائے وہی اِس کو جو بیمار ہے

۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٣٥)

دال میّسر نہیں ہوتی جنہیں
صرف چپاتی کو غنیمت گِنیں

جس کی فقط دال پہ گزران ہے
آدمی کاہے کو وہ حیوان ہے

یوں تو سبھی کھانوں میں افضل ہوں میں
دال سے سو مرتبہ اول ہوں میں

دونوں میں القصّہ بہت بڑھ گئی
ایک پے ایک آن کے پھر چڑھ گئی

لُقمہ بنا دونوں کو میں کھا گیا
قصّہ ہوا فیصلہ جھگڑا گیا

(٢٩) [/font][font=&quot]دو مکھیاں[/font][font=&quot]

ایک مکھّی کہ ہے نِری احمق
فکرِ انجام اُسے نہیں مطلق

کوتہ اندیش ۔ لالچی ۔ ناداں
دیتی پھرتی ہے مفت اپنی جاں

گِری شیرہ پے حرص کے مارے
پاؤں اور پَر لتھڑ گئے سارے

آنکھ اُس کی ہیئے کی پھُوٹ گئی
اُکھڑے بازو تو ٹانگ ٹوٹ گئی

آخرش پھنس کے رہ گئی مکھّی
کیا حِماقت کی چاشنی چکھّی

ایک مکھی ہے سخت دوراندیش
سوچ لیتی ہے کام کا پس و پیش

اُس پے غالب نہیں ہوسناکی
اُڑتی پھرتی ہے وہ بہ چالاکی

کہیں مصری کی جب ڈلی پائی
تو بہ آہستگی اُتر آئی

گرچہ اِس کام میں لگی کُچھ دیر
چاٹ کر ہو گئی مگر وہ سیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔[/font]​
[font=&quot] [/font]
 
پروف ریڈنگ : بار اوّل


(٣٦)

چاٹ کے کھا کے اُڑ گئی پُھر پُھر
دوربینی کا اُس کو یاد ہے گُر

کس مزہ سے گزارتی ہے دن
شکر کا گیت گاتی ہے بِھن بھن

(٣٠) مثنوی آب زلال

خدا نے دی ہے تم کو عقل و تمیز
ذرا دیکھو تو یہ پانی ہے کیا چیز

دکھاؤ کُچھ طبیعت کی روانی
جو دانا ہو تو سمجھو کیا ہے پانی

یہ مل کر دو ہواؤں سے بنا ہے
گرہ کُھل جائے تو فورا ہَوا ہے

نظر ڈھونڈے مگر کُچھ بھی نہ پائے
زباں چکھّے مزہ ہر گز نہ آئے

ہواؤں میں لگایا خوب پھندا
انوکھا ہے تیری قدرت کا دھندا

نہیں مشکل اگر تیری رضا ہو
ہوا پانی ہو اور پانی ہوا ہو

مزاج اُس کو دیا ہے نرم کیسا
جگہ جیسی ملے بن جائے ویسا

نہیں کرتا جگہ کی کُچھ شکایت
طبیعت میں رسائی ہے نہایت

نہیں کرتا کسی برتن سے کھٹ پٹ
ہر اک سانچہ میں ڈھل جاتا ہے جھٹ پٹ

نہ ہو صدمہ سے ہر گز ریزہ ریزہ
نہو زخمی اگر لگ جائے نیزہ

نہ اُس کو تیر سے تلوار سے خوف
نہ اُس کو توپ کی بھرمار سے خوف

تواضع سے سدا پستی میں بہنا
جفا سہنا مگر ہموار رہنا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔÷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٣٧)

نہیں ہے سرکشی سے کچھ سروکار
نہ دیکھو گے کبھی تم اُس کا انبار

خزانہ گر بلندی پر نہ ہوتا
تو فوّارہ سے وہ باہر نہ ہوتا

جو ہلکا ہو اُسے سر پر اُٹھائے
جو بھاری ہو اُسے غوطا کھلائے

نہ جلتا ہے نہ گلتا ہے نہ سڑتا
نرا پانی نہیں ہر گز بگڑتا

اُسے بھینچو دباؤ یا ٹٹولو
اُسے چھیڑو اچھالو یا گھنگولو

اُسے رگڑو گھسو پیسو بہاؤ
جھکولے دو مسل ڈالو دباؤ

کسی عنوان سے ہو گا نہ نابود
وہی پانی کا پانی دودھ کا دودھ

لگے گرمی تو اُڑجائے ہوا پَر
پڑے سردی تو بنجاتا ہے پتّھر

ہوا میں مل کے غائب ہو نظر سے
کبھی اوپر سے بادل بن کے برسے

ہوا پر چڑھ کے پہونچے سیکڑوں کوس
کبھی اولا کبھی پالا کبھی اوس

کُہر ہے بھاپ ہے، پانی ہے یا برف
کئی صیغوں میں ہے ایک اصل کی صرف

اُسی کے دم سے دنیا میں تری ہے
اُسی کی چاہ سے کھیتی ہری ہے

پھلوں میں پھول میں ہر پنکھڑی میں
ہر اک ٹہنی میں ہر بوٹی جڑی میں

ہر اک ریشہ میں ہے اُس کی رسائی
غذا ہے جڑ سے کونپل تک چڑھائی

پھلوں کا ہے اُسی سے تازہ چہرہ
اسی کے سر پے ہے پھولوں کا سہرہ

اُسی کو پی کے جیتے ہیں سب انساں
اُسی سے تازہ دم ہیں سارے حیواں

یہی معدہ کو پُہنچاتا رسد ہے
یہی تحلیل میں کرتا مدد ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔
(٣٨)

عمارت کا بسایا اُس نے کھیڑا
تجارت کا کیا ہے پار بیڑا

زراعت اُس کی موروثی اثامی
صناعت کے بھی اوزاروں کا حامی

کہیں ساگر کہیں کھاڑی کہیں جھیل
کہیں جمنا کہیں گنگا کہیں نیل

کہیں نالہ کہیں ندّی کہیں سیل
ہے یہ دنیا کی کمسریٹ کا جرنیل

یہی پہلے زمیں پر موجزن تھا
نہ میداں تھا نہ پربت تھا نہ بن تھا

زمیں سب غرق تھی پانی کے اندر
جدھر دیکھو سمندر ہی سمندر

زمیں پوشیدہ تھی اُسکی بغل میں
نہ تھا کچھ فرق جل میں اور تھل میں

نہ بستی تھی نہ ٹاپو تھا کہیں پر
اُسی کا دور دورہ تھا زمیں پر

نہ افریقہ نہ امریکہ نہ یورپ
رہی تھی ایشیا او شینیا چھُپ

ہمالہ نے بھی تھی ڈُبکی لگائی
نہ دیتی تھی کہیں چوٹی دکھائی

نہ طارس تھا نہ بندھیاچل نہ الطین
نہ فارس تھا نہ ہندوستان نے چین

مگر دنیا میں یکسانی کہاں ہے
جواب دیکھو تو وہ پانی کہاں ہے

یہاں ہر چیز ہے کروٹ بدلتی
ہر ایک حالت ہے چڑھتی اور ڈھلتی

کوئی شے ہو ہَوا ہو یا ہو پانی
سبھی کو ہے بُڑھاپا اور جوانی

رہا باقی نہ وہ پانی کا ریلا
اُسے خشکی نے پستی میں دھکیلا

زمیں آہستہ آہستہ گئی چوس
چھپائے مال کو جس طرح کنجوس

تَری کا جب کہ دامن ہو گیا چاک
تو خشکی نے اُڑائی جا بجا خاک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٣٩)


