معریٰ

  1. راحیل فاروق

    دھماکا

    زندگی کیا ہے؟ تماشا ہے تفنن ہی تو ہے میری اوقات ہے کیا اور ہے کیا تیری بساط مجھے اس بات کا دکھ ہے تجھے اس بات کا دکھ کس قدر مضحکہ انگیز ہیں اس کھیل میں ہم ہے مجھے خون کے رشتوں کے بدل جانے کا غم نفرت اس رنگ سے لگتا ہے تجھے بھی ہے بہت بھوک جو تجھ کو رلاتی ہے مجھے بھی ہے بہت سالِ نو سے بھی تھی...
  2. راحیل فاروق

    غم

    ملٹن کی جنتِ گم گشتہ پڑھنے کے بعد بڑا جی چاہتا تھا کہ اردو میں بھی نظمِ معریٰ کی صنف میں کوئی طویل اور عمدہ نظمِ ہونی چاہیے۔ طویل اور عمدہ کا خیال کچھ عرصہ بعد ترک کر دیا۔ لہٰذا نظم پیشِ خدمت ہے: رات ویران ہے، بہت ویران آسماں لاش ہے، جلی ہوئی لاش جس کے سینے پہ چیونٹیوں کی طرح ایک انبوہ ہے...
Top