علامہ دہشتناک : صفحہ 14-15 : چوتھا صفحہ

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

سیدہ شگفتہ

لائبریرین



97ml9t.jpg



 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
السلام علیکم


یہ صفحہ مقابلے کے کھیل سے متعلق ہے ۔ مقابلے میں شرکت کے لیے اس پوسٹ کو دیکھیں ۔

اگر آپ اس کھیل میں شرکت کرنا چاہیں تو اپنا انفرادی نام / اپنی ٹیم کی نشاندہی یہاں درج کیجیے۔

انفرادی شرکت کی صورت میں درج ذیل مراحل میں سے صرف کسی ایک کا انتخاب آپ کو کرنا ہے۔


صفحہ تحریر / ٹائپ کرنا

صفحہ کی پہلی پروف ریڈنگ
صفحہ کی دوسری پروف ریڈنگ
صفحہ کی تیسری/ آخری پروف ریڈنگ


شکریہ
 

ماوراء

محفلین
“تمھارا کیا خیال ہے۔!“
“وہ راستے سے ہٹ سکتی ہے۔۔۔۔اس نے مذہب کا نام لیا تھا۔!“
“مجھے تم پر فخر ہے پیٹر۔۔۔تم بہت ذہین ہو۔!“
“میں کچھ اور کہنا چاہتا ہوں جناب۔!“
“ضرور کہو پیٹر۔!“
“قبل اس کے وہ استے سے ہٹے۔۔۔ہم خود ہی کیوں نہ ہٹا دیں۔“
“میں تمھارے علاوہ اور کسی میں اپنا نائب بننے کی صلاحیت نہیں دیکھتا۔“
“میں اسے راستے سے ہٹا دوں گا جناب۔!“
“مگر اسے نہ بھولنا کہ تم ایک ذہین آدمی ہو۔“
“آپ مطمئن رہئے۔!“
پھر انہوں نے رفتار بڑھائی تھی اور دوسروں سے جا ملے تھے۔۔۔۔قریباً آدھے گھنٹے بعد وہ اس جگہ پر پہنچے جہاں ان کا کیمپ تھا۔ چھوٹی چھوٹی گیارہ چھولداریاں نصب تھیں ایک ایک کر کے وہ اپنی اپنی چھولداریوں میں داخل ہوئے اور آرام کرنے لگے۔

یہ سب علامہ دہشت کے مخصوص شاگرد تھے یعنی اس کے نظریات سے اتفاق رکھتے تھے وہ نظریات جن کا اظہار وہ سب کے سامنے نہیں کرتا تھا۔ ویسے پڑھے لکھے حلقوں میں خاصی بڑی پوزیشن رکھتا تھا۔ لوگ اس کی علیمیت سے مرعوب ہو جاتے تھے۔ یونیورسٹی میں “ذہنی دیو“ کہلاتا تھا۔ اچھا شاعر اور اچھا نقاد بھی تھا۔ آئے دن اس کی قیام گاہ پر بزم شعر و سخن کا اہتمام ہوتا رہتا تھا۔
بعض بےتکلف احباب کبھی کبھی کہہ بیٹھتے کہ سوشیالوجی کے ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ کو تو دشت ناک نہ ہونا چاہیے۔ لہذا اسے تخلص بدل دینا چاہیے کوئی فرق نہ پڑےگا۔! وہ ہنس کر کہتا “کتنے ہی تخلص تبدیل کروں کہلاؤں گا دہشت ہی۔!“

سردیوں کی تعطیل شروع ہوتے ہی وہ ہر سال اپنے مخصوص شاگردوں کا کیمپ لگاتا تھا اور انہیں جسمانی تربیت کی طرف بھی توجہ دینے کی ہدایات کرتا رہتا تھا۔۔۔۔ان دسوں شاگردوں کا تعلق اسی کے ڈپارٹمنٹ سے نہیں تھا۔ ان کے مضامین مختلف تھے۔۔۔! یہ تو اس کی گھریلوں نشستوں کے دوران میں اس کے حلقہ بگوش ہوئے تھے۔

