شفیق خلش -- " محبّت اُن کی شاید بٹ گئی ہے "

طارق شاہ

محفلین
غزل
شفیق خلش
محبّت اُن کی شاید بٹ گئی ہے
توجّہ مجھ سے تھوڑی ہٹ گئی ہے
خلا ہے اب زمین وآسماں سی
محبت درمیاں سے چھٹ گئی ہے
دِلوں کے فاصلے گھٹتے نہیں ہیں
مُقابل یوں مُصیبت ڈٹ گئی ہے
محبت میں کسے الزام دینا !
زباں میری، کہ جیسے کٹ گئی ہے
جُدائی میں، کہاں اب نیند آئے
خَلِش یہ کب کسی کروٹ گئی ہے
کہاں بُھولے خراماں ناز کو ہم!
کہاں دل سے کبھی آہٹ گئی ہے
سُجھائی کچھ نہ دے، ایسی ہے حالت
زمیں پیروں تلے سے ہٹ گئی ہے
محبت سے سجائی تھی، جو دنیا
الم کے خاک سے وہ اٹ گئی ہے
وقار ومنزلت بابت محبت
اچانک ایسی کیسے گھٹ گئی ہے
مرے دل میں جو تھی تیری تمنّا
بہت سی خواہشوں میں بٹ گئی ہے
خلش! کیا بے رخی کا اب گلہ ہو
یونہی جب عمر ساری کٹ گئی ہے
شفیق خلش
(ق )​
 

طارق شاہ

محفلین
Top