پہاڑ اُبھرے ہوئے میدان پیدا
ہوئے میداں میں نخلستان پیدا

تَری کا گو ابھی ہے پلّہ بھاری
لڑائی ہے مگر دونوں میں جاری

کیا کرتے ہیں دونوں کاٹ اور چھانٹ
چلی جاتی ہے باہم لاگ اور ڈانٹ

تَری ہر دم چلی جاتی ہے اٹتی
کبھی خشکی بھی ہے کایا پلٹتی

تری کا تین چوتھائی میں ہے راج
تو خشکی ایک چوتھائی میں ہے آج

نہیں چلتی تَری کی سینہ زوری
زمیں اک روز رہ جائے گی کوری

پہن رکھا تھا جب آبی لبادہ
مُٹاپا بھی زمیں کا تھا زیادہ

مگر اب دن بدن چڑھتی ہے خشکی
تَری گھٹتی ہے اور بڑھتی ہے خشکی

کمی بیشی نہیں آتی نظر کُچھ
بہت عمروں میں ہوتا ہے اثر کُچھ

(٣١) موعظت

کرے دشمنی کوئی تم سے اگر
جہاں تک بنے تم کرو درگزر

کرو تم نہ حاسد کی باتوں پہ غور
جلے جو کوئی ۔ اس کو جلنے دو اور

اگر تم سے ہو جائے سرزد قصور
تو اقرار و توبہ کرو بالضرور

بدی کی ہو جس نے تمہارے خلاف
جو چاہے معافی ۔ تو کردو معاف

نہیں بلکہ تم اور احساں کرو
بھلائی سے اُس کو پشیماں کرو

۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٤٠)

ہے شرمندگی اُس کے دل کا علاج
سزا اور ملامت کی کیا احتیاج

بھلائی کرو تو کرو بے غرض
غرض کی بھلائی تو ہے اک مرض

جو محتاج مانگے تو دو تم اُدھار
رہو واپسی کے نہ امیدوار

جو تم کو خدا نے دیا ہے تو دو
نہ خسّت کرو اِس میں جو ہوسو ہو

(٣٢) داناؤں کی نصیحت دل سے سُنو

راوی نے ہے اِس طرح خبر دی
اک شب لگی بندروں کو سردی

سردی نے دیا جو سخت آزار
جویا ہوئے آگ کے وہ ناچار

ہر چار طرف دوا دوش کی
پائی نہ کہیں دوا خلش کی

ناگہہ چمکا جو کرمِ شب تاب
اخگر اُسے جان کر لیا داب

ناچے کودے خوشی سے باہم
تِنکے پتّے کئے فراہم

رکھ کر اُسے خار وخس کے اندر
پھونکیں لگے مارنے وہ بندر

لیکن ہوا فائدہ نہ کُچھ بھی
اُٹھّا نہ دھواں نہ آگ سلگی

کرتے رہے پھر بھی کام اپنا
چھوڑا نہ خیالِ خام اپنا

صحرا میں جو اور جانور تھے
وہ تجربہ کار و باخبر تھے

سمجھانے لگے زروئے شفقت
یوں وقت کو رائیگاں کرو مت

۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
 
پروف ریڈنگ : بار اوّل


(٤١)

اِس کام سے کیجئے کنارہ
جگنو کو نہ جانئے شرارہ

سمجھانے سے وہ مگر نہ سمجھے
جب تک نہ ہوئی سحر نہ سمجھے

یاروں نے کہی تھی بات ڈھب کی
غرّا کے اُنہیں دکھائی بھبکی

ناداں رہے رات بھر اکڑتے
سر مارتے ایڑیاں رگڑتے

جب صبح ہوئی تو شک ہوا دور
شرمندہ ہوئے بہت وہ مغرور

سُن لو نہ سُنے گا جو نصیحت
ہو گا وہ اسی طرح فضیحت

(٣٣) چھوٹے سے کام کا بڑا نتیجہ

ایک بچّہ کہ ابھی کُچھ اُسے تمیز نہ تھی
لہو و بازی سے پسندیدہ کوئی چیز نہ تھی

کھیلنا ۔ کودنا ۔ کھانا ۔ یہی معمول تھا بس
اِنہیں طفلانہ تمّناؤں میں مشغول تھا بس

ایک تالاب تھا دو چار قدم گھر سے پرے
دِل میں لہر آئی لبِ آب ذرا سیر کرے

صاف پانی سے جو تالاب کو پایا لبریز
کھیل کا شوق طبیعت میں ہوا اور بھی تیز

آس پاس اپنے جو پایا کوئی کنکر پتھر
پھینک مارا اُسے پانی میں بہت خوش ہو کر

کھیل تھا پہلے تو اب طرفہ تماشا دیکھا
دل ہی دل میں متحیر تھا کہ یہ کیا دیکھا

دائرہ ایک بنا ایسا کہ بڑھتا ہے مُحیط
گھیر لی جس نے کہ تالاب کی سب سطح بسیط

پھر تو کھیل اُس کا اِسی شغل پہ موقوف رہا
اسی نظّارہ میں تا دیر وہ مصروف رہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٤٢)

