برائے اصلاح: تمہی سےلے لیے ہیں اس نے رنگ کچھ اُدھار میں

مقبول

محفلین
استادِ محترم الف عین صاحب، دیگر اساتذہ کرام اور احباب سے اصلاح کی درخواست کے ساتھ یہ غزل پیشِ خدمت ہے

تمہی سےلے لیے ہیں اس نے رنگ کچھ اُدھار میں
وگرنہ کیا رکھا ہے خالی آتشِ چنار میں

کبھی نہ دے سکا جسے شکست کوئی جنگ میں
وُہ جان ہار بیٹھا اس کی اک نگہ کے وار میں

برہنگی نہیں ہے ، آئنہ یہ ہے سماج کا
نشانیاں ہیں کچھ مرے لباس تار تار میں

وُہ ایک شخص ہی مرا ہے محورِ حیات بس
گذار دی ہے زندگی بس ایک ہی مدار میں

ہے عشق کے علاوہ میں نے عمر بھر کیا بھی کیا
ہے کون مجھ کو جانتا ، میں ہوں تو کس شمار میں

یہی تو دو علامتیں ہیں اس کے ہونے کی کہیں
ہو دل دھڑکنا تیز، اضافہ خون کے فشار میں

مری رہی ہمیشہ خوبصورتی عزیز اسے
بٹا گیا وہ ہاتھ میری لاش کے سنگھار میں
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
اچھی غزل ہے بھائی مقبول
اگر برا نہ منائیں تو میں کچھ تجاویز پیش کرنا چاہ رہا ہوں

تمہی سےلے لیے ہیں اس نے رنگ کچھ اُدھار میں
وگرنہ کیا رکھا ہے خالی آتشِ چنار میں
•دوسرے مصرع میں اگر 'خالی' کی جگہ 'صرف' لایا جائے؟ اور میرا خیال ہے کہ 'رکھا ہے' کی جگہ 'رکھا تھا' درست رہے گا، 'صرف' یا 'خالی' کی ضرورت یوں بھی محسوس نہیں ہو رہی، کچھ اور لایا جا سکتا ہے تو بہتر ہے، یہ الفاظ خانہ پری کا تاثر دے رہے ہیں

کبھی نہ دے سکا جسے شکست کوئی جنگ میں
وُہ جان ہار بیٹھا اس کی اک نگہ کے وار میں
•جنگ میں شکست صرف ایک شخص کو! ٹھیک نہیں لگتا، کوئی ہاتھ تک نہیں لگا سکا، یا کوئی زیر نہیں کر سکا گرا نہیں سکا جیسی باتیں لائی جائیں تو بہت اچھا ہو، دوسرے مصرع میں الفاظ کی ترتیب بدل دینے سے روانی اچھی ہو جائے گی، مثلاً
وہ ہار بیٹھا....
مزید یہ کہ ردیف یہاں فٹ بیٹھتی ہو معلوم نہیں ہوتی، یعنی 'نگہ کے وار سے' ہونا چاہیے تھا

برہنگی نہیں ہے ، آئنہ یہ ہے سماج کا
نشانیاں ہیں کچھ مرے لباس تار تار میں
•برہنگی کا تلفظ اگر درست ہی ہے تو 'آئینہ ہے یہ سماج' رواں لگتا ہے، دوسرا مصرع عجز بیانی کا شکار لگتا ہے اور دو لختی بھی پیدا کر رہا ہےض

وُہ ایک شخص ہی مرا ہے محورِ حیات بس
گذار دی ہے زندگی بس ایک ہی مدار میں
•پہلے کی روانی بہتر بنائی جا سکتی ہے، اسی طرح دوسرے میں 'عمر' لائیں تو گزارنے کے ساتھ خوب رہے گا، اسی طرح 'میں نے' بھی آ سکتا ہے دوسرے مصرع میں

