نکاح المتعہ کا تعارف (حصہ دوم)

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
ش

شوکت کریم

مہمان
السلام علیکم،
میری تمام دوستوں سے درخواست ہے کہ کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے کوئی ایسی بات تحریر نہ کریں جس سے دوسرے کو شدید ردعمل دکھانے کا موقع مل جائے۔
شکریہ۔

نبیل بھائی ان شا اللہ ہم اپنی طرف سے یا اپنی کتابوں سے ایسا کچھ نہیں لکھیں گے کہ جس کا مقصد دوسرے فریق کو غصہ دلانا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا مقصد سچ جاننا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم سارے محفلین سارے اختلافات کے باوجود محفلین ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ان شا اللہ سب اس کا خیال رکھیں گے اپنی طرف سے کچھ نہیں اور جو بات بھی لکھی جائے بمعہ حوالہ لکھی جائے۔
 
ش

شوکت کریم

مہمان
شوکت کریم بھائی، آپ اتنے بچے نہیں ہیں کہ آپ کو پتا نہیں کہ سنت یہاں کس معنوں میں استعمال ہو رہی ہے۔ یہ اللہ کے رسول ص کی practice (سنت) تھی کہ جب صحابہ نے آ کر کہا کہ انہیں گناہ میں مبتلا ہونے کا ڈر ہے تو رسول اللہ ص نے انہیں عقد المتعہ کرنے کی اجازت (اور کچھ روایات میں منادی، اور کچھ میں حکم) دیا۔ اگر آپ کو رسول اللہ ص کی یہ practice یعنی سنت نظر نہیں آتی تو پھر آپکا اللہ ہی حافظ ہے۔

محترمہ مہوش صاحبہ نے سنت کی جو تعریف کی ہے اس سے تو محفلین واقف ہو ہی گئے ہیں کچھ اس پر پہلے بھی لکھا جا چکا ہے اب من لا یحضر الفقیہ سے دیکھتے ہیں کہ سنت کی تعریف کیا ہے ؟؟؟؟؟ ایک تو اس سے سنت کی تعریف بھی واضح ہو جائے گی جو محترمہ مہوش صاحبہ کے سلف کے حوالے سے بیان ہو جائے گی تاکہ اعتراض باقی نہ رہے ۔

من لا یحضرۃ الفقیہ جلد سوم ۔4615 ۔ اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اس شخص کو ناپسند کرتا ہوں کہ وہ مرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے کسی سنت پر عمل کرنا باقی رہ جائے کہ اس نے اس پر عمل نہ کیا ہو۔ میں نےعرض کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کوئی متعہ کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں‌ اور آپ نے ( اس سے آگے سورہ تحریم آیت 3 تا 5 سے متعہ کو سنت رسول اللہ ثابت کیا گیا ہے)

اب بتائے محترمہ مہوش صاحبہ سنت کسےکہتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ سورۃ تحریم کی آیت 3 تا 5 سے یہ ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جو دلائل آپ آج اس روشن صدی میں دے رہی ہیں وہ سلف کو کیوں نظر نہیں آئے انہوں نے سنت اورحدیث میں فرق کیا مگر آپ تو سب کچھ ہی روندے چلی جا رہی ہیں۔
 
ش

شوکت کریم

مہمان
لیجئے حلت متعہ کی ایک اور دلیل من لا یحضر الفقیہ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

من لا یحضرۃ الفقیہ جلد سوم ۔4608 ۔ اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا گیا کہ زنا میں چار گواہ کیوں قرار دیئے گئے اور قتل میں صرف دو گواہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں کے لیے متعہ کو حلال کیا اور اس کے علم میں تھا کہ عنقریب اس کے متعلق ہم لوگوں پر طعن و تشنیع کی جائے گی (اور اس کو زنا کہا جائے گا) اس لئے زنا کے لیے چار گواہ قرار دیے تم لوگوں کے تحفظ کے لئے اور اگر یہ نہ ہوتا تو آسانی کےساتھ تم لوگوں کے خلاف دو گواہ پیدا کر لیے جاتے۔ مگر ایسا کم ہوتا ہے کہ ایک معاملہ کے لئے چار گواہ جمع ہو جائیں۔
 
میرے خیال میں اس موضوع پر طرفین اپنے اپنے موقف کو اچھی طرح واضح کرچکے ہیں۔ ۔اب تو بس دل کے پھپولے پھوڑے جارہے ہین، اور میدان جنگ کا سا نقشہ بنتا جارہا ہے۔ لہجوں میں تلخی اور کاٹ بڑھتی جارہی ہے۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
نبیل بھائی ان شا اللہ ہم اپنی طرف سے یا اپنی کتابوں سے ایسا کچھ نہیں لکھیں گے کہ جس کا مقصد دوسرے فریق کو غصہ دلانا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا مقصد سچ جاننا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم سارے محفلین سارے اختلافات کے باوجود محفلین ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ان شا اللہ سب اس کا خیال رکھیں گے اپنی طرف سے کچھ نہیں اور جو بات بھی لکھی جائے بمعہ حوالہ لکھی جائے۔

برادرم شوکت کریم، یہ ہماری کتاب اور ان کی کتاب والی باتیں ہی تمام فساد کی جڑ ہیں۔ کیا ہم اللہ کی کتاب پر اکٹھے نہیں ہو سکتے؟
 
ش

شوکت کریم

مہمان
برادرم شوکت کریم، یہ ہماری کتاب اور ان کی کتاب والی باتیں ہی تمام فساد کی جڑ ہیں۔ کیا ہم اللہ کی کتاب پر اکٹھے نہیں ہو سکتے؟

برادر نبیل اللہ آپ کی زبان مبارک کرے اور ایسا ہی ہو اور ایسا ہی ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ان شا اللہ ایسا ہی ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ ایسا ہونا ہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تاریکی چھٹ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج سےکچھ عرصہ قبل جن مسائل و معاملات پر بات تک نہیں کی جا سکتی تھی ان پر باتیں‌ ہو رہی ہیں ایک دوسرے کی سنی جارہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جب لوگ ایک دوسرے کی سننے کے لیے تیار ہوگئے ہیں تو تاریکی بھی چھٹے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اللہ تبارک و تعالیٰ امت مسلمہ کو ایک نقطے پر جمع بھر فرما دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شرط یہی ہے کہ لوگ ایک نقطے پر جمع ہونے کی خواہش، شدید خواہش رکھیں۔

بہرحال یہاں میرے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم دفاعی دلیل تو اپنی طرف والی کتابوں سے دیں گے اور جوابی دلیل فریق مخالف کی کتابوں سے دیں گے تا کہ حجت قائم ہو اور کسی طرح‌ کی بد مزگی پیدا نہ ہو۔ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ فریق مخالف نے ہماری کوئی قابل ذکر کتاب اور روایت نہیں چھوڑی کہ جس کو بے دردی سے سیاق و سباق سے ہٹ کر اپنےموقف کے لیے استعمال نہ کیا گیا ہو۔ اور کسی نے بھی اس پر کوئی اعتراض‌ نہیں کیا صرف اور صرف دفاع کیا۔
 

مہوش علی

لائبریرین
آپ بھی کیسی بےتکی باتیں کر رہی ہیں ؟؟
صحیحین کو چھوڑ کر وہ کون سی ایسی کتابِ روایت ہے جس کی تمام روایات کو اہل سنت نے حجت مانا ہو؟ محض کسی روایت کے نقل ہو جانے سے کیا یہ لازم آتا ہے کہ وہ صحیح اور قابل حجت بھی ہوگی؟ دوسری بات ایک یہ بھی کہ قرآنسٹ حضرات کو تو بخاری و مسلم میں بھی ایسی کئی روایات نظر آتی ہیں جن سے ان کی عقل کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین ہوتی ہے ۔۔۔۔ کیا ان کے اس فہم کو قبول کر لیا جانا چاہئے؟؟
ونیز ۔۔۔ ضعیف و موضوع روایات پر متقدمین اور متاخرین ائمہ و علماء نے جو کتابیں لکھی ہیں وہ سب کس لئے ہیں؟؟ کیا ان کتب کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کی دانستہ توہین کی گئی ہے یا ان کا مذاق اڑایا گیا ہے؟؟
یہ عجیب و غریب منطق تو منکرینِ حدیث کی ہے کہ ان کا فرمان ہوتا ہے کہ :
جس روایت کے ذریعے نبی کی توہین کا مفہوم ہماری عقل میں آئے وہ کتبِ فضائل میں قطعاَ بیان نہیں ہونی چاہئے۔


جی ! ہم کو تو خیر سے پتا ہے کہ ہم اپنی آنکھوں کو کتنا کھول کر دوسروں کی "محنت" دیکھ رہے ہیں لیکن اب تو یہ بھی علم ہو رہا ہے کہ کتربیونت والے حوالے دیتے ہوئے کس طرح دوسروں کی کھلی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے؟

ویسے لاکھوں صحابہ میں سے "جم غفیر" کے حوالے سے آپ کے پاس کیا ابن حزم (رحمۃ اللہ علیہ) کی بتائی ہوئی صرف یہی 9 صحابہ والی لسٹ ہے ؟؟

اور دوسرے یہ کہ ۔۔۔۔۔۔۔ التلخيص الحبير کا یہ جو ربط آپ نے دیا ہے ، اس کا یہی باب (كتاب النكاح > باب اركان النكاح) ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے :
[arabic]حَدِيثُ عَلِيٍّ : { أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ } . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ . قَوْلُهُ : كَانَ ذَلِكَ جَائِزًا فِي ابْتِدَاءِ الْإِسْلَامِ ، ثُمَّ نُسِخَ ، رَوَى الشَّيْخَانِ مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ إبَاحَةَ ذَلِكَ ثُمَّ نَسَخَهُ . وَرَوَى مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ نَحْوُ ذَلِكَ ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ : بَيَّنَ عَلِيٌّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ . وَفِي ابْنِ مَاجَهْ عَنْ عُمَرَ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ أَنَّهُ خَطَبَ فَقَالَ : { إنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لَنَا فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ حَرَّمَهَا ، وَاَللَّهِ لَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَمَتَّعَ وَهُوَ مُحْصَنٌ إلَّا رَجَمْته بِالْحِجَارَةِ }[/arabic]
حدیثِ علی (رضی اللہ عنہ) : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاحِ متعہ سے منع فرمایا (متفق علیہ) ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں کہ ابتدائے اسلام میں یہ جائز تھا پھر منع ہوا۔
امام بخاری اور امام مسلم نے سلمہ رضی اللہ عنہ والی حدیث سے اس کا جائز اور پھر منع ہونا بیان کیا ہے۔ اور امام مسلم نے ربیع بن سبرۃ عن ابیہ والی حدیث میں بھی اسی سے ملتی جلتی بات کہی ہے۔ اور ابن ماجہ میں حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) سے باسناد صحیح بیان کیا گیا ہے انہوں نے خطاب کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ متع کی اجازت دی پھر منع فرما دیا ۔۔۔۔۔۔


مزید ۔۔۔۔ آپ نے ابن حزم کی فہرست والے عربی متن سے اس فقرہ کا ترجمہ لکھنے کے بجائے تین نقطے ڈال دئے
[arabic]قَالَ : وَقَدْ تَقَصَّيْنَا الْآثَارَ بِذَلِكَ فِي كِتَابِ الْإِيصَالِ[/arabic]
ترجمہ : ( ابن حزم کہتے ہیں کہ ) اس موضوع پر موجود آثار ہم نے کتاب الایصال میں بیان کیے ہیں۔

یعنی ۔۔۔۔۔ ابن حزم نے صحابہ کے ان تمام آثار کا ذکر اپنی کتاب [arabic]كتاب الإيصال إلى فهم كتاب الخصال[/arabic] میں کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے یہ کچھ صحابہ کے انفرادی اقوال / اعمال ہیں۔
صحابہ کے انفرادی اقوال / اعمال کیا حجت ہیں؟؟ وہ بھی اس وقت جبکہ لاکھوں صحابہ میں سے یہاں صرف 9 کی فہرست دی جا رہی ہے اور اسے "جم غفیر" کا عنوان عطا کیا جا رہا ہو ؟؟