اسی اثنا میں ہوا بچّہ کی ماں کا بھی گزر
بولا اماں مجھے آئی ہے عجب چیز نظر

جو نہ دیکھی نہ سُنی تھی کبھی اب سے پہلے
شاید آئی ہے نظر مُجھکو ہی سب سے پہلے

اک ذرا سی حرکت اور یہ تاثیر عجیب
دائرہ بڑھ کے پہونچتا ہے کنارے کے قریب

بسکہ جی جان سے اِس شعبدہ پر تھا شَیدا
وسعتِ دائرہ کی اپنے عمل سے پیدا

تھی وہ ماں اہل دل اور نیک منش نیک نہاد
ہنس کہ فرمایا مری جاں یہ نصیحت رکھ یاد

یو ہیں ہر کام کا ہو جاتا ہے انجام بڑا
گو کہ آغاز میں ہوتا نہیں وہ کام بڑا

کبھی ادنیٰ حرکت زلزلہ بن جاتی ہے
کبھی ناچیز سی اک بات غضب ڈھاتی ہے

یہ ہی انداز نِکوکاری و بدکاری ہے
اولاً خاص تھی اب عام میں وہ جاری ہے

(٣٤ ) اونٹ

اونٹ تو ہے بس حلیم و خوش خصال
تربیت میں چھوٹے بچّوں کی مثال

تیری پیدایش رفاہِ عام ہے
آدمی کے حق میں اک انعام ہے

کھانے کپڑے کا بھی تجھ پر ہے مدار
تو نے دی ہے اُس کو تیزی مستعار

لق و دق صحرا میں یا میدان میں
یا عرب کے گرم ریگستان میں

سایہ افگن ہے نہ واں کوئی چٹان
سرد پانی کا نہ دریا کا نشان

چِلچِلاتی دھوپ ہے اور چپ ہوا
واں پرندہ بھی نہیں پر مارتا

۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٤٣)

تو وہاں کے مرحلے کرتا ہے طے
دن بدن اور ہفتہ ہفتہ پے بہ پے

قیمتی اشیا ہیں تیری پشت پر
تاجروں کا ریشم اور شاہوں کا زر

تودہ تودہ تیرے اوپر لد رہا
ہے بھرا گویا جہازِ پر بہا

چند ہفتے جب کہ جاتے ہیں گزر
اور تھکا دیتا ہے راکب کو سفر

اونٹ ! گھبراتا نہیں تو بار سے
دیکھتا ہے اُس کی جانب پیار سے

گویا کہتا ہے کہ اے میرے سوار
ایک دن تو اور بھی ہمت نہ ہار

ہاں نہ ہو بیدل نہ رستے میں ٹھٹک
صاف سر چشمہ ہے آگے دھر لپک

مُجھ کو آتی ہے ہوا سے بوئے آب
نا امیدی سے نہ کر تو اضطراب

اونٹ تو کرتا ہے اُس کی رہبری
یوں بنا دیتا ہے راکب کو جری

آخرش منزل پہ پہونچاتا ہے تو
اور سوکھے خار و خس کھاتا ہے تو

صبر سے کرتا ہے طے راہِ دراز
سچ کہا ہے تو ہے خشکی کا جہاز

الغرض تو ہے حلیم و خوش خصال
تربیت میں چھوٹے بچوں کی مثال

(٣٥) شیر

اے شیر تیرے تن پہ ہے طاقت کا پوستیں
شاہی کے حق میں کوئی بھی ساجھی ترا نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٤٤)

پیدا ہے تیرے رُخ سے تری شوکت اور جلال
ظاہر ہے تیری شکل سے باطن کا تیرے حال

دل تیرا بزدلی و غلامی سے ہے بری
پھٹکے نہ تیرے پاس کبھی خوف اے جری

تیرا حریف کون ہے جو تو ہٹے بچے
چھپکے نہ تیری آنکھ نہ گردن تری لچے

حق نے عطا کیا ہے تجھے زور بے خلل
فولاد کی رگیں ہیں تو ہے دل ترا اٹل

گر سورما سجے کوئی میدان کا دھنی
جوشن کہ چار آئینہ یا خود آہنی

حملہ سے تیرے بچنے کو کافی نہ ہو مگر
اللہ رے تیرا حوصلہ بَل بے ترا جگر

غُرّا کے شیر کرتا ہے جب جوش اور خروش
جنگل تمام ہوتا ہے سنسان اور خموش

پہچانتے ہیں جانور آواز شیر کی
وہ ہولناک ہے کہ دہلتا ہے سب کا جی

جاتی ہے اُن کے پاؤں تلے کی زمین نکل

۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔

(٤٥)

ہیں بھاگتے کہ گویا تعاقب میں ہے اجل

اے شیر گرم خطّہ ہے تیرے لئے وطن
بیہڑ ہو ۔ نیستاں ہو ۔ جھاڑی ہو یا ہو بن

لُو ہو ۔ کہ گرم دُھوپ ہو یا ریگ زار ہو
تینوں غضب ہیں کیوں نہ مسافر شکار ہو

اے شیر تو ہے شاہ ترا تخت ہے کچھار
ہے کس کو تیرے ملک میں دعویء گیرودار

(٣٦) کیڑا

تم اِس کیڑے کو دیکھو تو لگاتار
تمہاری راہ میں ہے گرم رفتار

چلا کترا کے کیا کیا پیچ و خم سے
جھجکتا ہے یہ آوازِ قدم سے

کسی سوراخ میں دن کاٹتا ہے
سویرے اُٹھ کے شبنم چاٹتا ہے

کرو چشمِ حقیقت بین سے تمیئز
کہ سمجھے ہو جسے تم سخت ناچیز

اُسے قدرت نے زرّیں پر دئے ہیں
کچھ اک سبزی و سُرخی بھی لئے ہیں

تمہیں لگتی ہے اچھّی مور کی دم
کہ خوش ہوتے ہو اُس کو دیکھ کر تم

جو دیکھو ناچ اُس کا دور ہی سے
تو اِس پر لوٹ ہو جاتے ہو جی سے

مگر کیڑے کو بھی سمجھو نہ ہیٹا
یہ مانا خاک مٹی میں ہے لیٹا

نوٹ ۔۔ یہ نظم ١٨٦٧ میں ایک انگریزی پوئٹری سے ترجمہ کی گئی تھی ۔ (١٢)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
 
پروف ریڈنگ : بار اوّل

(٤٦)

نہ بے پروائی سے چلئے جھپٹ کر
قدم رکھئے ذرا کیڑے سے ہٹ کر

کہ ہے دونو سے دانا دیکھ سکتا
نمونے دو ہیں کاریگر ہے یکتا

ہے دونو ہی میں یکساں دستکاری
کسے ہلکی کہیں اور کس کو بھاری

ہے ان دونوں کو اُس کا لطف حاصل
کہ بخشا ہے برابر عیشِ کامل

اگر ہے خوبصورت مور پیارا
تو کیڑا بے گنہ کیوں جائے مارا

بظاہر کچھ نہیں اُس کی حقیقت
مگر جب اُس کی کرتے ہو بُری گت


تو ہے ننھی سی جاں اُس کی تڑپتی
ہے تم جیسا ہی اک جاندار وہ بھی

(٣٧) ایک قانع مفلس ۔۔(؂١)
سو ہزار ایکڑ ہے کلّن کی زمیں
ِملک میری ایک بھی ایکڑ نہیں

