خداؤں کے بازار میں۔۔۔۔ایم بلال کے بلاگ سے

بسم اللہ الرحمن الرحیم
وقت آن پہنچا ہے۔ ”خداؤں“ کا بازار سج چکا ہے۔ لوگ بولیاں لگا رہے ہیں۔ سڑکوں پر بڑی چہل پہل ہے۔ ایک ”خدا“ کا سورج شمال سے طلوع ہو رہا ہے تو دوسرے کا جنوب سے۔ کچھ ”خدا“ آپس میں اتحاد کر کے باقی ”خداؤں“ کو مات دینا چاہتے ہیں۔ ”خداؤں“ کی اس جنگ میں مارے ہمیشہ عام انسان جاتے ہیں۔ کوئی فیصلہ کرے نہ کرے مگر میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں ”خدا“ کو ووٹ نہیں دوں گا۔ بہرحال ووٹ تو میں ضرور دوں گا اور ان شاء اللہ ان ”خداؤں“ کے خلاف دوں گا۔
میں نے دیکھا ہے کہ ”خداؤں“ کے بازار میں میلہ لگا ہوا ہے۔ کوئی چھوٹا ”خدا“ ہے اور کوئی بڑا اور کوئی بہت بڑا۔ ”خداؤں“ نے دکانیں اور ریڑیاں سجا رکھی ہیں۔ جس کی جتنی اوقات ہے، وہ اپنی اوقات سے بڑھ کر دکان سجانے کے چکر میں ہے۔ آج کل ان ”خداؤں“ میں عاجزی کوٹ کوٹ کر بھر چکی ہے بلکہ بھیکاری سے بھی زیادہ عاجز ہو چکے ہیں۔ نعرے لگ رہے ہیں کہ ”خدا“ کی قیمت فقط اک ووٹ۔ میں ان ”خداؤں“ سے تنگ آ چکا ہوں۔ اس بازار میں کہیں کوئی انسان نظر ہی نہیں آتا۔ اگر کوئی نظر آ بھی جائے تو وہ بھی اپنے ”خدا“ کو بڑا ثابت کرنے کی بحث میں پڑا ہے۔ میرا سوال تو یہ ہے کہ یہ بازار تو انسانوں کا ہے، کیا یہاں کوئی انسان بھی ہے؟
مختلف دکانوں کے تھڑوں پر مختلف ”خدا“ موجود ہیں۔ ٹاک شوز سے لے کر اخبارات تک ہر کوئی اپنے لیڈر کو خدا ثابت کرنے پر لگا ہے۔ آپ کسی سے پوچھ لو کہ کیا تمہارے لیڈر نے کبھی کوئی غلطی یا گناہ کیا ہے؟ تو جواب یہی ملے گا کہ نہیں نہیں ہمارے لیڈر نے کبھی کوئی غلطی یا گناہ نہیں کیا۔ آپ پوچھ لو کہ فلاں فلاں کام تو اس نے غلط کیا تھا مگر مجال ہے کوئی تسلیم کرے، الٹا آپ کو کہیں گے کہ آپ کو سمجھ نہیں یا آپ کسی دوسرے ”خدا“ سے ملے ہوئے ہو۔
اپنے لیڈر کے اچھے برے کام غرض ہر قسم کے کاموں کی حمایت جاری ہے۔ ہر کوئی ایک طرف اپنے لیڈر کو مختارِ کل بنا رہا ہے اور دوسری طرف اپنے لیڈر کو معصوم یعنی خطاؤں سے پاک سمجھ رہا ہے۔ دوستو! میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ”خطاؤں سے پاک مختار کل“ صرف اور صرف خدا ہوتا ہے جبکہ انسان تو غلطیاں اور خطائیں وغیرہ بھی کرتا ہے، کئی معاملات میں انسان کمزور واقع ہوا ہے، مگر یہاں تو ہر لیڈر پاک صاف ہے اور کسی نے کبھی کوئی خطا نہیں کی۔
کیا کوئی اپنے لیڈر کی ایک چھوٹی سی غلطی بتا سکتا ہے؟ کیا کوئی لیڈر اپنی غلطی یا جرم تسلیم کرنے کی اخلاقی جرأت رکھتا ہے؟ اگر تم سمجھتے ہو کہ تمہارے لیڈر نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی اور تم نے اپنی سوچوں کا مختار کل اپنے لیڈر کو بنا رکھا ہے تو پھر میں یہی کہوں گا کہ تم اپنے لیڈر کو خدا بنا رہے ہو، اگر انسان ہی سمجھتے ہوئے مقابلے بازی کی وجہ سے اپنے لیڈر کی غلطیوں پر پردے ڈال رہے ہو یا اپنے لیڈر کو غلطی سے پاک سمجھ رہے ہو تو پھر میں یہی کہوں گا کہ تم اپنے لیڈر کو پیغمبروں کی صف میں کھڑا کر رہے ہو۔
دوستو! میں ووٹ دینا چاہتا ہوں، میں اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتا ہوں، میں ان ”خداؤں“ کو ووٹ نہیں دے سکتا۔ مجھے بتاؤ کہ یہاں کوئی لیڈر عام انسانوں میں سے بھی ہے یا سارے ”خدا“ ہی ہیں۔ کیا کسی پارٹی کے پاس انسان امیدوار ہے؟ کوئی تو مجھے بتائے کہ اس الیکشن کے دنگل میں کوئی انسان بھی ہے یا یہ دنگل صرف اور صرف خداؤں کا بازار ہی ہے؟

بلال بھائی کے بلاگ سے لیا گیا
 

نایاب

لائبریرین
دوستو! میں ووٹ دینا چاہتا ہوں، میں اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتا ہوں، میں ان ”خداؤں“ کو ووٹ نہیں دے سکتا۔ مجھے بتاؤ کہ یہاں کوئی لیڈر عام انسانوں میں سے بھی ہے یا سارے ”خدا“ ہی ہیں۔ کیا کسی پارٹی کے پاس انسان امیدوار ہے؟ کوئی تو مجھے بتائے کہ اس الیکشن کے دنگل میں کوئی انسان بھی ہے یا یہ دنگل صرف اور صرف خداؤں کا بازار ہی ہے؟
عمران خان ۔ اک سادہ سچا " انسان " دکھ رہا ہے ۔ مفادپرستوں کے سجائے اس بازار میں ۔۔۔۔
 
Top