اصلاح و نقد : نغمہء فطرت سوزاں تو سنادو مطرب !!

فاخر

محفلین
ایک مطلع ایک شعر:
تو سراپا ہے نشہ ، مطرب سوزاں تم ہو
ہجر کی رات میں اب جشنِ چراغاں تم ہو
نغمہء فطرتِ سوزاں تو سنادو مطرب
ساز کی عزت جاں ، اس کے تو خوباں تم ہو
 

الف عین

لائبریرین
یہ مشاعرہ بازوں کی چار لائنیں ہیں کیا؟
مطرب اور سوزاں پسندیدہ الفاظ لگتے ہیں شاید چاہے ان کا مطلب کچھ نکلے یا نہیں
 

فاخر

محفلین
سر در اصل رات میں غزل لکھ رہا تھا ....اس وقت چار لائن ہی ہوئی ......!!! اس کو پوسٹ کردیا ..... تاکہ کچھ اصلاح مل سکے ....
 
Top