ہے محل اُس کا نہایت شان دار
اور ہمارا جھونپڑا ہے تنگ و تار

اَن گنت ہے اُس کی نقدی اور مال
ایک پائی کے لئے میں پائمال

اُس کا رتبہ ہے بڑا عزت بڑی
میرے سر پر خاک ذلّت کی پڑی

ہے زمیندار آج کلّن واقعی
زر سے پُر ہے اُس کا دامن واقعی

پر جہاں تک میری جاتی ہے نظر
ملک سب اپنی ہی نظر آتی ہے نظر

(؂١) یہ نظم بھی ١٨٦٧ عیسوی میں ایک انگریزی پوئٹری سے ترجمہ کی گئی تھی (١٢)

۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٤٧)

لطف جو اس حال میں ہے بالیقیں
دولتِ دنیا میں آدھا بھی نہیں

سست ہے کلّن بایں نازونعم
میں ہوں چاق و چُست ہر دم تازہ دم

واں امیرانہ ہے مخمل کا لباس
میں ہوں مفلس میری پوشش ہے پلاس

وہ ہے قیدی ۔ پائے بندِ ملک و مال
اور میں آزاد ہوں مثلِ خیال

ڈاکٹر واں بیس ہیں بہرِ علاج
یاں نہیں ہے ایک کی بھی احتیاج

ہے مصیبت مال و دولت میں بڑی
موت کا دھڑکا ہے اُس کو ہر گھڑی

لطف قدرت کا نہیں اُس کو نصیب
یہ بہارِ بے خزاں بھی ہے عجیب

یہ بیاباں یہ سمندر یہ ہوا
گونجتی ہے اِن میں قدرت کی نوا

کان سے کلّن کی لیکن دور ہے
وہ تو دولت کے نشہ میں چور ہے

راگنی قدرت کی ہر دم ہے چِھڑی
میں تو ہوں اس لے کا دیوانہ سڑی

(٣٨) موت کی گھڑی ۔۔ (؂١)
جب کہ طوفاں ہو زندگی میں بپا
گھیر لیں ہر طرف سے موج و ہوا

جب کہ لغزش میں پانو تیرا ہو
اور آنکھوں تلے اندھیرا ہو

بلکہ ہوش و حواس بھی ہوں جُدا
ڈر نہ زنہار ۔ رکھ نظر بخدا

(؂١) یہ نظم بھی ١٨٦٧ عیسوی میں انگریزی پوئٹری سے ترجمہ کی گئی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٤٨)

تھام دل کو نہ خوف کر نہ ہراس
کہ نگہباں ہے تیرا تیرے پاس

تھا جو ایّامِ عیش کا ہمدم
ہم پیالہ شریکِ شادی و غم

لہو و بازی میں ساتھ رہتا تھا
ہر گھڑی نرم و گرم سہتا تھا

آنکھ تجھ سے اگر چُرا جائے
ابرِ غم جب کہ تجھ پہ چھا جائے

اُس محبّت کا دل میں باندھ خیال
جس کو ہر گز نہیں ہے بیم و زوال

آرزوئیں تھیں وہ جو دل میں بھری
ٹمٹماتے چراغ تھے سحری

کر دے اِن وسوسوں کو دل سے دور
اُس محبّت کو دیکھ جو ہے سرور

ہے شگفتہ ازل سے تا بہ ابد
نہ کبھی خاتمہ نہ اُس کی حد

جب عزیز و قریب یار نہ ہوں
دوستداری میں استوار نہ ہوں

یعنی فرزند جیسا لختِ جگر
اور ہم خانہ جیسے جاں پرور

گر دمِ واپسیں جدا ہو جائیں
وقت کے وقت سب ہَوا ہو جائیں

کر توقع نہ غم گساری کی
یاد کر گور کی وہ تاریکی

اُس وطن کی طرف ہو راہ سپر
کہ محبّت جہاں ہے تازہ و تر

آہ جب آئے موت کی نوبت
آنے والی گھڑی ہو پُر ہیبت

اور گزرے ہوئے زمانہ پر
ڈالتی آئے پردہ سر تا سر

دل کو رکھ تو امید پر شیدا
ہو نہ حسرت نگاہ سے پیدا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٤٩)

(٣٩) فادر ولیم ۔۔ (؂١)

نوجواں آدمی نے کی تقریر
اے پدر ولیم اب تو ہو تم پیر

چند موئے سفید ہیں باقی
کہ نمایاں ہے جن میں برّاقی

لیک ویسے ہی تندرست ہو تم
خوب چاق و دلیر و چُست ہو تم

سُن کے ولیم نے یوں زباں کھولی
گرہِ پرسشِ نہاں کھولی

تھی جوانی میں یہ نصیحت یاد
کہ ہے عہدِ شباب صورتِ باد

اِس لئے طاقت و توانائی
کی نہ ضائع بعہدِ برنائی

تاکہ انجامِ کار وقتِ اخیر
ہوں نہ محتاج اِن کا بن کر پیر

بولا پھر وہ جوانِ نیک شیم
تم تو ہو پیر اے پدرِ ولیم

اور ناپائدار لطفِ شباب
ہوتے ہیں کوئی دم کے مثلِ حباب

مگر اِن کا الم نہیں تم کو
حسرتِ بیش و کم نہیں تم کو

کچھ بیاں کیجئے گا صاف اِس کا
تاکہ ہو مُجھ پہ انکشاف اِس کا

ولِیم پیر نے جواب دیا
کیا پسندیدہ با صواب دیا

میں جوانی میں کہتا تھا ہر بار
کہ یہ دن دیرپا نہیں زنہار

اس لئے تھا خیال آیندہ
سوچتا تھا مآل آیندہ

تاکہ پاؤں غم و الم سے اماں
نہ رہے حسرتِ گزشتہ زماں

؂۱ نوٹ ۔ یہ نظم بھی ١٨٦٧ عیسوی میں انگریزی پوئٹری سے ترجمہ کی گئی تھی۔۱۲
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٥٠)

