سوچا نہ تھا جو ہو گیا، سوچا تھا جو ہوا نہیں

بڑھ کے مزید اس سے کچھ زیست کا ماجرا نہیں
سوچا نہ تھا جو ہو گیا، سوچا تھا جو ہوا نہیں

روشنیِ خیال میں جس کو تلاشتے رہے
ہم کو کہیں ملا نہیں، جیسے کہیں وہ تھا نہیں

مانعِ شوق ہے کوئی، کون پتا نہیں مجھے
دل نہیں عقل بھی نہیں، لوگ نہیں خدا نہیں

اترا تھا وقت کس لیے اور کہاں گذر گیا
بات یہ سوچنے کا بھی مجھ میں تو حوصلہ نہیں

ذوقِ غزل تو ہے مجھے پاسِ غزل مگر کہاں
کیا کروں جب درونِ دل کوئی غزل سرا نہیں
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
اچھی غزل ہے ریحان بھائی ،
مجھے ۔معلوم ۔کی نشست ٹھیک نہیں لگ رہی ،
اور یہ تلاشنا قبولنا وغیرہ بھی عجیب ہی لگتا ہے ۔
 

الف عین

لائبریرین
اچھی غزل ہے، اپنی غزلیں سَمت کے لئے بھی دیں اکٹھی آٹھ دس، جو دو دو تین تین شائع کی جائیں گی۔
اور یہ تلاشنا قبولنا وغیرہ بھی عجیب ہی لگتا ہے ۔
قبولنا کو تو میں بھی نہیں "قبولتا" لیکن تلاشنا تو اب خاصا رائج ہو گیا ہے
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
واہ! بہت خوب! اچھے اشعار ہیں ، ریحان!
غالب کا مصرع " دیر نہیں ، حرم نہیں ، در نہیں ، آستاں نہیں" شاید اس غزل کا محرک لگتا ہے ۔ :)
چونکہ آپ ہمیشہ میرے تبصروں کو مثبت انداز میں لیتے ہیں اس لیے چند اشعار پر بلا اجازت نقد و نظر کی جرات کروں گا۔ امید ہے فراخ دلی سے کام لیں گے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ کچھ مصرعوں کو آپ کماحقہ توجہ اور وقت نہیں دے سکے اور اس کی معقول وجہ آپ نے آخری شعر میں واضح طور پر بیان کردی ہے۔ :)

بڑھ کے مزید اس سے کچھ زیست کا ماجرا نہیں
سوچا نہ تھا جو ہو گیا، سوچا تھا جو ہوا نہیں
مطلع کے بارے میں اکثر عرض کرتا ہوں کہ اسے حتی المقدور بے عیب اور چست ہونا چاہیے کہ فوراً قاری کی توجہ حاصل کرلے۔ مطلع کا مصرعِ اول ڈھیلا ڈھالا ہے ۔ " اس سے بڑھ کے" اور "مزید" دونوں ہم معنی ہیں چنانچہ حشو و زائد میں شمار ہوں گے۔ میری تجویز یہ ہے: اس کے علاوہ زیست کا کچھ بھی تو ماجرا نہیں
مصرعِ ثانی اگرچہ ٹھیک ہے اور مدعا ادا کرتا ہے لیکن میری ناقص رائے میں یہاں سوچنے کے بجائے چاہنا زیادہ برمحل ہے۔ یعنی زندگی جیسا چاہا تھا ویسی نہیں گزری ۔
اس کے علاوہ زیست کا کچھ بھی تو ماجرا نہیں
چاہا نہ تھا جو ہو گیا ، چاہا تھا جو ہوا نہیں

