میرا اندازہ تھا کہ گیدڑ گوشت یا ہڈی نہیں کھاتا۔
گیدڑ مردار خور جانور ہے۔ اگر کبھی بس چلے تو چھوٹے موٹے جانور مثلاً خرگوش وغیرہ کو بھی مار لیتا ہے :)
چھوٹے جانوروں، بھیڑوں بکریوں کے علاوہ ہمارے گاؤں میں کئی بار سننے میں آیا کہ گیدڑ تعداد میں زیادہ ہونے کی صورت میں اکیلے بچے پہ بھی حملہ کر دیتے ہیں (انسان کے بچے)
مجھے بتایا گیا کہ بچپن میں ایک بار شام کے قریب بہت سے گیدڑوں نے کسی کو قریب نہ پا کر مجھے گھیر لیا تھا وہ تو بروقت امی نے اوپر والے ٹیلے سے نیچے نظر گھما لی اور بھاگم بھاگ پہنچیں اور انہیں بھگا کر مجھے بچایا۔
 
بہت عمدہ منظوم کہانی،
بچوں کو اگلی قسطوں کا شدت سے انتظار رہے گا جناب،
بس تھوڑا تفصیلاَ دو تین اشعار میں بیان ہو جاتا کہ موگلی جنگل میں پہنچا کیسے اتنے خونخوار جانوروں کے بیچ
 
میرے خیال میں یہاں کیا کی ی کاف میں جذب ہو گئی ہے اور الگ باندھنا خلاف محاورہ ہو گا اور خطا سمجھا جائے گا ۔۔ ۔ پیاس کی ی کو پ میں گھول دینا اور واضح کرنا ہردو طرح (اگر بر محل ہو) جائز ہوگا۔۔۔ یعنی فعل یا فعول پر باندھا جانا عموما" کوئی خطا نہ ہو گا ۔زیادہ کا لفظ اگر چہ عربی نوعیت کی اصل رکھتا ہے لیکن اردو میں گھلا ملا ہے اسی سے زیادتی بھی میرے خیال میں خلاف قاعدہ اخذ کیا گیا ہے چنانچہ اردو کا محاورہ اس کی ی کو اس طرح دبانے پہ اتنی گرفت نہیں کرے گا جیسا کہ مندرجہ بالا کسی شعر میں اور کا واو اور پیار کی ی کو دبایا گیا ہے۔۔اگر چہ بہتر ،مناسب اور اصیل صورت وہی ہے جو بیان کی گئی ہے۔عینی فعولن ۔۔۔ ۔۔۔ یہ صرف میری رائے ہے صاحبانِ محفل اختلاف ، تردید اور تصحیح کا حق رکھتے ہیں۔۔۔
تھوتھنی میرے خیال میں واؤ کی بعد ایک نون غنہ رکھتی ہے۔تھونتھنی
یہاں پر آکے وہ رہ جائے، جگّا ٹیکس لے ہم سے۔۔۔ ۔۔۔ یہاں رہ جائے سے بہتر بس جائے ہو سکتا ہے۔​
وہ بچہ نام جس کا بھیڑیوں نے موگلی رکھّا۔۔۔ ۔۔۔ وہ بچہ نام جس نے بھیڑیوں سے موگلی پایا ۔تھوڑا قافیہ بہتر ہو جاتا ہے۔​
بہت رواں لہجے میں لکھی گئی ہے ۔۔۔ یہ صرف میری رائے ہے۔ دخل در معقولات سمجھ کر نظر انداز کی جاسکتی ہے۔​



میرے نزدیک ’’زیادہ‘‘ کا عروضی وزن ’’فعولن‘‘ درست ہے اور ’’پیاس‘‘ وتد مفروق ہے۔
جناب الف عین اور جناب محمد وارث کیا فرماتے ہیں؟
 
تھوتھنی میرے خیال میں واؤ کی بعد ایک نون غنہ رکھتی ہے۔تھونتھنی
یہاں پر آکے وہ رہ جائے، جگّا ٹیکس لے ہم سے۔۔۔ ۔۔۔ یہاں رہ جائے سے بہتر بس جائے ہو سکتا ہے۔​
وہ بچہ نام جس کا بھیڑیوں نے موگلی رکھّا۔۔۔ ۔۔۔ وہ بچہ نام جس نے بھیڑیوں سے موگلی پایا ۔تھوڑا قافیہ بہتر ہو جاتا ہے۔​