ہے عشق کے علاوہ میں نے عمر بھر کیا بھی کیا
ہے کون مجھ کو جانتا ، میں ہوں تو کس شمار میں
•پہلا روانی میں بہت کمزور ہے، الفاظ کو آگے پیچھے کر کے دیکھیں بہتر ہو سکتا ہے، اسی طرح دوسرے میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے، الفاظ کی نشست میں
مثال کے طور پر
مجھے ہے کون جانتا، نہ ہوں کسی/نہیں کسی... وغیرہ

یہی تو دو علامتیں ہیں اس کے ہونے کی کہیں
ہو دل دھڑکنا تیز، اضافہ خون کے فشار میں
•پچھلے شعر کی طرح اس کی بھی روانی بہتر بنانے کی ضرورت ہے

مری رہی ہمیشہ خوبصورتی عزیز اسے
بٹا گیا وہ ہاتھ میری لاش کے سنگھار میں
•پہلا مصرع بحر سے خارج؟ لاش کا سنگھار بھی عجیب ہے، ایسا لگتا ہے جیسے صرف قافیہ برتنے کی کوشش ہو۔مصرع بحر میں ہی ہے، مجھ سے ہی کوئی غلطی ہوئی تھی پڑھنے میں! البتہ روانی میں کمزور ضرور ہے
 
آخری تدوین:

مقبول

محفلین
اچھی غزل ہے بھائی مقبول
اگر برا نہ منائیں تو میں کچھ تجاویز پیش کرنا چاہ رہا ہوں

تمہی سےلے لیے ہیں اس نے رنگ کچھ اُدھار میں
وگرنہ کیا رکھا ہے خالی آتشِ چنار میں
•دوسرے مصرع میں اگر 'خالی' کی جگہ 'صرف' لایا جائے؟ اور میرا خیال ہے کہ 'رکھا ہے' کی جگہ 'رکھا تھا' درست رہے گا، 'صرف' یا 'خالی' کی ضرورت یوں بھی محسوس نہیں ہو رہی، کچھ اور لایا جا سکتا ہے تو بہتر ہے، یہ الفاظ خانہ پری کا تاثر دے رہے ہیں

کبھی نہ دے سکا جسے شکست کوئی جنگ میں
وُہ جان ہار بیٹھا اس کی اک نگہ کے وار میں
•جنگ میں شکست صرف ایک شخص کو! ٹھیک نہیں لگتا، کوئی ہاتھ تک نہیں لگا سکا، یا کوئی زیر نہیں کر سکا گرا نہیں سکا جیسی باتیں لائی جائیں تو بہت اچھا ہو، دوسرے مصرع میں الفاظ کی ترتیب بدل دینے سے روانی اچھی ہو جائے گی، مثلاً
وہ ہار بیٹھا....
مزید یہ کہ ردیف یہاں فٹ بیٹھتی ہو معلوم نہیں ہوتی، یعنی 'نگہ کے وار سے' ہونا چاہیے تھا

برہنگی نہیں ہے ، آئنہ یہ ہے سماج کا
نشانیاں ہیں کچھ مرے لباس تار تار میں
•برہنگی کا تلفظ اگر درست ہی ہے تو 'آئینہ ہے یہ سماج' رواں لگتا ہے، دوسرا مصرع عجز بیانی کا شکار لگتا ہے اور دو لختی بھی پیدا کر رہا ہےض

وُہ ایک شخص ہی مرا ہے محورِ حیات بس
گذار دی ہے زندگی بس ایک ہی مدار میں
•پہلے کی روانی بہتر بنائی جا سکتی ہے، اسی طرح دوسرے میں 'عمر' لائیں تو گزارنے کے ساتھ خوب رہے گا، اسی طرح 'میں نے' بھی آ سکتا ہے دوسرے مصرع میں

ہے عشق کے علاوہ میں نے عمر بھر کیا بھی کیا
ہے کون مجھ کو جانتا ، میں ہوں تو کس شمار میں
•پہلا روانی میں بہت کمزور ہے، الفاظ کو آگے پیچھے کر کے دیکھیں بہتر ہو سکتا ہے، اسی طرح دوسرے میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے، الفاظ کی نشست میں
مثال کے طور پر
مجھے ہے کون جانتا، نہ ہوں کسی/نہیں کسی... وغیرہ

