دوسری عورت

نور وجدان

لائبریرین
مٹھو پندرہ سال کا بچہ تھا۔ میٹرک میں ابھی ابھی داخلہ لیا تھا۔ پڑھائی میں تو وہ ٹھیک تھا۔ کچھ دنوں سے اس میں آنے والی تبدیلیوں کو اس کا باپ محسوس کررہا تھا۔ بچپن سے جوانی کی سرحد میں قدم رکھے دوسرا سال تھا ۔ اس کی سوچ گُلی ڈنڈے سے ہوتی اپنی جسمانی تبدیلیوں کا موازنہ کرتے رہنے میں مصروف رہنے لگی ۔پڑھائی کرتے ہوئے اس کی نظریں کتاب کے بجائے برابر والی دیوار کو پار کرتے ہوئے دو سایوں پر محو رہنے لگیں جو زمان ومکان سے بے پروا قدرت کے حسین نظاروں میں کھوئے رہتے تھے۔

سندر ناتھ جی نواحی مندر سے ملحق گھر تھا۔ قیام پاکستان کے بعد کچھ ہندؤں نے یہاں رہنا مناسب سمجھا۔ روازنہ اٹھ کر مندر میں جاتا اور بھگوان کے سامنے اپنی آشاؤں کے ڈھیر سارے سندیپ رکھتا ۔ بھگوان اس کی آشا سننے کے بعد مسکرانے پر اکتفاء کرتا ۔ اور وہ گھنٹی بجا کے گھر کی طرف لوٹ جاتا ۔ مسلمانوں کے درمیان سندر ناتھ اکیلا نہیں رہتا تھا۔ اس کو پورا خاندان رہتا تھا۔ سندر ناتھ اکثر سوچا کرتا تھا کہ مسلمانوں اور ہندؤں کے درمیان فرق تو کوئی نہیں ہے ۔ انہوں نے ان دیکھے خدا بنالیے ہیں ۔ اور ہم دیکھے ہوئے خدا کی پوجا کرتے ہیں ۔ اس کے گھر کے سامنے والا گھر اس کے رشتہ دار کا تھا ۔ روزانہ وہ چوبارے کی کھڑکی سے کھڑے ہوکر ان کے صحن اور کمرے دیکھا کرتا تھا۔وہ ان حسین مناظر کو کیمرے کی آنکھ میں بند کرلیا کرتا کہ رات کے سناٹے میں مے نوش کرنے کا لُطف اور ہوتا ہے ۔دنیا میں کہیں باغ ہوتے ہیں تو کہیں باغیچے ۔۔۔ !!! اس کی نظریں دیوار پار صحن میں صنم خانے کو دیکھتی تھیں جہاں روح کی آبیاری پتھر پوج کر کی جاتی تھی ۔

مٹھو کا اصل نام گوپی ناتھ تھا۔ اس کی ماں اس کی پیدائش پر ہی دنیا چھوڑ کر جاچکی تھی ۔ اس لیے وہ چاہتا تھا مٹھو کی تربیت میں کوئی کوتاہی نہیں رہ جائے ۔ یونہی ایک دن وہ گم صم چوبارے کی کھڑکی سے کھڑا سامنے والے گھر کے منظر سے لطف اندوز ہورہا تھا ۔بابا مجھے بھی ایسا ہی کرنا ہے۔۔۔! مجھے پڑھنا نہیں ہے۔۔! میرا بھی دل کرتا ہے ایسا کرنے کو۔۔۔۔!

سندرناتھ نے مٹھو کو سمجھا بجھادیا اور اب اس نے سامنے والے گھر میں تاکا جھانکی کرنے میں احتیاط برتنا شروع کردی ۔ ایک دن اس نے اس گھر میں دو خواتین دیکھیں ۔ دونوں ایک دوسرے کے کچھ لگتی تھیں ۔ ان میں سے ایک نے لفافہ نکال کر سامنے والا کو تھمایا۔ سندر ناتھ نے اپنے پیچھے مڑکر دیکھا اور اطمینان کرنا چاہا کہ مٹھو اس کے پیچھے تو نہیں ۔ مٹھو اس کے پیچھے نہیں تھا ، پریشان ہوتے مٹھو کو آوز دینے لگا ۔
مٹھو۔۔!
مٹھو بیٹا۔۔۔!

