سرائیکی وسیب

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
کلام حضرت خواجہ غلام فریدؒ
یہ کافی میرے پسندیدہ ترین کلام میں سے ایک ہے، مجھے بے حد بے حد بے حد پسند ہے
پٹھانے خان نے اسے اتنے خوبصورت انداز میں گایا ہے کہ سرائیکی سے ناواقف احباب بھی اس کے سحر میں گرفتار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے
کیا حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نی مل دا
دل کا میں کیا حال سناؤں؟
کوئی محرم راز ہی نہیں ملتا
منہ دُھوڑ ، مٹی سِر پایُم۔ سارا ننگ نمُوذ ونجایُم
کوئی پُچھن نہ ویہڑے آیا، ہتھوں اُلٹا عالم کِھلدا
کوئی محرم راز نی مِلدا
منہ گرد آلودہ اور سر مٹی بھبھوت ہو گیا، میں نے اپنی ساری عزت اور شان بھی گنوائی
کوئی میرے گھر پوچھنے تک بھی نہ آیا، الٹا زمانہ مجھ پر ہنستا ہے
کوئی محرم راز ہی نہیں ملتا
آیا بار برہوں سر بھاری ۔لگی ہو ، ہو شہر خواری
اونجیں عمر گزاریُم ساری، نہ پایُم ڈس منزل دا
کوئی محرم راز نی ملدا
میرے سر پہ جدائی کا بھاری بوجھ رکھ دیا گیا۔ اور سارے شہر میں میری بدنامی ہو گئی
ساری عمر میں نے ایسے ہی گزار دی (یعنی بے فائدہ) اور منزل کا راستہ نہ پا سکا
کوئی محرم راز ہی نہیں ملتا
پُنوں ہود نہ کھڑ مکلایا۔ چھڈ کلھڑی کیچ سدھایا
سوہنے جان، پچھان بھلایا، کُوڑا عذر نبھایُم گِھل دا
کوئی محرم راز نی ملدا
شہزادہ پنوں نے تو کچاوے میں سوار ہو کر بھی مجھے نہ مکلایا (یعنی جھوٹے منہ بھی ساتھ جانے کا نہ کہا)مجھے اکیلی چھوڑ کر کیچ کو چلا گیا
سوہنے نے تو جان پہچان بھی بھلا دی (یعنی پیار کی لاج بھی نہ رکھی)میں نےجھوٹا عذر نبھایا کہ مجھے نیند آ گئی تھی
کوئی محرم راز نہیں ملتا
دل پریم نگر دوں تانگھے، جتھاں پینڈے سخت اڑانگے
نہ یار فرید ؔ نہ لانگھے، ہے پندھ بہوں مشکل دا
کوئی محرم راز نی ملدا
میرا دل محبت کے شہر کی طرف کھنچتا ہے۔ جہاں بہت سخت مصیبتیں اور رکاوٹیں ہیں
نہ کوئی ہمسفر ہے ، اور نہ ہی راستہ کا درست علم، اور سفر بھی بہت مشکلوں بھرا ہے
کوئی محرم راز ہی نہیں ملتا
@سیدہ شگفتہ ، مہ جبین
@نیرنگ خیال​
 