جبکہ یہی مہوش علی ہیں ۔۔۔ جو کہیں بھی کوئی بھی بحث ہو ، وہاں یہ بات اکثر دہراتی ہیں کہ صحابہ کے درمیان لڑائی جھگڑے تلخ کلامی وغیرہ وغیرہ کے نازیبا افعال و اعمال سرزد ہوئے ہیں۔ تو کیا کہا جائے گا کہ مسلمانوں کے لئے ایسی تمام خرابیاں جائز ہیں چونکہ ان کا صدور بعض صحابہ سے ہوا ہے؟؟
اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین (جنگ کے) مواقع پر متعہ کی اجازت دی تھی تو آخر میں قیامت تک کے لیے منع بھی تو فرما دیا ہے !! کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح ممانعت حجت نہیں ہے اور اس ممانعت کے بالمقابل صحابہ کے اقوال یا افعال حجت رہیں گے؟؟
ذرا بتائیے کہ یہ کون سی منطق ہے جس کے سہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح ترین قول کو جھٹلا کر صحابہ کی لسٹ پر اعتبار کیا جا رہا ہے؟؟
ونیز ۔۔۔۔۔
ابن حزم کی بیان کردہ لسٹ تو زور و شور سے پیش کی گئی ۔۔۔۔ مگر انہی ابن حزم کا ایک اور قول جو اسی صفحہ پر موجود ہے ، اسے کیوں نظرانداز کر دیا گیا ہے؟؟ کیوں ؟؟
ملاحظہ کیجئے ۔۔۔۔
بحوالہ : التلخيص الحبير > كتاب النكاح > باب اركان النكاح
[arabic] قَالَ ابْنُ حَزْمٍ فِي الْمُحَلَّى : مَسْأَلَةٌ : وَلَا يَجُوزُ نِكَاحُ الْمُتْعَةِ وَهِيَ النِّكَاحُ إلَى أَجَلٍ ، وَقَدْ كَانَ ذَلِكَ حَلَالًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ نَسَخَهَا اللَّهُ تَعَالَى عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ إلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .[/arabic]
یعنی یہاں تو ابن حزم خود نکاحِ متعہ کی واضح ترین ممانعت کا ذکر کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ نکاحِ متعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں حلال تھا پھر اللہ تعالیٰ نے لسانِ رسالت سے قیامت تک کے لیے اسے منسوخ کر ڈالا !!

اب یہ تو مہوش علی کو ضرور بتانا چاہئے کہ اگر انہیں ابن حزم کے ایک قول سے اتفاق ہے تو دوسرے قول سے کیوں کر اختلاف ہے؟؟
اور اگر ان کو اپنا ذاتی فہم ہی مقدم رکھنا منظور ہے تو اہل سنت کے ائمہ کے یکطرفہ اقوال کو قلمبند کر کے کیوں دھوکہ دیا جا رہا ہے؟؟
ہم آخر کیوں کر ایسے فہم کو ڈبل اسٹینڈرڈ کا خطاب نہ دیں ؟؟
ایسا دہرا معیار تو اہل تشیع کی روش ہرگز نہیں ہے بلکہ اس کا انتساب رافضیت کی طرف ہی کیا جانا چاہئے !!

شکر ہے پوسٹ ایسی کی جس میں کوئی تو موضوع سے متعلق بات کی گئی۔
میں مصروف ہوں اور کچھ دنوں میں آپکی اس پوسٹ کا ضرور سے جواب دوں گی۔ انشاء اللہ۔
 

مہوش علی

لائبریرین
از شوکت کریم:
محترمہ مہوش صاحبہ نے سنت کی جو تعریف کی ہے اس سے تو محفلین واقف ہو ہی گئے ہیں کچھ اس پر پہلے بھی لکھا جا چکا ہے اب من لا یحضر الفقیہ سے دیکھتے ہیں کہ سنت کی تعریف کیا ہے ؟؟؟؟؟ ایک تو اس سے سنت کی تعریف بھی واضح ہو جائے گی جو محترمہ مہوش صاحبہ کے سلف کے حوالے سے بیان ہو جائے گی تاکہ اعتراض باقی نہ رہے ۔

مجھے پتا نہیں کہ آپ کب ایسی روایات پیش کرنا شروع کریں کہ جن کی سند کی ہو اور اسے ہمارے علماء نے صحیح کہا ہو۔ تو پتا نہیں آپ کبھی اپنی اس بیماری سے نجات پا سکیں گے بھی یا نہیں، ورنہ پہلے شاید حضرت عمر کے جنت میں جانے والی روایت پر بات ہو جائے کہ وہ آپ پر حجت ہے کہ نہیں؟ یقین جانیے یہ بہت بری بیماری ہے کہ اپنی روایات سامنے آئیں (بے شک اُن کی سند ہو اور آپکے بے تحاشہ علماء نے نقل بھی کی ہو جیسے حضرت عمر والی روایت) تو اس سے یہ کہہ کر جان چھڑا لیں کہ کوئی ایک راوی کمزور ہے، مگر جب دوسری کی ایسی روایت بھی سامنے آ جائے جس کی سرے سے سند ہی نہ ہو، مگر وہ اُس کا ناقابل معافی گناہ بن جائے۔ اپنے ان دوہرے رویے پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیے کہ شاید آپکی بیماری کو افاقہ ہو جائے۔

ہمارے نزدیک اس روایت کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ دوسری ایسی کوئی روایات نہیں ملتیں جس سے اسکی تصدیق ہو سکے۔

قرآن کی سنت کی تعریف

شوکت بھائی الزام لگانے میں تو بازی لے رہے ہیں، مگر افسوس کہ انہوں نے قرآن کھول کر ایک دفعہ ٹھنڈے دل سے پڑھ لیا ہوتا تو انہیں پتا چل جاتا کہ سنت کا مطلب بطور Practice بذات خود اللہ نے قرآن میں استعمال کیا ہے۔ اب یہ قرآن کو چھوڑ کر سنت کی صرف ایک تعریف کے پیچھے پڑ کر ہم پر الزام بازی کرنا چاہیں تو اللہ ان کا نگہبان۔

از مہوش علی:
شوکت کریم بھائی، آپ اتنے بچے نہیں ہیں کہ آپ کو پتا نہیں کہ سنت یہاں کس معنوں میں استعمال ہو رہی ہے۔ یہ اللہ کے رسول ص کی practice (سنت) تھی کہ جب صحابہ نے آ کر کہا کہ انہیں گناہ میں مبتلا ہونے کا ڈر ہے تو رسول اللہ ص نے انہیں عقد المتعہ کرنے کی اجازت (اور کچھ روایات میں منادی، اور کچھ میں حکم) دیا۔ اگر آپ کو رسول اللہ ص کی یہ practice یعنی سنت نظر نہیں آتی تو پھر آپکا اللہ ہی حافظ ہے۔

اور اللہ قرآن میں خود فرما رہا ہے:

[القرآن 32:62] سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا.
LiteralGod's way/manner in those who past/expired from before, and you will never/not find to God's way/manner (an) exchange/replacement .Yusuf Ali(Such was) the practice (approved) of Allah among those who lived aforetime: No change wilt thou find in the practice (approved) of Allah. PickthalThat was the way of Allah in the case of those who passed away of old; thou wilt not find for the way of Allah aught of power to change. Arberry God's wont with those who passed away before; and thou shall find no changing the wont of God.Shakir(Such has been) the course of Allah with respect to those who have gone before; and you shall not find any change in the course of Allah. SarwarThis was the tradition of God with those who lived before. There will never be any change in the tradition of God.H/K/Saheeh[This is] the established way of Allah with those who passed on before; and you will not find in the way of Allah any change. MalikThis has been the Way of Allah regarding such people among those who lived before you, and you will never find any change in the Way of Allah.[62]Maulana Ali**That was the way of Allah concerning those who have gone before; and thou wilt find no change in the way of Allah.Free MindsThis is God's way with those who have passed away before, and you will not find any change in God's way. Qaribullah Such has been the way of Allah with those who have passed before them, and you shall find no change in the ways of Allah. George Saleaccording to the sentence of God concerning those who have been before; and thou shalt not find any change in the sentence of God. JM RodwellSuch hath been the way of God with those who lived before them; and no change canst thou find in the way of God.AsadSuch has been God's way with those who [sinned in like manner and] passed away aforetime - and never wilt thou find any change in God's way! [Cf. 35:42--44, and particularly the last paragraph of verse 43.]Khalifa**This is GOD's eternal system, and you will find that GOD's system is unchangeable. Hilali/Khan**That was the Way of Allah in the case of those who passed away of old, and you will not find any change in the Way of Allah.QXP Shabbir Ahemd**That was the Way of Allah among those who lived before. And never will you find any change in Allah's Way. (The Divine Laws in the Universe never change, and the Law of Requital never fails to requite).​


پتا نہیں ہماری پر الزام لگانے کے چکر میں آپ اور کس کس چیز کا انکار کرتے رہیں گے۔
 

مہوش علی

لائبریرین
اور شوکت کریم بھائی،
آپ نے عورتوں کے علم حاصل کرنے کے متعلق پھر جو روایت نقل کی ہے، تو بہتر ہوتا آپ اسی محفل میں موجود اُس تھریڈ کا مطالعہ کر لیتے جہاں یہی چیز آپ کی کتب میں سے پیش کی گئی ہیں۔ فاروق صاحب آپ کو شوق سے اس کا ربط فراہم کر دیں گے کیونکہ میرے پاس تو اس چیزوں کے لیے وقت ہی نہیں ہے کہ اُن فضول بحثوں میں پڑوں جو کہ اللہ کے حلال حرام سمجھنے کی بجائے دوسروں کو برا اور نیچا دکھانے کے لیے صدیوں سے کی جاتی رہی ہیں۔

از شوکت کریم:
من لا یحضر الفقیہ سے ہی آپکے اس کاؤنٹر سوال کا جواب حاضر ہے کہ بچیوں کے ختنے کو معاشرے نے قبولیت عام نہیں دیا بلکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مذہبی تحفظ دیا گیا۔
من لا یحضرۃ الفقیہ جلد سوم ۔4630 ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ حیا کے دس حصے ہیں اس میں نو حصے عورتوں میں ہیں اور ایک حصہ مردوں میں ہے۔ جب عورت کی ختنہ ہوتی ہیں تو اس کی حیا کا ایک حصہ چلا جاتا ہے اور جب اس کی شادی ہوتی ہے تو حیا کا ایک اور حصہ چلا جاتا ہے اور جب اس کی بکارت ٹوٹتی ہے تو حیا کا ایک اور حصہ چلا جاتا ہے اور جب اس کے یہاں ولادت ہوتی ہے تو حیا کا ایک اور حصہ چلا جاتا ہے اور حیا کے صرف پانچ حصے اس کے پاس باقی رہتے ہیں اب اگر وہ بدکاری میں مبتلا ہو گئ تو ساری حیا ختم ہو جاتی ہے اور اگر پاکدامن اور با عفت رہی تو حیا کے یہ پانچ حصے اس کے پاس باقی رہتے ہیں۔
باب کانام ہی باندھا گیا ہے ۔۔۔اور ختنہ تو یہ مردوں کے لیے سنت اور عورتوں کے لئے خوبی اور بڑائی ہے۔

مجھے تو ختنے والی روایت مجبوری میں پیش کرنا پڑی کہ آپ کو دکھا سکوں کہ آپکی کتابوں میں ختنے کے اتنے فضائل کے باوجود آپکے اپنے معاشرے میں اس کو قبولیت نہیں مل سکی۔ تو اب آپ اپنے اُس دو رخے رویے کی صفائی دیں کہ ہم پر تو معاشرے کے حوالے سے اعتراض اور اس بنا پر ہمارے لیے حلال اللہ حرام کر رہے ہیں، مگر جب اپنے معاشرے کی بات آ رہی ہے تو سب کھایا پیا معاف؟؟؟ سبحان اللہ۔

******************

لڑکیوں کے ختنے کے متعلق ایک فرق مزید مدنظر رکھئیے۔

اور اہل تشیع فقہ میں اسناد والی روایات کے مطابق ختنہ سنت بھی نہیں، بلکہ فقط مباح ہے


[ 27531 ] 1 ۔ محمد بن يعقوب ، عن محمد بن يحيى ، عن أحمد بن محمد ، عن ابن محبوب ، عن ابن رئاب ، عن أبي بصير ۔ يعني المرادي ۔ قال : سألت أبا جعفر ( عليه السلام ) عن الجارية تسبى من أرض الشرك فتسلم فيطلب لها من يخفضها فلا يقدر على امرأة ؟ فقال : أما السنة فالختان على الرجال ، وليس على النساء .

