اوئے سنگھاڑے

اوئے سنگھاڑے …ہمارے معاشرے میں مذاق اور تضہیک کے طور پر استعمال ہونے والا یہ لفظ جو ہم اکثر ایک دوسرے کو مخاطب کرنے کے لیے بولتے ہیں پانی میں کیچڑ کے نیچے اگنے والا مخروطی شکل کا پھل ہے اور اپنی اس شکل کی وجہ سے ناپسندیدہ لفظ کے طور پر بولا جاتا ہے۔اس پھل کو اردو میںسنگھاڑا اور انگریزی میں Water chestnut کہتے ہیں ۔سردیاں شروع ہوتے ہی منڈیوں اور بازار میںدکانوں پر گاہکوں کی نظر میں آنا شروع ہو جاتا ہے۔​
سنگھاڑا پودے کی جڑوںمیں اگتا ہے (آلو کی فصل کی طرح) اس کی سبز رنگ کی ٹہنیوں پر پتے نہیں اگتے اور یہ ٹہنیاں ۵۔۱ میٹر اونچائی تک جاتی ہیں۔اس کے اندر کا گودا سفیدرنگ کا ہوتا ہے جسے عام طور پر کچا یا ابال کر کھایا جاتا ہے اور پیس کر آٹا بنا کر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ چائنیز کھانوں میں سنگھاڑا کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔​
ان میں کاربوہائیڈریٹس بہت زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں، پروٹین، وٹامن بی، پوٹاشیم اور کاپر بھی کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ کچا سنگھاڑا ہلکا میٹھا اور خستہ ہوتا ہے جب کہ اُبلا ہوا سنگھاڑا اور بھی زیادہ مزیدار اور ذائقہ دار ہو جاتا ہے۔ سنگھاڑے کا ذائقہ بالکل منفرد ہوتا ہے اور اس کے کھانے سے بھوک میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ کچھ ممالک میں سنگھاڑے کو سلاد کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ سنگھاڑے میں موجود کیلوریز دوسری سبزپتوں والی سبزیوں کی نسبت کم ہوتی ہیں تاہم اس میں موجود آئرن، پوٹاشیم، کیلشیم، زنک اور فائبر کی مقدار اس کے استعمال میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔​
سنگھاڑے کے استعمال سے تھکاوٹ دور ہوتی اور جسم میں خون کی ترسیل بہتر ہوتی ہے۔ زچگی کے بعد عورت کے لیے سنگھاڑے کے آٹے کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔ سنگھاڑے کے آٹے کو گوندھ کر جسم کی سوجھی ہوئی جگہ پر لیپ کرنے سے تکلیف رفع ہوتی ہے۔ سنگھاڑے کے گودے سے بنایا ہوا سفوف کھانسی سے نجات دلاتا ہے۔ پانی میں ابال کر پینے سے قبض کی شکایت دور ہوتی ہے۔ معدے اور انتڑیوں کے زخم کے لیے مقوی ہے۔ سنگھاڑے کے استعمال سے بڑھاپے میں یاداشت کم ہونے کے امکانات گھٹ جاتے ہیں۔​
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کسی بھی چیز کا حد سے زیادہ استعمال مضر صحت ہوتا ہے اس لیے سنگھاڑے کا بھی مناسب استعمال کیا جانا چاہیے۔سنگھاڑے کے زیادہ استعمال سے گردے اور پتے میں پتھری بننے کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کمزور مردوں کو سنگھاڑے کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور یہ خواتین کے ماہانہ نظام کے لیے بھی مفید ہیں۔سنگھاڑے کے سفوف میں دودھ یا دہی ملا کر استعمال کرنے سے پیچش سے آرام آتا ہے۔ ان کے استعمال سے دانت چمکدار اور مسوڑھے صحت مند ہوتے ہیں۔​
بشکریہ​
اُردو ڈائجسٹ​
 

تلمیذ

لائبریرین
اچھا مضمون ہے، شاہ جی۔ شراکت کے لئےشکریہ۔
اللہ تعالے کی کوئی نعمت فوائد سے خالی نہیں۔ یہ ہم انسان ہی ہیں جو اپنی فطرت کے باعث ان سے کما حقہ یا درست انداز میں فائدہ نہیں اٹھاتے۔ میں سنگھاڑوں کے موسم میں بڑے شوق سے انہیں خریدتا تھا ان کے 'مغز' یا 'گری' پر نمک لگا کر کھانا بہت لطف دیتا ہے۔ گذشتہ سال میں نے ریڑھی والے سے پوچھا، یار انہیں جب تم ابالتے ہوتو ان کی جلد کالی کیوں ہو جاتی ہے؟ اس نے بتایا کہ ہم اس میں کپڑے رنگنے والا 'کالا کاہی' (ایک تیزابی نوعیت کا رنگ) استعمال کرتے ہیں۔ اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ ان کی مغز میں اس رنگ کا کتنا اثر شامل ہوتا ہوگا اور ہمارے' eatables'۔ کے بارے میں کتنی احتیاط برتی جاتی ہے۔چنانچہ اس کے بعد میرا دل ان سے اچاٹ ہو گیا ہے۔
ویسے اس موضوع پر مختلف اشیأ کی تیاری میں استعمال کئے جانے والے 'شعبدوں'کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔
 
اچھا مضمون ہے، شاہ جی۔ شراکت کے لئےشکریہ۔
اللہ تعالے کی کوئی نعمت فوائد سے خالی نہیں۔ یہ ہم انسان ہی ہیں جو اپنی فطرت کے باعث ان سے کما حقہ یا درست انداز میں فائدہ نہیں اٹھاتے۔ میں سنگھاڑوں کے موسم میں بڑے شوق سے انہیں خریدتا تھا ان کے 'مغز' یا 'گری' پر نمک لگا کر کھانا بہت لطف دیتا ہے۔ گذشتہ سال میں نے ریڑھی والے سے پوچھا، یار انہیں جب تم ابالتے ہوتو ان کی جلد کالی کیوں ہو جاتی ہے؟ اس نے بتایا کہ ہم اس میں کپڑے رنگنے والا 'کالا کاہی' (ایک تیزابی نوعیت کا رنگ) استعمال کرتے ہیں۔ اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ ان کی مغز میں اس رنگ کا کتنا اثر شامل ہوتا ہوگا اور ہمارے' eatables'۔ کے بارے میں کتنی احتیاط برتی جاتی ہے۔چنانچہ اس کے بعد میرا دل ان سے اچاٹ ہو گیا ہے۔
ویسے اس موضوع پر مختلف اشیأ کی تیاری میں استعمال کئے جانے والے 'شعبدوں'کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔
بھائی جی میں خود بہت شوق سے کھاتا ہوں مگر کبھی ریڑھی والے سے لے کر نہیں کھائے ہمیشہ کچے لے کر خود ابال کر کھاتا ہوں
 

تلمیذ

لائبریرین
چلو یہ تو اچھی بات ہے۔ ویسے عمومآ ریڑھیوں پر ہی ملتے ہیں، کبھی کچے لینے کا اتفاق نہیں ہوا۔
 
Top