نایاب

لائبریرین
کلام حضرت خواجہ غلام فریدؒ
یہ کافی میرے پسندیدہ ترین کلام میں سے ایک ہے، مجھے بے حد بے حد بے حد پسند ہے
پٹھانے خان نے اسے اتنے خوبصورت انداز میں گایا ہے کہ سرائیکی سے ناواقف احباب بھی اس کے سحر میں گرفتار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے
کیا حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نی مل دا
دل کا میں کیا حال سناؤں؟
کوئی محرم راز ہی نہیں ملتا
منہ دُھوڑ ، مٹی سِر پایُم۔ سارا ننگ نمُوذ ونجایُم
کوئی پُچھن نہ ویہڑے آیا، ہتھوں اُلٹا عالم کِھلدا
کوئی محرم راز نی مِلدا
منہ گرد آلودہ اور سر مٹی بھبھوت ہو گیا، میں نے اپنی ساری عزت اور شان بھی گنوائی
کوئی میرے گھر پوچھنے تک بھی نہ آیا، الٹا زمانہ مجھ پر ہنستا ہے
کوئی محرم رزا ہی نہیں ملتا
آیا بار برہوں سر بھاری ۔لگی ہو ، ہو شہر خواری
اونجیں عمر گزاریُم ساری، نہ پایُم ڈس منزل دا
کوئی محرم راز نی ملدا
میرے سر پہ جدائی کا بھاری بوجھ رکھ دیا گیا۔ اور سارے شہر میں میری بدنامی ہو گئی
ساری عمر میں نے ایسے ہی گزار دی (یعنی بے فائدہ) اور منزل کا راستہ نہ پا سکا
کوئی محرم راز ہی نہیں ملتا
پُنوں ہود نہ کھڑ مکلایا۔ چھڈ کلھڑی کیچ سدھایا
سوہنے جان، پچھان بھلایا، کُوڑا عذر نبھایُم گِھل دا
کوئی محرم راز نی ملدا
شہزادہ پنوں نے تو کچاوے میں سوار ہو کر بھی مجھے نہ مکلایا (یعنی جھوٹے منہ بھی ساتھ جانے کا نہ کہا)مجھے اکیلی چھوڑ کر کیچ کو چلا گیا
سوہنے نے تو جان پہچان بھی بھلا دی (یعنی پیار کی لاج بھی نہ رکھی)میں نےجھوٹا عذر نبھایا کہ مجھے نیند آ گئی تھی
کوئی محرم رزا نہیں ملتا
دل پریم نگر دوں تانگھے، جتھاں پینڈے سخت اڑانگے
نہ یار فرید ؔ نہ لانگھے، ہے پندھ بہوں مشکل دا
کوئی محرم راز نی ملدا
میرا دل محبت کے شہر کی طرف کھنچتا ہے۔ جہاں بہت سخت مصیبتیں اور رکاوٹیں ہیں
نہ کوئی ہمسفر ہے ، اور نہ ہی راستہ کا درست علم، اور سفر بھی بہت مشکلوں بھرا ہے
کوئی محرم راز ہی نہیں ملتا
@برگ​
واہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ
لاجواب
بہت خوب غالب صغیر جی
 

برگ حنا

محفلین
کلام حضرت خواجہ غلام فریدؒ
یہ کافی میرے پسندیدہ ترین کلام میں سے ایک ہے، مجھے بے حد بے حد بے حد پسند ہے
پٹھانے خان نے اسے اتنے خوبصورت انداز میں گایا ہے کہ سرائیکی سے ناواقف احباب بھی اس کے سحر میں گرفتار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے
کیا حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نی مل دا
دل کا میں کیا حال سناؤں؟
کوئی محرم راز ہی نہیں ملتا
منہ دُھوڑ ، مٹی سِر پایُم۔ سارا ننگ نمُوذ ونجایُم
کوئی پُچھن نہ ویہڑے آیا، ہتھوں اُلٹا عالم کِھلدا
کوئی محرم راز نی مِلدا
منہ گرد آلودہ اور سر مٹی بھبھوت ہو گیا، میں نے اپنی ساری عزت اور شان بھی گنوائی
کوئی میرے گھر پوچھنے تک بھی نہ آیا، الٹا زمانہ مجھ پر ہنستا ہے
کوئی محرم راز ہی نہیں ملتا
آیا بار برہوں سر بھاری ۔لگی ہو ، ہو شہر خواری
اونجیں عمر گزاریُم ساری، نہ پایُم ڈس منزل دا
کوئی محرم راز نی ملدا
میرے سر پہ جدائی کا بھاری بوجھ رکھ دیا گیا۔ اور سارے شہر میں میری بدنامی ہو گئی
ساری عمر میں نے ایسے ہی گزار دی (یعنی بے فائدہ) اور منزل کا راستہ نہ پا سکا
کوئی محرم راز ہی نہیں ملتا
پُنوں ہود نہ کھڑ مکلایا۔ چھڈ کلھڑی کیچ سدھایا
سوہنے جان، پچھان بھلایا، کُوڑا عذر نبھایُم گِھل دا
کوئی محرم راز نی ملدا
شہزادہ پنوں نے تو کچاوے میں سوار ہو کر بھی مجھے نہ مکلایا (یعنی جھوٹے منہ بھی ساتھ جانے کا نہ کہا)مجھے اکیلی چھوڑ کر کیچ کو چلا گیا
سوہنے نے تو جان پہچان بھی بھلا دی (یعنی پیار کی لاج بھی نہ رکھی)میں نےجھوٹا عذر نبھایا کہ مجھے نیند آ گئی تھی
کوئی محرم راز نہیں ملتا
دل پریم نگر دوں تانگھے، جتھاں پینڈے سخت اڑانگے
نہ یار فرید ؔ نہ لانگھے، ہے پندھ بہوں مشکل دا
کوئی محرم راز نی ملدا
میرا دل محبت کے شہر کی طرف کھنچتا ہے۔ جہاں بہت سخت مصیبتیں اور رکاوٹیں ہیں
نہ کوئی ہمسفر ہے ، اور نہ ہی راستہ کا درست علم، اور سفر بھی بہت مشکلوں بھرا ہے
کوئی محرم راز ہی نہیں ملتا
@برگ حنا​