علامہ کی شخصیت بے حد پر کشش تھی اور اس کی ساری باتیں عام ڈگر سے ہٹ کر ہوتی تھیں۔ ہر معاملے میں اس کا نظریہ عام نظریات سے مختلف ہوتا تھا۔ اور اپنی قوت استدلال سے کال کے کر وہ دوسروں کو اس سے متعلق مطمئن بھی کر دیتا تھا۔۔۔ پہلے پہل لوگ اس کے طرزِ تقریر کے جال میں پھنستے تھے۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ اس طرح گرویدہ ہوتے چلے جاتے تھے۔ جیسے وہ پیغمبرانہ انداز میں ان کے درمیان آیا ہو۔۔۔ ان میں کچھ انتہائی درجہ کے جاں نثار ہوتے تھے۔ اور انہی جان نثاروں کو خاص شاگرد ہونے کا شرف حاصل ہو جاتا تھا۔

بہرحال ان مخصوص شاگردوں کو وہ ہر طرح کی تربیت دیتا تھا۔ کیمپنگ کا اصل مقصد یہ ہوتا تھا کہ وہ بےسروسامانی کی حالت میں بھی زندگی بسر کرنے کے طریقوں سے آگاہ ہو جائیں۔۔۔!
غلیلوں سے پرندوں کا شکار ہوتا اور زمین سے مختلف قسم کی جڑیں کھود کر نکالی جاتیں۔ پرندے آگ پر بھونے جاتے اور جڑیں ابالی جاتیں کیمپنگ کے دوران میں یہی ان کی خوراک ہوتی۔
چھولداریوں مین راتیً گزارتے سردی سے بچاؤ کے لئے کم سے کم سامان ان کے ساتھ ہوتا تھا۔۔۔ ہر فرد اپنی چھولداری میں تنہا رات بسر کرتا تھا۔۔۔!

اس وقت اس دوڑ دھوپ کے بعد انہیں چھولداری میں صرف آدھے گھنٹے آرام کرنا تھا۔ پھر دوپہر کے لئے غذا فراہم کرنے کی باری آتی۔
علامہ دہشت اپنی چھولداری میں پہنچ کر بیٹھ گیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں فکر مندی کے آثار پائے جاتے تھے۔
تھوڑی دیر بعد اس نے چھولداری سے سر نکال کر یاسمین کو آواز دی تھی۔
وہ اپنی چھولداری سے نکل کر اس طرح اس کی طرف دوڑ پڑی تھی جیسے اس کی پالتو کتیا ہو۔!
“اند آ جاؤ۔!“ وہ ایک طرف کھسکتا ہوا بولا تھا۔!
“وہ چھولداری میں داخل ہوئی اور اس کی اجازت سے ایک طرف بیٹھ گئی۔ وہ کچھ شرمندہ ہی نظر آ رہی تھی۔ سر جھکائے بیٹھی رہی۔ علامہ دہشت اسے گھورتا رہا پھر بولا۔ “تم اب بھی کچھ کہنا چاہتی ہو۔“
“جج۔۔۔جی ۔۔۔ ہاں۔۔۔ مذہب کا نام غیر ارادی طور پر زبان سے نکل گیا تھا۔ اس کی بھی وجہ غالباً نفسیاتی ہو سکتی ہے۔“
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین




چوتھا صفحہ




صفحہ | منتخب کرنے والی ٹیم | تحریر | پہلی پروف ریڈنگ | دوسری پروف ریڈنگ | آخری پروف ریڈنگ | پراگریس

چوتھا : 14 - 15 | ٹیم 1 | ماوراء | ---- | ---- | ---- | 40%







 

سارہ خان

محفلین
پہلی پروف ریڈنگ

اس صفحے کی پہلی پروف ریڈنگ میں نے کر دی ہے ۔۔ :cat:


“تمھارا کیا خیال ہے۔!“
“وہ راستے سے ہٹ سکتی ہے۔۔۔۔اس نے مذہب کا نام لیا تھا۔!“
“مجھے تم پر فخر ہے پیٹر۔۔۔تم بہت ذہین ہو۔!“
“میں کچھ اور کہنا چاہتا ہوں جناب۔!“
“ضرور کہو پیٹر۔!“
“قبل اس کے وہ استے سے ہٹے۔۔۔ہم خود ہی کیوں نہ ہٹا دیں۔“
“میں تمھارے علاوہ اور کسی میں اپنا نائب بننے کی صلاحیت نہیں دیکھتا۔“
“میں اسے راستے سے ہٹا دوں گا جناب۔!“
“مگر اسے نہ بھولنا کہ تم ایک ذہین آدمی ہو۔“
“آپ مطمئن رہئے۔!“
پھر انہوں نے رفتار بڑھائی تھی اور دوسروں سے جا ملے تھے۔۔۔۔قریباً آدھے گھنٹے بعد وہ اس جگہ پر پہنچے جہاں ان کا کیمپ تھا۔ چھوٹی چھوٹی گیارہ چھولداریاں نصب تھیں ایک ایک کر کے وہ اپنی اپنی چھولداریوں میں داخل ہوئے اور آرام کرنے لگے۔

یہ سب علامہ دہشت کے مخصوص شاگرد تھے یعنی اس کے نظریات سے اتفاق رکھتے تھے وہ نظریات جن کا اظہار وہ سب کے سامنے نہیں کرتا تھا۔ ویسے پڑھے لکھے حلقوں میں خاصی بڑی پوزیشن رکھتا تھا۔ لوگ اس کی علمیت سے مرعوب ہو جاتے تھے۔ یونیورسٹی میں “ذہنی دیو“ کہلاتا تھا۔ اچھا شاعر اور اچھا نقاد بھی تھا۔ آئے دن اس کی قیام گاہ پر بزم شعر و سخن کا اہتمام ہوتا رہتا تھا۔
بعض بےتکلف احباب کبھی کبھی کہہ بیٹھتے کہ سوشیالوجی کے ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ کو تو دشت ناک نہ ہونا چاہیے۔ لہذا اسے تخلص بدل دینا چاہیے کوئی فرق نہ پڑےگا۔! وہ ہنس کر کہتا “کتنے ہی تخلص تبدیل کروں کہلاؤں گا دہشت ہی۔!“

سردیوں کی تعطیل شروع ہوتے ہی وہ ہر سال اپنے مخصوص شاگردوں کا کیمپ لگاتا تھا اور انہیں جسمانی تربیت کی طرف بھی توجہ دینے کی ہدایات کرتا رہتا تھا۔۔۔۔ان دسوں شاگردوں کا تعلق اسی کے ڈپارٹمنٹ سے نہیں تھا۔ ان کے مضامین مختلف تھے۔۔۔! یہ تو اس کی گھریلوں نشستوں کے دوران میں اس کے حلقہ بگوش ہوئے تھے۔

علامہ کی شخصیت بے حد پر کشش تھی اور اس کی ساری باتیں عام ڈگر سے ہٹ کر ہوتی تھیں۔ ہر معاملے میں اس کا نظریہ عام نظریات سے مختلف ہوتا تھا۔ اور اپنی قوت استدلال سے کام کے کر وہ دوسروں کو اس سے متعلق مطمئن بھی کر دیتا تھا۔۔۔ پہلے پہل لوگ اس کے طرزِ تقریر کے جال میں پھنستے تھے۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ اس طرح گرویدہ ہوتے چلے جاتے تھے۔ جیسے وہ پیغمبرانہ انداز میں ان کے درمیان آیا ہو۔۔۔ ان میں کچھ انتہائی درجہ کے جاں نثار ہوتے تھے۔ اور انہی جان نثاروں کو خاص شاگرد ہونے کا شرف حاصل ہو جاتا تھا۔

بہرحال ان مخصوص شاگردوں کو وہ ہر طرح کی تربیت دیتا تھا۔ کیمپنگ کا اصل مقصد یہ ہوتا تھا کہ وہ بےسروسامانی کی حالت میں بھی زندگی بسر کرنے کے طریقوں سے آگاہ ہو جائیں۔۔۔!
غلیلوں سے پرندوں کا شکار ہوتا اور زمین سے مختلف قسم کی جڑیں کھود کر نکالی جاتیں۔ پرندے آگ پر بھونے جاتے اور جڑیں ابالی جاتیں کیمپنگ کے دوران میں یہی ان کی خوراک ہوتی۔
چھولداریوں مین راتیں گذارتے سردی سے بچاؤ کے لئے کم سے کم سامان ان کے ساتھ ہوتا تھا۔۔۔ ہر فرد اپنی چھولداری میں تنہا رات بسر کرتا تھا۔۔۔!