مانعِ شوق ہے کوئی، کون پتا نہیں مجھے
دل نہیں عقل بھی نہیں، لوگ نہیں خدا نہیں
"کون پتا نہیں مجھے" لسانی لحاظ سے ٹھیک نہیں ہے۔ کون کے بعد "ہے" کا لفظ لانا ضروری ہے۔ میری تجویز یہ ہے کہ اسے مطلعِ ثانی بنادیا جائے:
مانعِ شوق ہے کوئی ، کون ہے یہ پتا نہیں
دل نہیں ، عقل بھی نہیں ، لوگ نہیں ، خدا نہیں
اگر کسی وجہ سے آپ مطلعِ ثانی نہیں بنانا چاہتے تو یوں بھی کیا جاسکتا ہے:
مانعِ شوق ہے کوئی ، کون ہے یہ نہیں خبر
دل نہیں ، عقل بھی نہیں ، لوگ نہیں ، خدا نہیں

اترا تھا وقت کس لیے اور کہاں گذر گیا
بات یہ سوچنے کا بھی مجھ میں تو حوصلہ نہیں
وقت کا اترنا محلِ نظر ہے ۔ اسے دیکھ لیجیے۔ وقت ملنا معروف ہے۔ وقت ملا تھا کس لیے۔۔۔۔۔۔۔
وقت کے بجائے اگر عمر کا لفظ استعمال کریں تو بھی مدعا ادا ہوجاتا ہے:
عمر ملی تھی کس لیے اور کہاں گزر گئی
بات یہ سوچنے کا بھی مجھ میں تو حوصلہ نہیں

ذوقِ غزل تو ہے مجھے پاسِ غزل مگر کہاں
کیا کروں جب درونِ دل کوئی غزل سرا نہیں
پاسِ غزل مبہم ہے۔ اس کے بجائے فکرِ غزل میری رائے میں بہتر ہوگا۔ دوسرے مصرع میں کیا کروں کے بجائے کیا کہوں زیادہ مناسب اور شعری خیال سے مربوط رہے گا۔
ذوقِ غزل تو ہے مجھے فکرِ غزل مگر کہاں
کیا کہوں جب درونِ دل کوئی غزل سرا نہیں

ریحان بھائی ، یہ میری ناقص آراء ہیں جس سے متفق یا غیر متفق ہونا سراسر آپ کا حق ہے کہ اشعار آپ کے ہیں ۔ سخن گستری کے لیے پیشگی معذرت! بزمِ سخن میں میرے تبصروں کا مقصد ایک ادبی مکالمے اور چند فنی و تکنیکی نکات اجاگر کرنے سے زیادہ اور کچھ نہیں ہوتا۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
روشنیِ خیال میں جس کو تلاشتے رہے
ہم کو کہیں ملا نہیں، جیسے کہیں وہ تھا نہیں

دوسرا مصرع اگر ایسا کر دیں تو کیسا رہے گا؟
پیکرِ آب و گِل کجا، سایہ تلک ملا نہیں
مجھے تو یہ نیا مصرع ٹھیک نہیں لگ رہا ، ریحان۔ اس میں دو مسئلے ہیں ۔ سایا تو کسی پیکرِ آب و گل کا ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں ، کوئی الگ الگ چیزیں نہیں۔ سائے کے بجائے نقش یا عکس( بمعنی تصویر) رکھ کر دیکھیے: پیکرِ آب و گِل کجا ، نقش تلک ملا نہیں
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مصرع اول میں "جس کو" استعمال کرنے کے بعد مصرعِ ثانی میں "اُس کا" پیکر کہنا ضروری ہوجاتا ہے۔ (جس طرح آپ نے اصل شعر کے مصرعِ ثانی میں "وہ" کا لفظ بالکل ٹھیک استعمال کیا۔)
اب یا تو مصرعِ اول کو اِس نئے مصرعِ ثانی کے مطابق تبدیل کیجیے یا پھر مصرعِ ثانی میں ترمیم کیجیے۔ مثلاً:
روشنیِ خیال میں جس کو تلاشتے رہے
اُس کا وجود تو کجا ، نقش تلک ملا نہیں
 