1 – Muhammad b. Ya`qub (in al-Kafi) from Muhammad b. Yahya from Ahmad b. Muhammad from Ibn Mahbub from Ibn Ri’ab from Abu Basir – meaning al-Muradi. He said: I asked Abu Ja`far (عليه السلام) about the girl (slave-girl?) who is captured from the land of shirk, and she becomes Muslim, so it is sought of her that she be circumcised, but a woman is not available. So he said: As to the sunna, then circumcision is upon men, and it is not upon women.

[ 27532 ] 2 ۔ وعنه ، عن أحمد ، عن محمد بن عيسى ، عن عبدالله بن سنان ، عن أبي عبدالله ( عليه السلام ) قال : ختان الغلام من السنة وخفض الجارية ليس من السنة .

2 – And from him from Ahmad from Muhammad b. `Isa from `Abdullah b. Sinan from Abu `Abdillah (عليه السلام).
He said: Circumcision of boys is from the sunna, and circumcision of girls is not from the sunna.

اہلسنت فقہ میں لڑکیوں کا ختنہ

اس موضوع کو میں بڑھانا نہیں چاہتی۔ فقط امام نوؤی کی تحریر کا ایک اقتباس:

الكتب [FONT=Geneva, Arial, Helvetica] » المجموع شرح المهذب [FONT=Geneva, Arial, Helvetica] » [/FONT] كتاب الطهارة [FONT=Geneva, Arial, Helvetica] » [/FONT] حكم الختان [FONT=Geneva, Arial, Helvetica] » [/FONT] فرع موت غير المختون [/FONT]
( فرع ) الختان واجب على الرجال والنساء عندنا وبه قال كثيرون من السلف ، كذا حكاه الخطابي ، وممن أوجبه أحمد وقال مالك وأبو حنيفة : سنة في حق الجميع وحكاه الرافعي وجها لنا ، وحكى وجها ثالثا أنه يجب على الرجل وسنة في المرأة ، وهذان الوجهان شاذان ، والمذهب الصحيح المشهور الذي نص عليه الشافعي رحمه الله وقطع به الجمهور أنه واجب على الرجال والنساء ، ودليلنا ما سبق . فإن احتج القائلون بأنه سنة بحديث : الفطرة عشرة ومنها الختان ، فجوابه قد سبق عند ذكرنا تفسير الفطرة والله أعلم .


شوکت کریم بھائی صاحبِ،

کیا آپ کو یہ چیزیں نظر آ رہی ہیں:

1۔ عورتوں کے لیے ختنہ کروانا "واجب" ہے۔
2۔ جمہور کا قول یہ ہے کہ عورتوں کے لیے ختنہ کروانا "واجب" ہے؟
3۔ اور "سنت" ہونے میں تو کوئی اختلاف نظر ہی نہیں آ رہا۔

تو بتلائیے جب آپ کے نزدیک عورتوں کا ختنہ ایسا فضیلت والا فعل ہے کہ "واجب" ہو (یاد رہے ہمارے نزدیک عقد المتعہ واجب نہیں)، مگر پھر بھی آپ اپنے معاشرے میں کسی سے کہہ دیں کہ جاؤ اپنی بیٹی کا ختنہ کرواؤ تو وہ آپ کا تیا پانچہ کیے بغیر آگے بڑھ جائے تو اس پر اللہ کا شکر ادا کیجئے گا۔
مگر نہیں، سب اصول، سب اخلاق، سب قوانین، سب گناہ فقط اور فقط اُس وقت لاگو ہوتے ہیں جب وہ مخالفین کےلیے ہوں، اور خود پر تو ہزارہا خون معاف ہیں۔ چاہے یہ نوح علیہ السلام کی بیوی و بیٹے کا مسئلہ ہو، یا ختنہ ہو یا ضعیف روایات ہوں یا کچھ اور ہو۔ اعوذ باللہ۔
 
ش

شوکت کریم

مہمان
ہمارے نزدیک اس روایت کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ دوسری ایسی کوئی روایات نہیں ملتیں جس سے اسکی تصدیق ہو سکے۔

اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اس شخص کو ناپسند کرتا ہوں کہ وہ مرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے کسی سنت پر عمل کرنا باقی رہ جائے کہ اس نے اس پر عمل نہ کیا ہو۔ میں نےعرض کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کوئی متعہ کیا تھا ؟

اپنی ہی روایات کا انکار کرنا تو روایت ہے آپکی اور الحمد للہ آپ اپنی روش پر قائم ہیں۔

اور یہاں تک کہ بحث سے یہ بات ہر کسی پر یقینا واضح‌ ہو چکی ہے کہ

1۔ آپ کہتی ہیں کہ قرآن سے متعہ ثابت ہے مگر جہاں ہمیں قرآن ہمیں‌ نکاح کے بارے میں واضح احکامات دیتا ہے وہاں متعہ کے بارے میں‌ واضح احکامات کیوں نہیں ؟؟؟ کھینچ تان کر صرف م۔ت۔ع دیکھ کر کہنا کہ یہ متعہ کی آیت ہے تو کوئی بات نہ ہوئی ؟؟؟ جبکہ م۔ت۔ع اور کئی مقامات پر آیا ہے جس کا ذکر کیا جا چکا ہے اور دوست نے تو ایک کتاب کا لنک دیا ہے کہ جس میں صرف م۔ت۔ع پر ہی بات کی گئی ہے۔ اور من لا یحضر الفقیہ سے جو حدیث میں‌ اوپر پیش کر چکا ہوں وہ بھی اس کی تائید کرتی ہے۔

من لا یحضرۃ الفقیہ جلد سوم ۔ 4543۔ محمد بن فضیل نے شریس وابشی سے انہوں نے جابر سے انہوں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کہ ہے ان کا بیان ہے کہ آنجناب نے مجھے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے غیرت عورتوں کے لئے قرار نہیں دی ہے بلکہ غیرت مردوں کے لیے قرار دی ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کے لیے چار آزاد عورتیں حلال کر دی ہیں اور ان کے علاوہ جو اس کی ملکیت میں کنیزیں ہیں (وہ بھی حلال ہیں) مگر عورت کےلیے تنہا اس کا ایک شوہر حلال ہے۔ پس اگر وہ اپنے شوہر کے ساتھ کسی غیر کو بھی چاہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زانیہ ہو گی۔

اس میں صراحتآ ذکر ہے کہ اللہ نے مرد کے لیے چار آزاد عورتیں حلال کر دی ہیں اور انکے علاوہ صرف کنیزیں ہیں۔ آپ حسب معمول کہہ سکتی ہیں کہ یہ بھی روایت آپکی نہیں۔

اور آپ اگر اسی طرح سے روایات کو رد کرتی رہیں تو پھر بچے گا کیا ؟؟؟ کہ ہم تو روایت در روایت پیش کرتے رہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شائد کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات !!!

2۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خود متعہ نہیں کیا۔

اس لیے یہ سنت بھی نہیں کہلا سکتا۔ اوپر دی گئی روایت سے واضح‌ پتہ چلتا ہے کہ جب روای کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی تو اس نے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کیا ؟

اور یہ بات سنت کی تعریف کو روز روشن کی طرح‌ واضح کرتی ہے۔ اور اس بات میں روایت کے ضعیف ہونے، سند کے ضعیف ہونے یا نہ ہونے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ مزید مواد بھی عنقریب حاضر کیا جائے گا۔

3۔ اکابر صحابہ بشمول حضرت علی رضی اللہ عنہ اور سابقون الاولون میں سے کسی نے متعہ نہیں کیا۔

4۔ اصحاب صفہ جو کے رہتے ہی مسجد نبوی کےساتھ تھے اور اگر متعہ کرنا ہوتا تو یہ لوگ کرتے مگر ان میں سے بھی کوئی ایسا نہیں کہ جس نے متعہ کیا ہو۔

5۔ بلکہ حقائق اور اس دھاگے میں موجود سارے کا سارا مواد یہ ثابت کرتا ہے کہ متعہ کی ہر دفعہ اجازت مانگنے پر اجازت دی گئ۔ اور اجازت بھی جنگوں کے دوران دی گئی اور انہی لوگوں نے اجازت مانگی جو کہ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے اور وہ دور جاہلیت کے پرانے رواجات کے عادی مگر گناہ کا پھر بھی خوف رکھتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اجازت مانگی۔ اور جب دین مکمل ہو گیا لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے تو حتمی ممانعت ہو گئ۔

ایک چیز قرآن میں ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اس پر عمل کرتے اور امت کے لئے اپنی سنت چھوڑ جاتے۔

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سنت چھوڑ جاتے تو اکابر صحابہ بشمول حضرت علی رضی اللہ عنہ ضرور نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کی سنت پر عمل کرتے۔

یہ اچھا عمل ہے کہ جو قرآن میں نہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں‌ بھی نہیں ، سابقون الاولون کی زندگیوں میں بھی نہیں، چاروں خلفائے راشدین کی زندگیوں میں بھی نہیں پھر بھی بقول آپکے سنت ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چھوٹی چھوٹی سنتیں امت کی راہنمائی کے لیے اللہ پاک نے محفوظ کیں وہاں اتنی بڑی سنت کا ذکر کیوں نہیں‌ ؟؟؟

کسی مضطر کو ، کسی بیمار کو نسخہ بتلانا، اجازت دینا، سنت نہیں کہلاتا۔ سنت وہی ہے جس کا ثبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے ملے اور جسکی نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے امت کو تعلیم دی ہو۔
 
ش

شوکت کریم

مہمان
مجھے پتا نہیں کہ آپ کب ایسی روایات پیش کرنا شروع کریں کہ جن کی سند کی ہو اور اسے ہمارے علماء نے صحیح کہا ہو۔ تو پتا نہیں آپ کبھی اپنی اس بیماری سے نجات پا سکیں گے بھی یا نہیں، ورنہ پہلے شاید حضرت عمر کے جنت میں جانے والی روایت پر بات ہو جائے کہ وہ آپ پر حجت ہے کہ نہیں؟

ہم نے تو دیکھا ہے کہ جو بھی حدیث باب المتعہ سے پیش کی گئی اس کو رد کر دیا گیا۔ تو پھر آپ کے پاس متعہ کی کون سی روایات اور کتاب بچے گی کہ جس سے آپ اپنے حق میں دلائل پیش کر سکیں گی۔ اور یاد رکھیے اصول اربعہ سے انکار کر کے کہیں آپ منکر روایت تو نہیں‌ بن رہیں‌ ؟؟؟

یہ کتاب اور اس کی روایات کتنی مستند ہیں دیکھئے !!!

