مشہور ضعیف احادیث

سارا

محفلین
ترجمعہ : اے مسلمانو ! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو' ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پیشمانی اٹھاؤ۔۔''

فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم :
''جس نے مجھ سے کوئی حدیث بیان کی اور وہ جانتا بھی ہے کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹوں میں سے ایک ہے ۔۔'' (مسلم )

ایک اور حدیث میں ہے ۔۔
مجھ پر جھوٹ نہ باندھو کیونکہ جو مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے وہ آگ میں داخل ہو گا۔۔ (مسلم )

آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ جو سنے اسے آگے بیان کر دے ۔۔'' (مسلم)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی‌صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ قابل رد ہے۔۔'' (صحیح'صحیح جامع الصغیر' صحیح ابو داود )

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔
آخری زمانہ میں دجال اور کذاب ہوں گے'وہ تمہارے سامنے ایسی ایسی احادیث پیش کریں گے جو نہ کبھی تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباؤ اجداد نے۔۔لہذا اپنے‌آپ کو ان سے بچائے رکھنا(کہیں ایسا نہ ہو کہ) وہ تمہیں گمراہ کر دیں اور فتنے میں ڈال دیں۔۔''
(مسلم)
*********
جمع و ترتیب: شیخ احسان بن محمد العتیبی حفظہ اللہ
(تلمیذ البانی رح)
ترجمعہ و تقدیم :حافظ عمران ایوب لاہوری
 

سارا

محفلین
مشہور ضعیف روایات

(1) بے حیائی اور برائی سے روکنے والی نماز 'نماز نہیں

''جس کی نماز اسے بے حیائی اور برائی سے نہیں روکتی اس کی کوئی نماز نہیں۔۔''

ایک روایت میں یہ لفظ ہیں :
''جس کی نماز اسے بے حیائی اور برائی کے کاموں سے نہیں روکتی 'وہ صرف اللہ سے دوری میں اضافہ کرتا ہے۔۔''

(1) باطل : امام ذہبی نے کہا ہے کہ ابن جنید نے کہا ہے یہ کذاب و افترا ہے۔۔حافظ عراقی نے کہا ہے کہ اس کی سند کمزور ہے۔۔شیخ البانی رح نے کہا یہ روایت باطل ہے' نہ تو سند کے اعتبار سے ثابت ہے اور نہ ہی متن کے اعتبار سے۔۔
( میزان الاعتدال 293/3 تخرج الحیاء 143/1 السلسلتہ الضعیفہ 985/2 )
 
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
ماشاء اللہ تبارک اللہ ، بہت اچھا سلسلہ ہے بہن سارا ، اللہ آپ کو بہترین اجر عطا فرمائے ،
کیا آپ کے ساتھ دوسرے بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں ؟
ایک تجویز ہے کہ ایک ذیلی فورمز کی صورت میں ، یا مختلف دھاگوں کی صورت میں ان احادیث کو موضوع کی نسبت سے الگ الگ پیش کیا جائے ، مثلا """" ضعیف (ناقابل حجت ) احادیث ::: نماز کے متعلق احادیث """ ، اس طرح آپ کے لیے آسانی ہو گی کہ متکرر احادیث کا ازالہ کیا جا سکے ، اور قارئین کے لیے الگ الگ موضوعات کی نسبت سے احادیث حاصل کرنا آسان ہو گا ، ان شا اللہ ،
اور ایک مشورہ بھی پیش کرتا ہوں کہ ، کسی ایک سند پر کسی محدث کا حکم لے کر اس حدیث کو ضعیف کے طور پر سامنے نہ لایا جائے ، بلکہ حدیث کی صحت پر محدیثن کے احکام کو سامنے رکھتے ہوئے اس کو بیان کیا جائے ، و السلام علیکم۔
 

