18 سالہ افغان جنگ کا بالآخر خاتمہ، بھارت نواز اشرف غنی حکومت کی چھٹی

جاسم محمد

محفلین
18 سالہ افغان جنگ کا بالآخر خاتمہ، بھارت نواز اشرف غنی حکومت کی چھٹی
اگلے ماہ شیڈول صدارتی انتخابات ملتوی کر دیے جائیں گے، افغان طالبان اور امریکا کے درمیان حتمی معاہدہ طے پاگیا، حتمی اعلان آئندہ چند روز میں کر دیا جائے گا
1530281096_admin.jpg._1
محمد علی جمعہ 9 اگست 2019 22:28

pic_5585c_1564761757.jpg._3


کابل (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 اگست 2019ء) 18 سالہ افغان جنگ کا بالآخر خاتمہ، بھارت نواز اشرف غنی حکومت کی چھٹی، اگلے ماہ شیڈول صدارتی انتخابات ملتوی کر دیے جائیں گے، افغان طالبان اور امریکا کے درمیان حتمی معاہدہ طے پاگیا، حتمی اعلان آئندہ چند روز میں کر دیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ افغان جنگ کا بالآخر 18 سال بعد اختتام ہو گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حکومت اور افغان طالبان کے درمیان باقاعدہ امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ امریکی نے افغان طالبان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی کاپیاں افغان صدر اشرف غنی و دیگر کو فراہم کر دی ہیں۔ معاہدے کے تحت اگلے ماہ افغانستان میں شیڈول صدارتی انتخابات ملتوی کر دیے جائیں گے۔

افغان طالبان پھر سے افغانستان کے حکمراں ہو سکتے ہیں۔

مزید بتایا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت امریکا فوری طور پر افغانستان سے اپنی فوج کے مکمل انخلاء کا عمل شروع کر دے گا۔ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان طے پا جانے والے معاہدے کا باقاعدہ اعلان آئندہ چند روز میں کسی بھی وقت کر دیا جائے گا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے امریکا اور افغان طالبان کے درمیان طے پانے والا معاہدہ بھارت کیلئے زبردست دھچکا اور شکست قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے باعث بھارت کا افغانستان میں کردار نہ ہونے کے برابر رہ جائے گا۔ یہ صورتحال پاکستان کیلئے بے حد فائدہ مند ثابت ہوگی۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ افغانستان کی 18 سالہ جنگ کا جلد سے جلد اختتام چاہتے ہیں۔ ٹرمپ افغان جنگ کو ایک بے وقوفانہ اقدام قرار دے چکے ہیں۔ امریکی صدر نے افغان جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان سے مدد کی اپیل بھی کی تھی۔ اب اطلاعات ہیں کہ بالآخر 18 سال کی یہ تباہ کن جنگ واقعی اختتام پذیر ہونے والی ہے۔
 

رانا

محفلین
ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ اتنے سالوں سے افغان طالبان امریکی فوج کا مقابلہ کیسے کرتے رہے ہیں میرا مطلب ہے کہ یہ سب کچھ وسائل (اسلحہ، پیسہ وغیرہ) کے بغیر ممکن نہیں اور یہ وسائل افغان طالبان کو کہاں سے ملتے رہے ہیں؟ سویت یونین کے وقت میں تو امریکہ مدد کررہا تھا لیکن اب کیا روس کررہا ہے یا کوئی اور وجوہات ہیں؟
 

جاسم محمد

محفلین
ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ اتنے سالوں سے افغان طالبان امریکی فوج کا مقابلہ کیسے کرتے رہے ہیں میرا مطلب ہے کہ یہ سب کچھ وسائل (اسلحہ، پیسہ وغیرہ) کے بغیر ممکن نہیں اور یہ وسائل افغان طالبان کو کہاں سے ملتے رہے ہیں؟ سویت یونین کے وقت میں تو امریکہ مدد کررہا تھا لیکن اب کیا روس کررہا ہے یا کوئی اور وجوہات ہیں؟
اپنی آئی ایس آئی کی کرامات ہیں ساری :)
 

رانا

محفلین
اپنی آئی ایس آئی کی کرامات ہیں ساری :)
یہ جواب قابل قبول نہیں۔ اس پر سوال اٹھتا ہے کہ پھر امریکہ نے کبھی کھل کر کیوں نہیں کہا کہ آئی ایس آئی نے اسکا بلین ڈالرز اور فوجیوں کی جان کا نقصان کیا ہے۔ اس میں اصل سوال وسائل کا ہے اور وہ کسی مضبوط معیشت والے ملک کی طرف سے ہی مل سکتے ہیں پاکستان کی معیشت اتنی مضبوط تو ہے نہیں۔
 

رانا

محفلین
مشرف دور کا حوالہ نہ دیجئے گا۔ وہ پرانی بات ہوگئی۔ اب تو امریکہ نے حافظ سعید کو بھی اٹھوا دیا ہے زور ڈال کر تو کیا وہ ان وسائل کو بند نہیں کراسکتا تھا اسی طرح؟
 

