قمرآسی

  1. Qamar Shahzad

    غزل: اور اس کے بعد ہمیشہ مجھے عدو سمجھے

    اور اس کے بعد ہمیشہ مُجھے عدو سمجھے مری مراد نہیں دوست ہو بہو سمجھے اگرچہ مادری میری زباں ہے پنجابی پہ شعر اردو میں کہتا ہوں تاکہ تُو سمجھے نہ سنگِ لفظ گرائے سکوت دریا میں کوئی نہیں جو خموشی کی آبرو سمجھے زبانِ حال سے کہتے رہے حذر لیکن تھرکتے جسم نہ اعضاء کی گفتگو سمجھے مجھ ایسے مست...
  2. Qamar Shahzad

    غزل: آج یہ کون مرے شہر کا رستہ بھولا

    آج یہ کون مرے شہر کا رستہ بھُولا دیکھ کر جس کو مرا قلب دھڑکنا بھُولا میں ہی مبہوت نہیں حسنِ فسوں گر کی قسم جس نے دیکھا اسے پلکوں کو جھپکنا بھُولا بھولتا کیسے مرا دل مری جاں کا مالک کون حاکم ہے کہ جو اپنی رعایا بھُولا بھولپن میں کیا اظہارِ محبت اس نے کتنا بھولا ہے، مرا بزم میں ہونا بھُولا...
  3. Qamar Shahzad

    غزل:عکس اس کا کہ مرا حرفِ دعا ہے

    عکس اس کا کہ مرا حرفِ دعا ہے، کیا ہے؟ گرد میرے جو معطر سی فضا ہے، کیا ہے؟ کیوں ہے یہ رزقِ سخن اس کے رہینِ منت وہ مرا رب ہے نہ رازق نہ خدا ہے، کیا ہے؟ اس کی آنکھوں سے ہویدا ہیں فسانے کیسے وہ جو ہاتھوں کی لکیروں میں لکھا ہے، کیا ہے چاند چہرے پہ تغافل کے یہ بادل کیوں ہیں؟ کوئی رنجش ہے؟...
  4. Qamar Shahzad

    غزل:قریہ ءِ جاں پہ کیوں لشکرِ ہجر کا خوف

    قریہ ءِ جاں پہ کیوں لشکرِ ہجر کا خوف طاری کروں وقفِ تعبیرِ خوابِ وصالِ صنم زیست ساری کروں کوئی دعویٰ نہیں اس ہنر میں مجھے، ہاں اگر تُو ملے دستِ لب سے ترے جسم کی لوح پر دستکاری کروں دیکھنا عکسِ جاناں زِ چشمِ تخیل برائے حیات نعمتِ خاص ہے، آبشارِ تشکر کو جاری کروں رشکِ مہتاب اپنی جبینِ...
  5. Qamar Shahzad

    نہ صرف ہم سے گنہگار

    نہ صرف ہم سے گنہگار بھی وہاں ہوں گے انا لھا کے صدا کار بھی وہاں ہوں گے لواءِ حمد کے سائے وہ ہوں گے تخت نشیں تمام بے کس و لاچار بھی وہاں ہوں گے ہمارے دل میں کشش خلد کی بڑھانے کو یہی بہت ہے کہ سرکار بھی وہاں ہوں گے سنا ہے خلد میں ہوں گی سبھی حسیں اشیاء تو کیا مدینے کے بازار بھی وہاں ہوں...
  6. Qamar Shahzad

    اک عکسِ لاوجود سے لپٹا ہوا ہوں میں

    اک عکسِ لا وجود سے لپٹا ہوا ہوں میں جیسا مجھے نہ ہونا تھا ویسا ہوا ہوں میں میرے درختِ جسم کو خوفِ خزاں نہیں اُس معجزاتی ہونٹ کا چوما ہوا ہوں میں پورے کیے ہیں پیار کے سارے لوازمات اب کُن کے انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں میں خود کو تمہارے بعد سمیٹا کچھ اس طرح لگتا نہیں کہیں سے بھی ٹوٹا ہوا ہوں...
  7. Qamar Shahzad

    ایک کے بعد نئی ایک کہانی کھلتی

    ایک کے بعد نئی ایک کہانی کھلتی شکر یہ ہے نہ کھلی گر وہ جوانی کھلتی سب کو ہوتی نہیں محسوس مہکتی مسکان ہر کسی پر تو نہیں رات کی رانی کھلتی ثبت انعام سب اس کے ہیں جگر پر میرے غیر پر کیسے بھلا اس کی نشانی کھلتی تُو مری نرم مزاجی کی بلائیں لیتا دوست تجھ پر جو مری شعلہ فشانی کھلتی وہ سزا مجھ کو...
  8. Qamar Shahzad

    وہ اتنا حسیں،اتنا حسیں، اتنا حسیں ہے

    اس جیسا زمانے میں کوئی اور نہیں ہے وہ اتنا حسیں، اتنا حسیں، اتنا حسیں ہے اس چاند سے آنکھیں نہ مری ہونگی منور درکار انہیں یار فقط تیری جبیں ہے چھایا ہے تخیل پہ مرے تیرا سراپا محسوس یہ ہوتا ہے کوئی پھول قریں ہے وہ حدِ تناظر سے بہت دور ہے، مانو بینائی کہیں اور مری آنکھ کہیں ہے رستوں نے...
  9. Qamar Shahzad

    بڑھتاہے حسنِ یار ملن کے خیال سے

    بڑھتا ہے حسنِ یار ملن کے خیال سے ٹھہرو نمایاں کرتا ہوں اس کو مثال سے رہنے لگی ہے دل میں وہ اک انتہا پسند دھڑکن کی دشمنی ہے تبھی اعتدال سے میں معترف ہوں تیرے سخن کا بھی شاعرہ محفل مگر جوان ہے تیرے جمال سے کم اس کی ہے شگفتگی معلوم ہے مگر چلتی ہے نبض گل پہ ترے احتمال سے تڑپے ہیں جب کہ...
  10. Qamar Shahzad

    جیسے گدڑی میں لعل رکھتے ہیں

    جیسے گدڑی میں لعل رکھتے ہیں ہم تمہارا خیال رکھتے ہیں آپ کو جان چاہیے میری حکم کیجے ، نکال رکھتے ہیں اشک ، آزار ، غم ، جفا ، تیرے سارے تحفے سنبھال رکھتے ہیں یاد کرتے ہیں ان کو فرصت سے کام سب کل پہ ڈال رکھتے ہیں اوج ان کو نصیب ہوتا ہے جو خیالِ زوال رکھتے ہیں قلبِ شیدا ہے اپنے پہلو میں وہ بھی...
Top