سارا

محفلین
وعلیکم السلام۔۔۔
بھائی میرے پاس جو ضعیف حدیث کی کتاب ہے اس میں اسی طرح بتایا گیا ہے اس سے زیادہ تفصیل نہیں بتائی گئی کیوں کہ وہ ایک چھوٹی سی کتاب ہے اس لیے کم گنجائش کے باعث اتنی ہی تفصیل کی گنجائش ہو گی۔۔
جو بھی اس میں شامل ہونا چاہے انشا اللہ ہو سکتا ہے اور جہاں تک الگ الگ دھاگے کھولنے کا آپ نے کہا ہے مجھے اس سے بہتر یہی لگتا ہے کہ ان ضعیف حدیثوں کو ایک ہی دھاگے میں اکھٹا کیا جائے اگر ان احادیث کے بارے میں زیادہ تفصیل سے بتایا گیا ہوتا تو تب الگ دھاگہ کھولنے کا سوچا جا سکتا تھا یہ بہت ہی چھوٹی چھوٹی احادیث ہیں اس لیے ان کو ایک ہی دھاگے میں اکھٹا رکھنا ہی مجھے صحیح لگتا ہے
جزاک اللہ خیر۔۔۔
 

ف۔قدوسی

محفلین
ماشااللہ سارا جی بہت خوب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے پاس ایک کتاب میں ایسے ہی ضعیف احادیث کے بارے میں لکھا ہے کیا میں وہ یہاں لکھ سکتی ہوں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

آبی ٹوکول

محفلین
السلام علیکم ماشاء اللہ بہت اچھا سلسلہ شروع کیا ہے آپ نے عرض فقط اتنی تھی کہ ضعیف احادیث لکھنے سے پہلے اس کی جامع تعریف اور احکام بھی اگر لکھ دیئے جاتے تو بہتر ہوتا ۔
 

سارا

محفلین
جی شکریہ فاطمہ۔۔ آپ بھی اپنے پاس موجود کتاب سے یہاں لکھ سکتی ہیں۔۔۔

وعلیکم السلام آبی ٹوکول بھائی۔۔جی اس کی تفصیلات کچھ صفحات پر مبنی تھی اس لیے میں ڈائریکٹ ضعیف احادیث پر چلی گئی تھی ابھی میں ان شاء اللہ اس کی مختصر تعریف بھی جلد ہی لکھ دوں گی۔۔
 

سارا

محفلین
ضعیف حدیث کی تعریف : ہر وہ حدیث جس میں نہ تو صحیح حدیث کی صفات موجود ہوں اور نہ ہی حسن حدیث کی۔۔

ضعیف حدیث کی اقسام۔۔
ضعیف حدیث کو اہل علم نے صحیح حدیث کی مختلف شرائط مفقود ہونے کے اعتبار سے مختلف انواع و اقسام میں تقسیم کیا ہے جس کا اجمالاً ذکر حسب ذیل ہے۔۔

*اگر سند متصل نہ ہو تو ضعیف حدیث کو چار انواع میں تقسیم کیا جاتا ہے۔۔
1۔۔ معلق : وہ حدیث جس کی سند کی ابتداء سے ایک یا زیادہ راوی اکھٹے ہی حذف کر دیے گئے ہوں۔۔
2۔۔مرسل : وہ حدیث جس کی سند کے آخر سے تابعی کے بعد والا راوی ساقط ہو۔۔
3۔۔ معضل : وہ حدیث جس کی سند میں سے دو یا زیادہ راوی یکے بعد دیگرے ایک ہی جگہ سے ساقط ہوں۔۔
4۔۔ منقطع : وہ حدیث جس کی سند کسی بھی وجہ سے متصل نہ ہو۔۔
5۔۔مدلس: وہ حدیث جس میں کسی راوی نے سند کے عیب کو چھپا کر اس کی تحسین کو ظاہر کیا ہو۔۔

