وصلِ موجِ سوز نے دیوانہ کیا۔۔۔۔۔۔نور سعدیہ شیخ

مطلع کی اصلاح بہت خوب کی ہے آسی بھائی نے۔ ورنہ اصل مطلع میں تو قافیہ ہی غائب تھا۔
وصلِ موجِ سوز نے دیوانہ کیا
درد تجھ کو جاں کا نذرانہ دیا

میں نے تو اصلاح نہیں کی، جنابِ اعجاز عبید۔ میں نے تو اسے جوں کا توں نقل کیا ہے:
وصلِ موجِ سوز نے دیوانہ کیا
خوگرِ میخانہ کو پیمانہ کیا
۔۔ دونوں مصرعوں کا معنوی تعلق اور رعایت مطلع میں غزل کے بقیہ اشعار کی نسبت کہیں زیادہ اہم ہوتے ہیں۔

بہت شکریہ۔
 

نور وجدان

لائبریرین
اصل میں نہ آپ کی یہ غزل دو بحروں میں ہے ۔۔۔۔
کچھ اشعار اس بحر میں درست تقطیع ہو رہے ہیں
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
تو کچھ اس بحر میں
فاعلاتن فاعلاتن مستفعلن
اسی لیے مسئلہ ہو رہا ہے آپ سب اشعار کو ایک ہی بحر میں رکھیں
ہر کام کو تھوڑا سا وقت دینا چاہیے ۔ یہ کل جیسے ہی لکھی ویسے دے دی۔۔اس لیے اغلاط ہیں ۔۔۔۔اب میں سوچ سمجھ کر اصلاح کروں گی ۔۔۔ آپ نے اچھے نقاط دئے ۔۔ مگر مجھے وقت لگے گا
 
ہر کام کو تھوڑا سا وقت دینا چاہیے ۔ یہ کل جیسے ہی لکھی ویسے دے دی۔۔اس لیے اغلاط ہیں ۔۔۔۔اب میں سوچ سمجھ کر اصلاح کروں گی ۔۔۔ آپ نے اچھے نکات دئے ۔۔ مگر مجھے وقت لگے گا
یعنی؟ کاتا اور لے دَوڑی؟ شکر ہے اس میں ت ہے ٹ نہیں ہے! :bee:
 

نور وجدان

لائبریرین
نور سعدیہ شیخ بٹیا! کیوں نہ ہم مبتدی چھوٹی اور مانوس بحریں ہی استعمال کریں۔یاد کیجیے عظیم کی پسندیدہ بحر فاعلاتُن مفاعلن فعلن یعنی ’’ مسدس سالم مخبون محذوف‘‘، جس میں انہوں نے ہزاروں غزلیں کہی تھیں!

آپ نے بالکل ٹھیک کہا۔۔مگر کہیں آپ کا لکھا ہوا تھا۔۔۔ انسان گنگنا کے شاعری کر سکتا ۔۔۔ اس طرح کا کام کر رہی تھی ۔۔ جو بحر گنگنانے سے بن رہی تھی اس سے یہ غزل لکھ دی ۔۔۔۔ ''' فاعلاتن مفاعلن فعلن'' اور ''مفاعلن مفاعلن مفاعلن مفاعلن ''۔۔۔ یہ دو بحریں مجھے خود پسند ہیں ۔۔۔ اب کہ تجویز کردہ مانوس بحور میں کہ دیا کروں گی
 
اپنے خیالات پر کوئی قدغن بہرحال نہ لگائیے، لیکن اسی اثنا میں استادِ محترم جناب محمد یعقوب آسی بھائی کے جملے ’’ کاتا اور لے دوڑی‘‘ پر ضرور غور فرمائیے۔ یہی بات خود ہم پر بھی لاگو ہوتی ہے کہ ہمارے برادرِ خُرد محمد حفیظ الرحمٰن ہم پر بھی یہی الزام عائد کرتے ہیں۔:)
 

نور وجدان

لائبریرین
اپنے خیالات پر کوئی قدغن بہرحال نہ لگائیے، لیکن اسی اثنا میں استادِ محترم جناب محمد یعقوب آسی بھائی کے جملے ’’ کاتا اور لے دوڑی‘‘ پر ضرور غور فرمائیے۔ یہی بات خود ہم پر بھی لاگو ہوتی ہے کہ ہمارے برادرِ خُرد محمد حفیظ الرحمٰن ہم پر بھی یہی الزام عائد کرتے ہیں۔:)

دیکھئے نا ! اتنی مفید باتیں آپ نے کہ ڈالیں ۔۔۔محترم آسی صاحب کی ہر بات ہی اس لڑی میں قابل غور ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ یہاں سے کچھ اچھا سیکھ رہی ہوں کہ زباندانی سے کچھ عدم واقفیت ہونے کی وجہ سے عہد کیا تھا کہ شعر نہیں کہوں گی مگر کل یہ قفل توڑ دیا۔۔۔۔۔ اب کہ شعر کہوں گی ضرور مگر قواعد کا علوم جان کر۔۔۔شاعری کو میں نثر پر ترجیح دینا چاہتی ہوں ۔۔۔اللہ کرے ایسا ہوجائے کہ کچھ محنت میں بھی کر رہی ہوں خود
 
