اردو سیارہ

April 20، 2019

عمر احمد بنگشپاکستان میں برادری اور قرابت داری پر نوٹ

پاکستانی معاشرے میں برادری انتہائی اہم عنصر ہے۔ یہاں قرابت داری اور برادریوں کی اہمیت اس قدر بڑھ کر ہے کہ اس کے بغیر سماجی پہلوؤں پر کسی بھی قسم کی سنجیدہ علمی بحث ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ پہلو اس لحاظ سے بہتر ہے کہ محققین اسی بنیاد پر پاکستانی معاشرے کے بارے کسی ایک سرے پر متفق ہو جاتے ہیں اور کبھی بھٹکتے نہیں ہیں۔ مجھ سے پوچھیں تو اس بارے آج سے سو سال قبل برطانوی دور میں ایک انگریز سول سروس سے

محمد اظہارالحقنسل‘زبان اور مسلک کے پھندے


چودہ مزید پنجابیوں کو بلوچستان میں قتل کر دیا گیا ہے۔ سفاکی اور بربریت کا وحشیانہ مظاہرہ


زمین کے کسی خطے کو اگر چند قبائلی سردارچند نوابچند خانچند ملکزیرنگیں رکھنا چاہیں تو اس کا کامیاب ترین طریقہجو صدیوں سے آزمایا جا رہا ہےیہی ہے کہ مقامی اور غیر مقامی کی تفریق پیدا کی جائےاس طریقے کا ایک ’’جزو،ب‘‘ بھی ہے۔ یعنی دوسرا حصہ۔ کسی قوم کو اگر معاشی اور سیاسی حوالے سے پس ماندہ رکھنا ہو تو اسے مادری زبان اور ’’اپنی ‘‘ ثقافت کی خار دار جھاڑیوں میں الجھا دیجیے۔ دنیا کہاں سے

April 19، 2019

اقبال جہانگیرجہاد و قتال

جہاد و قتال ‘جہاد’ عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا بھی معنیٰ وہی  ہے جو ‘پر امن جدوجہد’ کا معنیٰ ہے۔ بنیادی طور پر اس ‘پر امن جدوجہد’ سے مراد  لوگوں کو راہ خدا کی طرف مدعو کرنے کے لئے جدوجہد کرنا ہے۔ جیسا کہ قرآن کا فرمان ہے ‘‘پس آپ کافروں کا کہنا … جہاد و قتال پڑھنا جاری رکھیں

علی حساناسد عمر کی تبدیلی اور پاکستانی معیشت



سوچ رہا ہوں کہ ایک راہمنا کتابچہ لکھوں جو ایسے غیر ملکی پاکستانیوں کی مدد کرے جو پاکستان مستقل سکونت کا سوچ رہے ہیں تو اسی میں ایک نقطہ یہ بھی ہے کہ عاجزی (یعنی ہمبلنس) کو وہاں ہی چھوڑ کر آئیں کہ جب تک یہاں آپ ڈھونڈورا نہیں پیٹیں گے کہ میں ایسا میں ویسہ میں دھیلہ میں پیسا تب تک کسی نے آپ کو گھاس نہیں ڈالنی تو اسی نقطے کے تحت میں بتاتا چلوں کہ میں نے ماسٹرز میں اکنامس یا معاشیات پولینڈ سے پڑھی تھی جہاں پڑھانے والے اکثر سوشلسٹ یا بائیں بازو کے نظریات کے حامل تھے جبکہ ڈاکٹریٹ میں معاشیات اسٹونیا …

کائنات بشیرپائلٹ

Advertisements

April 18، 2019

محمد اظہارالحقماتم کرو اے اہلِ پاکستان! ماتم کرو


‎افسوس! کوئی طہٰ حسین اس ملک کی قسمت میں نہیں! 

‎بنفشہ اور گلاب کے پودے جڑوں سے اکھاڑ دیے گئے۔ دھتورے کے بوٹے لہلہا رہے ہیں۔کہاں وہ ساون کہ آم کے درختوں سے ٹپکا لگتا تھا۔ اب ہر طرف حنظل‘ نیم اور اندرائن کے پیڑ ہیں اور جھاڑ جھنکار! 1950

‎ء کا عشرہ تھا جب ڈاکٹر طہٰ حسین کو مصر میں وزیر تعلیم بنایا گیا۔ ایک نیم حکیم نے اپنی جہالت سے طہٰ حسین کو تین برس کی عمر میں بینائی سے محروم کر دیا تھا۔ وزیر تعلیم بننے کے بعد اس نے تعلیم کو مصر میں مفت کرنے کا ارادہ کیا اور کامیاب ہوا۔ اس کا کہنا تھا کہ جس طرح …