** اگر راوی عادل نہ ہوں تو ضعیف حدیث کو تین انواع میں تقسیم کیا جاتا ہے۔۔
1۔۔موضوع :وہ جھوٹی ' من گھڑت اور خود ساختہ بات جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا گیا ہو۔۔
2۔۔متروک :وہ حدیث جس کے راوی پر جھوٹ کی تہمت کا طعن ہو۔۔
3۔۔منکر : وہ حدیث جس کے راوی میں فاش اغلاط یا انتہائی غفلت یا فسق کا ظہور ہو۔۔
** اگر راوی کا حافظہ صحیح نہ ہو تو ضعیف حدیث کو چار انواع میں تقسیم کیا جاتا ہے۔۔
1۔۔ مدرج : وہ حدیث جس کی سند کا سیاق بدل دیا گیا ہویا بغیر کسی وضاحت کے اس کے متن میں کوئی اضافی بات داخل کر دی گئی ہو۔۔
2۔۔مقلوب: وہ حدیث جس کی سند یا متن کے ایک لفظ کو دوسرے لفظ کے ساتھ بدل دیا گیا ہو یا ان میں تقدیم و تاخیر کر دی گئی ہو۔۔
3۔۔مضطرب : وہ حدیث مختلف اسالیب و اسانید سے مروی ہو جبکہ وہ قوت میں بھی مساوی ہوں۔۔۔
4: مصحف :وہ حدیث جس میں ثقہ راویوں کے بیان کردہ الفاظ کے برعکس ایسے الفاظ بیان کیے گئے ہوں جو لفظی یا معنوی طور پر مختلف ہوں۔۔
** اگر کوئی ثقہ راوی اپنے سے زیادہ ثقہ راوی کی مخالفت کرے تو ضعیف حدیث کی ایک ہی قسم بنائی جاتی ہے۔۔
1۔۔شاذ:وہ حدیث جسے کوئی مقبول راوی اپنے سے زیادہ افضل و اولٰی راوی کی مخالفت میں بیان کرے۔۔
** اگر حدیث میں کوئی خفیہ علت موجود ہو تو بھی ضعیف کی ایک ہی قسم بنائی جاتی ہے۔۔
1۔۔معلل : وہ حدیث جس میں کوئی ایسی مخفی علت پائی جائے جو اس کے صحیح ہونے پر اثر انداز ہوتی ہو جبکہ ظاہری طور پر وہ صحیح و سالم معلوم ہوتی ہو۔۔
 

سارا

محفلین
ضعیف حدیث کی اقسام میں سے سب سے بری اور قبیح قسم ''موضوع'' ہے بعض اہل علم نے تو اسے ایک مستقل قسم قرار دیا ہے اور اسے ضعیف حدیث کی اقسام میں شمار ہی نہیں کیا۔۔اہل علم کا اتفاق ہے کہ جان بوجھ کر موضوع روایت کو اس کی حقیقت کا ذکر کیے بغیر ہی بیان کر دینا حرام ہے کیونکہ ایک صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان موجود ہے۔۔
جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا دوزخ بنا لے۔۔ (بخاری)
 

ف۔قدوسی

محفلین
حسب ذیل صورتوں میں روایت اعتبار کے قابل نہ ہوگی اور اس کے متعلق اس تحقیق کی ضرورت نہیں کہ اس کے راوی معتبر ہیں یا نہیں ۔۔۔


1: جو روایت عقل کے مخالف ہو۔
2: جو روایت اصول مسلمہ کے خلاف ہو۔
3: محسوسات اور مشاہدہ کے خلاف ہو۔
4: معمولی کام پر بڑے انعام کا وعدہ ہو۔
5: جس حدیث میں معمولی بات پر سخت عذاب کی دھمکی ہو۔
6: وہ روایت رکیک المعنی ہو مثلاً کدو ذبح کئے بغیر نہ کھاؤ۔
7: جو راوی کسی شخص سے ایسی روایت کرتاہے کہ کسی اور نے نہیں کی اور یہ راوی اس شخص سے نہ ملا ہو۔
8: جو روایت ایسی ہو کہ تمام لوگوں کو اس سے واقف ہونے کی ضرورت ہو،باایں ہمہ ایک راوی کے سوا کسی
اور نے اس کی روایت نہ کی ہو۔
9: جس روایت میں ایسا قابل‌اعتنا واقعہ بیان کیا گیا ہو کہ اگر وقوع میں آتا تو سینکڑوں آدمی اس کو روایت کرتے،
باوجود اس کے صرف ایک ہی راوی نے اس کی روایت نقل کی ہو۔
10: قرآن‌مجید یا حدیث متواتر یا اجتماع قطعی کے خلاف ہو اور اس میں تاویل کی کچھ گنجائش نہ ہو۔
(سیرۃ النبی صلی‌اللہ‌علیہ‌وسلم : جلد 1-2)
 