واقعی بھیا آپ نے ٹھیک کہا ہے کہ یہ اتنی زبردست کافی ہے ایسا اثر انگیز کلام ہے کہ اگرچہ بہت سے الفاظ سے واقفیت نہیں پھر بھی اس کا
اثر بہت بھرپور ہوا دل پر ۔ ۔
اور پھر اس کی اصل معنویت سے لطف اندوز ہونے میں ترجمے نے خوب متاثر کیا اور اس میں موجود گہرائی ،اس میں موجود درد اور پیغام کو خوب واضح کیا
بہت خوب بھیا ۔ ۔ ۔(y)
ترجمے کے لیے اور شیئر کرنے کے لیے بہت بہت شکریہ
خوش اور شاد وآباد رہیں ہمیشہ آمین
 

برگ حنا

محفلین
کلام حضرت شاہ حسینؒ
میں وی جانا، جھوک رانجھن دی
نال میرے کوئی چلے
میں نے بھی رانجھن کے گاؤں جانا ہے، کوئی تو میرے ساتھ چلے
صوفیا کی اصطلاح میں حسنِ مطلق اور محبوبِ حقیقی کیلئے "رانجھن" مستعمل ہے، جیسے کہ حضرت بابا بھلے شاہ سرکار ؒ نے بھی ایک مصرعے میں فرمایا ہے" میرا رانجھن ہن کوئی ہور نی سیو"(سہیلیو! اب میرا محبوب کوئی اور ہے)​
اور رانجھن دی جھوک جانے سے یہاں حضرت شاہ حسینؒ کی مراد موت ہے، کیونکہ صوفیا اللہ اور روح کے درمیان رکاوٹ زندگی کو قرار دیتے ہیں ، اور موت کو وصال کا پیغام اور آزادی کا پروانہ سمجھا جاتا ہے۔​
جیسے کسی صوفی شاعر سے کسی نے پوچھا:۔ "عید ہوسی کڈن؟" (عید کب ہوگی؟)​
اس اللہ کے بندے نے جواب دیا:۔ "یار ملسی جڈن"(جب یار ملے گا)​
دوبارہ سوال ہوا:۔ "یار ملسی کڈن" (یار کب ملے گا)​
جواب ملا:۔ "موت آسی جڈن"(جب موت آئے گی)​
لہذا سمجھا جا سکتا ہے کہ شاہ حسین ؒ نے ایک طرح سے اپنی دیدارِ یار کی خواہش کو بیان کیا ۔ اور ساتھ ہی انسانی فطرت کا ایک پہلو بھی بتا دیا ، کہ انسان اکیلے پن سے گھبراتا ہے ، اس لیے وہ کوئی ہم سفر ڈھونڈ رہے ہیں "نال میرے کوئی چلے" کہہ کر​
پیریں پوندی، منتاں کردی،
جانڑاں تاں پیا کلھے
پاؤں بھی پڑتی رہی ، اور منتیں بھی کرتی رہی، مگر آخرکار مجھے اکیلے ہی جانا پڑا
یہاں بھی زندگی کی ایک کڑوی سچائی بیان ہوئی ہے ، کہ انسان چاہے کتنا ہی ہر دلعزیز یا پیارا کیوں نہ ہو، ہر کسی کو اپنی موت آپ مرنا پڑتا ہے ، کوئی کسی کی آئی نہیں مرتا، اور نہ ہی روح کے اس سفر میں کوئی کسی کا ساتھ دے سکتا ہے۔انسان ساری زندگی اسی تگ ودو میں لگا رہتا ہے ، جسے پاؤں پڑنے اور منتیں کرنے سے تشبیہ دی گئی ہے، اور میرے خیال میں اس سے خوبصورت اور موزوں تشبیہ کوئی اور نہیں ہو سکتی۔انسان کو پتا ہی نہیں کہ وہ خواہ مخواہ میں پاؤں پڑنے اور منتیں کرنے کے بے فائدہ اور لاحاصل عمل میں الجھ کر اپنے اصل مقصد سے دور ہوتا جاتا ہے​
نیں وی ڈونگھی، تُلہ پرانا
شینہاں پتن ملے
دریا بھی بہت گہرا ہے ، اور تُلہ بھی پرانا ہے(یعنی ناقابلِ اعتبار ہے)
اور ببر شیر دریا کے دوسرے کنارے (پتن) پر گھات لگائے بیٹھے ہیں