تبصرے پر شکریہ قبول فرمائیے۔

  1. لفظ زیادہ پر استادِ محترم جناب محمد یعقوب آسی صاحب کو اعتراض ہے۔
  2. فیروز اللغات کے بموجب درست لفظ تھوتھنی یا تھوتنی ہے
  3. پھول ( اخبار پھول کی اڑتالیس سالہ جلدوں کا انتخاب) میں ابوالاثر حفیظ جالندھری کی نظم جھوٹا گواہ میں اسے تھوتھنی لکھا ہے
  4. ’’ بس جائے‘‘ اور ’’وہ بچہ نام جس نے بھیڑیوں سے موگلی پایا‘‘۔ بہت خوب ۔ اجازت دیجیے کہ اسے اپنی نظم میں شامل کرلیں۔
خوش رہیے
 
۔۔۔ ۔۔۔ لیکن پھر اس کے بارے میں بھی بتا دیں یہ ریڈ یارڈ کپلنگ ۔۔۔ ۔۔کس جانب پڑے گا ۔۔۔ میرا خیال ہے گلگت بلتستان کا کوئی علاقہ ہے۔۔۔ ۔۔۔ :grin:


لاجواب جناب چھاگئے ہیں۔۔۔ ۔بہت زبردست لکھا ہے۔۔۔ ۔
زور زیادہ قلم ہوپر ۔۔۔ ۔۔:grin: اور پھر۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔

ارے ! اُستاد جی یہ محمد خلیل الرحمٰن انکل کو پتہ ہے اس بات کا۔۔۔ ۔۔!
اور آپ کے لنک کےلئے شکریہ۔۔۔ ۔۔۔ !

ہاہاہا۔ پھر پھنس گئے۔ :clown:
 

سید عاطف علی

لائبریرین
تبصرے پر شکریہ قبول فرمائیے۔

  1. لفظ زیادہ پر استادِ محترم جناب محمد یعقوب آسی صاحب کو اعتراض ہے۔
  2. فیروز اللغات کے بموجب درست لفظ تھوتھنی یا تھوتنی ہے
  3. پھول ( اخبار پھول کی اڑتالیس سالہ جلدوں کا انتخاب) میں ابوالاثر حفیظ جالندھری کی نظم جھوٹا گواہ میں اسے تھوتھنی لکھا ہے
  4. ’’ بس جائے‘‘ اور ’’وہ بچہ نام جس نے بھیڑیوں سے موگلی پایا‘‘۔ بہت خوب ۔ اجازت دیجیے کہ اسے اپنی نظم میں شامل کرلیں۔
خوش رہیے
محترم آسی صاحب کا اعتراض بے محل نہیں اور فی الحقیقت احسن صورت زیادہ کی یہی ہے۔آپ کی منتخب کردہ بحر بھی خوب لچکدار ہے اور متبادل فٹنگ یقینا " مل جائے گی۔
تھوتھنی کو صاحب فرہنگ آصفیہ نے بھی تھوتنی لکھا ہے۔لیکن میرا خیال تھا ہم اسے ایسے ہی سنتے آئے ہیں ۔اور ویسے بھی غنہ وزن پر اثر نہیں ڈالتا۔۔۔۔ لیکن ایک بات اور ہے ۔ گیدڑ اور کتےکی گروہ سے تعلق رکھنے والے حس شامہ میں طاق ہوتے ہیں اور زمین میں خود کے یا دیگر شکاریوں کے دبائے ہوئے غذائی مواد وغیرہ کو تھوتھنی اٹھا کر نہیں بلکہ تھوتھنی جھکا کر تلاش کرتے ہیں چنانچہ اٹھا کر کے بجائے جھکا کر بھی زیادہ قرین الواقع ہو گا۔یعنی۔۔۔اُسے یوں تھوتھنی اپنی جھکا کر سونگھتے پایا ۔
جگّا ۔ کا لفظ پنجابی مس فٹ اور ٹیکس کا لفظ فرنگی مس فٹ سا لگ رہا ہے ۔ :)اسے ایسے بھی کیا جاسکتا ہے۔
یہاں پر آکے وہ بس جائے، اور محصول لے ہم سے​
یہ سب تبصرے آپ ہی کی محبت اور کاوش کی نذ ر ہیں جو چاہیں آزادی سے برتیں جو چاہیں پس انداز کریں ۔
 