پھر بھی گویا ہوا جوانِ لطیف
اے پدر تم تو ہو گئے ہو ضعیف

اور گزرتی ہے زندگانی جلد
چھوڑنی ہے سرائے فانی جلد

ظاہرا کس قدر مُسن ہو تم
مگر اِس پر بھی مطمئن ہو تم

ہے تمہیں ذوقِ داستانِ اجل
اور پسندیدہ ہے بیانِ اجل

مدعا یہ ہے کچھ بیاں ہو جائے
رازِ پوشیدہ تا عیاں ہو جائے

وہ مخاطب ہوا بسوئے جواں
کہ ہے البتہ مجھ کو اطمیناں

کیونکہ ایّامِ نوجوانی میں
موسمِ عیش و کامرانی میں

میں نے اپنے خدا کو رکھا یاد
نہ کیا اُس سے نفس کو آزاد

وہی اب میرا دستگیر ہوا
لطفِ یزداں عصائے پیر ہوا

(٤٠) حبّ وطن ؂۱

دل میں اِک چاشنی محبّت کی
جملہ جاندار کو خدا نے دی

قلبِ انسان ہی پہ کیا ہے مدار
کہ ہر اک دل میں ہے اُسی کا شرار

ایک اسپین کی جواں طوطی
جو کہ بچپن سے تھی اسیر ہوئی

وہ درخشاں پر خجستہ نوا
ہوئی وارد بملکِ سردِ ملا

اُس نے وہ پر شمیم نخلستاں
کہ نکالے تھے پرّ و بال جہاں

؂۱ ۔ یہ نظم ۱۸۶۸ عیسوی میں انگریزی پوئٹری سے ترجمہ کی گئی۔۱۲
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
 
پروف ریڈنگ : بار اوّل

(٥١)

اور وہ ملک و میوہ ہائے وطن
آسمانِ وطن ہَوَائے وطن

سب فراموش کر دئے ناچار
تھا یہاں اور رنگِ لیل و نہار

تیرہء و تار وادیِ پُر دود
ساحتِ آسماں بخار آلود

اور بسیطِ زمیں پر از خاشاک
قلّہء کوہ و موجِ دہشت ناک

یاں کے القصّہ دیکھکر یہ ساز
چشم زرّیں سے تھی نظر انداز

اِس دیارِ غریب میں آ کر
سرد خطّہ میں پرورش پا کر

رہی شکّر شکن وہ خوش گفتار
باعثِ طولِ عمر آخر کار

اُس کے زرّیں زمرّدیں پر و بال
بھورے بھورے سے ہو گئے فی الحال

عاقبت ایسی صُمّ و بُکم بنی
چہچہے وہ نہ وہ شکر شکنی

اِسی اثنا میں ایک مردِ غریب
آیا اسپین سے ملا کے قریب

اُس نے طوطی سے جا کلام کیا
حرفِ اسپین میں سلام کیا

دیا اُس نے اُسی زباں میں جواب
اور کُنجِ قفس میں ہو بیتاب

کیا ہی مسرور چہچہا کے ہوئی
آخر آخر پھڑک پھڑک کے موئی

(٤١) انسان کی خام خیالی ۔ (؂۱)

اے دیدہ و ورانِ دانش آثار
دنیا میں ہیں کیسے کیسے جاندار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٥٢)

ہاتھی چیونٹی عُقاب مکّھی
قدرت نے ہے سب میں بات رکھی

ایسا تو بتاؤ کوئی حیوان
جیسا نادان ہے یہ انساں

ہر ایک ہے اپنی راہ چلتا
جس رہ سے ہے مدّعا نکلتا

آرام و خورش جو چاہتے ہیں
قدرت کی روش نباہتے ہیں

جس چیز سے ہے گزند اُن کو
آتی ہی نہیں پسند اُن کو

جس شے سے ہیں فائدہ اُٹھاتے
دھوکا نہیں اُس میں گاہ کھاتے


انساں ہے اگرچہ سب پہ فائق
مشہور ہے اشرف الخلائق

اُڑتا ہے مگر اُسی کا خاکا
پتلا ہے یہ سہو اور خطا کا

ممکن ہی نہیں خیالِ پرواز
کرنے لگے بیل صورتِ باز

یا چھوڑ کے عرصہ چراگاہ
غواص ہو مچھلیوں کے ہمراہ

انسان بخلافِ حکمِ قدرت
کرتا ہے خیالِ ترکِ فِطرت

ہو دل کو خوشی نہیں یہ ممکن
جب تک کہ نہ ہو صفاے باطن

یا نفس کہ تابعِ خرد ہو
حاصل تب راحتِ ابد ہو

یا وہ دلِ صاف اور فیّاض
ہو خودغرضی سے جس کو اعراض

یا صبر کہ خندہ زن ہو اکثر
مجبوریِ بختِ نا رسا پر

شاکر قسمت ہی پر رہے وہ
قدرت کو اُلاہنا نہ دے وہ

یا عقل کہ ہو سلیم و یک سو
اندوہ سے ہو. نہ چیں بابرو

۔،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٥٣)

یہ رمز کہ ہو چکے ہویدا
ہے اصل خوشی اِنہیں میں پیدا

جو لوگ ہیں عقل سے گزرتے
بیہودہ خوشی پہ ہیں وہ مرتے

گر ہووے خلاف اِس کے مضمون
باطل ہیں دلائلِ فلاطوں

(٤٢) کوہ ہمالہ

ہے ہمالہ پہاڑ سر جیون
جس کے اوپر تلے کھڑا ہے بن

بیل بوٹوں سے بن رہا ہے چمن
سبز چوٹی ہرے بھرے دامن

ہے ہر اک ڈھانگ اُس کی پھلواری
سرد چشمے اِدھر اُدھر جاری

لالہ خودرو ہے اور اُس کے پاس
لہلہاتی ہے خوبصورت گھاس

سیکڑوں قسم کے ہیں پھول کِھلے
پیڑ باہم کھڑے ہوئے ہیں ملے

کہیں بن مالنا کہیں بیلا
کہیں اخروٹ اور کہیں کیلا

سال کا کیا ہی خوب جنگل ہے
سورماؤں کا بن کے دنگل ہے

سرو و شمشاد ہیں قطار قطار
ریچھ پھرتے ہیں بن کے چوکیدار

ہیں چٹانوں پہ کودتے لنگور
ایک ہی جست میں وہ پہونچے دور

ہیں ترائی میں ہاتھیوں کے غول
کوئی پائل ہے اور کوئی نجھول

شیرِ خونخوار شاہ ہے یاں کا
پاڑھے چیتل کو خوف ہے جاں کا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٥٤)