دوسرے پل اک کھسیانی مسکراہٹ ہونٹوں پر عود آئی کہ جب اسے یاد آیا کہ وہ حسین مناظر قلمبند کرنے میں اتنا محو تھا کہ کل ہی تو اس نے پڑھائی دوست کے ساتھ کرنے کی اجازت مانگی تھی اور ساتھ میں آگاہ کیا کہ وہ اب روز احمد کے ساتھ پڑھا کرے گا۔سندر ناتھ سوچنے لگا کہ دوسری عورت کا کیا کام ہوگا۔۔۔ ! پھر اس کی تمام سوچیں ایک بند گلی میں آکر بند ہوگئیں۔

احمد اور گوپی کو دوست بنے چند دن ہوئے تھے مگر یوں لگتا تھا کہ دونوں کی برسوں سے دوستی ہے ۔ آج وہ گُلاب مارکیٹ جارہے تھے جہاں کا دُکاندار احمد کو پہلے سے جانتا تھا۔۔ سولہ سالہ لڑکے کے منہ سے پان کی پیکیں ہونٹوں کو لال بنائے ہوئے تھیں، بڑھے ہوئے سر کے بال جو گردن کو اک طرف تو دوسری طرف ماتھے کو چھو رہے تھے ، اک طرف وہ پان منہ میں دبائے بولتا اور دوسری طرف طرف ماتھے پر آنے والی بالوں کو جھالر کو پیچھے کرتا گوپی سے پوچھتا ۔۔

ہاں بھئ ! بتا میں سلمان خان لگ رہا ہوں ؟ دیکھ میرے بازو کی مچھلیاں سلمان خان کی طرح ہیں؟ گوپی نے اس کے منحنی بازو دیکھے جو گوشت کی ایک پتلی سی لائن رکھے بازو ہونے کا حق ادا کررہے تھے ۔۔

دکان پر پہنچ کر اس نے گُلاب کو سونگھا اور پھر گوپی کو اشارہ کیا۔۔ گوپی نے گجرہ خالص دیسی انداز میں چوما اور پھر سونگھا اور دونوں ساتھ ہولیے ۔۔ وہ اب پھر گھر کے راستے پر گامزن تھے مگر ان کی منزل اور تھی ۔ لکڑی کا چھوٹا سا دروازہ کھٹکھٹایا جس کا دروازہ دیمک لگتے لکڑی کو چاٹے جارہا تھا ۔ ایک جگہ اس نے دروازے میں سوراخ کردیا تھا اور کہیں دروازہ سیاہ پڑ چکا تھا۔

آج کافی عرصے بعد سندر ناتھ کے چہرے پر اطمینان تھا کہ اس کا بیٹا پھر سے پڑھائی کرنے لگا ہے۔ رات کا انتظار بے چینی سے کرنے لگا۔ مٹھو کو آنے میں دیر ہوجائے گی !

'اس کا نمبر بھی آف جارہا ہے' اس نے خود کلامی کی ۔ دوپہر کا اُجالا ماند پڑتے پڑتے شام کے گھنے جنگلوں کو آواز دے رہا تھا۔ سندر ناتھ آج بے چینی سے رات کا انتظار کر رہا تھا ۔ یوں انتظار کرتے کرتے شام کے دھندلکے رات کے گھنے سیاہ بادلوں میں کھونے لگے ۔۔۔ سندر ناتھ نے آج بہت چاؤ سے دوپہر کا منظر تازہ کرنے کو ویڈیو کھولی ۔ اس کو ساتھ میں تجسس بھی تھا کہ دوسری عورت کون ہے۔

برگد کے گھنے درخت کے گرد اینٹوں کا دائرہ بنا کے جوڑا گیا تھا ۔۔ اس درخت پر شیش ناگن کا بسیرا تھا ۔ سندر ناتھ ناگن کے نازو انداز دیکھنے میں محو تھا اسے درخت کے پاس دوسرے مرد کا احساس ہوا جو دکھنے میں بمشکل پندرہ سولہ سال کا لگتا تھا جس کے ساتھ دوسری عورت اسی کی جوڑ کی تھی ۔دوسری عورت جاننے کی قیمت بہت بھاری تھی ۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ رات کا انتظار نہیں کر رہا تھا بلکہ رات اس کا انتظار کررہی تھی ۔ دوسرا مرد کوئی نہیں تھا بلکہ اس کا اپنا بیٹا مٹھو تھا۔
 
مجھے کوئی قصہ مختصر کر کے سمجھا دے آخر لکھا کیا ہے :p:ROFLMAO::LOL:
[QUOTE ="عندلیب, post: 1710115, member: 1868"]مجھے بھی۔:)[/QUOTE]
ریشماں جوان ہو گئی, تیر کمان......;)
اور ہاں ساتھ میں مٹهو بهی
نور سعدیہ شیخ
اسے واقعی ہی ایک تفصیلی نظر کی ضرورت ہے.
Between the lines کچھ زیادہ ہو گیا ہے. باقی فٹ ہے.(y)
 
Top