April 17، 2019

خاور کھوکھرجاپان کی ابابیلیں

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: left; font: 18.0px 'Geeza Pro'} p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 18.0px 'Geeza Pro'; min-height: 24.0px} span.s1 {font: 18.0px Helvetica} span.s2 {font: 18.0px 'Lucida Grande'} پاکستان میں اور شائد ہند میں بھی ابابیل کو سردیوں کا پرندہ سمجھا جاتا ہے ،۔ سردیوں میں ٹھٹھرتے ہوئے ابابیل بجلی کی تاروں پر غول کے غول نظر

افتخار اجمل بھوپالپیار ؟

آدمی اپنے پیاروں سے(یعنی بیوی بچوں سے) ”گزشتہ رات مجھے احساس ہوا کہ دنیا میں وہ بھی ہیں جنہیں حقیقتاً میری ضرورت ہے“۔ اُس کے پیاروں میں سے ایک حیرانگی سے بولا “ اچھا ؟ وہ کون ہیں ؟“ آدمی ” مچھر“۔

محمد اظہارالحقجیفرلٹ کی پذیرائی سرکاری سطح پر کیوں نہیں کی جا رہی


‎کرسٹوف جیفرلٹ فرانس کے مشہور دانشور، عالم اور ماہر علم سیاسیات ہیں۔ وہ پیرس میں واقع معروف ’’سینٹر فار سٹڈیز ان انٹرنیشنل ریلیشنز‘‘ کے ڈائریکٹر ہیں۔ بیس برس کی عمر میں ڈاکٹر کرسٹوف جیفرلٹ پہلی بار بھارت گئے اور پھر بھارتی سماج کی تہہ در تہہ اندھیری پرتوں میں یوں الجھے کہ مطالعہ اور تحقیق کا رخ اسی طرف کر لیا۔ تاہم وہی بات کہی اور لکھی جو دیکھی اور جو سچائی پر مبنی تھی۔ 

‎حال ہی میں ان کی تالیف کردہ کتاب ’’اکثریتی ریاست‘‘ منظرعام پر آئی ہے۔ اس میں انہوں نے اعداد و شمار سے ثابت کیا ہے کہ بھارت اب …

عمر احمد بنگشپاکستانی معیشت

اگر پاکستانی معیشت اور انتظامی صلاحیت بارے حالات اتنے ہی وگرگوں ہوتے جتنے کہ اکثر بیان کیے جاتے ہیں تو اس بارے بات کرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہ تھی۔ حالات اس قدر خراب نہیں ہیں۔ پاکستان نے آج تک جیسا کہ یہ کہلاتے ہیں، 'ایشیائی ٹائیگرز' کے جدید ترقیاتی طریقہ کار کو اپنانے سے گریز ہی کیا ہے اور اس کا مستقبل میں کوئی امکان بھی نہیں ہے۔ اس کے باوجود 1947ء سے آج تک پاکستانی معیشت کی شرح نمو بھارت

عمر احمد بنگشپاکستان میں بسر

اگر چین اور مغربی طاقتیں پاکستان کی اب تک بیان کردہ حالت کو بدلنا چاہتے ہیں تو ایک ایسا لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت اس ملک کی دگنی اور چگنی اہمیت نہ صرف عیاں ہو بلکہ دنیا اس کو تسلیم بھی کرے۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ لائحہ عمل کی بنیاد زمینی حقائق پر مبنی ہو اور باقی دنیا کو اچھی سمجھ اور بوجھ بھی رہے۔ بھلے یہ پاکستان سے متعلق وسوسے یا امید افزائی پر مبنی لائحہ عمل ہی کیوں

April 16، 2019

خاور کھوکھرجاپان کے اوّلین دن

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: left; font: 18.0px 'Geeza Pro'} p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 18.0px 'Geeza Pro'; min-height: 24.0px} span.s1 {font: 18.0px Helvetica} span.s2 {font: 18.0px 'Lucida Grande'} سن اٹھاسی میں جب جاپان آئے تو اس وقت کے پاکستانی کم ہی لوگ خوش لباس ہوا کرتے تھے ،۔ سب نے ایک ہی جیسی لیدر کی  اصلی یا نقل جیکٹ پہنی ہوتی  تھی ،

Seemsﻣﺤﻮِ ﺗﺴﺒﯿﺢ ﺗﻮ سبھی ﮨﯿﮟ ﻣَﮕﺮ ﺍِﺩﺭﺍﮎ ﮐﮩﺎﮞ؟



سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم

اور تم ان کی تسبیح سے ناواقف ہو
کائنات میں ہر شے محو تسبیح ہے

تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

Seemsایموشنل ویمپائرز (Emotional Vampires)

