شدم چوں مبتلائے اُو، نہادم سر بہ پائے اُو۔۔۔۔۔۔ نور سعدیہ شیخ

نور وجدان

لائبریرین
برگد کے درخت کے پاس ایک اللہ کا بندہ بیٹھا ہوا آہیں بھر رہا تھا۔ بانسری بجائے جارہا تھا اس کی بانسری کی درد سے پُر آواز قافلے والوں نے سُن لی۔جنگل میں رات کے وقت کے بانسری کی آواز نے چار سُو چاندنی بکھیر رکھی تھی ۔سالارِ قافلہ نوجوان تھا اور موسیقی کا دلدادہ تھا۔ اُس کے پاس آلتی پالتی مار کے بیٹھا اور کہا کہ :اُس آواز میں جو درد بھری چاشنی ہے ۔وہ مجھے کسی ساز سے نہ سُنائی دی ۔ اس کا راز کیا ہے ؟

عجب نشاطِ درد و کیف و مستی کے عالم نوجوان کو یک سکت دیکھ کر نگاہ دور پیپل کے درخت پر جمالی : سازندگی میرے تن کے ساز سے ہے اور گھپ اندھیرا من کا سانس روکی رکھے میرا ۔ جب تک سانس رُکے میری تب تک ساز چلتا رہے ۔ سازندگی میرا شیوہ ہے اور میراث بھی ۔

سالارِ قافلہ نے سوچا کہ بندہ سٹھیا گیا مگر باوجود اس کے اس کے پاس بیٹھا آسمان کو تاکتے ہوئے بولا اور کہا آسمان پر سب اچھے ستارے ہیں اور ان کی روشنی سے جہاں رُوشن ہے ۔ کاش ! میں بھی رُوشن ستارہ ہوتا !!!

ستارہ ! اُس نے گول دائرہ بنایا اور بولا کہ اس دائرے میں آجا تاکہ میں سازندگی کی قصہ سُنا سکوں اور جو یہ نغمہ سن لے! وہ یہ کہ '' کاش '' کی 'ک' کو مٹا کر ، ''الف'' کے ساتھ وصل کرکے دنیا میں شفقت کرکے ، آخرت میں شافعی ہوجاتا ہے ۔اس کے چہرہ کی طرف آنے والے سوال کو روک دیا اور کہا کہ دائرے میں آجانے کے بعد تماشا دیکھنے کی اجازت ہے مگر نہ زبان کھولنے کی اور نہ سوال کرنے کی ۔۔۔ قصہ سازندگی کہاں سے شروع اور ختم ہو ؟ یہ میں اے سالار ! تجھ کو بتانے سے قاصر ہوں !!! مگر کچھ بچا کچھا میرے پاس سرمایہ سازندگی کا تجربہ ہے ، اس کو میں سُنائے دیتا ہے ۔

ایک دور خلافت تھا ! جب صاحب گشت گلیوں میں دیوانہ وار پھِرا کرتے تھے ۔زمانہ مے و شراب سے بڑھ کر سازندگی کو جا پہنچا تھا مگر سازندگی اس وقت عام نہیں ہوئی تھی اس لیے اکثر گھرانوں سے شراب کی خوشبو پھیل کرتا تھی جس طرح گُلاب چل کر خود گھر میں معطر ہو رہا ہے یا کہ چراغ جل رہا ہو! یونہی ایک دن صاحب الرائے ، فاروق اعظم نے ماں اور بیٹی کے مکالمہ کا ایک حصہ سُن لیا ۔

بیٹی : شراب دودھ میں ملا !!!
ماں : پانی تو دودھ میں ملا!!!!