من لا یحضر الفقیہ کے اردو مترجم سید حسن امداد (ممتاز الافاضل) صاحب کتاب کے شروع میں لکھتے ہیں۔

آپ (شیخ صدوق علیہ الرحمہ) تقریبا تین سو کتابوں کےمصنف ہیں۔ جیسا کہ علامہ طوسی نے اپنی کتاب الفہرست میں تحریر کیاہے اور آپ کی چالیس کتابوں کےنام تحریر کیے ہیں۔ اور ابوالعباس نجاشی متوفی ۴۵۰ھ نے اپنی کتاب رجال میں آپ کی تقریبا دو سو کتابوں کا ذکر کیا ہے۔ مگر افسوس کہ ان میں سے اکثر ضائع ہو گئیں۔ آپ کی عظیم تصنیفات میں سے ایک کتاب مدینۃ العلم بھی تھی جو اس کتاب من لا یحضر الفقیہ سے بھی بڑی تھی وہ بھی ضائع ہو گئی۔ جس کا ذکر شیخ طوسی نے اپنی کتاب الفہرست میں اور ابن شہر آشوب نے اپنی کتاب معالم میں کیا ہے۔ اور علامہ رازی نے اپنی کتاب الذریعہ میں علامہ بہائی کے والد بزرگوار شیخ حسین بن عبدا لصمد کی کتاب الدرایہ کی یہ عبارت نقل کی ہے۔ " و اصولنا الخمسۃ الکافی و مدینۃ العلم و من لا یحضرہ الفقیہ والتہذیب والاستبصار" (ہمارے مذہب کی اصولی کتابیں پانچ ہیں کافی ، مدینۃ العلم، من لا یحضرہ الفقیہ، تہذیب اور استبصار) اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے زمانے میں یہ کتاب مدینۃ العلم موجود تھی۔ مگر ان کے بعد یہ کتاب ضائع ہو گئی۔ صرف نام رہ گیا ۔ چنانچہ علامہ مجلسی نے اس کی تلاش کے لیے زرکثیر صرف کیا مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ اور کتاب الذریعہ میں ہے کہ سید محمد باقر جیلانی نےبھی اس کے حصول کے لیے بے دریغ رقم صرف کی مگر وہ بھی کامیاب نہ ہو سکے علامہ ابن طاہری علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب فلاح السائل نیز اپنی دیگر کتب میں اور شیخ جمال الدین بن یوسف حاتم فقیہ شافعی نے اپنی کتاب میں کتاب مدنیۃ العلم سے بہت سی چیزیں نقل کی ہیں۔ معین الدین شامی شقاقلی حیدر آبادی نےبیان کیا ہےکہ ان کے پاس مدینۃ العلم کا ایک نسخہ ہےجس کی دو نقلیں کیں لیکن وہ ابواب پر مرتب نہیں ہے بلکہ وہ روضۃ الکافی کی مانند ہے۔

مندرجہ بالا حقائق سے معلوم ہوا کہ ہمارےمذہب کی کتب خمسہ تھیں جن میں سے ایک ضائع ہو گئی اور اب کتب اربعہ رہ گئیں اور وہی کیا ہمارےبزرگ علماء کی ہزاروں بیش بہا تصانیف ضائع ہوگئیں۔

کتاب من لا یحضر الفقیہ جلد اول کا اردو ترجمہ قارین کی خدمت میں حاضر ہے یہ ایسی اہم کتاب ہے جس کا شمار اپنی کتب اربعہ میں ہوتا ہےاور اصول کافی کے بعد یہ دوسری کتاب ہے جو شیخ صدوق علیہ الرحمہ کی تالیف ہے۔ اس کا نام من لا یححضر الفقیہ ہے (جس کے پاس کوئی فقیہ موجو نہ ہو) یہی بتاتا ہے کہ یہ عوام کے لئے لکھی گئی تھی۔ مگر یہ اب تک عوام کی نگاہوں سے پوشیدہ رہی۔یہ فقہ کی بنیادی کتاب ہے۔ اس کے بعد فقہ کی کتابیں ہر دور میں تحریر کی جاتی رہی ہیں لیکن کتب اربعہ میں اسی کوجگہ ملی۔ آخر اس میں کوئی تو ایسی بات ہے جو اس کو اتنی اہمیت دی گئی۔ یہ کتاب تمام ابواب فقہ پر مشتمل ہے ۔ یہ کسی عالم کے فتاوٰی کا مجموعہ نہیں بلکہ ہر مسئلہ کے متعلق آئمہ طاہرین کی احادیث نقل کر دی گئی ہے جن کی روشنی میں ہمارے علماء و فقہاء حضرات فتوے جاری کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اس کے مطالعہ سے یہ غلط فہمی دور ہو جائے گی کہ ہمارے علماء و فقہا حضرات اپنی طرف سے کوئی فتویٰ دتیے ہیں بلکہ اس کی بنیاد آئمہ طاہرین کی کوئی نہ کوئی حدیث ہی ہوتی ہے۔

شیخ صدوق علیہ الرحمہ کی سب سے مشہور کتاب من لایحضر الفقیہ ہے اس کا شمار شیعوں کی کتب اربعہ میں ہوتا ہے اور یہ کتب اربعہ وہ ہیں کہ احکام شریعہ کے اخذ کرنے میں شیعوں کا اس پر دارومدار ہے نوسوسال سے زیادہ عرصہ گذر گیا کہ فقہاء و غیر فقہاء میں یہ مقبول ہے اور اتنی معتبر اور قابل اعتنا ہے کہ معدودے چند کے سوا اس پر آج تک کوئی اعتراض نہ کر سکا اب اس سے بڑھ کر اس کی اہمیت کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے۔

علامہ سیدبحر العلوم قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ہمارے اصحاب میں سے جو لوگ من لا یحضرہ الفقیہ کی احادیث کو دیگر کتب اربعہ کی احادیث پر ترجیح دیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہےکہ شیخ صدوق بہت صاحب حافظہ تھے۔ اور یہ کتاب کافی کے بعد تصنیف ہوئی ہے اس لیے اس میں جو احادیث لکھی گئی ہیں صحت کی پوری ضمانت اور ذمہ داری سے لکھی گئی ہیں۔

شہید ثانی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب شرح داریت الحدیث میں تحریر فرمایا ہے کہ شیخ محمد بن یعقوب کلینی سے لے کر آج تک ہمارے جتنے بھی مشائخ گذرےہیں ان میں سے کسی ایک کو بھی اس کی ضرورت نہں کہ ان کی عدالت کے لیے کوئی تنصیص و تنبیہ پیش کی جائے اس لیے کہ ان لوگوں میں ثقاہت، احتیاط، زہد و تقویٰ اس قدر تھا جو عدالت سے بھی بڑھا ہوا تھا اور یہ ہر زمانہ میں مشہور تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ متاخرین علماء رجال ان عظیم المشائخ میں سے اکثر کے لیے جسے شیخ صدوق، سید مرتضی ، دامن براج وغیرہ انکے ثقہ و عادل ہونے کےلیے کسی تنصیص کی ضرورت نہیں سمجھتے۔

علامہ خبیر محقق شیخ بہاء الدین عاملی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب شرح من لا یحضرہ الفقیہ میں تحریر فرمایا ہے کہ اس کتاب میں ایک تہائی سے زیادہ احادیث (بغیر اسناد کے) مرسل درج ہیں اس کی صحت کا انہیں اس قدر یقین ہے انہیں پر اپنے فتووں کا مدار رکھتےہیں اور فرماتےہیں کہ یہ احادیث ہمارے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان حجت ہیں اور اصولین کی ایک جماعت نے یہاں تک کہدیا ہے کہ شخص عادل کی مرسل حدیث کو ترجیح دی جائے گی۔ اس لیے کہ اس کو حدیث کے مضمون پریقین ہے۔

اور ہمارےاصحاب رضوان اللہ علیہم نے شیخ صدوق کی مرسل احادیث کو ابن ابی عمیر کی مرسل احادیث کے برابر مستند و معتمد سمجھا ہے اس لئے کہ ان سب کو معلوم ہے کہ شیخ صدوق علیہ الرحمہ کی یہ عادت ہے کہ وہ کسی ثقہ کی روایت ہی کو مرسل کر لیتے ہیں اور اس کی اسناد کو حذف کرلیتے ہیں جیسےابن ابی عمیر۔

اور محقق سید داماد رحمہ اللہ اپنی کتاب الرواشخ سماویہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ اگر حدیث کو مرسل کرنے والے کے نزدیک درمیان کے تمام راوی عادل نہ ہوں تو اس کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ حدیث کو امام کی طرف منسوب کرے حدیث مرسل وہی ہےکہ جب ارسال کرنےوالا یہ یقین رکھتا ہو کہ اس کے درمیان تمام راوی مستند و عادل ہیں اور وہ ان کا ذکر نہ کرے اور راست کہےکہ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم یا کہے کہ قال الامام علیہ السلام اس لیے کہ اسکو یقین ہے کہ یہ حدیث معصوم علیہ السلام سے صادر ہوئی ہے جیسا کہ شیخ صدوق علیہ الرحمہ نےاپنی کتاب من لا یحضرہ الفقیہ میں یہی کیا ہے اورکہا قال الامام علیہ السلام اور محقق شیخ سلمان بحرانی نے اپنی کتاب البلغہ کے اندر اپنی گفتگو کے درمیان من لا یحضر الفقیہ کی روایات کے معتبر ہونے کے متعلق فرمایا ہےکہ میں نےاکثر اصحاب کو دیکھا ہے کہ وہ شیخ صدوق علیہ الرحمہ کی مرسل احادیث کو صحیح کہتے ہیںاور
ان کے مراسیل ابن ابی عمیر کے مراسل سے کم معتبرنہیں ہی​
ں جیسا کہ علامہ حلی علیہ الرحمہ نے اپنی کتب المختلف میں اور شہید علیہ الرحمہ نے شرح ارشاد میں سید محقق داماد کی بھی یہی رائے ہے۔

ڈاکٹر عبدالہادی الفادی من لا یحضر کے مصنف کے لکھے پر کہتے ہیں۔ کہ ان کا یہ قطعی بیان بالکل صاف اور واضح ہے جو کہ ظاہر کرتا ہےکہ وہ اپنی کتاب کے مواد کے مستند ہونےپر اتنا یقین رکھتے ہیں کہ اسے اللہ اور پنے درمیان حجت قرار دیتےہیں۔ (اصول الحدیث، صفحہ 217 ، بیروت)


یہی حدیث بہت ساری کتابوں‌ میں بھی روایت کی گئی ہے ؟؟؟

من لا یحضرۃ الفقیہ جلد سوم ۔4615 ۔ اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اس شخص کو ناپسند کرتا ہوں کہ وہ مرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے کسی سنت پر عمل کرنا باقی رہ جائے کہ اس نے اس پر عمل نہ کیا ہو۔ میں نےعرض کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کوئی متعہ کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں‌ اور آپ نے ( اس سے آگے سورہ تحریم آیت 3 تا 5 سے متعہ کو سنت رسول اللہ ثابت کیا گیا ہے)

وقال الصادق عليه السلام : " إني لاكره للرجل أن يموت وقد بقيت عليه خلة من خلال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لم يأتها ، فقلت له : فهل تمتع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال : نعم وقرأ هذه الاية " وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا - إلى قوله تعالى : - ثيبات وأبكار.
من لايحضره الفقيه - الشيخ الصدوق ج 3 ص466 وص467

باب استحباب المتعة وما ينبغي قصده بها. 2 - قال الصدوق : وقال الصادق ( عليه السلام ) : اني لاكره للرجل أن يموت وقد بقيت عليه خلة من خلال رسول الله ( صلى الله عليه وآله ) لم يأتها ، فقلت : فهل تمتع رسول الله ( صلى الله عليه وآله ) ؟ قال : نعم وقرأ هذه الآية : ( وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا - إلى قوله : - ثيبات وأبكارا ) .
وسائل الشيعة (آل البيت ) - الحر العاملي ج 21 ص 13

وفيه قال الصادق عليه السلام : " إني لاكره للرجل أن يموت وقد بقيت خلة من خلال رسول الله صلى الله عليه وآله لم يأتها " . فقلت : فهل تمتع رسول الله صلى الله عليه وآله فقال : " نعم " وقرأ هذه الآية : * ( وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا - إلى قوله - ثيبات وأبكارا ) * والأخبار في ذلك كثيرة .
جامع المقاصد - المحقق الكركي ج 13 ص8 وص9