بارہ سنگے غریب پر ہے لتاڑ
سینگ ہیں اُس کے جھاڑ اور جھنکاڑ

وہ جو ہے ہند کا بڑا ساگر
واں سے چلتا ہے ابر کا لشکر

کوچ در کوچ روز بڑھتا ہے
پھر ہمالہ پہ آ کے چڑھتا ہے

کبھی دیتا ہے باندھ مینہ کا تار
کبھی کرتا ہے برف کی بھر مار

جا چڑھا یوں پہاڑ پر پانی
کی ہے قدرت نے کیا ہی آسانی

واں سے چشمے بہت اُبل نکلے
ندّی نالے ہزار چل نکلے

سندھ و ستلج ہیں مغربی دریا
اور پورب میں میگھنا گنگا

ہیں یہ دریا بہت بڑے چاروں
جن میں بہتا ہے پانی الغاروں

پس سمندر سے جو رسد آئی
یوں ہمالہ نے بانٹ کر کھائی

ہوا سرسبز ہند کا میداں
تیری حکمت کے اے خدا قرباں

ہند کی سر زمیں ہے اَن ماتا
اور ہمالہ پہاڑ جل داتا

اے ہمالہ پہاڑ ! تیری شان
دنگ رہ جائے دیکھکر انسان

ساری دُنیا میں ہے تو ہی بالا
پہونچے جب پاس دیکھنے والا

سامنے اِک سیاہ دل بادل
دیو کی طرح سے کھڑا ہے اٹل

گھاٹیاں جن میں گونجتی ہے صدا
آبشاروں کا شور ہے برپا

دبدبہ اپنا تو دکھاتا ہے
گویا میدان کو ڈراتا ہے

ہے مرے دل میں یہ خیال آتا
کاش چوٹی پہ تیرے چڑھ جاتا

۔۔۔،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٥٥)

واں سے نیچے کا دیکھتا میداں
جس میں گنگ و جمن ہیں تیز رواں

دو لکیریں سی وہ نظر آتیں
دائیں بائیں کو صاف لہراتیں

اس تماشے سے جب کہ جی بھرتا
تو شمالی طرف نظر کرتا

شام کو دیکھتا بہار بڑی
گویا سونے کی ہے فصیل کھڑی

پھر وطن میں جب آن کر رہتا
دوستوں سے یہ ماجرا کہتا

(٤٣) بارش کا پہلا قطرہ

گھنگھور گھٹا تُلی کھڑی تھی
پر بوند ابھی نہیں پڑی تھی

ہر قطرہ کے دل میں تھا یہ خطرہ
ناچیز ہوں میں غریب قطرہ

تر مُجھ سے کسی کا لب نہ ہو گا
میں اور کی گوں نہ آپ جوگا

کیا کھیت کی میں بجھاؤں گا پیاس
اپنا ہی کروں گا ستّیا ناس

آتی ہے برسنے سے مُجھے شرم
مٹّی پتّھر تمام ہیں گرم

خالی ہاتھوں سے کیا سخاوت
پھیکی باتوں میں کیا حلاوت

کس برتے پہ میں کروں دلیری
میں کون ہوں کیا بساط میری

ہر قطرہ کے دل میں تھا یہی غم
سرگوشیاں ہو رہی تھیں باہم

کھچڑی سی گھٹا میں پک رہی تھی
کچھ کچھ بجلی چمک رہی تھی

۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
 
پروف ریڈنگ : بار اوّل


(٥٦)

اک قطرہ کہ تھا بڑا دلاور
ہمّت کے محیط کا شناور

فیاض و جواد و نیک نیت
بھڑکی اُس کی رگِ حمّیت

بولا للکار کر کہ آؤ
میرے پیچھے قدم بڑھاؤ

کر گزرو جو ہو سکے کچھ احسان
ڈالو مردہ زمین میں جان

یارو ! یہ ہچر مچر کہاں تک
اپنی سی کرو بنے جہاں تک

مل کر جو کرو گے جانفشانی
میدان پہ پھیر دو گے پانی

کہتا ہوں یہ سب سے برملا میں
آتے ہو تو آؤ چلا لو میں

یہ کہہ کے وہ ہو گیا روانہ
“ دشوار ہے جی پہ کھیل جانا “

ہر چند کہ تھا وہ بے بضاعت
کی اُس نے مگر بڑی شجاعت

دیکھی جراُت جو اُس سخی کی
دوچار نے اور پیروی کی

پھر ایک کے بعد ایک لپکا
قطرہ قطرہ زمین پہ ٹپکا

آخر قطروں کا بندھ گیا تار
بارش لگی ہونے موسلادھار

پانی پانی ہُوا بیاباں
سیراب ہوئے چمن خیاباں

تھی قحط سے پائمال خلقت
اُس مینہ سے ہوئی نہال خلقت

جُرأت قطرہ کی کر گئی کام
باقی ہے جہاں میں آج تک نام

اے صاحبو! قوم کی خبر لو
قطروں کا سا اتفاق کر لو

قطروں ہی سے ہو گی نہر جاری
چل نکلیں گی کشتیاں تمہاری

۔،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔

(٥٧)

(٤٤) مثنوی باد مراد
چل اے بادِ بہاری سمتِ گلزار
تمنائی ہے تیرا ہر گل و خار

نہال و نخل و سبزہ سب ہیں سُنساں
گیاہِ مردہ میں تو ڈالدے جان

نہیں گلشن میں پتّے کا بھی کھڑکا
ذرا شاخیں ہلا ۔ طائر کو بھڑکا

لہک تیزی سے اے بادِ بہاری
کہ ہو جائے چمن پر وجد طاری

جو تو لہکے تو سبزہ لہلہائے
چمن کا بیل بوٹا سر ہلائے

لچک جائے کمر نازک شجر کی
زمیں پہ جُھک پڑے ڈالی ثمر کی

ٹپک جائے جو ہو پکا ہوا پھل
کہ شاخیں ہورہی ہیں سخت بوجھل

سُنا ۔ باد صبا ! کیا کیا خبر ہے
قلمرو میں تیری کل بحر و بر ہے

ذرا کر دامنِ صحرا میں راحت
بہت کی تو نے دریا کی سیاحت

بس اب آرام کر لوگوں کے گھر میں
رہی تا دیر تو سیر و سفر میں

تیرے ہمرہ چلے آتے ہیں پیہم
یہی ہیں کیا سفیرِ بحرِ اعظم

جلو میں ہے تیرے اِک فوج جرّار
تو ہی ہے ابر کے لشکر کی سردار

اُٹھایا ہے سمندر تو نے سر پر
گھٹا کو لاد کر لائی کمر پر

تیری تیزی سے ہیں بادل لپکتے
ترے جھونکوں سے ہیں قطرے ٹپکتے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٥٨)