یہی تو دو علامتیں ہیں اس کے ہونے کی کہیں
ہو دل دھڑکنا تیز، اضافہ خون کے فشار میں
•پچھلے شعر کی طرح اس کی بھی روانی بہتر بنانے کی ضرورت ہے

مری رہی ہمیشہ خوبصورتی عزیز اسے
بٹا گیا وہ ہاتھ میری لاش کے سنگھار میں
•پہلا مصرع بحر سے خارج؟ لاش کا سنگھار بھی عجیب ہے، ایسا لگتا ہے جیسے صرف قافیہ برتنے کی کوشش ہو۔مصرع بحر میں ہی ہے، مجھ سے ہی کوئی غلطی ہوئی تھی پڑھنے میں! البتہ روانی میں کمزور ضرور ہے
عظیم صاحب ، بہت مہربانی ۔ تجاویز کے لیے ممنون ہوں ۔ پہتری کی کوشش کرتا ہوں
اس میں برا منانے کی ہرگز کوئی بات نہیں بلکہ جو بھی اساتذہ و احباب اپنا قیمتی وقت نکال کر میری حقیر سی تحریر کو بہتر بنانے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں میں ان سب کا بخوشی اور بصد احترام احسان مند ہوں ۔ لہٰذا ہمیشہ دل کھول کر بلا جھجھک میرے کام پر رائے دیا کریں
 

الف عین

لائبریرین
نگہ کے وار میں.. درست ہے، وار سے محاورہ نہیں، نہ جانے عظیم کو یہ کیوں محسوس ہوا۔
آخری شعر کا پہلا مصرعہ بھی بحر میں ہے اگرچہ روانی بے حد مخدوش ہے۔ باقی عظیم سے مکمل متفق ہوں۔ میری مزید اصلاح کی ضرورت نہیں
 

مقبول

محفلین
سر الف عین
عظیم صاحب
تین مہینے کے شاعری سے آرام کے بعد، یہ غزل آپ کے رائے کے تناظر میں کچھ درست کرنے کی کوشش کی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے

تمہی سے لے لیے ہیں اس نے رنگ کچھ اُدھار میں
وگرنہ کیا رکھا تھا خاص آتشِ چنار میں

گرا نہیں سکا جسے کبھی کوئی بھی جنگ میں
وُہ ہار بیٹھا جان اس کی اک نگہ کے وار میں

برہنگی نہیں ہے ، آئنہ ہے یہ سماج کا
سب آتا ہے نظر مرے لباس تار تار میں

وُہ ایک شخص ہی رہا ہے محورِ حیات بس
گذار دی ہے عمر میں نے ایک ہی مدار میں

میں نے علاوہ عشق کے ہے عمر بھر کیا بھی کیا
مجھے ہے کون جانتا ، نہ ہوں کسی شمار میں

یہ بھی ہے اک ، نشانیوں میں اس کے ہونے کی کہیں
کہ لوگ ہیں بس آنے لگتے خود بخود خمار میں

یوں لگتا ہے کھِلے ہوئے ہیں پھول اسے بہت پسند
جو میرے زخم دیکھنے وُہ آتا ہے بہار میں
 
آخری تدوین:
تمہی سے لے لیے ہیں اس نے رنگ کچھ اُدھار میں
وگرنہ کیا رکھا تھا صرف آتشِ چنار میں
وگرنہ تھا بھلا کیا اِس آتشِ چنار میں
اہلِ زبان کے ہاں اُدھار لینا /اُدھار دینا /اُدھار مانگنا/اُدھار سے باز رہنا/اُدھار پر کمربستہ رہنا ہی کافی ہے مگر بعض اوقات اُدھار میں لے لینا/اُدھار میں دیدینا/اُدھار پہ چلنا/ اُدھار پہ چلانابھی رائج ہے اور آپ کے اِس شعر میں مجھے تو اُدھار میں لے لیے ایک کمزوربیانیہ لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔

گرا نہیں سکا جسے کبھی کوئی بھی جنگ میں
وُہ ہار بیٹھا جان اس کی اک نگہ کے وار میں
یہاں بھی’’ وار میں‘‘ دُرست نہیں بلکہ’’ وار سے‘‘ ہونا چاہیے اور اگرردیف کا جبر حائل ہے تو بیانیہ بدلنا ہوگا۔ بیانیے کے ساتھ قافیہ بھی۔۔۔گواہلِ زبان یوں بھی بولتے ہیں کہ ’’۔ اُس نے تو ایک ہی وار میں کام تمام کردیا۔‘‘ ۔’’۔ اُس کے ہروار میں تائیدِ ایزدی کارفرما تھی‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب یہ دیکھیے’’۔۔اُس نے اپنے ایک ہی وارسے اُس کا کام تمام کردیا۔‘‘۔۔’’اُس کے وار سے بچنا۔‘‘

برہنگی نہیں ہے ، آئنہ ہے یہ سماج کا
سب آتا ہے نظر مرے لباس تار تار میں
جب برسر ِ لباس نہ رہے تو پھر تار تار کس شے کے؟

وُہ ایک شخص ہی رہا ہے محورِ حیات بس
گذار دی ہے عمر میں نے ایک ہی مدار میں

میں نے علاوہ عشق کے ہے عمر بھر کیا بھی کیا
مجھے ہے کون جانتا ، نہ ہوں کسی شمار میں
الفاظ کی ترتیب میں خلل ہے

یہ بھی ہے اک ، نشانیوں میں اس کے ہونے کی کہیں
کہ لوگ ہیں بس آنے لگتے خود بخود خمار میں
مبہم بلکہ مہمل

یوں لگتا ہے کھِلے ہوئے ہیں پھول اسے بہت پسند
جو میرے زخم دیکھنے وُہ آتا ہے بہار میں
زخم موسم سے تو مشروط نہیں بلکہ زخمی کو شکر کرنا چاہیے کہ موسمِ بہار میں جب عاشق کے دل میں محبوب سے جدائی کا قلق بڑھ کر دُونا ہوجاتا ہے ، کسی صورت وہ آیا تو سہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اِس بات کو اور زیادہ سنوار کر کہنے کی ضرورت ہے۔۔
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
تمہی سے لے لیے ہیں اس نے رنگ کچھ اُدھار میں
وگرنہ کیا رکھا تھا خاص آتشِ چنار میں
دوسرے مصرع میں ابھی بھی گڑبڑ لگ رہی ہے مجھے، 'خاص' کی نشست بدلنے سے بہتر ہو سکتا ہے، مثلاً
وگرنہ خاص کیا تھا صرف آتش چنار میں
'ادھار میں' کا اعتراض مانگ لائی/لایا کے ساتھ میرا خیال ہے کہ دور ہو جائے گا، ورنہ مجھے قابل قبول لگتا ہے
تمہیں سے مانگ لائی/لایا ہے یہ رنگ کچھ ادھار میں

گرا نہیں سکا جسے کبھی کوئی بھی جنگ میں
وُہ ہار بیٹھا جان اس کی اک نگہ کے وار میں
کبھی نہ مات دے سکا ہے جس کو کوئی جنگ میں
یا اس طرح کا کوئی اور مصرع روانی میں بہتری لانے کے لیے کہا جا سکتا ہے
برہنگی نہیں ہے ، آئنہ ہے یہ سماج کا
سب آتا ہے نظر مرے لباس تار تار میں
شکیل بھائی کی بات میں دم ہے
نیم برہنگی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اس اعتراض کے بعد! پہلے مصرع میں
وُہ ایک شخص ہی رہا ہے محورِ حیات بس
گذار دی ہے عمر میں نے ایک ہی مدار میں
ٹھیک ہو گیا ہے میرے خیال میں تو
میں نے علاوہ عشق کے ہے عمر بھر کیا بھی کیا
مجھے ہے کون جانتا ، نہ ہوں کسی شمار میں
'میں نے' میں حروف کا اسقاط روانی کو متاثر کر رہا ہے، کسی اور انداز میں کہہ کر دیکھیں