وقال الصادق عليه السلام إني لاكره للرجل أن يموت وقد بقيت عليه خلة من خلال رسول الله صلى الله عليه وآله لم يأتها ، فقلت له : فهل تمتع رسول الله صلى الله عليه وآله ؟ قال : نعم ، وقرأ هذه الآية ( وإذا أسرا النبي إلى بعض أزواج حديثا إلى قوله تعالى ثيبات وأبكارا )
الحدائق الناضرة - المحقق البحراني ج 24 ص 119

وقال أبو الحسن عليه السلام لرجل ذكر له أنه عاهد الله أن لا يتمتع : ( عاهدت الله لا تطيعه ، والله لئن لم تطعه لتعصينه ) إلى غير ذلك من الاخبار الدالة على رجحانها . بل في بعضها ( ما احب للرجل منكم أن يخرج من الدنيا حتى يتزوج المتعة ولو مرة في بعض عمره ) ( إني لاكره للرجل المسلم أن يخرج من الدنيا وقد بقيت عليه خلة من خلال رسول الله صلى الله عليه وآله لم يصنعها ، فقلت : فهل تمتع رسول الله صلى الله عليه وآله ؟ فقال : نعم وقرأ هذه الاية : وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه الاية ) .
جواهر الكلام - الشيخ الجواهري ج 30 ص 151 وص152

وعلى هذا فالأخبار الواردة بعد ذلك لا مانع من الأخذ باطلاقها وإن كان النظر فيها إلى الثواب المترتب منها ما عن بكر بن محمد ، عن أبي عبد الله عليه السلام قال : " سألته عن المتعة فقال : إني لأكره للرجل المسلم أن يخرج من الدنيا وقد بقيت عليه خلة من خلال رسول الله صلى الله عليه وآله لم يقضيها " " فقلت : فهل تمتع رسول الله صلى الله عليه وآله ؟ فقال : نعم ، وقرأ هذه الآية " وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا - إلى قوله - وأبكارا " .
جامع المدارك - السيد الخوانساري ج 4 ص 288

کیا آپ کی رآئے اوپر بیان کئے گئے تمام سلف کی رائے پر فوقیت رکھتی ہے !!!!1
 

مہوش علی

لائبریرین
ہم نے تو دیکھا ہے کہ جو بھی حدیث باب المتعہ سے پیش کی گئی اس کو رد کر دیا گیا۔ تو پھر آپ کے پاس متعہ کی کون سی روایات اور کتاب بچے گی کہ جس سے آپ اپنے حق میں دلائل پیش کر سکیں گی۔ اور یاد رکھیے اصول اربعہ سے انکار کر کے کہیں آپ منکر روایت تو نہیں‌ بن رہیں‌ ؟؟؟

یہ کتاب اور اس کی روایات کتنی مستند ہیں دیکھئے !!!

من لا یحضر الفقیہ کے اردو مترجم سید حسن امداد (ممتاز الافاضل) صاحب کتاب کے شروع میں لکھتے ہیں۔

آپ (شیخ صدوق علیہ الرحمہ) تقریبا تین سو کتابوں کےمصنف ہیں۔ جیسا کہ علامہ طوسی نے اپنی کتاب الفہرست میں تحریر کیاہے اور آپ کی چالیس کتابوں کےنام تحریر کیے ہیں۔ اور ابوالعباس نجاشی متوفی ۴۵۰ھ نے اپنی کتاب رجال میں آپ کی تقریبا دو سو کتابوں کا ذکر کیا ہے۔ مگر افسوس کہ ان میں سے اکثر ضائع ہو گئیں۔ آپ کی عظیم تصنیفات میں سے ایک کتاب مدینۃ العلم بھی تھی جو اس کتاب من لا یحضر الفقیہ سے بھی بڑی تھی وہ بھی ضائع ہو گئی۔ جس کا ذکر شیخ طوسی نے اپنی کتاب الفہرست میں اور ابن شہر آشوب نے اپنی کتاب معالم میں کیا ہے۔ اور علامہ رازی نے اپنی کتاب الذریعہ میں علامہ بہائی کے والد بزرگوار شیخ حسین بن عبدا لصمد کی کتاب الدرایہ کی یہ عبارت نقل کی ہے۔ " و اصولنا الخمسۃ الکافی و مدینۃ العلم و من لا یحضرہ الفقیہ والتہذیب والاستبصار" (ہمارے مذہب کی اصولی کتابیں پانچ ہیں کافی ، مدینۃ العلم، من لا یحضرہ الفقیہ، تہذیب اور استبصار) اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے زمانے میں یہ کتاب مدینۃ العلم موجود تھی۔ مگر ان کے بعد یہ کتاب ضائع ہو گئی۔ صرف نام رہ گیا ۔ چنانچہ علامہ مجلسی نے اس کی تلاش کے لیے زرکثیر صرف کیا مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ اور کتاب الذریعہ میں ہے کہ سید محمد باقر جیلانی نےبھی اس کے حصول کے لیے بے دریغ رقم صرف کی مگر وہ بھی کامیاب نہ ہو سکے علامہ ابن طاہری علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب فلاح السائل نیز اپنی دیگر کتب میں اور شیخ جمال الدین بن یوسف حاتم فقیہ شافعی نے اپنی کتاب میں کتاب مدنیۃ العلم سے بہت سی چیزیں نقل کی ہیں۔ معین الدین شامی شقاقلی حیدر آبادی نےبیان کیا ہےکہ ان کے پاس مدینۃ العلم کا ایک نسخہ ہےجس کی دو نقلیں کیں لیکن وہ ابواب پر مرتب نہیں ہے بلکہ وہ روضۃ الکافی کی مانند ہے۔

مندرجہ بالا حقائق سے معلوم ہوا کہ ہمارےمذہب کی کتب خمسہ تھیں جن میں سے ایک ضائع ہو گئی اور اب کتب اربعہ رہ گئیں اور وہی کیا ہمارےبزرگ علماء کی ہزاروں بیش بہا تصانیف ضائع ہوگئیں۔

کتاب من لا یحضر الفقیہ جلد اول کا اردو ترجمہ قارین کی خدمت میں حاضر ہے یہ ایسی اہم کتاب ہے جس کا شمار اپنی کتب اربعہ میں ہوتا ہےاور اصول کافی کے بعد یہ دوسری کتاب ہے جو شیخ صدوق علیہ الرحمہ کی تالیف ہے۔ اس کا نام من لا یححضر الفقیہ ہے (جس کے پاس کوئی فقیہ موجو نہ ہو) یہی بتاتا ہے کہ یہ عوام کے لئے لکھی گئی تھی۔ مگر یہ اب تک عوام کی نگاہوں سے پوشیدہ رہی۔یہ فقہ کی بنیادی کتاب ہے۔ اس کے بعد فقہ کی کتابیں ہر دور میں تحریر کی جاتی رہی ہیں لیکن کتب اربعہ میں اسی کوجگہ ملی۔ آخر اس میں کوئی تو ایسی بات ہے جو اس کو اتنی اہمیت دی گئی۔ یہ کتاب تمام ابواب فقہ پر مشتمل ہے ۔ یہ کسی عالم کے فتاوٰی کا مجموعہ نہیں بلکہ ہر مسئلہ کے متعلق آئمہ طاہرین کی احادیث نقل کر دی گئی ہے جن کی روشنی میں ہمارے علماء و فقہاء حضرات فتوے جاری کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اس کے مطالعہ سے یہ غلط فہمی دور ہو جائے گی کہ ہمارے علماء و فقہا حضرات اپنی طرف سے کوئی فتویٰ دتیے ہیں بلکہ اس کی بنیاد آئمہ طاہرین کی کوئی نہ کوئی حدیث ہی ہوتی ہے۔

شیخ صدوق علیہ الرحمہ کی سب سے مشہور کتاب من لایحضر الفقیہ ہے اس کا شمار شیعوں کی کتب اربعہ میں ہوتا ہے اور یہ کتب اربعہ وہ ہیں کہ احکام شریعہ کے اخذ کرنے میں شیعوں کا اس پر دارومدار ہے نوسوسال سے زیادہ عرصہ گذر گیا کہ فقہاء و غیر فقہاء میں یہ مقبول ہے اور اتنی معتبر اور قابل اعتنا ہے کہ معدودے چند کے سوا اس پر آج تک کوئی اعتراض نہ کر سکا اب اس سے بڑھ کر اس کی اہمیت کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے۔

علامہ سیدبحر العلوم قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ہمارے اصحاب میں سے جو لوگ من لا یحضرہ الفقیہ کی احادیث کو دیگر کتب اربعہ کی احادیث پر ترجیح دیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہےکہ شیخ صدوق بہت صاحب حافظہ تھے۔ اور یہ کتاب کافی کے بعد تصنیف ہوئی ہے اس لیے اس میں جو احادیث لکھی گئی ہیں صحت کی پوری ضمانت اور ذمہ داری سے لکھی گئی ہیں۔

شہید ثانی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب شرح داریت الحدیث میں تحریر فرمایا ہے کہ شیخ محمد بن یعقوب کلینی سے لے کر آج تک ہمارے جتنے بھی مشائخ گذرےہیں ان میں سے کسی ایک کو بھی اس کی ضرورت نہں کہ ان کی عدالت کے لیے کوئی تنصیص و تنبیہ پیش کی جائے اس لیے کہ ان لوگوں میں ثقاہت، احتیاط، زہد و تقویٰ اس قدر تھا جو عدالت سے بھی بڑھا ہوا تھا اور یہ ہر زمانہ میں مشہور تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ متاخرین علماء رجال ان عظیم المشائخ میں سے اکثر کے لیے جسے شیخ صدوق، سید مرتضی ، دامن براج وغیرہ انکے ثقہ و عادل ہونے کےلیے کسی تنصیص کی ضرورت نہیں سمجھتے۔

علامہ خبیر محقق شیخ بہاء الدین عاملی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب شرح من لا یحضرہ الفقیہ میں تحریر فرمایا ہے کہ اس کتاب میں ایک تہائی سے زیادہ احادیث (بغیر اسناد کے) مرسل درج ہیں اس کی صحت کا انہیں اس قدر یقین ہے انہیں پر اپنے فتووں کا مدار رکھتےہیں اور فرماتےہیں کہ یہ احادیث ہمارے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان حجت ہیں اور اصولین کی ایک جماعت نے یہاں تک کہدیا ہے کہ شخص عادل کی مرسل حدیث کو ترجیح دی جائے گی۔ اس لیے کہ اس کو حدیث کے مضمون پریقین ہے۔

اور ہمارےاصحاب رضوان اللہ علیہم نے شیخ صدوق کی مرسل احادیث کو ابن ابی عمیر کی مرسل احادیث کے برابر مستند و معتمد سمجھا ہے اس لئے کہ ان سب کو معلوم ہے کہ شیخ صدوق علیہ الرحمہ کی یہ عادت ہے کہ وہ کسی ثقہ کی روایت ہی کو مرسل کر لیتے ہیں اور اس کی اسناد کو حذف کرلیتے ہیں جیسےابن ابی عمیر۔

اور محقق سید داماد رحمہ اللہ اپنی کتاب الرواشخ سماویہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ اگر حدیث کو مرسل کرنے والے کے نزدیک درمیان کے تمام راوی عادل نہ ہوں تو اس کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ حدیث کو امام کی طرف منسوب کرے حدیث مرسل وہی ہےکہ جب ارسال کرنےوالا یہ یقین رکھتا ہو کہ اس کے درمیان تمام راوی مستند و عادل ہیں اور وہ ان کا ذکر نہ کرے اور راست کہےکہ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم یا کہے کہ قال الامام علیہ السلام اس لیے کہ اسکو یقین ہے کہ یہ حدیث معصوم علیہ السلام سے صادر ہوئی ہے جیسا کہ شیخ صدوق علیہ الرحمہ نےاپنی کتاب من لا یحضرہ الفقیہ میں یہی کیا ہے اورکہا قال الامام علیہ السلام اور
محقق شیخ سلمان بحرانی نے اپنی کتاب البلغہ کے اندر اپنی گفتگو کے درمیان من لا یحضر الفقیہ کی روایات کے معتبر ہونے کے متعلق فرمایا ہےکہ میں نےاکثر اصحاب کو دیکھا ہے کہ وہ شیخ صدوق علیہ الرحمہ کی مرسل احادیث کو صحیح کہتے ہیں/COLOR]اور
ان کے مراسیل ابن ابی عمیر کے مراسل سے کم معتبرنہیں ہی​
ں جیسا کہ علامہ حلی علیہ الرحمہ نے اپنی کتب المختلف میں اور شہید علیہ الرحمہ نے شرح ارشاد میں سید محقق داماد کی بھی یہی رائے ہے۔