وزیرِ شاہجہاں و رحمت اللعالمین واپس آئے اور پوچھا اپنے بیٹوں سے کہ ایک نوید ِ صُبح کو سننے کی لیے ، شراب کا سلسلہ جاری ساری رکھنے کے لیے کون اس سے شادی کرے گا؟ مست وبے خود عبداللہ بن عمررضہ نے حامی بھری اور دادء عمر ِثانی کہلائے ۔ پانچواں نائب سازندگی میں ماہر تھا ۔ شہزادہِ وقت تھا۔ اس لیے عِطر سے لباس کبھی خالی نہ رہا تھا ۔ کئی اونٹ اور گھوڑے سازو سامان کے لیے مختص تھے کہ ایک لباس زیب تن کرکے دوبارہ اس کو پہننا توہین سمجھا کرتے تھے۔سُلیمان بن عبد الملک نے ان کو اپنا ولی عہد مقرر کر دیا۔ اس بندے کو حرصِ اقتدار نہ تھی ۔ اس لیے جب نیابت کا وقت آیا تو بول اٹھے سب کو ، چونکہ بیعت مرضی بغیر کے ہوئی ہے اس لیے تم سب لوگ آزاد ہو ! لوگو نے کہا کہ ہم تو بیعت کرچکے ہیں ! اب واپسی کا سوال نہ تھا اس لیے سازندگی شروع کردی ۔ اس کے نشان ان کی تن پر ثبت ہوتے رہے مگر بادشاہت کو خلافت کی درجہ پر لے آئے کہ لقبِ مجدد الف کا پا گئے۔ اسلام زندہ کرنے والے ساز و شراب کے ساتھ زندگی بسر کیا کرتے تھے ۔ ایک دن بیٹیوں نے کہا کہ عید کے لیے کپڑے چاہیے، ورنہ تماشا دنیا دیکھے گی ۔ وہ بولے : بیٹا اس دنیا کا تماشا تم سہ لو گی مگر وہ جو آخرت کا تماشا ہے ، وہ بڑا ظالم ہے اور بیٹیوں کو صبر کی مے نوش کرادی ۔ بیوی کا نام فاطمہ تھا اور اطوار میں بھی شاہجہاں کی دُلاری ، خاتونِ سیدِہ جنت کے راستے پر تھیں ۔ اس بندہ خُدا کو ختم کرنے کے واسطے ایک زہرِ خاص تیار کی گئی کہ جس کا تریاق نہ ہو مگر کون جانے وہ بندہ پہلے ہی من کے زہر کا تریاق کرچکا تھا۔ مرتے ہوئے غلام نے اعتراف کیا کہ میں نے یہ کام کیا مجھے معاف کیجئے ۔ عفو کی مثال بے مثال قائم کی اور کہا کہ میری موت میں کچھ وقت باقی ہے اس سے پہلے کہ تو مار دیا جایئے تو یہاں سے فرار ہوجا! وگرنہ یہ لوگ سولی تیار کیے ہوئے ہیں ! ایک خواب عمرِ ثانی نے پل صراط کا دیکھا کہ سب سے پہلے عبدالملک بن مرواں بن حکم پُل صراط پر چڑھتا ہے مگر نیچے گر جاتا ہے ، پھر ولید بن عبدالملک چڑھتا ہے اور نیچے جا گرتا ہے ، بعد اس کے سلیمان بن عبدالملک چڑھتا ہے اور سب کی طرح آہ و بکا کرتے ہوئے جہنم میں جا گرتا ہے ، اتنے میں ایک نحیف نزار بندہ بڑا کانپتا ہے کہ اب اسکی باری کہیں وہ گر نہ جائے مگر خشیت الہی کا پیکر ، دل میں شمع محبت سجائے بڑی تیزی سے صراط کو پار کرجاتا ہے ۔

تھیں عظیم ہستیاں مگر خالی کر گئیں بستیاں
نہ آیا جو کہ باقی رہا نہ ساغر رہا نہ ساقی رہا

سالارِ قافلہ بڑی غور سے اُس سازندے کی بات سننے میں محو ہوگیا کہ اتنی اس کی آواز پر اس کو حضرت داؤد علیہ اسلام کی آواز کا گمان ہوا کہ کہیں وہ جنت میں بیٹھا اس شیریں آواز سے قرانِ پاک کی کسی آیت کی ، کسی نشانی کی بابت کچھ پوچھ رہا ہے اور وہ بتائے جا رہے ہیں ۔ سازندہ ِبرگد نے اسے غور سے دیکھا کہ جیسے اس کے خیال کو جان لیا ہو۔ اور بولا کہ بے شک وہ جنت کے حُدی خواں ہوں گے کہ ان جیسا نغمہ سرا اس دنیا میں ماسوا ایک کے کوئی بھی نہیں آیا۔ یہ تو ایک بادشاہ کی بات تھی مگر کچھ سازندے صرف اپنے لیے بجتے ہیں اور کچھ دنیا کے لیے۔۔ مگر جاتے جاتے ہوئے بادشاہِ وقت کو بیٹے روپ میں سبق سکھا جاتے ہیں ۔