Image result for emotional vampires
 اقتباس (ایموشنل ویمپائرز)
تحریر: محمد عامر خاکوانی

کالج کے زمانے میں ہمارا ایک دوست ہوا کرتا تھا، اب عرصہ ہوگیا اس سے رابطہ ہی نہیں رہا۔ اس کی خاص بات یہ تھی کہ جتنی دیر ساتھ بیٹھتا، ایک سے بڑھ کر ایک مایوس کن منفی تبصرہ کر ڈالتا۔ جس موضوع پر بات ہوتی، اس کا منفی اور تاریک ترین پہلو سامنے لے آتا۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اس کے جانے کے خاصی دیر بعد تک ہمیں اپنے آس پاس تاریکی، مایوسی اور فرسٹریشن کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دکھائی دیتا۔ آخر ہم نے اسے ایجنٹ آف ڈارک نیس (تاریکیوں کا نمائندہ) قرار دے کر …

April 15، 2019

محمد اظہارالحقفیس بک… مشتری ہشیار باش



چند دن پہلے فیس بک پر کچھ نوجوانوں کی ترتیب دی ہوئی ’’پسندیدہ‘‘ شعرا کی فہرست دیکھی! عباس تابش اور اختر عثمان کے سوا کوئی معتبر شاعر اس نام نہاد فہرست میں شامل نہ تھا۔ 


شعرا پرتو نہیں، شاعری پر برا وقت ہے۔ مشاعرے کیا کم تھے، پست ذوقی کی ترویج کیلئے کہ فیس بک بھی اس جرم میں بڑھ چڑھ کر کردار ادا کرنے لگی ہے! محب عارفی یاد آ رہے ہیں ؎ 


رواں ہر طرف ذوق پستی رہے گا 

بلندی کے چشمے ابلتے رہیں گے 


شریعت خس و خارہی کی چلے گی 

علم رنگ و بو کے نکلتے رہیں گے 


مچلتے رہیں روشنی کے پتنگے

دیے میرے کاجل اگلتے

محمد اسداللہChacha Chakkan ne mobile Khareeda چچا چھکن نے موبائیل خریدا ۔۔۔۔۔۔ مطبوعہ روزنامہ انقلاب ممبئی

محمد احمدنظم : ضد نہیں کیجیے ۔۔۔ شاہین مفتی

ضد نہیں کیجے

زندگی کی دعائیں نہیں دیجئیے
ضد نہیں کیجئیے
اپنی تشنہ لبی کا تقاضہ تھا یہ
پانیوں کے سفر پر چلیں جس گھڑی
ساحلوں پر کوئی بھی ہمارا نہ ہو
اجنبی دیس کی ملگجی شام کے آسمانوں پہ کوئی ستارہ نہ ہو
کشتئ عمر کو بادبانوں کا کوئی سہارا نہ ہو
حلقہء موج میں کوئی آواز جو آ کے پیچھا کرے
مُڑ کے تکنا بھی ہم کو گوارا نہ ہو
اِس سمندر کا کوئی کنارہ نہ ہو

اب ہمارا تعاقب نہیں کیجئیے
ڈوبنے دیجئیے
ضد نہیں کیجئیے

شاہین مفتی 

بشکریہ نعیم رضوان ۔ فیس بک

 

April 14، 2019

Seemsآج کی بات ۔۔۔ 14 اپریل 2019

✿ آج کی بات ✿

بہترین مشورہ وہ نہیں جس میں بہترین حل ہو، 

بلکہ بہترین مشورہ وہ ہے جو پریشان حال کے دل کا اطمینان بھی ہو۔



تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

Seemsتکبر وغرور کا مفہوم اور اس کے اثرات ۔۔۔ خطبہ جمعہ مسجد الحرام (اقتباس) 15 مارچ 2019


تکبر وغرور کا مفہوم اور اس کے اثرات 
 خطبہ جمعہ مسجد الحرام (اقتباس) 
امام و خطیب: ڈاکٹر سعود بن ابراھیم الشریم
ترجمہ: محمد عاطف الیاس
بشکریہ: دلیل ویب
خطبے کے اہم نکات

  •  لوگوں کے تصرفات ان کے ما فی الضمیر کی عکاسی کرتے ہیں۔
  •  دل کی اصلاح اور تطہیر کی ضرورت۔
  •  تکبر وغرور کے معانی اور اس کے اسباب۔
  •  خود اعتمادی اور غرور میں فرق۔
  •  تکبر وغرور ہی بدبختی اور گھاٹے کا سبب ہے۔
  •  تکبر وغرور کی بد ترین شکل الحاد ہے اور اس کی سب سے ہلکی صورت حق کا انکار اور اس کا رد ہے۔
  •  تکبر وغرور کا علاج۔
منتخب اقتباس