اس وقت اس دوڑ دھوپ کے بعد انہیں چھولداری میں صرف آدھے گھنٹے آرام کرنا تھا۔ پھر دوپہر کے لئے غذا فراہم کرنے کی باری آتی۔
علامہ دہشت اپنی چھولداری میں پہنچ کر بیٹھ گیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں فکر مندی کے آثار پائے جاتے تھے۔
تھوڑی دیر بعد اس نے چھولداری سے سر نکال کر یاسمین کو آواز دی تھی۔
وہ اپنی چھولداری سے نکل کر اس طرح اس کی طرف دوڑ پڑی تھی جیسے اس کی پالتو کتیا ہو۔!
“اند آ جاؤ۔!“ وہ ایک طرف کھسکتا ہوا بولا تھا۔!
“وہ چھولداری میں داخل ہوئی اور اس کی اجازت سے ایک طرف بیٹھ گئی۔ وہ کچھ شرمندہ ہی نظر آ رہی تھی۔ سر جھکائے بیٹھی رہی۔ علامہ دہشت اسے گھورتا رہا پھر بولا۔ “تم اب بھی کچھ کہنا چاہتی ہو۔“
“جج۔۔۔جی ۔۔۔ ہاں۔۔۔ مذہب کا نام غیر ارادی طور پر زبان سے نکل گیا تھا۔ اس کی بھی وجہ غالباً نفسیاتی ہو سکتی ہے۔“
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین




چوتھا صفحہ




صفحہ | منتخب کرنے والی ٹیم | تحریر | پہلی پروف ریڈنگ | دوسری پروف ریڈنگ | آخری پروف ریڈنگ | پراگریس

چوتھا : 14 - 15 | ٹیم 1 | ماوراء | سارہ خان | ---- | ---- | 60%







 

الف عین

لائبریرین
جوجو کی پروف ریڈنگ کے بعد مجھے بہت کم دیکھنے کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ میری نخرے بازی سمجھ چکی ہے نا۔۔ اس لئے دو الفاظ کے درمیان سپیس وغیرہ سب تصحیح کر دیتی ہے یہ لڑکی۔۔
لیکن جوجو۔ ایک غلطی تمہاری۔۔
شائد
غلط ہے
شاید
رست ہے۔
بہت لوگ روایت، رعایت وغیرہ میں بھی ہمزہ لکھتے ہیں، وہ بھی غلط ہے۔ یوں اس کو املا کے کھیل میں‌ہونا چاہئے تھا۔
 

جیہ

لائبریرین
شکریہ بابا جانی، میں شاید کو درست سمجھتی ہوں "شائد" غلط العام ہے اور غلط العام درست ہی سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ غلط العام نہیں "غلط العوام" ہے تو سر آنکھوں پر۔۔۔ میں شاید ہی لکھوں گی:)
 

جیہ

لائبریرین
پہلی پروف ریڈنگ: سارہ خان
بارِ دوم: جویریہ


“تمھارا کیا خیال ہے؟“
“وہ راستے سے ہٹ سکتی ہے۔۔۔۔ اس نے مذہب کا نام لیا تھا۔“
“مجھے تم پر فخر ہے پیٹر۔۔۔تم بہت ذہین ہو۔“
“میں کچھ اور کہنا چاہتا ہوں جناب۔“
“ضرور کہو پیٹر۔“
“قبل اس کے وہ استے سے ہٹے۔۔۔ ہم خود ہی کیوں نہ ہٹا دیں۔“
“میں تمہارے علاوہ اور کسی میں اپنا نائب بننے کی صلاحیت نہیں دیکھتا۔“
“میں اسے راستے سے ہٹا دوں گا جناب۔“
“مگر اسے نہ بھولنا کہ تم ایک ذہین آدمی ہو۔“
“آپ مطمئن رہئے۔“
پھر انہوں نے رفتار بڑھائی تھی اور دوسروں سے جا ملے تھے۔۔۔۔قریباً آدھے گھنٹے بعد وہ اس جگہ پر پہنچے جہاں ان کا کیمپ تھا۔ چھوٹی چھوٹی گیارہ چھولداریاں نصب تھیں۔ ایک ایک کر کے وہ اپنی اپنی چھولداریوں میں داخل ہوئے اور آرام کرنے لگے۔