واہ! بہت خوب! اچھے اشعار ہیں ، ریحان!
غالب کا مصرع " دیر نہیں ، حرم نہیں ، در نہیں ، آستاں نہیں" شاید اس غزل کا محرک لگتا ہے ۔ :)
چونکہ آپ ہمیشہ میرے تبصروں کو مثبت انداز میں لیتے ہیں اس لیے چند اشعار پر بلا اجازت نقد و نظر کی جرات کروں گا۔ امید ہے فراخ دلی سے کام لیں گے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ کچھ مصرعوں کو آپ کماحقہ توجہ اور وقت نہیں دے سکے اور اس کی معقول وجہ آپ نے آخری شعر میں واضح طور پر بیان کردی ہے۔ :)


مطلع کے بارے میں اکثر عرض کرتا ہوں کہ اسے حتی المقدور بے عیب اور چست ہونا چاہیے کہ فوراً قاری کی توجہ حاصل کرلے۔ مطلع کا مصرعِ اول ڈھیلا ڈھالا ہے ۔ " اس سے بڑھ کے" اور "مزید" دونوں ہم معنی ہیں چنانچہ حشو و زائد میں شمار ہوں گے۔ میری تجویز یہ ہے: اس کے علاوہ زیست کا کچھ بھی تو ماجرا نہیں
مصرعِ ثانی اگرچہ ٹھیک ہے اور مدعا ادا کرتا ہے لیکن میری ناقص رائے میں یہاں سوچنے کے بجائے چاہنا زیادہ برمحل ہے۔ یعنی زندگی جیسا چاہا تھا ویسی نہیں گزری ۔
اس کے علاوہ زیست کا کچھ بھی تو ماجرا نہیں
چاہا نہ تھا جو ہو گیا ، چاہا تھا جو ہوا نہیں


"کون پتا نہیں مجھے" لسانی لحاظ سے ٹھیک نہیں ہے۔ کون کے بعد "ہے" کا لفظ لانا ضروری ہے۔ میری تجویز یہ ہے کہ اسے مطلعِ ثانی بنادیا جائے:
مانعِ شوق ہے کوئی ، کون ہے یہ پتا نہیں
دل نہیں ، عقل بھی نہیں ، لوگ نہیں ، خدا نہیں
اگر کسی وجہ سے آپ مطلعِ ثانی نہیں بنانا چاہتے تو یوں بھی کیا جاسکتا ہے:
مانعِ شوق ہے کوئی ، کون ہے یہ نہیں خبر
دل نہیں ، عقل بھی نہیں ، لوگ نہیں ، خدا نہیں


وقت کا اترنا محلِ نظر ہے ۔ اسے دیکھ لیجیے۔ وقت ملنا معروف ہے۔ وقت ملا تھا کس لیے۔۔۔۔۔۔۔
وقت کے بجائے اگر عمر کا لفظ استعمال کریں تو بھی مدعا ادا ہوجاتا ہے:
عمر ملی تھی کس لیے اور کہاں گزر گئی
بات یہ سوچنے کا بھی مجھ میں تو حوصلہ نہیں


پاسِ غزل مبہم ہے۔ اس کے بجائے فکرِ غزل میری رائے میں بہتر ہوگا۔ دوسرے مصرع میں کیا کروں کے بجائے کیا کہوں زیادہ مناسب اور شعری خیال سے مربوط رہے گا۔
ذوقِ غزل تو ہے مجھے فکرِ غزل مگر کہاں
کیا کہوں جب درونِ دل کوئی غزل سرا نہیں

ریحان بھائی ، یہ میری ناقص آراء ہیں جس سے متفق یا غیر متفق ہونا سراسر آپ کا حق ہے کہ اشعار آپ کے ہیں ۔ سخن گستری کے لیے پیشگی معذرت! بزمِ سخن میں میرے تبصروں کا مقصد ایک ادبی مکالمے اور چند فنی و تکنیکی نکات اجاگر کرنے سے زیادہ اور کچھ نہیں ہوتا۔
بہت شکریہ ظہیر بھائی، آپ کی تجاویز زبردست ہیں. اصل میں آج کل شعر و سخن کے لیے زیادہ وقت مختص کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے. پھر بھی کوشش رہتی ہے کہ کچھ نہ کچھ بطور مشق لکھتا ہی رہوں.
 
Top