اللہ کی ویسی حمد …

افتخار اجمل بھوپالچھوٹی چوٹی باتیں ۔ خوبصورتی

دساور میں کسی کے توجہ دلانے پر میں نے ایک بہت خوبصورت چہرہ دیکھا لیکن ابھی لمحہ بھی نہیں گذرا تھا کہ مجھے وہ چہرہ بدصورت لگنے لگا ۔ وجہ ؟ خوبصورتی کی کمی کو اخلاق پورا کر سکتا ہے لیکن اخلاق کی کمی کو خوبصورتی پورا نہیں کر سکتی اخلاق کی خوبصورتی مؤثر اور […]

April 13، 2019

محمد اظہارالحق‎میرا گریبان مجھ سے کتنا دور ہے


‎یہ صرف چار پانچ خاندانوں کی کرپشن نہیں جس کا رونا رویا جائے! 

‎ایک عمران خان نہیں‘ ایسے دس عمران خان بھی آ جائیں تو تبدیلی نہیں آئے گی! 

‎آپ اُس باغ کو کیسے ہرا بھرا کر سکتے ہیں جس میں ہر پودے کو کیڑا لگا ہے۔ جس کی نہر کا پانی زہریلا ہے۔ جس میں طوطے ہے نہ بلبلیں۔ جہاں ہر طرف گدھ‘ کوے اور چیلیں منڈلا رہے ہیں۔ جس کے سبزے میں سانپ سرسرارہے ہیں۔ جس کے درختوں پر لکڑ ہاروں کی یلغار ہے۔ جس کی چار دیواری جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہے اور ہر کوئی اندر آ کر چیرہ دستی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ زرداری‘ نواز شریف‘ جنرل …

محمد تابش صدیقیپیروڈی: کسی کا ہونے میں لگ گیا ہے

منیب احمد بھائی کی خوبصورت غزل کی پیروڈی میں کچھ نمک پارے
کسی کا ہونے میں لگ گیا ہے
ببول بونے میں لگ گیا ہے

ابھی تو شادی نہیں ہوئی ہے
ابھی سے رونے میں لگ گیا ہے

نمایاں رہتا تھا قبلِ شادی
پر اب تو کونے میں لگ گیا ہے

چھوئی نہ تھی جس نے اِستری بھی
وہ کپڑے دھونے میں لگ گیا ہے

نہیں تھا اتنا ظریف تابشؔ
کہ جتنا ہونے میں لگ گیا ہے
٭٭٭
محمد تابش صدیقی​

محمد تابش صدیقیپیروڈی: بےدردی

بےدردی
(علامہ اقبالؒ سے معذرت) 
٭
تاروں پر واپڈا کی تنہا
چڑیا تھی کوئی نکمی بیٹھی

کہتی تھی کہ صبح سر پہ آئی
سپنے تکنے میں شب گزاری

اُٹھوں کس طرح آشیاں سے
سستی سی چھا گئی ہے ایسی

دیکھی چڑیا کی کاہلی تو
بجلی کوئی پاس ہی سے بولی

"حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے"
آتی ہوں گرچہ میں ذرا سی

کیا غم ہے جو چھا گئی ہے سستی
میں تار میں زندگی بھروں گی

اللہ نے رکھی ہے مجھ میں طاقت
دو لمحوں میں بھسم کروں گی

"ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے 
آتے ہیں جو کام دوسرں کے"
٭٭٭
محمد تابش صدیقی​

محمد تابش صدیقیغزل: عبث ہے دوڑ یہ آسائشِ جہاں کے لیے

عبث ہے دوڑ یہ آسائشِ جہاں کے لیے
کہ یہ جہان بنا ہی ہے امتحاں کے لیے

ہوا کی زد میں نشیمن ہے اب تو ڈر کیسا
چنی تھی شاخِ بلند اپنے آشیاں کے لیے

ہے سر پہ خاک، پھٹے ہونٹ اور گریباں چاک
"یہ اہتمام ہے کیوں؟ کس لیے؟ کہاں کے لیے؟"

وہ آبیاری کرے یا کوئی کلی مسلے
بنا ہے باغ ہی سارا یہ باغباں کے لیے

ہے شور تب سے مری بے حسی کا دنیا میں
بچا لیے تھے کچھ آنسو غمِ نہاں کے لیے

نکھار آتا ہے خصلت میں نقد سے تابشؔ
اسی لیے میں دعاگو ہوں ناصحاں کے لیے
٭٭٭
محمد تابش صدیقی​