ڈاکٹر عبدالہادی الفادی من لا یحضر کے مصنف کے لکھے پر کہتے ہیں۔ کہ ان کا یہ قطعی بیان بالکل صاف اور واضح ہے جو کہ ظاہر کرتا ہےکہ وہ اپنی کتاب کے مواد کے مستند ہونےپر اتنا یقین رکھتے ہیں کہ اسے اللہ اور پنے درمیان حجت قرار دیتےہیں۔ (اصول الحدیث، صفحہ 217 ، بیروت)


یہی حدیث بہت ساری کتابوں‌ میں بھی روایت کی گئی ہے ؟؟؟

من لا یحضرۃ الفقیہ جلد سوم ۔4615 ۔ اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اس شخص کو ناپسند کرتا ہوں کہ وہ مرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے کسی سنت پر عمل کرنا باقی رہ جائے کہ اس نے اس پر عمل نہ کیا ہو۔ میں نےعرض کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کوئی متعہ کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں‌ اور آپ نے ( اس سے آگے سورہ تحریم آیت 3 تا 5 سے متعہ کو سنت رسول اللہ ثابت کیا گیا ہے)

وقال الصادق عليه السلام : " إني لاكره للرجل أن يموت وقد بقيت عليه خلة من خلال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لم يأتها ، فقلت له : فهل تمتع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال : نعم وقرأ هذه الاية " وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا - إلى قوله تعالى : - ثيبات وأبكار.
من لايحضره الفقيه - الشيخ الصدوق ج 3 ص466 وص467

باب استحباب المتعة وما ينبغي قصده بها. 2 - قال الصدوق : وقال الصادق ( عليه السلام ) : اني لاكره للرجل أن يموت وقد بقيت عليه خلة من خلال رسول الله ( صلى الله عليه وآله ) لم يأتها ، فقلت : فهل تمتع رسول الله ( صلى الله عليه وآله ) ؟ قال : نعم وقرأ هذه الآية : ( وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا - إلى قوله : - ثيبات وأبكارا ) .
وسائل الشيعة (آل البيت ) - الحر العاملي ج 21 ص 13

وفيه قال الصادق عليه السلام : " إني لاكره للرجل أن يموت وقد بقيت خلة من خلال رسول الله صلى الله عليه وآله لم يأتها " . فقلت : فهل تمتع رسول الله صلى الله عليه وآله فقال : " نعم " وقرأ هذه الآية : * ( وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا - إلى قوله - ثيبات وأبكارا ) * والأخبار في ذلك كثيرة .
جامع المقاصد - المحقق الكركي ج 13 ص8 وص9


وقال الصادق عليه السلام إني لاكره للرجل أن يموت وقد بقيت عليه خلة من خلال رسول الله صلى الله عليه وآله لم يأتها ، فقلت له : فهل تمتع رسول الله صلى الله عليه وآله ؟ قال : نعم ، وقرأ هذه الآية ( وإذا أسرا النبي إلى بعض أزواج حديثا إلى قوله تعالى ثيبات وأبكارا )
الحدائق الناضرة - المحقق البحراني ج 24 ص 119

وقال أبو الحسن عليه السلام لرجل ذكر له أنه عاهد الله أن لا يتمتع : ( عاهدت الله لا تطيعه ، والله لئن لم تطعه لتعصينه ) إلى غير ذلك من الاخبار الدالة على رجحانها . بل في بعضها ( ما احب للرجل منكم أن يخرج من الدنيا حتى يتزوج المتعة ولو مرة في بعض عمره ) ( إني لاكره للرجل المسلم أن يخرج من الدنيا وقد بقيت عليه خلة من خلال رسول الله صلى الله عليه وآله لم يصنعها ، فقلت : فهل تمتع رسول الله صلى الله عليه وآله ؟ فقال : نعم وقرأ هذه الاية : وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه الاية ) .
جواهر الكلام - الشيخ الجواهري ج 30 ص 151 وص152

وعلى هذا فالأخبار الواردة بعد ذلك لا مانع من الأخذ باطلاقها وإن كان النظر فيها إلى الثواب المترتب منها ما عن بكر بن محمد ، عن أبي عبد الله عليه السلام قال : " سألته عن المتعة فقال : إني لأكره للرجل المسلم أن يخرج من الدنيا وقد بقيت عليه خلة من خلال رسول الله صلى الله عليه وآله لم يقضيها " " فقلت : فهل تمتع رسول الله صلى الله عليه وآله ؟ فقال : نعم ، وقرأ هذه الآية " وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا - إلى قوله - وأبكارا " .
جامع المدارك - السيد الخوانساري ج 4 ص 288

کیا آپ کی رآئے اوپر بیان کئے گئے تمام سلف کی رائے پر فوقیت رکھتی ہے !!!!1


شوکت بھائی صاحب،
کیا دنیا کی کوئی ایسی زبان ہے جس میں میں آپ کو یہ فرق سمجھا سکتی ہوں؟

1۔ "فقہ" یا "فتوی" کے متعلق روایات
2۔ فضائل کے متعلق روایات

آپ نے جتنی روایات اس ضمن میں نقل کی وہ فضائل سے تعلق رکھتی ہیں اور فضائل کے متعلق یہی مؤقف چلتا آ رہا ہے کہ اس ضمن میں وہ سختی نہیں ہے جو شریعت کے حلال حرام کو جاننے کے لیے کی جاتی ہے، بلکہ واضح طور پر محدثین کا مؤقف ہے کہ ضعیف روایات بھی فضائل میں وہ بیان کرتے ہیں۔

اور جو آپ رسول ص کے متعلق پھر بھی بحث کرنا چاہ رہے ہیں تو اس سلسلے میں آپ یہاں یہ پڑھ سکتے ہیں کہ یہ بات ثابت نہیں ہے، اور نہ ہی اسکی زیادہ اہمیت ہے کیونکہ رسول اللہ ص کی اپنی ازواج موجود تھیں اور یہ بات بہت کافی ہے کہ رسول اللہ ص نے ایسے صحابہ کو اجازت دی کہ وہ عقد المتعہ کر کے خود کر گناہ سے محفوظ کریں کہ جنہیں گناہ میں مبتلا ہونے کا ڈر تھا (اور آپکے پھوکس دعوؤں کے برخلاف جو آپ اوپر کر رہے ہیں کہ نئے نئے لوگ جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا صرف وہی متعہ کرتے تھے۔۔۔۔ یہ ابن مسعود جیسے جلیل القدر صحابی ہیں جو بیان فرما رہے ہیں کہ اللہ کے رسول ص نے گناہ کے مبتلا ہونے کے ڈر پر صحابہ کو عقد المتعہ کی اجازت یہ کہتے ہوئی دی کہ کیوں ان چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرتے ہو جنہیں اللہ نے تمہارے لیے پاکیزہ طیببات و حلال میں سے فرمایا ہے۔
اب آپ جو مرضی کوششیں کر لیں، سنت کی بحث لے آئیں، اُن صحابہ کے ایمان کو کمزور قرار دینے کے لیے نیا نیا اسلام قبول کرنے کا دعوی کر دیں، وغیرہ وغیرہ وغیرہ، مگر لسان نبوت کی گواہی ہے کہ پاکیزہ طیبات حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام نہ کرو۔
 
متعہ کسی طور بھی پاکیزہ اور حلال چیز نہیں‌ہے۔ یہ کسی طور بھی اللہ تعالی کے احکام نکاح‌ سے ثابت نہیں ہے۔ رسول اللہ کی سنت سے ثابت نہیں ہے۔ اس سے آگے کس نے کیا کیا، دین کے لئے حجت نہیں ہے۔ درحقیقت متعہ ایک محترم خاتون کا شدید استحصال اور ایک بڑا جرم ہے۔

یہ بحث صرف اور صرف ذہنی عیاشی ہے۔ وقت کا ضیاع ہے۔ بار بار اس کو حلال کہنے سے یہ حرام ، حلال میں‌تبدیل نہی‌ہوجائے گا۔


والسلام
 

S. H. Naqvi

محفلین
کیا دنیا کی کوئی ایسی زبان ہے جس میں میں آپ کو یہ فرق سمجھا سکتی ہوں؟
میں نا مانوں نہ بھی نہ میں نا مانوں:idontknow: :dancing:
جس دن کویٔ ایسی زبان ایجاد ہویٔ کہ آپ کو ہماری دلیلیں اور اعتراضات سمجھ آ نے شروع ہو گٔے تو اسی دن آپ کی باتیں بھی ہماری سمجھ میں آ جاییں‌ گی تب تک لگی رہیں;) اور ہماری تمھاری تو مرغے کی ایک ٹانگ ہی رہے گی، اصل تو یہ ہے کہ اس موضوع کو اتنا اوبن کیا جاۓ، اتنی انفارمیشن دی جاۓ،اتنا مواد رکھا جاۓ کہ کل کویٔ ادھوری معلومات دے کر، ایک مصلح کے روپ میں سامنے آ کر کسی کو "گمراہ" نہ کر سکے اور اپنے مقاصد نہ حاصل کرسکے اور عامتہ الناس کی اصل حقیقت تک رسایٔ ہو سکے:cool: باقی آپ نے کب ماننا ہے؟ علم اپنی جگہ، انا، دنیاوی حیثیت اور مقام و منصب بھی کویٔ اہمیت رکھتا ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

"روایت بر امام رضا علیہ سلام کہ ابو جہل بر ملا کہتا تھا کہ بتیجھے :pbuh: مجھے پتا ہے کہ تو سچا ہے مگر میں اپنی "قوم" کو نہیں چھوڑ سکتا"
 
ش

شوکت کریم

مہمان
اوپر دی گئی من لایحضر الفقیہ کی حدیث کے بارے میں محترمہ مہوش کی رائے اول۔

مجھے پتا نہیں کہ آپ کب ایسی روایات پیش کرنا شروع کریں کہ جن کی سند کی ہو اور اسے ہمارے علماء نے صحیح کہا ہو۔ تو پتا نہیں آپ کبھی اپنی اس بیماری سے نجات پا سکیں گے بھی یا نہیں،

اور جب کتاب اور روایت کے ثقہ ہونے کے دلائل دیئے گئے تو رائے دوم۔

شوکت بھائی صاحب،
کیا دنیا کی کوئی ایسی زبان ہے جس میں میں آپ کو یہ فرق سمجھا سکتی ہوں؟

1۔ "فقہ" یا "فتوی" کے متعلق روایات
2۔ فضائل کے متعلق روایات

محترمہ مہوش آپ کسی طرف ٹھہریں تو بات بھی ٹھہرے پینترے بدلنے سے نہ تو آپ جان چھڑا سکتی ہیں اور نہ ہی مسئلے کو الجھا سکتی ہیں۔ یہاں میری طرف سے پیش کی گئی زیادہ تر روایت من لا یحضر الفقیہ سے ہیں اور اس کے ثقہ ہونے کے کچھ دلائل اوپر دیے جا چکے ہیں اور مزید یہ ملاحظہ ہوں۔


آپ کو پہلے تو آپ کو یہ دیکھنا چاہیے کہ آپ کس حدیث اور کس کتاب کو اس طرح بے دردی سے دیوار پر مار رہی ہیں ۔ کیا دنیا میں سارے اندھےبستے ہیں کہ آپ کےفرمائے ہوئے کو بلا تحقیق و جستجو من و عن تسلیم کر لیا جائے گا اور ایک باسند کتاب کہ جس کا مصنف بہ لقب "صدوق" علماء میں مشہور ہے کہ حدیثوں کو رد کر دیا جائے اور انہیں ضعیف کا درجہ دے دیا جائے۔ میری سمجھ سے بالاتر ہے یہ بات کہ آپ تما م علماء و مشائخ کہ جن کے اقوال و افعال پر یہ عمارت کھڑی ہے کی بیان کی ہوئی حدیثوں کو بے سند کہہ کر کیا ثابت کرنا چاہ رہی ہیں۔