آؤ ! اس دائرہ میں ایک اور دائرہ میں نے کھینچا ہے ! تم کو اگلے دائرے میں آنا ہوگا۔ اس طرح سازندگی چلتی رہے گی ورنہ حق کی بات سننے والا کوئی نہ رہے گا اور جب آواز سُریانی نہ ہوگی تو دل کے نور سے جہاں میں کون نور پھیلائے گا؟

ہارون الرشید کا ایک شہزادہ مامون اور امین کی طرف مشہور نہ ہوسکا مگر جاتے جاتے اپنے باپ کی آنکھیں ٹھنڈی کرگیا ۔ ایک دن وزراء نے شکایت کہ آپ کا یہ شہزادہ فقیری حالت میں رہتا ہے جو امراء کے شایانِ شایان نہیں ، بادشاہ نے بیٹے سے باز پُرس کی اور بیٹا محل چھوڑ روانہ ہوا کہ ماں نے ایک انگوٹھی دی کہ اس کو بیچ کر شراب پی لیا کرے ۔ جاتے جاتے نسخہ زندگی قرانِ پاک ہاتھ میں لے کر گیا اور اک انگوٹھی جس کو بحر شراب میں بہا کر سازندگی شروع کی ۔ موت کے قریب جنگل و بیابانوں میں رہا کرتے تھے کہ ایک دن جنگل میں وفات ہوگئ ۔ جب بیٹے کی وفات کی خبر ہارون کو ملی تو جنگل میں آیا اور پاس بیٹے کے وہی انگوٹھی دیکھی اور نسخہِ زندگی دیکھا تو اس کے دل سے چیخیں نکلی کہ وہ بندہ رجعت پر آمادہ ہوگیا ۔


نمے ترسی ازاں روزے کہ درگورت فروآرند
عزیزاں جملہ باز آیند تو تنہا درلحد مانی

ر نوشتہ بر زمین یہ تھے۔
یا صاحبی لا تغرر بتنعمی
فالعمر ینفدو والنعیم یزول
اذا حملت الی القبرل جنازہ
فاعلم بانک بعدھا محمول


اب کے سالارِ قافلہ کی آنکھوں سے اشک رواں تھے اُس نے سازندگی کی ابتدا کی اس وقت سے اور بولا کہ اے برگد نشین! دلنشیں آواز کے مالک!!!! میرا دل ہے کہ جنگل میں برگد کے ساتھ لگ کر پیپل کے درخت کو تاکوں!!! اور دائرہ تیسرہ خود بناؤ !

خاموش ! دائرے کبھی بھی خود کھینچے نہیں جاتے جب تک کہ اجازت نہ ہو ! جتنے کی اجازت تھی تجھ کو وہ مل گیا مگر آج کے بعد اپنی مرضی سے لکیریں کھینچیں تو سمجھیں کہ یہ سازندگی اب تجھ پر ختم ! سب کی چاہتیں ہیں مگر ان چاہتوں کے دریا کو ایک سمندر میں ڈال کر اُس سمندر کا حصہ بن جا ! اس سمندر میں ڈوب کر اپنی ہستی کو فنا نہ کرنا ! مگر غوطہ خوری کرنا۔ پانی بھی زندگی اور خشکی بھی زندگی ہے ۔ خشک و تر دونوں کو ساتھ لے کر چل ! اسی میں بقا ہے ۔ اب اٹھ !