یہ بھی ہے اک ، نشانیوں میں اس کے ہونے کی کہیں
کہ لوگ ہیں بس آنے لگتے خود بخود خمار میں
یہاں بھی پہلے میں 'یہ بھی' روانی کو خراب کر رہا ہے، اس کی بھی ترتیب بدلیں یا کسی اور طریقے سے کہیں
دوسرے مصرع کی روانی بھی اچھی نہیں لگ رہی
یوں لگتا ہے کھِلے ہوئے ہیں پھول اسے بہت پسند
جو میرے زخم دیکھنے وُہ آتا ہے بہار میں
یوں لگتا کا ی لگ ت تقطیع ہونا خوب نہیں لگ رہا، یہ بھی کسی اور طرح کہا جا سکتا ہے، مفہوم کے اعتبار سے مجھے قابل قبول لگتا ہے شعر
 

مقبول

محفلین
سر الف عین ، عظیم صاحب، شکیل احمد خان23 صاحب
بہت شکریہ ۔ اب دیکھیے
تمہی سے مانگ لائی ہو گی رنگ کچھ ادھار میں
وگرنہ کیا رکھا تھا صرف آتشِ چنار میں

کبھی نہ مات دے سکا جسے کوئی بھی جنگ میں
وُہ ہار بیٹھا جان اس کی اک نگہ کے وار میں

جو حال بھی مرا ہے ، آئنہ ہے یہ سماج کا
سب آتا ہے نظر مرے لباس تار تار میں

وُہ ایک شخص ہی رہا ہے محورِ حیات بس
گذار دی ہے عمر میں نے ایک ہی مدار میں

علاوہ میں نے عشق کے ہے عمر بھر کیا بھی کیا
کریں بھی میرے کام کو تو لوگ کس شمار میں

کہیں پر اس کے ہونے کی نشانیوں میں ہے یہ ایک
کہ لوگ آتے ہیں وہاں پہ خود بخود خمار میں

ہمیشہ سے ، کھِلے ہوئے ہیں پھول اسے بہت پسند
مرے ہے زخم دیکھنے وُہ آتا ہر بہار میں
یا
وہ میرے زخم دیکھنے ہے آتا ہر بہار میں
 

الف عین

لائبریرین
ان متبادلات پر غور کیا جائے، بباقی تتو ٹھیک ہو گئے
وُہ ایک شخص ہی رہا ہے محورِ حیات بس
وہ ایک شخص ہی رہا ہے میرا محور حیات
علاوہ میں نے عشق کے ہے عمر بھر کیا بھی کیا
سوائے عشق وشق میں نے عمر بھر کیا ہی کیا
کہیں پر اس کے ہونے کی نشانیوں میں ہے یہ ایک
کہ لوگ آتے ہیں وہاں پہ خود بخود خمار میں
واضح نہیں
ہمیشہ سے ، کھِلے ہوئے ہیں پھول اسے بہت پسند
مرے ہے زخم دیکھنے وُہ آتا ہر بہار میں
کہیں کھلے ہوئے ہوں پھول، اسے بہت پسند ہیں
وہ آ رہا ہے میرے زخم دیکھنے بہار میں
 

مقبول

محفلین
ان متبادلات پر غور کیا جائے، بباقی تتو ٹھیک ہو گئے

وہ ایک شخص ہی رہا ہے میرا محور حیات

سوائے عشق وشق میں نے عمر بھر کیا ہی کیا

واضح نہیں

کہیں کھلے ہوئے ہوں پھول، اسے بہت پسند ہیں
وہ آ رہا ہے میرے زخم دیکھنے بہار میں
سر الف عین ، شکریہ ۔ تمام متبادل خوبصورت اور قبول ہیں
یہ شعر دیکھ لیجیے
یہی تو ہے نشانی ایک اس کے ہونے کی کہیں
کہ لوگ بن پیے ہی آتے جاتے ہیں خمار میں
یا
کہ لوگ آتے ہیں وہاں پہ بنپیے خمار میں
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
یہی تو ہے نشانی ایک اس کے ہونے کی کہیں
کہ لوگ بن پیے ہی آتے جاتے ہیں خمار میں
حروف کے اسقاط کی وجہ سے روانی بہت مخدوش ہے، کہیں لفظ کی معنویت بھی واضح نہیں ۔ متبادل میری عقل میں بھی نہیں آ رہا، علامت، وجود، آتے جاتے کی جگہ آ رہے، اس طرح کچھ سوچا جائے
 