نجاشی اپنی کتاب رجال صفحہ 276 میں تحریر فرماتےہیں کہ محمد بن علی بن الحسین بن موسیٰ بن بابویہ قمی ابو جعفر شہر رے میں وارد ہوئے۔یہ ہمارے شیخ ہمارے فقیہ ہیں اور خراسان میں فرقہ شیعہ کے رئیس و سردار تھے۔

شیخ طوسی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب رجال میں تحریر کیا ہے کہ آپ ایک جلیل القدر حافظ تھے فقہ و اخبار و رجال پر بڑی نظر رکھتے تھے انکی بہت سی تصانیف ہیں جن کا ذکر میں نے کتاب الفہرست میں کیا ہے۔
اور کتاب الفہرست میں تحریر فرمایا کہ آپ ایک جلیل القدر عالم تھے احادیث کے حافظ تھے رجال پر بہت نظر رکھتے تھے اخباروں اور واقعات کے ناقد تھے۔ قم کے علماء کے اندر کثرت حفظ احادیث میں ان کا کوئی مثل نظر نہیں آتا۔

علامہ حلی رحمہ نے اپنی کتاب خلاصۃ الاقوال جلد اول میں ان کے متعلق وہی لکھا ہے جو نجاشی اور شیخ طوسی نے تحریر فرمایا ہے اور کہا ہے کہ ان کی تقریباً تین سو تصانیف ہیں جن میں سے اکثر کا ذکر ہم نے اپنی کتاب کبیر میں کر دیا ہے۔

اور علامہ سید بحر العلوم رحمہ نے اپنی کتاب فوائد رجالیہ میں تحریر کیا ہے کہ آپ مشائخ شیعہ میں سے ایک شیخ اور ارکان شریعت میں سے ایک رکن تھے رئیس المحدثین تھے اور آئمہ طاہرین سے جس قدر روائتیں کی ہیں ان میں صدوق (حد سے زیادہ راست گو) تھے آپ امام عصر کی دعا کی برکت سے پیدا ہوئے اور یہ فضل و شرف و افتخار ان کو اسی وجہ سے حاصل ہوا۔

اس کے بعد آپ نے شیخ صدوق علیہ الرحمہ کی ولادت کے متعلق روایات کو نقل کرنے کے بعد تحریر کیا ہے کہ یہ روایات صدوق کے عظیم المرتبت ہونے کی دلیل ہیں انکی پیدائش سے پہلے ہی انکے اوصاف بیان کر دینا امام کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے اور امام کا ان کے متعلق یہ فرماما کہ وہ فقیہ و بابرکت ہوگا لوگوں کو بہت نفع پہنچائے گا یہ شیخ صدوق کی عدالت اور وثاقت کی دلیل ہے اس لیے ان کی روایت اور انکے فتویٰ سے لوگ منتفع ہوں گے کہ فتویٰ وغیرہ بغیر عدالت کے مکمل نہیں اس میں عدالت شرط ہے اور امام کی طرف سے اس کی توثیق ان کی وثاقت کی بھی بہت بڑی دلیل ہے۔ نیز ہمارے بعض علمائے کرام نے تو انکی وثاقت پر نص کر دی ہے جیسے

الثقہ الفاضل محمد بن ادریس حلی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب السرائر و المسائل میں
اور سید الثقہ الجلیل علی بن طاؤس علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب فلاح السائل و نجاح الامل میں
اور کتاب النجوم و کتاب الاقبال و کتاب غیاث سلکان الوریٰ لسکان الثریٰ میں
اور علامہ حلی نے اپنی کتاب المختلف و المنتہیٰ میں
شہید نے نکت الارشاد و کتاب الذکری میں

ان کی وثاقت کی نص کر دی ہے۔پھر آپ نے علمائے متاخرین میں سے چند کے نام بتائے ہیں جنہوں نے ان کی وثاقت کی تصریح کر دی ہے اور بہرحال شیخ صدوق کی وثاقت واضح اور روشن چیز ہے بلکہ معلوم اور ضروری ہے کہ جس طرح حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ و حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی وثاقت معلوم ہے اور اگر یہ کچھ نہ بھی ہو تو علماء کے درمیان ان کا لقب صدوق مشہور ہونا یہی ان کی وثاقت کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔

اور علامہ ثقہ حجۃ الاسلام شیخ عبداللہ مامقانی رحمہ نے تنقیح المقال جلد ۲ صفحہ ۱۵۳ مین ان کے وہی حالات تحریر کیے ہیں جو نجاشی و شیخ طوسی و علامہ وغیرہ نے تحریر کیے اور اس کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ انکی وثاقت میں تامل کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی آفتاب درخشندہ کی روشنی میں تامل کرے اور وہ تامل اس قابل نہیں کہ کتابوں میں درج کیا جائے۔اور انکی وثاقت کو کیونکر نہ تسلیم کر لیا جائے جبکہ حضرت حجۃ المنتظر عجل اللہ فرجہ نے اس امر کی خبر دے دی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی ذات سے نفع پہنچائے گا اس لیے ان کو موثق اور عادل ماننا ضرور ی ہے کیونکہ ان سے انتفاع ان کی روایت اور ان کے فتویٰ ہی سے ہو گا اور یہ بغیر عدالت کے پورا اور مکمل نہیں ہو سکتا۔

علامہ طبا طبائی نے انکی عدالت پر یہ دلیل بھی پیش کی ہے کہ ان کے اقوال کے نقل نیز ان کی کتابوں خصوصاً من لا یحضرۃ الفقیہ کی توثیق پر تمام اصحاب فقہ کا اجماع ہے۔

اور آپ ایسے عالم بے مثل کی روایت کو یہ کہہ کر ٹھکرا رہی ہیں کہ یہ بے سند ہے۔

ع۔ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
 
ش

شوکت کریم

مہمان
متعہ کسی طور بھی پاکیزہ اور حلال چیز نہیں‌ہے۔ یہ کسی طور بھی اللہ تعالی کے احکام نکاح‌ سے ثابت نہیں ہے۔ رسول اللہ کی سنت سے ثابت نہیں ہے۔ اس سے آگے کس نے کیا کیا، دین کے لئے حجت نہیں ہے۔ درحقیقت متعہ ایک محترم خاتون کا شدید استحصال اور ایک بڑا جرم ہے۔

فاروق صاحب پتہ نہیں آپ کس دنیا میں رہتے ہیں کہ متعہ کو محترم خاتون کا شدید استحصال قرار دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر محمد تقی عابدی اپنی کتاب اسلام اور جنسیات کے صفحہ 65 پر لکھتے ہیں۔ کہ متعہ ضرورت کے تحت (مثلاً جب حرام میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو، سفر میں ہو، دوا کے لیے ہو کسی کی اعانت کرنا مقصود ہو وغیرہ) نہ کہ بلا ضرورت۔

اب ڈاکٹر عابدی صاحب نے آگے دوا کے لیے کی تو وضاحت کر دی ہے مگر کسی کی اعانت کرنا مقصود ہو وغیرہ کی تعریف تلاش بسیار کے باوجود نہیں ملی جوں ہی ملے آپ کی ہدایت و راہنمائی کے لیے چسپاں کر دوں گا۔

مزید صفحہ 209 پر وضاحت حواشی میں "دوا کے لیے " کی وضاحت میں لکھتے ہیں ۔ عبدالکریم مشتاق نے اپنی کتاب "ہم متعہ کیوں کرتے ہیں؟" میں تحریر کیا ہے کہ طبعی اصول ہے کہ بڑھاپے میں عورت کی خواہش مرد کو زیادہ ہوتی ہے اور خصوصًا کم عمر عورت کی۔ ان کی یہ خواہش حرص و ہوس پر محمول نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ فطری امر ہے اور طبعی تقاضا ہے ۔ یہی وجہ ہے لوگو کھوئی ہوئی جوانی کمر جھکائے تلاش کرتے پھرتے ہیں اور سینکڑوں روپے ادھر ادھر کی دوائیوں پر برباد کرتے ہیںَ۔ لیکن اسلام چوں کہ حکیمانہ نظام ہے لہذا اس نے اس مشکل کا حل بھی بہت آسان دریافت کیا ہے کہ اگر مرد میں عقل سلیم باقی ہے اور کم سن عورت کا استعمال دوائی کے طریقے پر عیش و عشرت کے لیے نہیں چاہتا تو یہ نسخہ شافی ہو گا۔
 

S. H. Naqvi

محفلین
از: مہوش علی۔

2۔ فضائل کے متعلق روایات
آپ نے جتنی روایات اس ضمن میں نقل کی وہ فضائل سے تعلق رکھتی ہیں
:great: مرغے کی ایک ٹانگ، جی بالکل فضایٔل کے متعلق ہی ہیں‌ مگر آپ کو کب سمجھ آئے گی کہ ہم فضایٔل کی بنیاد پر حلال و حرام ثابت نہیں کر رہے، وہ تو ہم الگ سے کر چکے ہیں، فضایٔل کی روایات بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ نے، ناشأیستہ کلامی کی معافی، صریح جھوٹ بولا تھا کہ متعہ تو صرف ضرورت کے وقت ہوتا ہے، اور آپ کی معتبر کتابیں تو اسے ایمان کا جزواور جنت کے حصول کا ذریعہ  بتا رہی ہیں، وضاحت کریں گی کہ کیوں؟؟؟؟

از: فاروق سرور خان۔
متعہ کسی طور بھی پاکیزہ اور حلال چیز نہیں‌ہے۔ یہ کسی طور بھی اللہ تعالی کے احکام نکاح‌ سے ثابت نہیں ہے۔ رسول اللہ کی سنت سے ثابت نہیں ہے۔ اس سے آگے کس نے کیا کیا، دین کے لئے حجت نہیں ہے۔ درحقیقت متعہ ایک محترم خاتون کا شدید استحصال اور ایک بڑا جرم ہے
جی بجا فرمایا آپ نے میرے بھایٔ اللہ آپ کو جزاء خیر عطا کرے۔:great: اور میں بالکل آپ سے متفق ہوں کہ متعہ شریف، گھریلو اور کسی بھی محترم خاتون کا جذباتی، دینی، معاشرتی اور معاشی استحصال ہے مگر یہں پر متعہ ایک پیشہ ور، بدمعاش اور بدقماش عورت کے لیے رحمت ہے، کہ اس متعہ نے تو اسے عزت بھی دینی ہے، پیسہ بھی دینا ہے اور نیک نامی کے ساتھ جنت بھی دینی ہے۔ ہو سکتا ہے میرے الفاظ تلخ ہوں‌ مگر کیا کیا جائے کہ گہرایٔ میں‌جا کر غور کریں تو حقیقت یہی ہے:end:
 