محمد تابش صدیقیغزل: بڑھ گیا ظلم و ستم اتنا کہ روٹھا بادل

بڑھ گیا ظلم و ستم اتنا کہ روٹھا بادل
روز بن برسے گزرتا ہے گرجتا بادل

نہ برستا ہے نہ چھَٹتا ہے مری آنکھوں سے
کب سے ٹھہرا ہے تری یاد کا گہرا بادل

پھر کوئی آہِ رسا چرخِ کہن تک پہنچی
آج کی رات بہت ٹوٹ کے برسا بادل

بغض، کینہ و کدورت سے کرو پاک یہ دل
چھَٹ نہ جائے کہیں رحمت کا برستا بادل

کشمکش میں ہوا نقصان ہمیشہ تابشؔ
نورِ خورشید ہوا ماند، تو بکھرا بادل
٭٭٭
محمد تابش صدیقی​

محمد تابش صدیقیغزل: رہے مشکل سدا، ایسا نہیں ہے

رہے مشکل سدا، ایسا نہیں ہے
نہ پوری ہو دعا، ایسا نہیں ہے

پکارو اس کو ہر رنج و الم میں
وہ ہو جائے خفا، ایسا نہیں ہے

شکستہ ناؤ امت کی سنبھالے
کوئی بھی ناخدا ایسا نہیں ہے؟

چلے آؤ، اسے کوفہ نہ سمجھو
"مرا شہرِ وفا ایسا نہیں ہے"

پڑے جس میں پرکھنے کی ضرورت
محبت سلسلہ ایسا نہیں ہے

جفاؤں پر خفا ہوتا ہے تابشؔ
مگر چاہے برا، ایسا نہیں ہے
٭٭٭
محمد تابش صدیقی​

Seemsماہِ شعبان میں رسول ﷺ کا طرز عمل - خطبہ مسجد نبوی (اقتباس) ۔۔۔ 12 اپریل 2019


ماہِ شعبان میں رسول ﷺ کا طرز عمل 
 خطبہ مسجد نبوی (اقتباس) 
07 شعبان 1440 بمطابق 12 اپریل 2019
امام وخطیب: ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ
ترجمہ: شفقت الرحمٰن مغل
بشکریہ: دلیل ویب

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 07 شعبان 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "ماہِ شعبان میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان میں بہت کم روزے چھوڑتے اور زیادہ تر ایام روزوں میں گزارتے تھے، آپ صلی اللہ …

عمر احمد بنگشدریائے سندھ پر جوا

اگرچہ یہ اس دیس کی فطرت ہے لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ تا دیر سویا پڑے رہنے کا متحمل نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ وقت پاکستان کا ساتھ نہیں دے گا۔ مستقبل میں دور تک نظر دوڑائیں تو پتہ چلے گا کہ پاکستانی عوام کے بارے یہ بات اہم نہیں ہے کہ وہ کون ہیں؟ یا کس مذہب کے پیروکار ہیں؟ بلکہ اہم یہ ہے کہ وہ جو بھی ہیں۔۔۔ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان کے پیروں تلے زمین کم

April 12، 2019

اقبال جہانگیرکوئٹہ کی سبزی منڈی میں خودکش حملہ، 20 افراد جاں بحق، 48 زخمی

کوئٹہ کی سبزی منڈی میں خودکش حملہ، 20 افراد جاں بحق، 48 زخمی کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی کی سبزی منڈی میں دھماکے کے نتیجے میں ایف سی اہلکار سمیت 20  بیگناہ افراد جاں بحق اور 48 زخمی ہوگئے۔سبزی منڈی میں دھماکا اس وقت ہوا جب لوگوں کی بڑی تعداد خرید و فروخت میں مصروف … کوئٹہ کی سبزی منڈی میں خودکش حملہ، 20 افراد جاں بحق، 48 زخمی پڑھنا جاری رکھیں

April 11، 2019

عمر احمد بنگشیہ مثالی نہیں، مصالحتی ریاست ہے

اے ایف پی / بی ڈی نیوز پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ میں، اس ملک کو بنیادی اور نظریاتی طور پر بدلنے کی کئی کوششیں کی گئی ہیں۔ ان میں سے چیدہ تین ہیں، جن میں سے ایک سول اور دو فوجی ادوار میں ہوئیں۔ جنرل ایوب اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار میں جدید ریاست کا تصور پیش کرنے کی کوشش کی گئی، جس کا منبع ترک رہنما مصطفی کمال اتاترک کے نظریات سے مستعار لیا گیا تھا۔ کمال اتاترک جدت پسند، سیکولر اور ترک