نیں دراصل سرائیکی میں گہری ندی کو کہا جاتا ہے ، میرے خیال میں اس سے مراد قبر ہے​
کیونکہ قبر چھ فٹ گہرائی سے شروع ہوتی ہے،​
اس طرح اس کا مطلب بنے گا کہ قبر بہت گہری ہے ، اور انسانی جسم بہت ہی پرانا اور بوسیدہ ہے ، یعنی اس لحاظ سے ناقابلِ اعتبار ہے کہ نجانے یہ بوسیدہ جسم منزل تک پہنچنے کے سفر میں ساتھ دے پائے گا یا نہیں ۔اور ببر شیروں سے مراد منکر نکیر نامی دو فرشتے ہیں ، جو کہ قبر میں حساب کتاب کیلئے آتے ہیں اور احادیث شریف کے مطابق ان کی شکل انسان کے اعمال کے مطابق ہوگی ، یعنی نیک لوگوں کیلئے وہ خوبصورت پیکر میں آئیں گےاور برے لوگوں کیلئے ان کی صورت خوفناک اور دہشت ناک ہوگی۔​
انسان ساری زندگی جسم پالنے میں لگا رہتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ جسم نے اسی دنیا میں رہ جانا ہے ، جبکہ اگلی دنیا کا سفر روح کو طے کرنا ہے، اور نادان بجائے روح کو مضبوط کرنے کے الٹا جسم کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ اور اس بات سے بھی بے پرواہ ہے کہ محشر میں تو حساب کتاب ہونا ہے مگر قبر میں بھی حساب ہوگا​
جے کوئی متراں دی خبر لے آوے
ہتھ دے ڈیندی آں چھلے
اگر کوئی محبوب کی خیر خبر لے آئے ، تو میں اسے اپنے ہاتھ کے چھلے تک دینے کو تیار ہوں
یہ ایک اور نادر تشبیہ ہے، عورت کیلئے سب سے عزیز ترین متاع اس کا زیور ہوتا ہے ، اور یہاں اپنا زیور اسے دینے کی بات کی جارہی ہے جو محبوب کی خبر لا کر دے گا۔ یعنی کہ زیور سے بھی زیادہ اہم محبوب کا احوال اور اس کی خبر ہے۔​
اس سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں ۔ ایک تو محبوب کی تلاش اور اس کی خیر خبر رکھنا کتنا لازمی ہے ، جس کیلئے اپنے ہاتھ میں پہنے چھلے تک دئیے جا سکتے ہیں​
اور دوسری آپ خود سوچ سکتے ہیں ، میں نے لکھ دی تو مجھ پر لعن طعن شروع ہو جائے گی​
رانجھن یار طبیب سُنیدا
مین تن درد ، اولے
ایک رانجھن نام کے طبیب کی مشہوری سنی ہے
میرے جسم میں بھی عجیب و غریب درد ہیں
اس شعر میں وہی بات ہوئی ہے جو غالبؔ نے" ڈبویا مجھ کو ہونے نے" میں بیان کی ہے​
کہ عشق کے مریض کا علاج صرف ا ور صرف محبوب سے وصال ہے، جدائی اور دوری درد کو بڑھا دیتے ہیں​
کہے حسین فقیر نمانا
سائیں سنیہوڑے گھلے
بے چارا حسینؒ فقیر عرض کرتا ہے ، کہ اب سائیں (مالک) بلاوا بھیجے
اس شعر میں بھی اسی خواہش کا اظہار ہوا ہے۔ کہ اب مالک ہمیں اپنے پاس بلا لے، کہ یہ جدائی کا درد سہنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے​
اور اب مزید یہ درد سہنے کی طاقت نہیں رہی​
یہ ترجمہ اور تشریح سراسرفدوی کی اپنی کاوش ہے، اس لیے ہو سکتا ہے کہ کہیں ترجمے میں یا تشریح میں غلطی ہو گئی ہو
جس کیلئے خاکسار پیشگی معذرت خواہ ہے :)