باب دوم: شیر خان

طباقی
نے اُسے دیکھا تو فوراً زہر یوں اُگلا
کہ اِس بچے کو اب تو شیر خان آکر ہی کھائے گا

اِسے ماما نے جوں دیکھا وہ اِس کی سِمت یوں بھاگی
اِسے بس دیکھتے ہی اُس کے اندر مامتا جاگی

کہا کہ ناس جائے شیر کا، وہ کیوں اِسے کھائے
یہ ایسا کیوٹ بچہ ہے، میں واری ہوگئی ، ھائے

اُدھر پیچھے سے بچوں کی صدا یوں کان میں آئی
’’ہمارا موگلی بھائی، ہمارا موگلی بھائی‘‘

اچانک غار کے منہ پر اندھیرا چھا گیا یکدم
بھیانک رات اور جنگل میں چھایا ہُو کا تھا عالم

دھاڑا شیرباہر غار سے یوں لے کے انگڑائی
کہا اس غار سے ہے آج آدم بُو مجھے آئی

کہا پاپا نے یہ سچ ہے، یہ بچہ آدمی کا ہے
ہمارے غار میں یہ آج ہی بس آکے ٹھہرا ہے

کہا ماما نے بس یہ آج سے میرا ہی بیٹا ہے
مزے سے دودھ پی کر یہ مرے بچوں میں لیٹا ہے

یہ منظر دیکھ کر یوں شیر خانی اپنی بھولا وہ
بہت بوڑھا ہوا تھا بس جوانی اپنی بھولا وہ

دبائی دُم ہوا پھر اس جگہ سے وہ رفُو چکر
طباقی بھی اسی کے ساتھ بھاگا، ہاں وہی گیدڑ

وہی گیدڑ جو پاپا بھیڑئیے کے غار تک آیا
جونہی بچے کو دیکھا شیر کو وہ ساتھ ہی لایا

مگر ماما کا غصہ دیکھتے ہی ساتھ بھاگے وہ
کبھی تھا شیر آگے اور کبھی ہوتا تھا آگے وہ

باب اول: موگلی کے بھائی
باب سوم : اکیلا​
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
استاد محترم جناب محمد خلیل الرحمٰن صاحب! دو باتیں پوچھنی ہیں:
۱۔ دھاڑا فعولن ہے یا فعلن؟
۲۔ رفوچکر اور گیدڑ کیا ہم قافیہ ہیں؟ مطلب کیا ر اور ڑ کے فرق سے حرف روی کی مطابقت ہوجاتی ہے؟

دھاڑا ۔۔۔۔۔ ۔فعلن ۔۔ کا ہم وزن ہوگا۔ دال اور ھ کو الگ بولنا ۔۔۔ٹھیک نہیں ہو گا۔جیسے ۔ دن دہاڑے میں دہاڑے فعولن کا ہم وزن ہوگا۔
رفو چکر کے ساتھ کوءی مناسب قافیہ آنا چاہیے۔۔۔۔​
۔۔۔​
۔۔۔اچانک غار کے منہ پر اندھیرا چھا گیا یکدم​
بھیانک رات اور جنگل میں چھایا ہُو کا تھا عالم​
اچانک اور یکدم کی تکرار روانی کو متاثر کر رہی ہے۔۔تھوڑا بدل دیں تو بہتر ہو۔ مثلا" ۔۔۔ چھپا ہی تھا ابھی سورج کہ اندھیرا ہوا یکدم۔ بھیانک رات اور جنگل میں چھایا ہُوکا اک عالم۔
۔۔۔
ناس جا نے سے بہتر ہوگا کہ ناس ہونا استعمال کیا جائے ۔اگر ستیا ناس باندھنا مشکل ہو۔ ۔۔۔اور کیوٹ بھی مس فٹ سا ہے۔ مثلا "
کہا کہ ناس ہو اس شیر کا، وہ کیوں اِسے کھائے​
یا - کہ ستیا ناس ہو اس شیر کا، وہ کیوں اِسے کھائے​
یہ اک معصوم بچہ ہے، میں واری ہوگئی ، ھائے​
۔۔۔​
اسے ماما نے جوں دیکھا وہ اِس کی سِمت یوں بھاگی​
اسے بس دیکھتے ہی اُس کے اندر مامتا جاگی​
یہاں جوں کچھ روانی کی لطافت میں حآئل لگ رہا ہے۔ ۔۔۔۔ جو ماما نے اسے دیکھا وہ اِس کی سِمت یوں بھاگی​
 