ف۔قدوسی

محفلین
ملا علی قاری نے موضوعات کے خاتمہ میں حدیثوں کے نامعتبر ہونے کے چند اصول تفصیل سے لکھے ہیں اور ان کی مثالیں نقل کی ہیں، باوجود صرف اس کے صرف ایک ہی راوی نے روایت کی ہو۔

1: جس حدیث کے الفاظ رکیک ہوں۔
2: وہ حدیث جو صریح حدیثوں کے مخالف ہو۔
3: وہ حدیثیں جوخضر علیہ السلام کے متعلق ہیں۔
4: وہ حدیث جو مشاہدہ کے خلاف ہو، مثلاً یہ حدیث ہے کہ"بینگن کھانا ہر مرض کی دوا ہے"۔
5: وہ حدیظث جس کے غلط ہونے کے دلائل موجود ہیں، مثلاً "عورج بن عنق کا قد تین ہزار گز کا تھا"۔
6: وہ حدیثیں جو قرآن مجید کی الگ الگ سورتوں میں وارد ہیں۔حلانکہ یہ حدیثیں تفسیر بیضادی اور کشاف وغیرہ میں منقول ہیں۔
7: جو حدیث واقع کے خلاف ہو،مثلاً یہ کہ"دھوپ میں رکھے ہوئے پانی سے غسل نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس سے برص پیدا ہوتا ہے"۔
8: وہ احادیث جن میں آئندہ واقعات کی پیشن گوئی بقید‌تاریخ مزکور ہوتی ہے،مثلاً یہ کہ فلاں سنہ اور فلاں تاریخ میں یہ واقعہ پیش آئے گا۔
9: جس حدیث میں فضول باتیں ہوں جو حضور صلی‌اللہ‌علیہ‌وسلم کی زبان سے نہیں نکل سکتیں،مثلاً یہ کہ" جو شخص لاالہ‌الااللہ کہتا ہے خدا اس کلمہ سے ایک پرند پیدا کرتا ہے جس کے ستر70 زبانیں ہوتی ہیں،ہر زبان میں ستر 70 ہزار لغت ہوتے ہیں" ۔
10: وہ حدیث جو انبیاء علیہ‌السلام کے کلام سے مشابہت نہ رکھتی ہو،مثلاً یہ حدیث کہ"تین چیزیں نظر کو ترقی دیتی ہیں۔سبزہ زار،آب رواں،خوبصورت چہرہ کا دیکھنا"۔
11: وہ حدیثیں جو طبیبوں کے کلام سے مشابہ ہیں۔مثلاً یہ کہ"ہریسہ کے کھانے سے قوت آتی ہے"یا یہ کہ"مسلمان شیریں ہوتا ہے اور شیرینی پسند کرتا ہے"۔
12: وہ حدیث جو صریح قرآن کے خلاف ہو،مثلاً دنیا کی عمر سات ہزار برس کی ہے۔کیونکہ اگر یہ روایت صحیح ہو تو ہر شخص بتا دے گا کہ قیامت کے آنے میں اس قدر دیر ہے،حالانکہ قرآن سے ثابت ہے کہ قیامت کا وقت کسی کو معلوم نہیں۔

((سیرۃ النبی صلی‌اللہ‌علیہ‌وسلم : جلد 1-2))
 

سارا

محفلین
(2)مسجد میں فضول گفتگو نیکیوں کو کھا جاتی ہے''

