بابائےصحافت مولانا ظفرعلی خان کی برسی

بابائے صحافت مولا نا ظفر علی خان کی 56 ویں برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ بابائے صحافت مولا نا ظفر علی خان 18 جنوری 1873 میں مولوی سراج الدین احمد کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ آپ نڈر صحافی ، بلند پایہ خطیب ، پر جوش مقرر اور شاعر تھے ۔ 1909 میں والد کی وفات پر زمیندار اخبار کی ادارت سنبھالی ۔ آپکی جرات مندانہ تحریروں کی وجہ سے زمیندار اخبار نے بہت جلد عوام میں اپنی جگہ بنا لی ۔ تحریک پاکستان کے سرگرم رہنما اور بابائے صحافت کا خطاب پانے والے ظفر علی خان 27 نومبر 1956 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور اُنھیں آبائی گاؤں کرم آباد وزیرآباد میں سپرد خاک کیا گیا۔

مولانا ظفر علی خان ۔ از وکیپیڈیا

مولانا ظفر علی خان معروف مصنف، شاعر اور صحافی تھے جو تحریک پاکستان کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کو بابائے اردو صحافت کہا جاتا ہے۔ آپ نے لاہور سے معروف اردو اخبار زمیندار جاری کیا۔
فہرست
ابتدائی حالات

مولانا ظفر علی خان19 جنوری 1873ء میں کوٹ میرٹھ شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مشن ہائی سکول وزیر آباد سے مکمل کی اور گریجویشن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کی۔ کچھ عرصہ وہ نواب محسن الملک کے معتمد (Secretary) کے طور پر بمبئی میں کام کرتے رہے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ مترجم کی حیثیت سے حیدرآباد دکن میں کام کیا اور محکمہ داخلہ (Home Department) کے معتمد کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ اخبار "دکن ریویو" جاري كيا اور بہت سی کتابیں تصنیف کرکے اپنی حیثیت بطور ادیب و صحافی خاصی مستحکم کی۔
زمیندار کی ادارت

1908ء میں لاہور آئے، روزنامہ زمیندار کی ادارت سنبھالی جسے ان کے والد مولوی سراج الدین احمد نے 1903ء میں شروع کیا تھا۔ مولانا کو "اردو صحافت کا امام" کہا جاتا ہے اور زمیندار ایک موقع پر پنجاب کا سب سے اہم اخبار بن گیا تھا۔ زمیندار ایک اردو اخبار تھا جو بطور خاص مسلمانوں کے لیے نکالا گیا تھا۔ اس اخبار نے مسلمانوں کی بیداری اور ان کے سیاسی شعوری کی تربیت کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا باوجود اس حقیقت کے کہ اس کی اشاعت محدود تھی اور مسلمانوں کے پاس نہ صنعت تھی نہ تجارت جس کی وجہ سے اشتہارات کی تعداد اتنی کم تھی کہ اخبار کو چلانا جان جوکھوں کا کام تھا۔ بعض اوقات ایسی صورت بھی پیدا ہو جاتی تھی کہ عملے کو تنخواہ دینے کے لیے پیسے بھی نہ ہوتے تھے۔
کامریڈ اور زمیندار

مولانا نے صحافیانہ زندگی کی شروعات انتہائی دشوار گزار اور ناموافق حالات میں کی۔ اس زمانے میں لاہور اشاعت کا مرکز تھا اور تینوں بڑے اخبار پرتاب ، محراب اور وی بھارت ہندو مالکان کے پاس تھے ۔ اسی دور میں مولانا اور زمیندار نے تحریک پاکستان کے لیے بے لوث خدمات انجام دیں ۔ کامریڈ (مولانا محمد علی جوہر کا اخبار ) اور زمیندار دو ایسے اخبار تھے جن کی اہمیت تحریک پاکستان میں مسلم ہے اور دونوں کے کردار کو بیک وقت تسلیم کیا جانا چاہیے۔ 1934ء میں جب پنجاب حکومت نے اخبار پر پابندی عائد کی تو مولانا ظفر علی خان جو اپنی جرات اور شاندار عزم کے مالک تھے انہوں نے حکومت پر مقدمہ کردیا اور عدلیہ کے ذریعے حکومت کو اپنے احکامات واپس لینے پر مجبور کر دیا۔ اگلے دن انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور ایک طویل نظم لکھی جس کے ابتدائی اشعار یہ ہیں
یہ کل عرش اعظم سے تار آگیا
زمیندار ہوگا نہ تا حشر بند
تری قدرت کاملہ کا یقین
مجھے میرے پروردگار آگیا​
زمیندار اور پنجاب