بھیا مجھے یہ کلام بہت پسند ہے اور جب بھی سننے میں آیا ہے تو روح تک میں سرائیت کر گیا ہے
لیکن افسوس کہ سوائے
میں وی جانا، جھوک رانجھن دی
نال میرے کوئی چلے
مجھے مزید کی سمجھ نہیں آتی تھی ۔بس اس کا اثر تھا کہ سمجھ نہ آنے کے باوجود بھی بہت لطف ملا جب بھی سنا
آپ کی کاوش کی بھرپور داد دیتی ہوں بھیا کہ آپ کی بدولت اس کی اصل روح تک رسائی ممکن ہوئی اور جب معانی کا در کھلا تو پتا چلا کہ واقعی اگر بنا سمجھے
یہ کلام دل کو بھاتا تھا تو وہ یونہی نہیں تھا
بہت شکریہ بھیا اس بہترین کلام کے اثر تک ہماری رسائی ممکن بنانے کے لیے ،آپ کی محنت لگن اور کوششوں کو بھرپور داد پیش کرتی ہوں:)
 

زبیر مرزا

محفلین
جناب کیا حال سناواں دل دا میری پسندیدہ ترین کافی ہے - آپ نے اس کا ترجمہ اور تشریح پیش کرکے بڑی عنایت کی
اور میں وی جانا جھوک رانجھن دی سر جی کیا بات ہے آپ کے انتخاب کی
 
کلام حضرت خواجہ غلام فریدؒ
یہ کافی میرے پسندیدہ ترین کلام میں سے ایک ہے، مجھے بے حد بے حد بے حد پسند ہے
پٹھانے خان نے اسے اتنے خوبصورت انداز میں گایا ہے کہ سرائیکی سے ناواقف احباب بھی اس کے سحر میں گرفتار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے
کیا حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نی مل دا
دل کا میں کیا حال سناؤں؟
کوئی محرم راز ہی نہیں ملتا