April 10، 2019

کائنات بشیرجھنگ روڈ

April 09، 2019

اقبال جہانگیرحقانی نیٹ ورک کا کاروباری جہاد

حقانی نیٹ ورک کا  کاروباری جہاد حقانی نیٹ ورک کو جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ پیچیدہ اور جدید جہاد مالیات کے بنیادی ڈھانچے میں سے ایک قائم کرنے کے لئے کام کیا ہے ۔ صرف افغانستان اور پاکستان کے علاقے میں، حقانی نیٹ ورک کے سامنے آنے والے کمپنیوں کی وسیع صف کو کلیدی … حقانی نیٹ ورک کا کاروباری جہاد پڑھنا جاری رکھیں

April 07، 2019

افتخار اجمل بھوپالچھوٹی چھوٹی باتیں ۔ گفتار یا عمل ؟

کل کو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی آپ سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تم نے کیا خواب دیکھے تھے ؟ تم کیا سوچتے تھے ؟ تمہارے منصوبے کیا تھے ؟ تم نے کتنا بچا کر جمع کیا ؟ تم کیا پرچار کرتے رہے ؟ بلکہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی یہ پوچھے گا کہ تم نے […]

April 03، 2019

اقبال جہانگیربے گناہوں کا قتل

بے گناہوں کا قتل اور جس کا جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بفتویٰ شریعت)۔ اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے (کہ ظالم قاتل سے بدلہ لے) تو اس کو چاہیئے کہ قتل … بے گناہوں کا قتل پڑھنا جاری رکھیں

محمود الحققطرہ قطرہ برس

آرزوں کی خاک جب لالچ کی دھول میں اڑتی ہے تو غرض و مفاد کی کنکریاں سہانے خوابوں کی نیل گیں روشنی کو دھندلا دیتی ہے۔ ہر چہرے پہ ایک ہی عینک سے منظر صاف دکھائی نہیں دیتے جو نظر سے دھندلائے گئے ہوں۔ ایک ہی عینک سے ایک اخبار کو بہت سے لوگ پڑھ لیتے ہیں۔ عقل انسان پہاڑوں سے لڑھکتے پتھروں کی مثل پستیوں میں گر گر ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ بلندیوں کو چھونے والے پہاڑ اور پرندے مجبوری سے پستیوں میں گرتے ہیں یا اترتے ہیں۔ خواہشیں اور آرزوئیں منزل تک پہنچنے کے مقصد نہیں ہوتے۔ بادل بننے کی خواہش دل کے ارمان ہوتے ہیں …

April 02، 2019

افتخار اجمل بھوپالمیری ڈائری ۔ جا بجا بِکتے ہوئے کُوچہ و بازار میں جسم

1965, 137-138

April 01، 2019

اقبال جہانگیرمیلہ چراغاں

میلہ چراغاں یہ میلہ موسم بہار کی آمد کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ تقسیم ہند سے قبل اس میلے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میلے کا پھیلاؤ دہلی دروازے سے لے کر شالامار باغ تک ہوا کرتا تھااور زائرین کی کثیر … میلہ چراغاں پڑھنا جاری رکھیں

شعیب صفدرجب ملزم انتقال کر گیا


ہمارے ایک دوست جو اب ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ہو گئے ہیں پہلے ہماری طرح اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر (ہم اسسٹنٹ پروسیکیوٹر جنرل ہیں اب) تھے ان کی عدالت کے ایک مقدمے میں ایک ملزم اچانک غیر حاضر ہوا اور پھر کئی تاریخوں میں جب وہ پیش نہ ہوا تو اس ملزم کے وکیل نے عدالت کو ملزم کے کسی رشتے دار کے حوالے سے تحریری طور پر آگاہ کیا کہ "ملزم کے فلاح رشتے دار سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم  بنام فلاح انتقال کر گئے ہیں لہذا میرے لئے مزید اس مقدمے میں پیروی کرنا ممکن نہیں" انہوں نے یہ آگاہی درخواست  اردو میں دی (ورن …

March 29، 2019

نورمحمدجنگ تو ایک بس بہانہ ہے

جنگ تو ایک بس بہانہ ہے
مودی سرکار کو بچانا ہے
دیش کے ہندو کو مسلماں سے
دھوکا دے کے سدا لڑانا ہے
چاہے کوئی جئے، مرے، ان کو
اپنا مضبوط بُتھ کرانا ہے
ریلیاں،  جلسے وہ کرے ایسے
جیسے دھن میں کوئی دیوانہ ہے
احمقوں اور ظالموں سے نوؔر
میرے بھارت کو اب بچانا ہے
..... #نون_میم: #نؔورمحمد بن بشیر
۲ مارچ ۲۰۱۹