دیکھئے نا ! اتنی مفید باتیں آپ نے کہ ڈالیں ۔۔۔محترم آسی صاحب کی ہر بات ہی اس لڑی میں قابل غور ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ یہاں سے کچھ اچھا سیکھ رہی ہوں کہ زباندانی سے کچھ عدم واقفیت ہونے کی وجہ سے عہد کیا تھا کہ شعر نہیں کہوں گی مگر کل یہ قفل توڑ دیا۔۔۔۔۔ اب کہ شعر کہوں گی ضرور مگر قواعد کا علوم جان کر۔۔۔شاعری کو میں نثر پر ترجیح دینا چاہتی ہوں ۔۔۔اللہ کرے ایسا ہوجائے کہ کچھ محنت میں بھی کر رہی ہوں خود
بھئی یہ تو "صنفی" نوعیت کی مجبوری ہے۔ :ROFLMAO:
ایک بہت سنجیدہ گزارش ہے۔ شاعر، ادیب کو لسانیاتی غلطی معاف نہیں ہوا کرتی۔ زبان دانی اور بات ہے، زبان کا درست استعمال اور بات ہے۔
دوسرے یہ کہ آپ ایک غزل کہتی ہیں، کچھ دن اس کے ساتھ گزارئیے، اور اس کو اپنی حد تک تو نکھارئیے سنوارئیے نا! پھر پیش کیجئے، جلدی کاہے کو!!
آداب۔
 

نور وجدان

لائبریرین
بھئی یہ تو "صنفی" نوعیت کی مجبوری ہے۔ :ROFLMAO:
ایک بہت سنجیدہ گزارش ہے۔ شاعر، ادیب کو لسانیاتی غلطی معاف نہیں ہوا کرتی۔ زبان دانی اور بات ہے، زبان کا درست استعمال اور بات ہے۔
دوسرے یہ کہ آپ ایک غزل کہتی ہیں، کچھ دن اس کے ساتھ گزارئیے، اور اس کو اپنی حد تک تو نکھارئیے سنوارئیے نا! پھر پیش کیجئے، جلدی کاہے کو!!
آداب۔
آپ کی بات دل کو لگی ۔۔درست فرمایا۔۔۔ اس کو وقت دینے کے بعد نکھار کر پیش کروں گی ۔کوشش یہ ہوگی کہ زبان کا درست استعمال ہو۔
 

نور وجدان

لائبریرین
وصلِ موجِ سوز نے جو دیوانہ کیا
اب کہ اپنا آشیانہ ویرانہ کیا

قطرہ قطرہ زہر کا قلزم بن گیا
درد نے کچھ اس طرح سے یارانہ کیا

نور ؔ نے شیشہ محل کرچی کر دیا
الجھنوں نےمجھ کو بے حد دیوانہ کیا

رتبہ محشر میں شہادت کا پاؤں گی
مجھ کو سولی پر اجل نے مستانہ کیا

مے کدے میں جلوہِ حق کو دیکھ کر
سات پھیروں نے مجھے تو پروانہ کیا

شرم ساری ختم کیسے ہو عصیاں کیا
رب! گلہ تجھ سے میں نے گستاخانہ کیا

صبح نو کی اک جھلک دکھلا دیجئے
ان غموں نے حال سے اب بیگانہ کیا​
 
آخری تدوین:

نور وجدان

لائبریرین
فاعلاتن فاعلاتن مستفعلن


وصلِ موجِ سوز نے جو دیوانہ کیا
اب ٹھکانہ میرا بھی ویرانہ کیا

قطرہ قطرہ زہر کا قلزم بن گیا
درد نے کچھ اس طرح یارانہ کیا۔

نور ؔ نے شیشہ محل کرچی کر دیا
الجھنوں نے بےطرح دیوانہ کیا

رتبہ محشر میں شہادت کا پاؤں گی
اب اجل نے دار پر مستانہ کیا
:
مے کدے میں جلوہِ حق کو دیکھ کر
سات پھیروں نے مجھے پروانہ کیا

شرم ساری ختم کیسے ہو عصیاں کی
رب! گلہ تجھ سے جو گستاخانہ کیا

صبح نو کی اک جھلک دکھلا دیجئے
ان غموں نے حال سے بیگانہ کیا

محترم الف عین محمد یعقوب آسی


 
آخری تدوین:
غیر مانوس بحروں سے اپنی بنتی ہوتی تو اپنے لئے غیر مانوس کیوں ہوتیں!
عروضی معاملات خود دیکھ لیجئے گا۔ بقیہ امور پر بعد میں عرض کروں گا۔
 

نور وجدان

لائبریرین
غیر مانوس بحروں سے اپنی بنتی ہوتی تو اپنے لئے غیر مانوس کیوں ہوتیں!
عروضی معاملات خود دیکھ لیجئے گا۔ بقیہ امور پر بعد میں عرض کروں گا۔

باوجود کوشش کی یہ مجھ سے ڈھلی نہیں دوسری بحر میں ۔۔۔ جبکہ ایک اور غزل کی بحر بدلی ہے میں نے ۔۔۔ یونہی سیکھ سیکھ کر آگے بڑھتے جانا ہے ۔۔۔۔ ہم تو اپنی غلطیوں کو بھی قیمتی جانیں گے کہ یہ سیکھنے کا زینہ ہیں ۔۔۔ شکریہ محترم ۔۔انتظار رہے گا
 
Top