طارق شاہ

محفلین

چھینا جھپٹی کے مناظر کا مزہ لینے کو
پالتو کتوں کے احساس پہ ہنس دینے کو

بھوکے مجبور غلاموں کا گروہ
ٹکٹکی باندھ کے تکتا ہوا استادہ ہے

ساحر لدھیانوی
 

طارق شاہ

محفلین

صحرا کو جو چمن بنادیں
ایسے دیوانے کم ہوں گے

آنکھ اُٹھا کر حّدِ نظر تک
دیکھو گےتوہمیں ہم ہوں گے

فراق گورکھپوری
 

طارق شاہ

محفلین

پتہ پتہ ، بُوٹا بُوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے

میر تقی میر
 

ام اریبہ

محفلین
"پچیسواں گھنٹہ"

دن رات کا یہ
سفاک سفر

جتنا بھی مجھے
الجھائے رکھے

جس طور مجھے
تقسیم کرے

جس سمت سے
مجھ پر وار کرے

جتنا بھی مجھے
مِسمار کرے

پر تجھ کو سوچنے
کی خاطر

"پچیسواں گھنٹہ میرا ھے
ماہی احمد
10277877_259439324243852_1404446901290864299_n.jpg

https://www.facebook.com/photo.php?...41825.100005333591686&type=1&relevant_count=1
 

طارق شاہ

محفلین

شرما کے یُوں نہ دیکھ ادا کے مقام سے
اب بات بڑھ چُکی ہے حیا کے مقام سے

دل کے مُعاملے میں نتیجے کی فکر کیا
آگے ہےعِشق، جُرم وسزا کے مقام سے

ساحر لدھیانوی
 

طارق شاہ

محفلین

اُڑ گیا ہے منزلِ دُشوار میں غم کا سمند
گیسوئے پُر پیچ و خم کے تازیانے کی کہو

شام ہی سے گوش بر آواز ہے بزمِ سُخن
کچھ فراق اپنی کہو، کچھ زمانے کی کہو

فراق گورکھپوری
 

زھرا

محفلین
کہیں بھی دل کو لگاوٴں ... اُسی کے سائے میں ہوں
گماں سے جو نہ گیا وہ یقیں سے کیا جاتا

نصیر ترابى
 

طارق شاہ

محفلین

فطرت کے حسیں نظاروں میں پُر کیف نظارے اور بھی ہیں
میخانہ اگرویراں ہے توکیا، رِندوں کے ٹِھکانے اور بھی ہیں

آغازِ جفا کی تلخی سے، گھبرا نہ دلِ آزار طلب !
یہ وقت یہیں پر ختم نہیں، کچھ تلخ زمانے اور بھی ہیں

شکیل بدایونی
 

طارق شاہ

محفلین

تیری محفل کا پاس تھا دل کو
سہہ گیا سب کے نا روا الفاظ

تھا جو اُن میں، وہی مزہ پایا
جن لبوں سے ہُوئے ادا الفاظ

عنبرامروہوی
 

طارق شاہ

محفلین

بہت شورِیدہ سر تھا میں، بہت محشر بداماں تھا
مِرا دست و گریباں بھی کبھی دست و گریباں تھا

وہ اک پردہ، خرد کے لب پہ جس کا نام داماں تھا
جنُوں کے ہاتھ میں تھا، اور گریباں ہی گریباں تھا

مجھے برہم سمجھ کے، ہجوِ مے کو پی گیا واعظ
وگرنہ آج میرا ہاتھ تھا ، اُس کا گریباں تھا

حفیظ احباب کے اِرشاد کی تعمیل کردی ہے
کہ حکمِ قافیہ پیمائیِ لفظِ گریباں تھا

حفیظ جالندھری
 
Top