چاندنی

  1. چ

    آسیب زدہ نظم

    نظم کہتی ہے یہ آ جا کھیلیں ذرا میں تجھے ڈھونڈ لوں تُو مجھے ڈھونڈنا آئینوں میں کہیں پتھروں کے تلے سانولی دھوپ میں رنگ میں روپ میں ڈھونڈ دریائوں میں تپتے صحرائوں میں ڈھونڈنے سے کہیں نظم ملتی نہیں ہاں مگر ہے یہیں نظم کہتی ہے یہ تُو کبھی کچھ تو بول خالی جیبیں ٹٹول میں ہوں بازار میں تاجروں میں گھری...
  2. بزم خیال

    دیکھ ہمارا کیا رنگ کر دیا

    جیولری ، کھلونے ، بوتیک ہو یا کاروں کا شو روم صرف دیکھ کر یا ہاتھ سے محسوس کر کے تسلی نہیں ہوتی۔جب تک کہ وہ احساسِ لمس سے خوابیدہ نہ کر دے۔ نظر بھربھر دیکھنے سے اپنائیت کا احساس موجزن نہیں ہوتا۔عدم دستیابی خالی پن سے زیادہ اپنے پن سے عاجز ہو جاتی ہے۔آج لفظوں سے اظہار اجاگر نہیں ہو گا۔کیفیت بیان...
  3. محمد بلال اعظم

    محسن نقوی شاید اُسے ملے گی لبِ بام چاندنی

    شاید اُسے ملے گی لبِ بام چاندنی اُتری ہے شہر میں جو سرِ شام چاندنی مجھ سے اُلجھ پڑے نہ کڑی دوپہر کہیں؟ میں نے رکھا غزل میں ترا نام "چاندنی" میں مثلِ نقشِ پا، مرا آغاز دُھول دُھول تُو چاند کی طرح، ترا انجام۔۔۔ چاندنی جن وادیوں کے لوگ لُٹے، گھر اُجڑ چُکے اُن وادیوں میں کیا ہے ترا کام چاندنی؟...
Top