یہ سب علامہ دہشت کے مخصوص شاگرد تھے یعنی اس کے نظریات سے اتفاق رکھتے تھے۔ وہ نظریات جن کا اظہار وہ سب کے سامنے نہیں کرتا تھا۔ ویسے پڑھے لکھے حلقوں میں خاصی بڑی پوزیشن رکھتا تھا۔ لوگ اس کی علمیت سے مرعوب ہو جاتے تھے۔ یونیورسٹی میں “ذہنی دیو“ کہلاتا تھا۔ اچھا شاعر اور اچھا نقاد بھی تھا۔ آئے دن اس کی قیام گاہ پر بزم شعر و سخن کا اہتمام ہوتا رہتا تھا۔
بعض بےتکلف احباب کبھی کبھی کہہ بیٹھتے کہ سوشیالوجی کے ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ کو تو دہشت ناک نہ ہونا چاہئے۔ لہٰذا اسے تخلص بدل دینا چاہئے کوئی فرق نہ پڑےگا۔ وہ ہنس کر کہتا “کتنے ہی تخلص تبدیل کروں کہلاؤں گا دہشت ہی۔“

سردیوں کی تعطیل شروع ہوتے ہی وہ ہر سال اپنے مخصوص شاگردوں کا کیمپ لگاتا تھا اور انہیں جسمانی تربیت کی طرف بھی توجہ دینے کی ہدایات کرتا رہتا تھا۔۔۔۔ ان دسوں شاگردوں کا تعلق اسی کے ڈپارٹمنٹ سے نہیں تھا۔ ان کے مضامین مختلف تھے۔۔۔ یہ تو اس کی گھریلوں نشستوں کے دوران میں اس کے حلقہ بگوش ہوئے تھے۔

علامہ کی شخصیت بے حد پر کشش تھی اور اس کی ساری باتیں عام ڈگر سے ہٹ کر ہوتی تھیں۔ ہر معاملے میں اس کا نظریہ عام نظریات سے مختلف ہوتا تھا اور اپنی قوت استدلال سے کام کے کر وہ دوسروں کو اس سے متعلق مطمئن بھی کر دیتا تھا۔۔۔ پہلے پہل لوگ اس کے طرزِ تقریر کے جال میں پھنستے تھے۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ اس طرح گرویدہ ہوتے چلے جاتے تھے جیسے وہ پیغمبرانہ انداز میں ان کے درمیان آیا ہو۔۔۔ ان میں کچھ انتہائی درجہ کے جاں نثار ہوتے تھے اور انہی جان نثاروں کو خاص شاگرد ہونے کا شرف حاصل ہو جاتا تھا۔

بہرحال ان مخصوص شاگردوں کو وہ ہر طرح کی تربیت دیتا تھا۔ کیمپنگ کا اصل مقصد یہ ہوتا تھا کہ وہ بے سر و سامانی کی حالت میں بھی زندگی بسر کرنے کے طریقوں سے آگاہ ہو جائیں۔۔۔
غلیلوں سے پرندوں کا شکار ہوتا اور زمین سے مختلف قسم کی جڑیں کھود کر نکالی جاتیں۔ پرندے آگ پر بھونے جاتے اور جڑیں ابالی جاتیں۔ کیمپنگ کے دوران میں یہی ان کی خوراک ہوتی۔
چھولداریوں مین راتیں گذارتے۔ سردی سے بچاؤ کے لئے کم سے کم سامان ان کے ساتھ ہوتا تھا۔۔۔ ہر فرد اپنی چھولداری میں تنہا رات بسر کرتا تھا۔۔۔