مقبول

محفلین
حروف کے اسقاط کی وجہ سے روانی بہت مخدوش ہے، کہیں لفظ کی معنویت بھی واضح نہیں ۔ متبادل میری عقل میں بھی نہیں آ رہا، علامت، وجود، آتے جاتے کی جگہ آ رہے، اس طرح کچھ سوچا جائے
سر الف عین ۔ یہ شعر دیکھیے
مجھے اٹل یقین ہے وہ شخص ہے یہیں کہیں
کہ سارے لوگ آ رہے ہیں بن پیے خمار میں
 

الف عین

لائبریرین
سر الف عین ۔ یہ شعر دیکھیے
مجھے اٹل یقین ہے وہ شخص ہے یہیں کہیں
کہ سارے لوگ آ رہے ہیں بن پیے خمار میں
بہتر ہے
بھائی مقبول صاحب!
ایک تجویز ہے۔
مرا جو خستہ حال ہے ، یہ عکس ہے سماج کا
جھلک رہا ہے جو مرے لباس تار تار میں
اچھی تجویز ہے، پسند آئی
 

مقبول

محفلین
بہتر ہے

اچھی تجویز ہے، پسند آئی
سر الف عین
خورشیداحمدخورشید صاحب

خورشید صاحب سے معذرت کہ مجھے آپ کی عمدہ تجویز کو اکنالج کرنے میں تاخیر ہو گئی۔

میں لباس تار تار کاعشق سے تعلق پیدا کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے پہلے مصرعہ میں کچھ تبدیلی کی ہے۔ اپنی رائے سے نوازیے۔

یہ دشمنانِ عشق کا، یہ عکس ہے سماج کا
جھلک رہا ہے جو مرے لباس تار تار میں
 

الف عین

لائبریرین
پہلا مصرع واضح نہیں ہو رہا
سر الف عین
خورشیداحمدخورشید صاحب

خورشید صاحب سے معذرت کہ مجھے آپ کی عمدہ تجویز کو اکنالج کرنے میں تاخیر ہو گئی۔

میں لباس تار تار کاعشق سے تعلق پیدا کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے پہلے مصرعہ میں کچھ تبدیلی کی ہے۔ اپنی رائے سے نوازیے۔

یہ دشمنانِ عشق کا، یہ عکس ہے سماج کا
جھلک رہا ہے جو مرے لباس تار تار میں
 
سر الف عین
خورشیداحمدخورشید صاحب

خورشید صاحب سے معذرت کہ مجھے آپ کی عمدہ تجویز کو اکنالج کرنے میں تاخیر ہو گئی۔

میں لباس تار تار کاعشق سے تعلق پیدا کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے پہلے مصرعہ میں کچھ تبدیلی کی ہے۔ اپنی رائے سے نوازیے۔

یہ دشمنانِ عشق کا، یہ عکس ہے سماج کا
جھلک رہا ہے جو مرے لباس تار تار میں
سر الف عین
اب دیکھیے
یہ عشق سے سماج کے عناد کا گو عکس ہے
جھلک رہا ہے جو مرے لباس تار تار میں

پہلے مصرعہ میں گو ، تو یا ہی میں سے کیا بہتر ہو گا؟
جناب مقبول صاحب! نئی تجویز

مرا جو خستہ حال ہے یہ عشق کا جنون ہے
جھلک اُسی کی ہے مرے لباسِ تار تار میں
یا
اُسی کی ہے جھلک مرے لباسِ تار تار میں​
 
آخری تدوین:
Top