''مسجد میں (فضول) گفتگو کرنا نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے مویشی گھاس کو کھا جاتے ہیں۔''

اور ایک دوسری روایت میں یہ لفظ ہیں۔۔

''مسجد میں باتیں کرنا حسنات کو یوں کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔۔''
''حافظ عراقی نے کہا ہے کہ مجھے اس کی کوئی سند نہیں ملی۔۔امام عبدالوہاب ابن تقی الدین السبکی رح نے کہا ہے کہ میں نے اس کی کسی سند کو نہیں پایا۔۔شیخ البانی رح نے فرمایا ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں۔۔''
(تخریج الاحیاء (136/1) طنقات الشافیہ للسبکی (145/4) السلسلتہ الضعیفہ (4)
 

سارا

محفلین
(3) : ''دنیا اور آخرت کے لیے عمل کی مثال''

''اپنی دنیا کے لیے یوں عمل کرو گویا کہ تم ہمیشہ زندہ رہو گے اور اپنی آخرت کے لیے یوں عمل کرو گویا کہ تم کل ہی فوت ہو جاؤ گے۔۔''

''شیخ البانی رح نے فرمایا ہے کہ یہ روایت مرفوعا ثابت نہیں یعنی یہ ثابت نہیں کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔۔'' (الضعیفہ 08 )
 

سارا

محفلین
(4) ''رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مومن کی خوش بختی کا محور''

''میں ہر متقی کی خوش بختی کا محور ہوں۔''

''امام سیوطی رح نے کہا ہے کہ میں اس روایت کو نہیں جانتا۔شیخ البانی رح نے کہا ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں۔]الحاوی للسیوطی(89/2)السلسلہ الضعیفہ (9) ''
 

سارا

محفلین
(6) '' دنیا کی طرف اللہ کی وحی ''

''اللہ تعالیٰ نے دنیا کی طرف وحی کی کہ جس نے میری خدمت کی تو اس کی خدمت کر اور جس نے تیری خدمت کی تو اسے تھکا دے۔۔''

موضوع : شیخ البانی رح نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔’تنزیہ الشریعۃ للکنانی (303/2)الفوائد الحموعہ للشوکانی(712)السلسلہ الضعیفہ(12)
 

الف عین

لائبریرین
ماشاء اللہ۔ اس طرح ہمارے پاس ایک حدیث کے سلسلے میں ای بک تیار ہوتی جا رہی ہے۔ سارا، پلیز اس کو ایک جگہ کاپی پیسٹ کر کے ای بک بھی بنا لو تو اچھا ہے، اس طرح پیغام میں اس کا تسلسل بھی متاثر ہوگا، اور محض معلومات دینے کا کام ہو سکے گا، جب کہ یہ کتاب لائبئرئ میں بھی شامل ہو سکتی ہے۔ اس کا مرتب یا مصنف کون ہے، اس کے نام کے ساتھ۔ امید ہے کہ اس قسم کی کتابوں پر کاپی رائٹ کا کوئی جھگڑا نہ ہو گا۔
 

سارا

محفلین
آپ کا بہت شکریہ توجہ دلانے کا۔۔۔
جمع و ترتیب : شیخ احسان ابن محمد العتیبی حفظہ اللہ
ترجمعہ و تقدیم : حافظ عمران ایوب لاہوری
آپ کے توجہ دلانے پر دیکھا تو لکھا نظر آیا کہ
Copy right All rights reserved

یعنی قصہ ہی ختم:(
 

عارف انجم

محفلین
مجھے ایک حدیث کے بارے میں معلومات درکار ہیں‌جو میں‌نےچلتے ہوئے کسی جگہ کلینڈر پر چھپی دیکھی تھی۔

اس کا پورا متن تو ٹھیک سے نہیں پڑھ سکا لیکن دو جملے یاد رہ گئے۔

ایک زمانہ آئے گا جب۔۔۔عورت لوگوں کا قبلہ ہوگی اور۔۔۔۔دولت لوگوں کی عزت ہوگی۔۔۔

شکریہ
 
Top