March 28، 2019

افتخار اجمل بھوپالچھوٹی چھوٹی باتیں ۔ انسان اور چیوٹیاں

انسان اپنے تئیں عقلِ کُل سمجھتا ہے لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ چیوٹیاں بھی انسان سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتی ہیں پلیٹ میں مارجرین ۔ low fat مارجرین اور مکھن کی ٹکڑیاں پڑی ہیں ۔ مارجرین پر چند چیوٹیاں گئی ہیں ۔ low fat مارجرین پر کوئی چیونٹی نہیں گئی جبکہ مکھن کو بہت سی […]

خاور کھوکھرجاپان کا کینگو

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 18.0px 'Geeza Pro'; min-height: 24.0px} p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: left; font: 18.0px 'Geeza Pro'} p.p3 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 18.0px Helvetica; min-height: 22.0px} span.s1 {font: 18.0px 'Lucida Grande'} span.s2 {font: 18.0px Helvetica} جاپان میں 1989ء سے “ہے سے “ نام کا گینگو (شہنشاھ سے منصوب دور

March 27، 2019

پروفیسر محمد عقیلووکیشنل ایجوکیشن اور پاکستان کا عمومی رویہ

اگر کوئی نوجوان ہمارے ملک میں الیکٹریشن بننا چاہے، کار مکینک بننا چاہے، پلمبر بننا چاہے یا اسی طرح کے کسی اور شعبے میں آنا چاہے تو اسے مارکیٹ میں بیٹھے ہوئے کسی روایتی استاد سے یہ کام سیکھنا پڑے گا۔ ویسے بھی اس طرح کے تمام شعبوں میں زیادہ تر وہی نوجوان آتے ہیں […]

نعیم اکرم ملکاندھیرے میں

درد ہے کیا بلا اندھیرے میں دیکھ آ کر ذرا اندھیرے میں وہ جو آتا نہ تھا اُجالے میں اُسکو آنا پڑا اندھیرے میں اب تو خود سے نہیں پڑھا جاتا ہم نے جو کُچھا لِکھا اندھیرے میں ہو سکے تو معاف کر دینا جو کہا، جو سُنا اندھیرے میں کوئی اُمید تو بندھے فی […]

March 26، 2019

محمود الحقاعداد کا کھیل Double math magic

ایک نئے خیال نے بہت دنوں سے ذہن میں کھلبلی مچا رکھی تھی کہ کچھ ایسا نیا ہونا چاہیئے جو اچھوتا ہو ، منفرد ہو اور مکمل بھی ہو۔ پھر وہی ہوا اچانک ایک نیا آئیڈیا دماغ میں عود کر آیا۔ سفید کاغذ پر چند آڑھی ترچھی لکیریں بنانے کے بعد مائیکروسوفٹ ایکسل پر رکھا تو وہ بنتا ہی چلا گیا۔چھ سات ماہ سے جسے پڑھا سیکھا سمجھا اور بنایا یہ اسی کا تسلسل ہےیعنی Math magic ۔ لیکن اس بار معاملہ زرا ہٹ کے ہے کیونکہ یہ ایک انوکھے، منفرد اور اچھوتے خیال کا شاخسانہ ہے۔
یہ   Double math magic  کا آئیڈیا ہے جو بنتا تو ایک ہی  

March 25، 2019

نورین تبسمترکہ

دُنیا بدبودار کیچڑ کی ایک دلدل ہے۔۔۔جس کے چھینٹے پاس سے گزرنے والےکو بھی آلودہ کر سکتے ہیں۔۔۔اس کا تعفن دورسے ہی قدم روک لیتا ہے۔اگر یہ آنکھوں دیکھی حقیقت ہے تو یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمیں اسی دُنیا میں رہنا ہے۔۔۔ ایک مقررہ وقت تک ۔۔۔ اس کی تمام ترغلاظت اورہولناکی جانتے ہوئےبھی۔ اصل بات۔۔۔ اس سے بچ کر دور بھاگنا یا اس میں قدم رکھ کر اپنے آپ کو آلودہ ہونے سے بچانا نہیں بلکہ اس کو پرکھ کر اس میں ڈوبنے سے خود کو بچانا ہے۔ توبہ کا 'آب ِزم زم' ہروقت پاس ہے لیکن آب ِزم زم کی وافر دستیابی کو جواز بنا کر …