غزل

چمن ہے ابر ہے ٹھنڈی ہوا ہے
ہجومِ طائرانِ خوش نوا ہے

کبھی جھونکا نکل جاتا ہے سَن سے
کبھی آہستہ رو موجِ صبا ہے

غبار و گرد سے جو اٹ گئی تھی
صبا نے غسل کا سامان کیا ہے

ہوا نے کیا ہوا باندھی چمن میں
کہ خوبانِ چمن کا سر ہلا ہے

چمن کا پتّا پتّا ہے نوا سنج
صبا کی آمد آمد جا بجا ہے

گُلوں کی ڈالیاں جھُک جھُک گئی ہیں
زمیں پر سبزہ کیسا لوٹتا ہے

کھِلی ہر پنکھڑی گلہائے تر کی
صبا نے کان میں کیا کہدیا ہے

بکھیری نسترن پر زلف سنبل
صبا شوخی میں فتنہ ہے بلا ہے

گیاہِ سبز کا طُرّہ پریشان
صبا تیرے ہی چھیڑے سے ہوا ہے

نہیں ہے مُجھ کو دعویٰ شاعری کا
تو پھر مقطع سے بھی کیا مدّعا ہے

کراے بادِ مراد آہنگ آفاق
جہازِ سست رو ہے تیرا مشتاق

پھریرے کو اُڑا کس بادباں کو
کہ دیکھیں ساحلِ ہندوستاں کو

خلیج و آبنائے و بحر و ساحل
تیرے دیکھے پڑے ہیں سب مراحل

مقامِ استوا سے تا بہ قطبین
تجھے جنبش نہیں دیتی کبھی چین

بہت کھوندے ہیں کوہ و دشت تو نے
کیا بحرین کا گلگشت تو نے

۔۔،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٥٩)

محیطِ ارض ہے تو اے سُبک پا
تیری موجیں رواں ہیں مثلِ دریا

لطیف و نازک و بے رنگ ہے تو
اُصولِ نغمہ و آہنگ ہے تو

رواں ہے تیری موجوں میں ہر آواز
تو ہی کانوں میں ہے ہنگامہ پرداز

جہاں میں تو رسولِ ہر ندا ہے
مذاقِ سامعہ تجھ پر فدا ہے

نہ پہونچے تو اگر تا پردہ گوش
سب آوازیں رہیں پردہ میں روپوش

وہ بہرا ہے جو تجھ سے بے اثر ہے
وہ سُنتا ہے جو تجھ سے بہرہ ور ہے

زباں کو نطق کا یارا ہے تجھ سے
جہاں میں شور و شر سارا ہے تجھ سے

حجابِ دیدۂ بینا نہیں تو
نگہ سے گرچہ ہے پردہ نشیں تو

تیرے کھانے سے دم لیتی ہے خلقت
تیرے کھانے پہ دم دیتی ہے خلقت

ہمیں تیری ضرورت ہے بہر طور
نہیں ایسی ضروری شے کوئی اور

اگر اک لمحہ گزرے ہم پہ تُجھ بن
تو ہو جائے تنفّس غیر ممکن

ہر تیرا شغل دائم پاسِ انفاس
نہیں ہے ورنہ تجھ بن زیست کی آس

تو ہی ہے اے نسیمِ صبح گاہی
مثالِ رحمتِ عامِ الٓہی

جہاں میں ہیں تیرے الطاف حاوی
غریبوں اور امیروں پر مساوی

کبھی بنتی ہے ایسی تند و پر شور
معاذ اللہ ! معاذ اللہ ! ترا زور

اگر تو خشمگیں اے تند خو ہو
تہ و بالا جہازِ جنگ جو ہو

کبھی دریا میں لے جائے بہا کر
کبھی ساحِل پہ دے پٹکے اُٹھا کر

۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٦٠)

اُڑاتی ہے اُسے تو راہ بے راہ
جہاز آگے تِرے مثلِ پرِ کاہ

معاذ اللہ ترا طوفاں غضب ہے
تیری تیزی نشانِ قہرِ رب ہے

اُجاڑا تو نے گلزار و چمن کو
ہلا ڈالا ہے جنگل اور بن کو

یہ چھیڑا نے میں کیسا راگ تو نے
نیستاں میں لگا دی آگ تو نے

تیری رفتار ہے بے باک کیسی
اُڑاتی ہے زمیں کی خاک کیسی

یہ گل کترے ہیں تو نے بے تامل
کیا اِک دم زدن میں شمع کو گل

کبھی گرمی سے گرما گرم ہے تو
کبھی سردی سے سرد و نرم ہے تو

چُرا لیتی ہے تو پانی کو چپ چاپ
نظر آتا نہیں جب بن گیا بھاپ

برودت کی پولیس نے تجھ کو گھیرا
تو کچھ کچھ مال مسروقہ بھی پھیرا

جو بادی چور تو ایسی نہ ہوتی
نہ پاتے صبح کو شبنم کے موتی

دبائیں تو نہیں دبنےسے انکار
تیری عادت نہیں ہے ضد و اصرار

خوشامد تیری خصلت میں نہیں ہے
تیری تیزی برابر ہر کہیں ہے

اُجاڑا اگر کسی مفلس کا چھپّر
اُکھاڑا خیمہ و خر گاہِ لشکر

نہ در گزرے غریبوں کے مکاں سے
نہ جھجکے طُرّۂ تاجِ شہاں سے

نہیں کچھ تجہ کو خوفِ شانِ سلطاں
اڑایا پردۂ ایوانِ سلطاں

کسی کا طرّۂ طرّار چھیڑا
کسی کا برقعِ زر تار چھیڑا

غرض دلچسپ تیری ہر ادا ہے
تیری شوخی و چالاکی بجا ہے

۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
 
پروف ریڈنگ : بار اوّل

(61)

(٤٥) ایک گنوار اور قوس قزح

تھی شام قریب اور دہقاں
میداں میں تھا گلہ کا نگہباں

دیکھی اُس نے کمان ناگاہ
جو کرتی ہے مینہ سے ہم کو آگاہ

رنگت میں اُسے عجیب پایا
ظاہر میں بہت قریب پایا

پہلے سے وہ سُن چکا تھا اکثر
ہے قوس میں اِک پیالۂ زر

مشہور بہت ہے یہ کہانی
افسانہ تراش کی زبانی

ملتی ہے جہاں کماں زمیں سے
ملتا ہے وہ جامِ زر وہیں سے

سوچا لو جام اور بنو جم
چھوڑو بز و گوسفند کا غم

بیہودہ گنوار اِس گماں پر
سیدھا گیا تیر سا کماں پر

دن گھٹنے لگا قدم بڑھایا
امید کہ اب خزانہ پایا

جتنی کوشش زیادہ تر کی
اتنی ہی کماں پرے کو سرکی

پنہاں ہوئی قوس آخرِ کار
اور ظلمت شب ہوئی نمودار

ناکام پھرا وہ سادہ دہقاں
حسرت زدہ غم زدہ پشیماں

۔۔۔،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٦٢)