کہاں؟
میخانہ چلیں ! رند ساز بیٹھے ہیں کب کے !!! میں تیرے انتظار میں تھا ۔ جسم دائروں میں رہے۔۔۔!! دو روحیں جسم کو چھوڑ چکی تھیں ۔ جسم پھر بھی زندگی کے حامل تھے ۔ دونوں جنگل سے ہوتے ہوئے ، دریاؤں سے ہوتے ہوئے ، صحرا میں پہنچے ! یہاں رقص بسمل جاری تھا ، ساز کی لے جانے کس مطرب نے چھیڑ رکھی تھی مگر نغمہ سریانی تھا۔ ساقی پیمانے پیمانے پر تقسیم کیے جارہا تھا ، اور جہاں کے رند شراب پی پی کر مست و بے خود رقص کر رہے تھے ۔ ساقی نے شراب میں نشاطِ درد کی افیون ڈال رکھی تھی ۔ برگد نشین تو داخل ہوگیا مگر سالارِ قافلہ وہاں کھڑا برگد نشین کو دیکھ رہا تھا جو باقیوں میں کھو چکا تھا ۔ اچانک اس کو ایک آواز آئی

حیدریم قلندرم مستم
بندہ مرتضی علی ہستم
پیشوائے تمام رندانم
مَنَم محوِ جمالِ اُو،
نمی دانم کُجا رفتم
فنا گشتم فنا گشتم،
نمی دانم کجا رفتم

اس کے بعد سالار اس آواز کی لے پر ایک دھاگے پر چلتا ہوا ساقی کے پاس پہنچا کہ اس کے پاؤں دھاگے نے رنگین کر دیے تھے ۔ ساقی شراب کیا دیتا وہ اس کے جمال میں کھو گیا !!! ایسا کہ پاؤں کے زخم کے احساس نے اس کے دل سے چیخیں نکال دیں ۔ ساز کی لے پر اس نے رقص بسمل شروع کردیا ۔۔ بے خودی میں یہ کہتا رہا کہ ''' پیشوائے تمام رندانم ، منم محو جمالِ او ''' من ! من! من! کرتے ہوئے تمام مست و بے ہوش گرگئے مگر سالار کہتا رہا کہ '''شدم چوں مبتلائے اُو، نہادم سر بہ پائے اُو'''
 
آخری تدوین:

نایاب

لائبریرین
دائرے کبھی بھی خود کھینچے نہیں جاتے جب تک کہ اجازت نہ ہو ! جتنے کی اجازت تھی تجھ کو وہ مل گیا مگر آج کے بعد اپنی مرضی سے لکیریں کھینچیں تو سمجھیں کہ یہ سازندگی اب تجھ پر ختم ! سب کی چاہتیں ہیں مگر ان چاہتوں کے دریا کو ایک سمندر میں ڈال کر اُس سمندر کا حصہ بن جا ! اس سمندر میں ڈوب کر اپنی ہستی کو فنا نہ کرنا ! مگر غوطہ خوری کرنا۔ پانی بھی زندگی اور خشکی بھی زندگی ہے ۔ خشک و تر دونوں کو ساتھ لے کر چل ! اسی میں بقا ہے ۔
سبحان اللہ
بلاشبہ بہت خوبصورت تحریر
حق کہ " توفیق " من جانب اللہ ہی سے ممکن ہے ،
مٹا دے اپنی ہستی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خاک میں مل جا ۔۔۔۔
فنا نہ ہو گا ۔
گل و گلزار بن سجا و مہکا دے گا مئے خانہ زندگی ۔
بہت دعائیں
 

نور وجدان

لائبریرین
سبحان اللہ
بلاشبہ بہت خوبصورت تحریر
حق کہ " توفیق " من جانب اللہ ہی سے ممکن ہے ،
مٹا دے اپنی ہستی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خاک میں مل جا ۔۔۔۔
فنا نہ ہو گا ۔
گل و گلزار بن سجا و مہکا دے گا مئے خانہ زندگی ۔
بہت دعائیں

رنگیں کرتے تو سُرخ کرتے ۔لفظ سارے ہی سرُ خ کرتے !
عجب تماشاء ذات ہے
محوِ خوابِ تمنا ہوں
اور مٹنے کی بات ہورہی ہے
خواب میں مٹنا مقصود ہے
یا حقیقت مٹا ڈالے گی
اور میخانہ سجنا بھی کیا اختیار میں ہے ؟ اس کی قدر کیا ہے کہ ہر بات کی ''قدر'' ہوتی ہے تو میخانہ کی قدر کیا ہے
 
Top