میر انیس

لائبریرین
میں نے نوٹ کیا ہے کہ علمی طور پر ہونے والی ہر بحث کا یہی حشر ہوتا ہے کہ لوگ بات کرتے ہوئے سطح عمومی سے بھی نہایت حد تک نیچے گر جاتے ہیں میری پہلی والی پوسٹ کا بھی یہی حشر ہوا تھا کہ اس کو بعض حضرات نے بہت غلط رنگ دیدیا
سب سے پہلے میں اپنے بھائی شوکت کریم سے مخاطب ہوں کیونکہ باوجود نظریاتی اختلاف کہ میں نے ان میں بالکل عالموں والی بات دیکھی ہے اور کہیں بھی ایسی بات نہیں کی جس سے کہیں بھی انکے اخلاق کی کمزوری جھلکتی ہو اور بحث وہ ہی اچھی لگتی ہے جو دوسرے کو نیچا دکھانے کیلیئے نہیں ہو بلکہ اسکی ہر ممکن اصلاح کرنے کیلئے ہو۔ شوکت صاحب آپ نے اپنی علمی معلومات کے بڑے جوہر دکھائے اور میں آپ کا بے حد احترام کرنے لگا ہوں پر میرے بھائی جب بات کسی بھی چیز کو حرام یا حلال قرار دینے کی ہوتی ہے تو فریقِ مخالف کی کتابوں سے دلائل دیے جاتے ہیں انکی حرمت یا حلت کیلئے مہوش نے آپ ہی کی کتابوں سے اور قران سے متعہ کو حلال ثابت کیا تھا تو آپ کو چاہیئے تا یہ تھا کہ اصولِ اربعہ سے ایسی احادیث یا روایات لاتے جو متعہ کو حرام قرار دے رہی ہوں نہ کہ اسکی فضیلت ثابت کر رہی ہوں۔ مہوش نے تو روایات صحیح بخاری و مسلم سے پیش کیں کہ صحابہ نے متعہ خود کیا تھا اور حضرت جابر بن عبداللہ جیسے عظیم المرتبت صحابی جنہوں نے اتنی لمبی عمر پائی کہ حضرت امام محمد باقر (ع) تک سے ملاقات کرلی وہ آخر عمر تک متعہ کو حلال سمجھتے رہے حالانکہ اسوقت تو اگر وہ غلط تھے تو انکی اصلاح کرنے والے بہت سے جید صحابہ و اہلیبیت موجود تھے یہ اتنی پکی اور مضبوط دلیل ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ باقی سب دلائل یہاں آکر ختم ہوجاتے ہیں۔ اگر متعہ اتنا بڑا گناہ ہوتا تو یہ کیسے ممکن ہےکہ اتنے جید جید صحابہ اس میں ملوث ہوں اور دیگر صحابہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہوں۔ اب بات فضیلت کی ہے تو حج کی کتنی فضیلت بیان ہوئی ہے پر حج صرف ایک دفعہ پوری زندگی میں واجب ہے اور بعض ہم جیسے لوگ تو پوری زندگی اس آس میں گذار دیتے ہیں کہ کب ہم میں حج کرنے کی استطاعت ہو اور ہم حج پر جائیں اور اپنی پوری زندگی کے گناہ بخشوالیں۔ اور اکثر اس دنیا سے یہ آس لے کر چلے جاتے ہیں۔ لہٰذا آپ سے گذارش ہے کہ متعہ کے فضائل بیان کرنے کے بجائے اس کی حرمت قران اور اصولِ اربعہ سے ثابت کریں۔
گرائیں صاحب میں آپ سے ہاتھ جوڑ کر عرض کرتا ہوں کہ میں نے حضرت عمر کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں کی جیسی آپ نے خود ہی تصور کرلی میرے بھائی اگر میں نے وہ روایت اگر اپنے پاس سے گڑھی ہوتی تو آپ مجھ کو کچھ بھی کہتے آپ کا حق تھا باقی رہی بات حجرت عمر کی تو وہ تو ایک بہت ہی دور کی بات ہے میں تو سارے اہلِ سنت کے علما کو اور اپنے ان تمام اہلِ سنت کے بھائیوں کو جو فساد پسند نہیں کرتے ہیں گلے سے لگاتا ہوں وہ تو بس ایک مخصوص گروہ ہے جو فساد پھیلاتا ہے اور لوگوں کو قتل کرتا ہے نا حق ان سے ہماری دشمنی ہے ۔ آپ کو مولا علی(ع) کی وہ بات یاد ہوگی کہ جب آپ (ع) سے کسی نے سوال کیا سوال بہت مشکل تھا تو ایک خارجی کھڑا ہوا اور کہا آج پھنسے نا اپنے علم پر بڑا گھمنڈ تھا پر ابھی وہ خوش ہی ہورہا تھا کہ میرے مولا نے اسکا اتنا اچھا جواب دیا کہ وہ بول پڑا کہ یہ کافر( نعوذ باللہ من ذالک) ہے بہت ذہین تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں تم کو بھی جانتا ہوں تمہارے ارادوں کو بھی تم میرے دشمن ہو پر تم کو تمہارا پورا حق ملے گا جیسا میرا سلوک میرے چاہنے والوں سے ہے بالکل وہی میں تمہارے ساتھ رکھوں گا پر یاد رکھو اگر تم نے بے قصور لوگوں کا خون بہایا تو نہ ہی یہ تلوار بدلی ہے نہ ہی یہ ہاتھ بدلا ہے۔ تو لڑائی تو ہماری ان جاہل لوگوں سے ہے جو اسلام کے نام پر بے قصور لوگوں کا خون بہاتے ہیں ورنہ تو سارے مسلمان ہمارے بھائی ہیں میں سوچ ھی نہیں سکتا کہ ان میں سے کسی کی بھی دل آزاری کا باقی رہی اجرت والی عورت کی بات تو بھائی آپ کی کتابیں آپ کے سامنے ہیں کیا کنیزیں اجرت پر حاصل نہیں کی جاتی تھیں۔ پھر یا تو آگے بیچ دی جاتی تھیں یا پھر ان سے ھی عقدِ دائمی کر لیا جاتا تھا تو متعہ کو ہی کیوں عتاب کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
نقوی بھائی آپ تو اولادِ رسول کی نسل سے ہیں آپ تو ہمارے لیئے اس لئے بھی نہایت قابلِ احترام ہیں کے ہمارے دسویں امام حضرت علی نقی(ع) کی اولاد میں سے ہیں پر بھائی جب کوئی علمی بحث کی جاتی ہے تو لب و لہجہ بھی وہی رکھا جاتا ہے جو اسکی مناسبت سے ہو۔ آپ ذرا خود سوچئے کہ جہاں قران اور احادیث کے حوالے دیئے جارہے ہوں وہاں آپ کی آلو چھولے بیچنے والے الفاظ اور اسی کی طرح کی دوسری باتیں کیا مطابقت رکھتی ہیں؟ میرے بھائی آپ ایک علم رکھنے والے فرد ہیں اور جہاں علم ہوتا ہے وہاں شائیستگی ہوتی ہے ایک دوسرے کا احترام ہوتا ہے پر جہاں جہالت ہوتی ہے وہیں بد تمیزی ہوتی ہے ایک دوسرے کو کسی نا کسی طرح سے نیچا دکھانے کی ہوس ہوتی ہے جہاں جہالت ہوتی ہے وہاں شر انگیزی ہوتی ہے جہاں علم ہوتا ہے وہاں اگر بحث بھی کی جاتی ہے تو اصلاح کے لیئے کی جاتی ہے اور اصلاح کرنے والوں کو آپ سے محبت ہوتی ہے آپ اپنے چھوٹے بھائی کی اگر اصلاح کرنے کی خاطر مار بھی لیں تو اس میں بھی ایک محبت کا عنصر ہوتا ہے اور جہاں جہالت ہوتی ہے وہاں بحث بھی لڑائی اور فتنہ فساد کی جڑ بن جاتی ہے ۔ آپ دیکھ لیں کہ نام نہاد مسلمان کس ظرح اسلام کا نام لیکر لوگوں کو کبھی مسجد میں اور کبھی بازار میں کبھی مکانوں کو اور کبھی ماتمی جلوس کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا رہے ہیں کیونکہ جاہل چاہے کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہو درندگی اس میں ہوتی ہی ہے یہ الگ بات ہے کہ کب تک اسکے سینے میں چھپی رہے اور کب باہر نکل آئے۔ آپ میرے چھوٹے بھائی ہیں اور ہوسکتا ہے آپ کی عمر میرے کسی بھانجے بھتیجے جتنی ہو اور بھانجا اور بھتیجا بھی اپنی اولاد ہی ہوتا ہے ۔ آپ سے گذارش ہے کہ علمی بحث کو اسکے شایانِ شان ہی رہنے دیں اور اختلاف میں اتنے آگے نا بڑھ جائیں کہ کسی کے ساتھ زیادتی کر بیٹھیں کیونکہ اسطرح کرنے سے آپ صرف ایک یہ کامیابی حاصل کرنے کہ چکر میں کہ آپ کی بات سب سے بڑھ کر ہوجائے پر دوسرے کے ساتھ بد سلوکی کا گناہ اور دل شکنی کا گناہ آپ کے سر جائے گا۔آآاقی بھی دوسرے لوگوں سے یہ گذارش کرتا ہوں کہ ہر بات میں شکریہ کا ٹیگ لگانے سے پہلے کم از کم یہ تو دیکھ لیا کریں کہ یہ بات اس موضوع کہ شایانِ شان ہے بھی یا نہیں
 

میر انیس

لائبریرین
صدیق صاحب للہ اپنی روش تبدیل کریں دیکھئے آپ نے جو رویہ اختیار کیا ہے ویسے رویہ والے بہت سے امت میں اختلاف پیدا کرکے چلے گئے بہت سے لشکر بنے بہت سی سپاہ بنیں مگر وہ سب اپنی موت آپ مر گئیں پر حق کو باقی رہنا ہے اور وہ رہے گا ۔
آج سے کئی سال پہلے آپ ہی کے ایک بہت بڑے عالم تھے نام تو انکا شیعوں جیسا تھا پر وہ بہت ہی جید عالم تھے اہل۔سنت کے مولانا محمودالحسن اسیرِ مالٹا انکو برطانوی سرکار نے اسیر بنا کر مالٹا بھیج دیا تھا 3 سال تک وہاں رہے اور صرف یہ سوچتے رہے کہ مسلمانوں کی پستی کے اخر کیا اسباب ہیں کہ جو مسلمان اتنے عرصے سے یہاں حکومت کر رہے تھے آج اتنے پست کیوں ہوگئے تو انکی تحریر میں نے خود پڑھی ہے آپ کہیں تو میں آپ کیلیئے دوبارہ اسکے حاصل کرکے بھیج دوں آپ فرماتے ہیں میں نے 3 سال تک سوچا اور دو ہی اسباب مجھ کو نظر آئے ایک قران پاک سے دوری اور دوسرے ایک دوسرے سے اختلاف ایک دوسرے کی بے عزتی اور آنکھوں میں نہ کھٹکنا اور اسکا فائدہ دشمن اٹھا گیا۔
 

باذوق

محفلین
مگر لسان نبوت کی گواہی ہے کہ پاکیزہ طیبات حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام نہ کرو۔
محترمہ !!
مجھے آپ کی ضد پر حیرت ہی نہیں بلکہ شدید حیرت ہے !!
ذرا بتائیے کہ ۔۔۔۔۔
لسانِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے ادا شدہ الفاظ کی تفہیم سلف کے ذریعے کی جائے گی یا اپنے من چاہے فہم سے؟
اور لسانِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی گواہی کو قبول و ردّ کرنے کے لئے کیا ہمارا اپنا معیار یا ہماری اپنی ضد ہوگی یا محدثین کا اجماع؟؟

اگر لسانِ نبوت سے یہ فرمایا گیا ہے کہ : پاکیزہ طیبات حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام نہ کرو
تو یہ بھی تو ارشاد ہو چکا ہے کہ :
[arabic]فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ کُنْتُ أَذِنْتُ لَکُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنْ النِّسَائِ وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ ذَلِکَ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ[/arabic]

اگر یہ دعویٰ ہے کہ ۔۔۔۔ قیامت تک کے لیے متعہ کو ممنوع قرار دینے والی روایات ، تمام کی تمام جھوٹی ہیں تو پھر ۔۔۔
میں نے بہت پہلے یہ گذارش کی تھی کہ ان روایات کے جھوٹا ہونے کو محدثین کی تحقیق کی روشنی میں ثابت کیا جائے !
مگر افسوس کہ آج تک یہ ثابت کرنے کی توفیق تو ہوئی نہیں البتہ وہی حلال حلال والی تکرار مسلسل جاری ہے۔

اب ظاہر ہے جہاں ایسی ہٹ دھرمی ہو وہاں تحقیقی گفتگو کیا خاک ہو سکے گی؟
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top