دس ہزاری دورد شریف

اشتیاق علی

لائبریرین
الحمدللہ رب العلمین والصلوٰۃ و السلام علی سید المرسلین امابعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم ط بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ط

محمود غزنوی کی بارگاہ رسالت میں مقبولیت

(محمود غزنوی علیہ رحمۃ القوی دسویں صدی عیسوی میں غزنی کے بہت بڑے بہادر اور عاشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم بادشاہ گزرے ہیں ان کا نام سلطان ناصر الدین ابن سبکتگین تھا، انہوں نے کافی فتوحات حاصل کیں یہاں تک کہ ہندوستان پر 22 بار حملے کئے اور زبردست کامیابیاں حاصل کیں۔)

حضرت سلطان محمود غزنوی علیہ رحمۃ القوی کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں مُدت مدید سے حبیب رب مجید عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی دید کی عید سعید کا آرزو مند تھا قسمت سے گزشتہ رات سرور کائنات، شاہ موجودات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی سعادت ملی۔ حضور مفیض النور، شاہ غیور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو مسرور پاکر عرض کی، یارسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ! میں ایک ہزار درہم کا مقروض ہوں، اس کی ادائیگی سے عاجز ہوں اور ڈرتا ہوں کہ اگر اسی حالت میں مر گیا تو بار قرض میری گردن پر ہوگا۔ رحمت عالم، نور مجسم، شاہ بنی آدم، رسول محتشم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔ محمود سبکتگین کے پاس جاؤ وہ تمہارا قرض اتار دے گا۔ میں نے عرض کی، وہ کیسے اعتماد کریں گے ؟ اگر اُن کیلئے کوئی نشانی عنایت فرما دی جائے تو کرم بالائے کرم ہوگا۔ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جاکر اس سے کہو، اے محمود ! تم رات کے اول حصے میں تیس ہزار (30000) ہزار بار درود پڑھتے ہو اور پھر بیدار ہو کر رات کے آخرے حصے میں مذید تیس ہزار (30000) بار پڑھتے ہو۔ اس نشانی کے بتانے سے (انشاءاللہ عزوجل) وہ تمہارا قرض اُتار دے گا۔ سلطان محمود علیہ رحمۃ اللہ الودود نے جب شاہ خیرالانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا رحمتوں بھرا پیغام سنا تو رونے لگا اور تصدیق کرتے ہوئے اُس کا قرض اُتار دیا اور ایک ہزار درہم مذید پیش کئے۔ وزراء وغیرہ متعجب ہو کر عرض گزار ہوئے ! عالیجاہ اس شخص نے ایک ناممکن سی بات بتائی ہے اور آپ نے بھی اس کی تصدیق فرمادی حالانکہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں آپ نے کبھی اتنی تعداد میں درود شریف پڑھا ہی نہیں اور نہ ہی کوئی آدمی رات بھر میں ساٹھ ہزار (60000) بار درود شریف پڑھ سکتا ہے۔ سلطان محمود علیہ رحمۃ اللہ الودود نے فرمایا ! تم سچ کہتے ہو لیکن میں نے علمائے کرام سے سنا ہے کہ جو شخص دس ہزاری دورد شریف ایک بار پڑھ لے اُس نے گویا دس ہزار بار دورد شریف پڑھے۔ میں تین بار اول شب میں اور تین بار آخر شب میں دس ہزاری درود شریف پڑھ لیتا ہوں۔ اس طرح سے میرا گمان تھا کہ میں ہر رات ساٹھ ہزار بار درود شریف پڑھتا ہوں۔ جب اس خوش نصیب عاشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے شاہ خیر الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا رحمتوں بھرا پیام پہنچایا، مجھے اس دن ہزاری درود شریف کی تصدیق ہو گئی، اور گریہ کرنا (یعنی رونا) اس خوشی سے تھا کہ عُلمائے کرام کا فرمان صحیح ثابت ہوا کہ رسول غیب دان، رحمت عالمیان صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اس پر گواہی دی ہے۔ (ملخص از:۔ تفسیر روح البیان ج7 صفحہ 234 مکتبہ عثمانیہ کوئٹہ) اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔
صلوا علی الحبیب ! صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد

دس ہزاری دورد شریف

اَللّٰھُمَ صَلِ عَلٰی سَیِدِ نَا مُحَمَّدٍ مَا اختَلَفَ المَلَوَانِ وَتَعَاقَبَ العَصرَانِ وَ کَرَّ الجَدِیدَانِ وَاستَقَلَّ الفَرقَدَانِ وَ بَلِغ رُوحَہ وَاَروَاحَ اَھلِبَیتِہ مِنَّا التَّحِیَّۃَ وَ السَّلاَمَ وَبَارِک وَ سَلِم عَلَیہِ کَثِیراً۔

ترجمہ:۔ اے اللہ عزوجل ہمارے سردار محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) پر دُرود بھیج جب تک کہ دن گردش میں رہیں اور باری باری آئیں صبح و شام، اور باری باری آئیں دن رات، اور جب تک کہ دو ستارے بُلند ہیں۔ اور ہماری طرف سے آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی اور اہلبیت (رضوان اللہ تعالٰی علیھم اجمعین) کی ارواح کو سلام پہنچا اور برکت دے اور ان پر بہت سلام بھیج۔

(بحوالہ :۔ نیو فیضان سنت (تخریج شدہ)دس ہزاری دورد شریف
 

شاکر

محفلین
ناگوار خاطر نہ ہو تو عرض ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ اپنی زندگی میں‌دس ہزاری درود شریف صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سکھانا بھول گئے تھے؟؟ کیا کسی امتی کے خواب پر بھی اعتماد کرتے ہوئے دین میں اضافہ کیا جا سکتا ہے؟؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت شدہ درود پڑھنے ہی میں‌فوز و فلاح ہے۔ باقی اپنے الفاظ‌میں کوئی جیسے چاہے پڑھے لیکن اس کا ثواب گنوانا یا اسے دیگر پر بلا دلیل فوقیت دینا کوئی لائق تحسین عمل نہیں۔
 

ماسٹر

محفلین
میری نظر میں تو درود شریف پڑھتے وقت سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ انسان پورے جذبہ اور محبت سے ایک ایک لفظ ادا کرے -
" رٹے " کی طرح زیادہ تعداد میں پڑھنا زیادہ اھمیت نہیں رکھتا -
 
Top