دن گذارے نہ گئے عشق کی بیتابی میں - ریحان اعظمی

حسان خان

لائبریرین
دن گذارے نہ گئے عشق کی بیتابی میں
رات آئی تو رہے عالمِ بے خوابی میں
ٹوٹتا جاتا ہے ہر خواب امیدوں کی طرح
وصل کی تند ہوا ہجر کی سیلابی میں
روک لیتا ہے مجھے کس کی محبت کا فسوں
گھر میں رہنے کے لیے ہر شبِ مہتابی میں
کوچہ گردی مری قسمت میں بہت تھی اس پر
عشق نے رنگ بھرا فطرتِ سیمابی میں
عشق بھی ایسا کہ رکھتا ہے مسلسل مجھ کو
خدشۂ فرقتِ محبوب کی گردابی میں
وائے تقدیر کسی شخص کی چاہت میں رہی
شجرِ جاں پہ خزاں عرصۂ شادابی میں
اب مری آنکھ پہ ریحان وہی عالم ہے
جھیل پہ ہوتا ہے جو موسمِ پایابی میں
(ریحان اعظمی)
 
Top