اس وقت اس دوڑ دھوپ کے بعد انہیں چھولداری میں صرف آدھے گھنٹے آرام کرنا تھا پھر دوپہر کے لئے غذا فراہم کرنے کی باری آتی۔
علامہ دہشت اپنی چھولداری میں پہنچ کر بیٹھ گیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں فکر مندی کے آثار پائے جاتے تھے۔
تھوڑی دیر بعد اس نے چھولداری سے سر نکال کر یاسمین کو آواز دی تھی۔
وہ اپنی چھولداری سے نکل کر اس طرح اس کی طرف دوڑ پڑی تھی جیسے اس کی پالتو کتیا ہو۔
“اند آ جاؤ۔“ وہ ایک طرف کھسکتا ہوا بولا تھا۔
“وہ چھولداری میں داخل ہوئی اور اس کی اجازت سے ایک طرف بیٹھ گئی۔ وہ کچھ شرمندہ سی نظر آ رہی تھی۔ سر جھکائے بیٹھی رہی۔ علامہ دہشت اسے گھورتا رہا پھر بولا۔ “تم اب بھی کچھ کہنا چاہتی ہو؟“
“جج۔۔۔جی ۔۔۔ ہاں۔۔۔ مذہب کا نام غیر ارادی طور پر زبان سے نکل گیا تھا۔ اس کی بھی وجہ غالباً نفسیاتی ہو سکتی ہے۔“
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
السلام علیکم

شائد اور شاید کے بارے میں کچھ مختصر۔

املاء کے اعتبار سے دونوں ہی درست ہیں۔

شائد میں ھمزہ ( ء ) دراصل حرف اصلی ہے۔ عربی قواعد کی رُو سے یہ ھمزہ تبدیل ہو کر ( ی ) کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ فارسی اور اردو میں اسی وجہ سے کچھ افراد املاء میں ھمزہ کو برقرار رکھتے ہیں اور کچھ ھمزہ کو ی سے تبدیل کر دیتے ہیں ۔ اسی وجہ سے مختلف متون میں کہیں شائد اور کہیں شاید لکھا نظر آئے گا ۔
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
چونکہ قاعدہ کی رُو سے ھمزہ کو ی میں تبیل ہو جانا ہے اس لیے املاء میں ی کے استعمال کو ترجیح حاصل ہے ۔
 

الف عین

لائبریرین
بار آخر:

تمھارا کیا خیال ہے ؟“
“وہ راستے سے ہٹ سکتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ اس نے مذہب کا نام لیا تھا۔ “
“مجھے تم پر فخر ہے پیٹر۔ ۔ ۔ تم بہت ذہین ہو۔ “
“میں کچھ اور کہنا چاہتا ہوں جناب۔ “
“ضرور کہو پیٹر۔ “
“قبل اس کے وہ استے سے ہٹے۔ ۔ ۔ ہم خود ہی کیوں نہ ہٹا دیں۔ “
“میں تمہارے علاوہ اور کسی میں اپنا نائب بننے کی صلاحیت نہیں دیکھتا۔ “
“میں اسے راستے سے ہٹا دوں گا جناب۔ “
“مگر اسے نہ بھولنا کہ تم ایک ذہین آدمی ہو۔ “
“آپ مطمئن رہئے۔ “
پھر انہوں نے رفتار بڑھائی تھی اور دوسروں سے جا ملے تھے۔ ۔ ۔ ۔ قریباً آدھے گھنٹے بعد وہ اس جگہ پر پہنچے جہاں ان کا کیمپ تھا۔ چھوٹی چھوٹی گیارہ چھولداریاں نصب تھیں۔ ایک ایک کر کے وہ اپنی اپنی چھولداریوں میں داخل ہوئے اور آرام کرنے لگے۔

یہ سب علامہ دہشت کے مخصوص شاگرد تھے یعنی اس کے نظریات سے اتفاق رکھتے تھے۔ وہ نظریات جن کا اظہار وہ سب کے سامنے نہیں کرتا تھا۔ ویسے پڑھے لکھے حلقوں میں خاصی بڑی پوزیشن رکھتا تھا۔ لوگ اس کی علمیت سے مرعوب ہو جاتے تھے۔ یونیورسٹی میں “ذہنی دیو“ کہلاتا تھا۔ اچھا شاعر اور اچھا نقاد بھی تھا۔ آئے دن اس کی قیام گاہ پر بزم شعر و سخن کا اہتمام ہوتا رہتا تھا۔
بعض بے تکلف احباب کبھی کبھی کہہ بیٹھتے کہ سوشیالوجی کے ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ کو تو دہشت ناک نہ ہونا چاہئے۔ لہٰذا اسے تخلص بدل دینا چاہئے کوئی فرق نہ پڑے گا۔ وہ ہنس کر کہتا “کتنے ہی تخلص تبدیل کروں کہلاؤں گا دہشت ہی۔ “