"جدید مسلم ہندوستان اور قیام پاکستان" (Modern Muslim India and the Birth of Pakistan) میں ڈاکٹر ایس ایم اکرام لکھتے ہیں
وہ جوان ، زور آور اور جرات مند تھے اور نئے سیاسی اطوار کا پرجوش انداز میں سامنا کیا۔ ان کی ادارت میں زمیندار شمالی ہند کا سب سے اثر انگیز اخبار بن گیا اور خلافت تحریک میں ان سے زیادہ فعال کردار صرف علی برادران اور مولانا ابو الکلام آزاد ہی تھے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ پنجاب پاکستان کا واحد صوبہ تھا جس نے اردو کو اپنی زبان کے طور پر اپنایا اور اسے کام کی زبان بنایا باوجود اس کے کہ پنجابی اس صوبے کی مادری زبان ہے اور سب سے زیادہ بولی جاتی ہے۔ پنجابی کا اصل رسم الخط گورمکھی کو مسلمانوں نے اس لیے نہیں اپنایا کہ یہ سکھ مذہب سے جڑا ہوا تھا۔ اس طرح اردو انگریزی کے ساتھ پنجاب کی اہم لکھی جانے والی زبان بن گئی اور دونوں تقریبا ایک جتنی مقدار میں سرکاری اور تعلیمی زبان کے طور پر استعمال ہوتی رہیں۔ پنجاب کے دانشوروں ، لکھاریوں ، شاعروں اور صحافیوں نے، جن میں سر فہرست علامہ اقبال اور مولانا ظفر علی خان تھے ، اردو کی زلف گرہ گیر کو محبت اور توجہ سے اس طرح سنوارا کہ وہ صوبے کی لاڈلی زبان بن گئی ۔ دلی اور لکھنو کے بعد پنجاب نے اردو کی ترقی و ترویج میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کیا۔ اس ضمن میں کتاب"پنجاب میں اردو" از حافظ محمود شیرانی بہت معلوماتی اور علمی تحقیق سے مزین ہے۔
کتابیں

مولانا ظفر علی خان غیر معمولی قابلیت کے حامل خطیب اور استثنائی معیار کے انشائیہ پرداز تھے ۔صحافت کی شاندار قابلیت کے ساتھ ساتھ مولانا ظفر علی خان شاعری کے بے مثال تحفہ سے بھی مالا مال تھے۔ ان کی نظمیں مذہبی اور سیاسی نکتہ نظر سے بہترین کاوشیں کہلاتی ہیں۔ وہ اسلام کے سچے شیدائی، محب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اپنی نعت گوئی کے لیے مشہور و معروف ہیں۔ ان کی شاعرانہ کاوشیں بہارستان، نگارستان اور چمنستان کی شکل میں چھپ چکی ہیں۔ ان کی مشہور کتابیں درج ذیل ہیں
وہ میلہ رام وفا کی شاعری سے بہت متاثر تھے اور ایک نوآموز شاعر کو میلہ رام کا شاعر سنا کر نصیحت بھی کیا کرتے تھے:
توڑتا ہے شاعری کی ٹانگ کیوں اے بے ہنر!
جا سلیقہ شاعری کا سیکھ میلہ رام سے​
 

سید زبیر

محفلین
بابائے صحافت کے کلام سے انتخاب
وزیرستان اور کانگرس
۱۴ مئی ۱۹۴۷​
بھگا لے گئے ہندووں کو پٹھان​
بحکم جناب فقیر "اپی"​
جب اے پی کی یہ خانہ ساز اطلاع​
"ٹریبون" کے کالموں میں چھپی​
تو "ہے رام ہے رام " کا غل مچا​
ہر ایک پرش پر چھاگئی کپکپی​
ملاپ اور پرتاپ نے ایک ساتھ​
حکومت کی مہما کی مال جپی​
{۲}​
ہے کیوں چپ جب آزاد ہے کانگرس​
پھڑکتی نہیں کیوں یہ بھارت کی نس​
ہے ان کی حمایت میں کیوں پس و پیش​
پٹہھا نوں پھ جب بم رہے ہےیں برس​
نہیں ہے جب اس ہاتھ پہ دسترس​
جھکایا ہے جس نے وطن کا کلس​
تو کیوں ہے قیادت کی دل میں ہوس​
تمنا عقابی کی ہو کر مگس​
کسی طرح ہوتی نہیں ٹس سے مس​
ہے کیا وہ بھی انگریزوں کی ہم نفس​
 
Top