(٤٦) ترک تکبّر

بلندی سے چلا سیلابِ پُرزور
پہاڑی گھاٹیوں میں مچ گیا شور

ہوا اِس تیزی و تندی سے جاری
کہ تھی سنگِ گراں پر ہول طاری

شجر تو کیا اُٹھاتے اُس کی ٹکر
بہم ٹکرا دیے پتھر سے پتھر

غرض ڈھایا بہایا اور توڑا
پڑا جو سامنے اُس کو نہ چھوڑا

چلا وادی کی جانب موج در موج
جلو میں تھی خس و خاشاک کی فوج


اُسی زمرہ میں اِک لکڑی بھی بہتی
چلی جاتی تھی اور یوں دل میں کہتی

" میں راہ و رسم منزل سے ہوں آگاہ
یہ سارا قافلہ ہے میرے ہمراہ

اشاروں پر میرے چلتا ہے پانی
ہے میرے بس میں دریا کی روانی

مرے دم سے رواں یہ کارواں ہے
مرا تابع ہے جو کوئی یہاں ہے “

قضا را موج نے پلٹا جو کھایا
تو اک پتھر نے لکڑی کو دبایا

کہا لکڑی نے او گستاخ مغرور
مرے دامن سے اپنا ہاتھ رکھ دور

کہ میں ہی بدرقہ ہوں رہنما ہوں
امیرِ بحر ہوں اور ناخدا ہوں

مجھے او بے ادب کیوں تو نے چھیڑا
جو میں ڈوبی تو بس ڈوبا یہ بیڑا

رُکوں گی میں تو رُک جائے گا دریا
ُکُڑھے گا اور پچھتائے گا دریا

کہا پتھر نے کہہ ساحِل سے احوال
کہ ہے ہم سب میں وہ پیرِ کہن سال

۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٦٣)

کہی لکڑی نے ساحل سے وہی بات
تو ساحل نے صدا یوں دی کہ ہیہات !

ہزاروں مدعی آگے بھی آئے
بہت جوش و خروش اپنے دکھائے

گیا سالم نہ کوئی اِس بھنور سے
یہی دیکھا کیا ہوں عمر بھر سے

ہوئے یاں غرق لاکھوں تجھ سے فرعون
نہ پوچھا پھر کسی نے یہ کہ تھے کون

مگر دریا کی باقی ہے وہی آن
وہی رونق ۔ وہی عظمت ۔وہی شان

نہیں دریا کی موّاجی میں کچھ فرق
اُسے کیا غم تِرے کوئی کہ ہو غرق

(٤٧) حیا

او حیا ! او پاسبانِ آبرو !
نیکیوں کی قوتِ بازو ہے تو

پاکدامانی پہ تجھ کو ناز ہے
کیا ہی تیرا دل پذیر انداز ہے

کُھب گئی جس آنکھ میں تو مثلِ نور
بد نگاہی سے رہی وہ آنکھ دور

دامنِ عصمت کو تو رکھتی ہے پاک
ہے سدا جرم و گنہ سے تجھ کو باک

گر نہ ہوتا درمیاں تیرا حجاب
فعلِ بد سے کون کرتا اجتناب

خواہشوں کو جو نہ تو دیتی لگام
آدمی حیوان بن جاتے تمام

جب خطا کرتی ہے دل میں شورو شر
تو ہی بن جاتی ہے واں سینہ سپر

ذلّت و خواری تجھے بھاتی نہیں
تاب رسوائی کی تو لاتی نہیں

۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٦٤)

تو مذلّت کو سمجھتی زہر ہے
اور ملامت تیرے حق میں قہر ہے

مُفلسوں کی ہے تو ہی پشت و پناہ
تو سجھاتی ہے عرق ریزی کی راہ

گو تہی دستی کے ہو جائیں شکار
ہے مگر تجھ کو گدائی ننگ و عار

ہے ترے نزدیک مر جانا پسند
پر نہیں ہے ہاتھ پھیلانا پسند

اس قدر تجھ کو نہیں پروائے نان
جس قدر تو آن پر دیتی ہے جان

آبرو کھوتی نہیں از بہرِ قوت
لب پہ بن جاتی ہے تو مہرِ سکوت

اغنیا کے دل کو گرماتی ہے تو
بُخل اور خِسّت سے شرماتی ہے تو

تو سکھا دیتی ہے اُن کو بذلِ مال
زخمِ خنجر ہے تجھے ردِّ سوال

(٤٨) کچھوا اور خرگوش


ایک کچھوے کے آگئی جی میں
کیجیے سیر و گشت خشکی میں

جا رہا تھا چلا ہوا خاموش
اُس سے ناحق اُلجھ پڑا خرگوش

میاں کچھوے ! تمہاری چال ہے یہ
یا کوئی شامت اور وبال ہے یہ

یوں قدم پھونک پھونک دھرتے ہو
گویا اُتّو زمیں پہ کرتے ہو

کیوں ہوئے چل کے مفت میں بدنام
بے چلے کیا اٹک رہا تھا کام

تم کو یہ حوصلہ نہ کرنا تھا
چلو پانی میں ڈوب مرنا تھا

۔۔۔۔،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٦٥)

یہ تن و توش اور یہ رفتار
ایسی رفتار پر خدا کی مار

بولا کچھوا کہ ہوں خفا نہ حضور
میں تو ہوں آپ معترف بہ قصور

اگر آہستگی ہے جرم و گناہ
تو میں خود اپنے جرم کا ہوں گواہ

مُجھ کو جو سخت سُست فرمایا
آپ نے سب درست فرمایا

مُجھ کو غافل مگر نہ جانئے گا
بندہ پرور بُرا نہ مانئے گا

یوں زبانی جواب دوں تو کیا دوں
شرط بد کر چلو تو دکھلا دوں

تم تو ہو آفتاب میں ذرّہ
پر مِٹا دوں گا آپ کا غرّہ

سُن کے خرگوش نے یہ تلخ جواب
کہا کچھوے سے یوں زروے عتاب

تو کرے میری ہمسری کا خیال
تیری یہ تاب یہ سکت یہ مجال

چیونٹی کے جو پر نکل آئے
تو یقیں ہے کہ اب اجل آئے

ارے بیباک ! بد زباں مُنہ پھٹ
تو نے دیکھی کہاں ہے دوڑ جھپٹ

جب میں تیزی سے جست کرتا ہوں
شہسواروں کو پست کرتا ہوں

گرد کو میری باد پا نہ لگے
لاکھ دوڑے مرا پتہ نہ لگے

ریل ہوں برق ہوں چھلاوہ ہوں
میں چھلاوے کا بلکہ باوا ہوں

تیری میری نبھیگی صحبت کیا
آسماں کو زمیں سے نسبت کیا

جس نے بُھگتے ہوں تُرکی و تازی
ایسے مریل سے کیا بدے بازی

بات کو اب زیادہ کیا دوں طول
خیر کرتا ہوں تیری شرط قبول

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
 
Top