1857 پر غالب کی ڈائری

زیک

مسافر
میں نے ابھی ڈالرمپل کی کتاب The Last Mughal پڑھی ہے تو خیال آیا کہ ہمیں داستانبے (؟) کو بھی برقیانا چاہیئے جو غالب کی 1857 کے واقعات کے متعلق ڈائری ہے اور انگریزی میں بھی دستیاب ہے۔
 

جیہ

لائبریرین
زکریا اس کتاب کا نام دستنبو ہے اور یہ فارسی میں ہے۔ برقیانا تو چاہیے مگر اس کا اردو ترجمہ کون کرے گا؟؟
 

زیک

مسافر
ہاں ابھی کچھ تلاش کرنے سے یہی معلوم ہوا۔ مگر اس کا اردو ترجمہ بھی تو ہو گا کہ انگریزی ترجمہ تو کافی سالوں سے ہے۔
 

جیہ

لائبریرین
ہونا تو چاہیے مگر میں تو اسے پچھلے دو سالوں سے تلاش کر رہی ہوں مجھے تو کسی بھی بک شاپ سے نہ فارسی نسخہ ملا اور نہ ہی اس کا اردو ترجمہ نظر سے گزرا۔
 

قیصرانی

لائبریرین
عمدہ انتخاب ہے۔ ترجمہ بھی تلاش کر ڈالا آخر آپ نے :)۔ اگر آپ کتاب تک رسائی رکھتے ہیں تو کیوں نہ سکین کر کے دے دیں؟ باقی کام ہمارا؟
 

جیہ

لائبریرین
زکریا میں نے کتاب ڈھونڈلی ہے۔ کتاب کا نام ہے “غالب اور انقلاب 1857“ اور اس کے باب دوم جو دستنبو کے اردو ترجمے پر مشتمل ہے، کی ٹائپنگ شروع ہوچکی ہے۔ ٹائپنگ اور پروف ریڈنگ کے بعد انشاء اللہ محفل پر پوسٹ کردوں گی۔

ترجمہ رشید حسن خاں نے کیا ہے
 

ماوراء

محفلین
زبردست جیہ۔ میں نے کسی اور کو بھی اس کتاب کو ڈھونڈ کر سکین کرنے کو کہا ہوا ہے۔ اگر آپ ٹائپ کر رہی ہیں تو کیا میں ان منع کر دوں؟؟؟
 

جیہ

لائبریرین
شکریہ زکریا

شکریہ ماؤرا

ماؤرا کتاب متعدد ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ دستنو کا تعارف اور تبصرہ ہے۔ دوسرا باب ترجمے پر مشتمل ہے۔ تیسرا باب 1857 کے حوالے سے غالب کے خطوط ہیں۔ ایک باب دستنبو کے اصل نسخہ کا فارسی متن میں عکس ہے۔

میں صرف ترجمہ ٹائپ کرا رہی ہوں۔
 
کیا بات ہے جیا ۔

لگتا ہے غالب کے حوالے سے جیا نے کسی اور کو کام میں حصہ دار نہیں بننے دینا۔ ٹھیک ہے جیا مگر ہم بھی کہیں نہ کہیں انگلی کٹوا کر شہیدوں میں اپنا نام لکھوا کر ہی رہیں گے۔
 

جیہ

لائبریرین
ایسی بات نہیں محب۔ آپ ہی نے مجھے ایسے کاموں کے لیے ہمیشہ تشویق کیا ہے۔ جزاک اللہ
 
کسر نفسی سے کام لے رہی ہو جیا ورنہ تمہاری غالب دیوانگی کسے نہیں معلوم۔

ویسے ایک صاحب قتیل غالب بھی اب ہیں محفل پر دیکھیں کب ان کی نظر یہاں پڑتی ہے۔ اچھا وہ فرہنگ غالب کا کیا ہوا :)
 

جیہ

لائبریرین
فرہنگ کیا یاد دلائ ۔ میرا بھی وہی حال کردیا جو کلکتے نے غالب کا کیا تھا:


کلکتہ کا جو ذکر کیا تُو نے ہم نشیں
ِ اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے
 

محمد وارث

لائبریرین
محب علوی نے کہا:
ویسے ایک صاحب قتیل غالب بھی اب ہیں محفل پر دیکھیں کب ان کی نظر یہاں پڑتی ہے۔ اچھا وہ فرہنگ غالب کا کیا ہوا :)

محب صاحب، یاد کرنے کیلیے بہت شکریہ، ویسے میرا خیال ہے کہ کون ہے جو قتیلِ غالب نہیں ہے۔

غالب اور انقلاب ستاون بہت اچھی کتاب ہے، دستنبو تو برقیائی گئی، لیکن اس کتاب کے چار حصے ابھی باقی ہیں۔

میرے خیال میں یہ ایک تبرک ہی ہوگا، غالب کے قتیلوں کیلیے اگر یہ مکمل کتاب پیش کی جا سکے۔ آخری حصہ دستبو کی اشاعتِ اول کا عکسی متن ہے، شاید سکین کرکے کام آسکے۔
 
Top