سردیوں کی تعطیل شروع ہوتے ہی وہ ہر سال اپنے مخصوص شاگردوں کا کیمپ لگاتا تھا اور انہیں جسمانی تربیت کی طرف بھی توجہ دینے کی ہدایات کرتا رہتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ان دسوں شاگردوں کا تعلق اسی کے ڈپارٹمنٹ سے نہیں تھا۔ ان کے مضامین مختلف تھے۔ ۔ ۔ یہ تو اس کی گھریلوں نشستوں کے دوران میں اس کے حلقہ بگوش ہوئے تھے۔

علامہ کی شخصیت بے حد پر کشش تھی اور اس کی ساری باتیں عام ڈگر سے ہٹ کر ہوتی تھیں۔ ہر معاملے میں اس کا نظریہ عام نظریات سے مختلف ہوتا تھا اور اپنی قوت استدلال سے کام کے کر وہ دوسروں کو اس سے متعلق مطمئن بھی کر دیتا تھا۔ ۔ ۔ پہلے پہل لوگ اس کے طر زِ تقریر کے جال میں پھنستے تھے۔ ۔ ۔ پھر آہستہ آہستہ اس طرح گرویدہ ہوتے چلے جاتے تھے جیسے وہ پیغمبرانہ انداز میں ان کے درمیان آیا ہو۔ ۔ ۔ ان میں کچھ انتہائی درجہ کے جاں نثار ہوتے تھے اور انہی جان نثاروں کو خاص شاگرد ہونے کا شرف حاصل ہو جاتا تھا۔

بہرحال ان مخصوص شاگردوں کو وہ ہر طرح کی تربیت دیتا تھا۔ کیمپنگ کا اصل مقصد یہ ہوتا تھا کہ وہ بے سر و سامانی کی حالت میں بھی زندگی بسر کرنے کے طریقوں سے آگاہ ہو جائیں۔ ۔ ۔
غلیلوں سے پرندوں کا شکار ہوتا اور زمین سے مختلف قسم کی جڑیں کھود کر نکالی جاتیں۔ پرندے آگ پر بھونے جاتے اور جڑیں ابالی جاتیں۔ کیمپنگ کے دوران میں یہی ان کی خوراک ہوتی۔
چھولداریوں مین راتیں گذارتے۔ سردی سے بچاؤ کے لئے کم سے کم سامان ان کے ساتھ ہوتا تھا۔ ۔ ۔ ہر فرد اپنی چھولداری میں تنہا رات بسر کرتا تھا۔ ۔ ۔

اس وقت اس دوڑ دھوپ کے بعد انہیں چھولداری میں صرف آدھے گھنٹے آرام کرنا تھا پھر دوپہر کے لئے غذا فراہم کرنے کی باری آتی۔
علامہ دہشت اپنی چھولداری میں پہنچ کر بیٹھ گیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں فکر مندی کے آثار پائے جاتے تھے۔
تھوڑی دیر بعد اس نے چھولداری سے سر نکال کر یاسمین کو آواز دی تھی۔
وہ اپنی چھولداری سے نکل کر اس طرح اس کی طرف دوڑ پڑی تھی جیسے اس کی پالتو کتیا ہو۔
“اند آ جاؤ۔ “ وہ ایک طرف کھسکتا ہوا بولا تھا۔
“وہ چھولداری میں داخل ہوئی اور اس کی اجازت سے ایک طرف بیٹھ گئی۔ وہ کچھ شرمندہ سی نظر آ رہی تھی۔ سر جھکائے بیٹھی رہی۔ علامہ دہشت اسے گھورتا رہا پھر بولا۔ “تم اب بھی کچھ کہنا چاہتی ہو؟“
“جج۔ ۔ ۔ جی۔ ۔ ۔ ہاں۔ ۔ ۔ مذہب کا نام غیر ارادی طور پر زبان سے نکل گیا تھا۔ اس کی بھی وجہ غالباً نفسیاتی ہو سکتی ہے۔ “
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top