حیدرآبادیمہاراجہ کشن پرشاد کی زندگی کے حالات - pdf download

maharaja-kishen-pershad-life-history

مہاراجہ سر کشن پرشاد
(پ: یکم/جنوری 1864 ، م:13/مئی 1940)
سابق نظام شاہی ریاست حیدرآباد (دکن) میں دو بار وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے۔ پہلی مرتبہ 1901 سے 1912 تک اور دوسری مرتبہ 1926 سے 1937 تک۔

مہاراجہ کی زندگی کا پھیلاؤ جو تقریباً اسی (80) سال تھا، ان کی تعلیم و تربیت، پیشکاری، فوج کی وزارت ، مدار المہامی (وزارت عظمی)، خانہ نشینی، صدر اعظمی اور اس کے بعد کے زمانے میں موصوف کی ہمہ گیر مصروفیتوں، دلچسپیوں، ہمدردیوں سے متعلق اہل ملک کے واسطے ایک شاندار انسانیت کا نمونہ پیش کرتا ہے۔
مہاراجہ کے جیتے …

حیدرآبادیدیوان آصف سابع میر عثمان علی - pdf Download

deewaan-e-asif-sabey
آصف سابع میر عثمان علی خاں اردو اور فارسی کے شاعر تھے گویا شاعری ان کو خاندانی وراثت میں ملی تھی وہ عثمانؔ تخلص کرتے تھے انہوں نے مشہور شاعر جلیل مانک پوری سے اصلاح لی۔ ان کے اردو کلام کے پانچ دیوان شائع ہوئے جو سالار جنگ میوزیم میں محفوظ ہیں اور ساتھ ہی فارسی کے دو دیوان بھی شائع ہوئے یعنی جملہ سات دواوین شائع ہوئے ۔ میر عثمان علی خاں کا دور اردو ادب و شاعری کا ایک روشن دور تھا انہوں نے ادیبوں اور شاعری کی بھی دل کھول کر سرپرستی کی میر عثمان علی خان کی ادبی سرپرستی کے متعلق محترمہ طیبہ بیگم …

حیدرآبادیناول عالم پناہ از رفیعہ منظور الامین - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ

alam-panah-urdu-novel-rafia-m

ناول نام : عالم پناہ
مصنفہ: رفیعہ منظور الامین
صفحات : 244
پی۔ڈی۔ایف فائل سائز: 12 ایم۔بی
ڈاؤن لوڈ لنک: نیچے دیا گیا ہے۔

رفیعہ منظور الامین - بین الاقوامی شخصیت کی حامل اردو ناول و افسانہ نگار 25/جولائی 1930 کو حیدرآباد کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں اور 30/جون 2008 کو وہ بعمر 78 سال حیدرآباد ہی میں انتقال کر گئیں۔

رفیعہ منظور الامین کی شہرت بام عروج پر اس وقت پہنچی جب ان کے تحریر کردہ ناول "عالم پناہ" کو دوردرشن سیرئیل کے طور پر 14 اقساط میں "فرمان" کے عنوان سے 1994 میں پہلی بار …

March 18، 2019

خاور کھوکھرپٹھان کی گنتی اور کاسٹک سوڈا

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: left; font: 18.0px 'Geeza Pro'} p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 18.0px 'Geeza Pro'; min-height: 24.0px} span.s1 {font: 18.0px 'Lucida Grande'} مجھے یاد ہے انیس سو اناسی میں  ہمارے ہائی سکول میں  لیبارٹرئیر  رانا ادریس تھا اور سائینس ٹیچر ماسٹر منور صاحب ،۔ ماسٹر صاحب اردو  میں بات کیا کرتے تھے ،۔ ایک دن  لیبارٹری کے پاس

زہیر عبّاساڑن طشتری - اردو سائنس فکشن ناول


اردو میں سائنس فکشن اگر نایاب نہیں تو عنقا ضرور ہے۔ میں اگر اپنے تجربے کی بات کروں تو اردو میں جو سب سے پہلی سائنس فکشن کہانی پڑھی تھی وہ ہمدرد کے ماہنامہ نونہال میں شایع ہوئی تھی۔ پچپن میں پڑھی اس کہانی کا نام تو اب یاد نہیں تاہم اس کا پلاٹ اب تک تھوڑا بہت یاد ہے۔ اس کہانی میں خلائی مخلوق زمین پر حملہ آور ہوتی ہے اور انسانوں کی شکست دے کر ان کو غلام بنا دیتی ہے۔ وہ انسانوں سے تین طرح کے کام لیتی ہے۔ کچھ کو غلام بنا کر کام کرواتی ہے، کچھ کو جانوروں کی طرح باربرداری میں استعمال کرتی ہے اور کچھ کو …

Footnotes