منہ دُھوڑ ، مٹی سِر پایُم۔ سارا ننگ نمُوذ ونجایُم
کوئی پُچھن نہ ویہڑے آیا، ہتھوں اُلٹا عالم کِھلدا
کوئی محرم راز نی مِلدا
منہ گرد آلودہ اور سر مٹی بھبھوت ہو گیا، میں نے اپنی ساری عزت اور شان بھی گنوائی
کوئی میرے گھر پوچھنے تک بھی نہ آیا، الٹا زمانہ مجھ پر ہنستا ہے
کوئی محرم راز ہی نہیں ملتا
آیا بار برہوں سر بھاری ۔لگی ہو ، ہو شہر خواری
اونجیں عمر گزاریُم ساری، نہ پایُم ڈس منزل دا
کوئی محرم راز نی ملدا
میرے سر پہ جدائی کا بھاری بوجھ رکھ دیا گیا۔ اور سارے شہر میں میری بدنامی ہو گئی
ساری عمر میں نے ایسے ہی گزار دی (یعنی بے فائدہ) اور منزل کا راستہ نہ پا سکا
کوئی محرم راز ہی نہیں ملتا
پُنوں ہود نہ کھڑ مکلایا۔ چھڈ کلھڑی کیچ سدھایا
سوہنے جان، پچھان بھلایا، کُوڑا عذر نبھایُم گِھل دا
کوئی محرم راز نی ملدا
شہزادہ پنوں نے تو کچاوے میں سوار ہو کر بھی مجھے نہ مکلایا (یعنی جھوٹے منہ بھی ساتھ جانے کا نہ کہا)مجھے اکیلی چھوڑ کر کیچ کو چلا گیا
سوہنے نے تو جان پہچان بھی بھلا دی (یعنی پیار کی لاج بھی نہ رکھی)میں نےجھوٹا عذر نبھایا کہ مجھے نیند آ گئی تھی
کوئی محرم راز نہیں ملتا
دل پریم نگر دوں تانگھے، جتھاں پینڈے سخت اڑانگے
نہ یار فرید ؔ نہ لانگھے، ہے پندھ بہوں مشکل دا
کوئی محرم راز نی ملدا
میرا دل محبت کے شہر کی طرف کھنچتا ہے۔ جہاں بہت سخت مصیبتیں اور رکاوٹیں ہیں
نہ کوئی ہمسفر ہے ، اور نہ ہی راستہ کا درست علم، اور سفر بھی بہت مشکلوں بھرا ہے
کوئی محرم راز ہی نہیں ملتا
@سیدہ شگفتہ ، مدیحہ گیلانی
بہت شکریہ چھوٹے غالب صاحب ! اس میں کوئی شک نہیں کہ سرائیکی زبان کا یہ عارفانہ کلام سب سے زیادہ پڑھا .سنا اور ترجمہ کیا جانے والا ہے .
جب جب بھی اسے پڑھا اور سنا ہے اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے .مرے بابا سائیں خواجہ صاحب کے بڑے مرید ہیں اور انہیں خواجہ صاحب کا یشتر کلام زبانی یاد ہے
جسے وہ ہمارے ساتھ شئیر بھی کرتے ہیں ؛؛کلام کے تو کیا ہی کہنے لیکن اپ نے بھی اس کا ترجمہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی.بہت سی داد و تحسین اپ کے لئے . ٹیگ کیے جانے پر ممنون ہوں
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
ذرا اس تصویر کو دیکھ کر، درج ذیل دوہڑے کو محسوس کیجئے
530025_367091693331206_1200946704_n.jpg
اساں بال محتاج فقیراں دے ساڈے ڈھول ٹھکانرے نِیں ھوندے

جِتھ نندر آوے اُتھ سم پوندوں،سر ھیٹھ سرھانڑے نِیں ھوندے

کِتھوں روٹی پِن،کِتھوں لسی پِن،مٹ نال مدھانڑے نِیں ھوندے

اساں محسنؔ ڈینھ دے گول آندوں،ول شام دے دانڑے نِیں ھوندے
ترجمہ
پیارے ! ہم محتاج فقیروں کے بچے ہیں، ہمارے ٹھکانے نہیں ہوتے
جہاں نیند آ جائے، سو جاتے ہیں، ہمارے سر کے نیچے تکیے نہیں ہوتے
کہیں سے روٹی بھیک میں ملی، کہیں سے لسی بھیک لی، ہمارے ذاتی مٹکے اور مدھانی نہیں ہوتے
(یعنی سامان نہیں ہوتا)
محسن! ہم دن کو تو ڈھونڈ کے (بھیک مانگ کے) لے آتے ہیں،پھر شام کیلئے دانے نہیں ہوتے
 

نایاب

لائبریرین
ضمیر پر دستک دیتا کلام ۔
بلا شبہ بے نیاز ہے وہ ذات پاک
جو اپنے بندوں کو عجب عجب طریقے سے آزماتی ہے ۔
بہت خوب شراکت غالب صغیر جی
 

مہ جبین

محفلین
مجھے یہ زبان تو سمجھ نہیں آتی لیکن چھوٹے بھائی کے ترجمے اور تشریح نے اسے میرے لئے سمجھنا آسان کر دیا
بہت اچھا لگا پڑھ کر اور ترجمے سے سمجھ کر

