دل جلوں سے دل جلوں کا رابطہ اچھا لگا - ریحان اعظمی

حسان خان

لائبریرین
دل جلوں سے دل جلوں کا رابطہ اچھا لگا
دو گھڑی مل بیٹھنے کا سلسلہ اچھا لگا
کوئی خوبی تو نہ تھی مجھ میں کہ چاہا جاؤں میں
پھر نجانے کیوں اسے چہرہ مرا اچھا لگا
رات ساری جاگنے کے بعد مجھ کو صبحدم
نیم باز آنکھوں سے اس کا دیکھنا اچھا لگا
بات میری اور مخاطب اس کا ہونا غیر سے
اس کا یہ طرزِ تکلم بھی بڑا اچھا لگا!
سر مرے سینے پہ رکھ کے اس نے شرماتے ہوئے
ساتھ جینے مرنے کا وعدہ کیا، اچھا لگا
اپنے چہرے پر جو دیکھے اسکے ہونٹوں کے نقوش
مدتوں کے بعد مجھ کو آئینہ اچھا لگا
عمر بھر جاگے مگر ریحان اُس شب کی قسم
ساتھ ان کو بھی جگا کر جاگنا اچھا لگا
(ریحان اعظمی)
 
Top