شوکت پرویز

محفلین
۔۔۔ اچانک غار کے منہ پر اندھیرا چھا گیا یکدم​
بھیانک رات اور جنگل میں چھایا ہُو کا تھا عالم​
اچانک اور یکدم کی تکرار روانی کو متاثر کر رہی ہے۔۔تھوڑا بدل دیں تو بہتر ہو۔ مثلا" ۔۔۔ چھپا ہی تھا ابھی سورج کہ اندھیرا ہوا یکدم۔ بھیانک رات اور جنگل میں چھایا ہُوکا اک عالم۔
اندھیرا: فعولن
:)
 

احمد بلال

محفلین
۔۔۔ ۔۔۔ لیکن پھر اس کے بارے میں بھی بتا دیں یہ ریڈ یارڈ کپلنگ ۔۔۔ ۔۔کس جانب پڑے گا ۔۔۔ میرا خیال ہے گلگت بلتستان کا کوئی علاقہ ہے۔۔۔ ۔۔۔ :grin:


لاجواب جناب چھاگئے ہیں۔۔۔ ۔بہت زبردست لکھا ہے۔۔۔ ۔
زور زیادہ قلم ہوپر ۔۔۔ ۔۔:grin: اور پھر۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔

میرے خیال میں تو دو شافتس کے درمیان کہیں پایا جاتا ہو گا۔
 
ایک دن بیوی نے شاعر سے کہا​
کچھ نہیں کھانے کو گھر میں آج رات​
وجد میں آ کر یہ فرمانے لگے​
فاعلاتن فاعلاتن فاعلات​
۔۔۔۔ شاعر کا نام بھول رہا ہوں۔
 
باب سوم : اکیلا

وہ دونوں بھاگ نکلے جب تو پاپا بھیڑیا بولا
ابھی یہ موگلی کے راستے کا پہلا پتھر تھا

ابھی تو جھُنڈ میں اپنے، ہمیں پیشی بھی دینی ہے
پھر اپنے فیصلے کی اُن سے منظوری بھی لینی ہے

نہ جھگڑا مول لیں وہ شیر سے تو رام کرنا ہے
ہمیں تو چُپ چُپاتے بس یہی اِک کام کرنا ہے

مگر پہلے مجھے تُم یہ بتادو اے مِری بیوی!
یہ انسانوں کا بچہ ہے اِسے تُم کیسے پالو گی؟

یہ بولی بھیڑیوں کی ماں اُٹھا کر سر رعُونت سے
یہ میرا موگلی ہے ، یہ مِرا ننھا سا مینڈک ہے

اِسے میں پال لوں گی اور پھر اِک دِن وہ آئے گا
بڑا ہوکر یہ اپنے جھُنڈ کی عزت بڑھائے گا

یہ لنگڑا شیر جو بزدِل ہے اور گایوں کو کھاتا ہے
اسی کی سرزنش کو پھر یہاں انسان آتا ہے

یہ میرا موگلی اِک دِن زمانے کو دِکھائے گا
بہادُر ہے یہ لنگڑے شیر کو اِک دِن بھگائے گا

کہا پاپا نے یہ سب ٹھیک ہے لیکن بتاؤتو!
ذرا مجھ کو کوئی ترکیب اِس گُر کی سِکھاؤ تو!

’اکیلا‘ چودھویں کی شب ہمیں جب خود بُلائے گا
تو اِس انسان کے بچے کو کون اُس سے چھُپائے گا

کہ جنگل کا یہی قانون ہے ، بچے بڑے ہوکر
سلامی سربراہِ جھُنڈ کو دیں گے کھڑے ہوکر

باب دوم : شیر خان
باب چہارم :​

 
آخری تدوین:
Top