بھائی چھوٹاغالبؔ تمہارا بہت بہت شکریہ

سدا خوش رہو
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
ذرا اس تصویر کو دیکھ کر، درج ذیل دوہڑے کو محسوس کیجئے
530025_367091693331206_1200946704_n.jpg
اساں بال محتاج فقیراں دے ساڈے ڈھول ٹھکانرے نِیں ھوندے
جِتھ نندر آوے اُتھ سم پوندوں،سر ھیٹھ سرھانڑے نِیں ھوندے
کِتھوں روٹی پِن،کِتھوں لسی پِن،مٹ نال مدھانڑے نِیں ھوندے
اساں محسنؔ ڈینھ دے گول آندوں،ول شام دے دانڑے نِیں ھوندے
ترجمہ
پیارے ! ہم محتاج فقیروں کے بچے ہیں، ہمارے ٹھکانے نہیں ہوتے
جہاں نیند آ جائے، سو جاتے ہیں، ہمارے سر کے نیچے تکیے نہیں ہوتے
کہیں سے روٹی بھیک میں ملی، کہیں سے لسی بھیک لی، ہمارے ذاتی مٹکے اور مدھانی نہیں ہوتے
(یعنی سامان نہیں ہوتا)
محسن! ہم دن کو تو ڈھونڈ کے (بھیک مانگ کے) لے آتے ہیں،پھر شام کیلئے دانے نہیں ہوتے
بقول شاکر
اساں پیلے پتر درختاں دے
ساکوں راہندائے خوف ہواواں دا

جناب کمال ترجمہ کر دیا ہے۔ اللہ پاک آپکو خوش و خرم رکھے
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
مجھے یہ زبان تو سمجھ نہیں آتی لیکن چھوٹے بھائی کے ترجمے اور تشریح نے اسے میرے لئے سمجھنا آسان کر دیا
بہت اچھا لگا پڑھ کر اور ترجمے سے سمجھ کر

بھائی چھوٹاغالبؔ تمہارا بہت بہت شکریہ

سدا خوش رہو

شکریہ آپی جی
اب آپ یہاں آنا اپنا معمول بنا لیں:angel:
چهوٹا غالب بھائی، خدا آپ کو شاد رکھے۔ سرائیکی کی مٹھاس تو فارسی کی طرح مشہورِ زمانہ ہے۔

بہت شکریہ پیارے بھائی
بالکل ٹھیک کہا آپ نے ، سرائیکی اپنی مٹھاس میں لاثانی ہے
یہ آپ کا اپنا تھریڈ ہے ، یہاں ضرور آیا کریں

بقول شاکر
اساں پیلے پتر درختاں دے
ساکوں راہندائے خوف ہواواں دا

جناب کمال ترجمہ کر دیا ہے۔ اللہ پاک آپکو خوش و خرم رکھے

بہت شکریہ سائیں پسند کرنے کا ، اور حوصلہ افزائی کا
اللہ آپ کو بھی سدا خوش و خرم رکھے
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
ذرا اس تصویر کو دیکھ کر، درج ذیل دوہڑے کو محسوس کیجئے
530025_367091693331206_1200946704_n.jpg
اساں بال محتاج فقیراں دے ساڈے ڈھول ٹھکانرے نِیں ھوندے
جِتھ نندر آوے اُتھ سم پوندوں،سر ھیٹھ سرھانڑے نِیں ھوندے
کِتھوں روٹی پِن،کِتھوں لسی پِن،مٹ نال مدھانڑے نِیں ھوندے
اساں محسنؔ ڈینھ دے گول آندوں،ول شام دے دانڑے نِیں ھوندے
ترجمہ
پیارے ! ہم محتاج فقیروں کے بچے ہیں، ہمارے ٹھکانے نہیں ہوتے
جہاں نیند آ جائے، سو جاتے ہیں، ہمارے سر کے نیچے تکیے نہیں ہوتے
کہیں سے روٹی بھیک میں ملی، کہیں سے لسی بھیک لی، ہمارے ذاتی مٹکے اور مدھانی نہیں ہوتے
(یعنی سامان نہیں ہوتا)
محسن! ہم دن کو تو ڈھونڈ کے (بھیک مانگ کے) لے آتے ہیں،پھر شام کیلئے دانے نہیں ہوتے

بہترین اویس بھائی !
 
Top