Fawad -

محفلین
ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ اتنے سالوں سے افغان طالبان امریکی فوج کا مقابلہ کیسے کرتے رہے ہیں میرا مطلب ہے کہ یہ سب کچھ وسائل (اسلحہ، پیسہ وغیرہ) کے بغیر ممکن نہیں اور یہ وسائل افغان طالبان کو کہاں سے ملتے رہے ہیں؟ سویت یونین کے وقت میں تو امریکہ مدد کررہا تھا لیکن اب کیا روس کررہا ہے یا کوئی اور وجوہات ہیں؟


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

يہ کوئ خفيہ امر نہيں ہے کہ افغانستان ميں دہشت گرد گروہوں نے کم سن بچوں کو اپنے مقاصد کے ليے استعمال کرنے کے ليے بطور خودکش حملہ آوروں کے استعمال کرنے کو ترجيح دی ہے۔

علاوہ ازيں افغانستان ميں بعض بيرونی عناصر کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پنائ بھی ايک ايسی حقيقت ہے جس سے انکار ممکن نہيں ہے۔


نيٹو کے سابق کمانڈر امريکی جرنل نکلسن نے اس بات پر زور ديا ہے کہ خطے ميں منشيات اور دہشت گردی کی روک تھام کے مشترکہ مفاد کے حصول کے ليے امريکی کاوشوں پر روسی اقدامات منفی طور پر اثرانداز ہو رہے ہيں۔

انھوں نے اپنے بيان ميں کہا کہ "ہمارے ہيڈکوارٹر ميں افغان قائدين کی جانب سے ايسے ہتھيار لا کر دکھائے گئے ہيں جن کے بارے ميں ان کا کہنا تھا کہ يہ روس کی جانب سے طالبان کو ديے گئے ہيں۔"

يہاں يہ امر بھی ضروری ہے کہ يہ کوئ پہلا موقع نہيں ہے کہ ايک اہم امريکی فوجی افسر کی جانب سے افغانستان ميں مسلح جنگجوؤں کو روس کی خفيہ مدد کے حوالے سے خدشات کا اظہار کيا گيا ہے۔

گزشتہ برس امريکی سيکرٹری دفاع جم ميٹس نے بھی اسی قسم کے خدشات کا اظہار کيا تھا۔


علاوہ ازيں، اکتوبر 2017 میں افغان فوج کے کمانڈر محمد نصير ہدايت نے بھی اپنے بیان ميں يہی بات دہرائ کہ روس عملی طور پر افغانستان کے صوبہ فرح میں مداخلت کر رہا ہے۔

"ہم نے روسی ساخت کے بے شمار ہتھيار اپنے قبضے ميں ليے ہيں"

Russia accused of supplying Taliban as power shifts create strange bedfellows


يہ کوئ پہلا موقع نہيں ہے کہ جرنل نکلسن نے طالبان کے حوالے سے روسی حکمت عملی کو اجاگر کيا ہے۔

فروری 2017 ميں امريکی سينيٹ کی آرمڈ سروسز کميٹی کے سامنے اپنے بيان ميں انھوں نے اس معاملے کے حوالے سے اپنا واضح بيان ديا تھا۔

Why Is Russia Helping Anti-U.S. Insurgents In Afghanistan?


اس وقت جرنل نکلسن نے يہ بھی واضح کيا تھا کہ افغانستان ميں روسی آپريشنز سال 2016 سے جاری تھے۔

يہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ايران بھی افغانستان ميں کئ مسلح گروہوں کو لاجسٹک، معاشی اور اينٹيلی جنس کی مد ميں تعاون فراہم کرتا رہا ہے۔ امريکی محکمہ خزانہ نے ايران کے کئ شہريوں پر اس حوالے سے سرکاری سطح پر پابندياں بھی عائد کيں جو دہشت گرد کاروائيوں کی پشت پنائ ميں ملوث پائے گئے تھے۔

U.S. Treasury sanctions target Taliban, Iranian backers - Reuters


طالبان کے ليے ايران کی خفيہ امداد صرف امريکی حکومت کی جانب سے لگايا جانے والا الزام ہی نہيں ہے بلکہ گزشتہ برس افغان اينٹيلی جنس کے چيف نے بھی ايران اور روس کو تنبيہہ کی تھی کہ وہ طالبان کی خفيہ مدد سے باز رہيں۔

U.S. Treasury sanctions target Taliban, Iranian backers - Reuters


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
 

Fawad -

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

امريکی حکومت نے ہميشہ يہ موقف اختيار کيا ہے کہ افغانستان ميں ديرپا امن کا حصول اسی صورت ميں ممکن ہے جب اس بات کو يقينی بنايا جائے کہ خطے ميں دہشت گردی کے محفوظ ٹھکانے تشدد کے ليے استعمال نا ہو سکيں۔

امريکی سفير برائے امن زلمے خليل زاد نے اس اميد کا اظہار کيا ہے کہ موجودہ عيد وہ آخری عيد ثابت ہو گی جب افغانستان حالت جنگ ميں ہے۔

"ميں جانتا ہوں کہ افغانستان کے شہری امن کی خواہش رکھتے ہيں۔ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہيں اور ايک پائيدار اور باعزت امن معاہدے کے ليے سخت کوشش کر رہے ہيں اور ايک ايسے خودمختار افغانستان کے لیے جو کسی اور ملک کے ليے خطرہ نا ہو"۔

يہ صرف امريکی فوجی نہيں ہيں جو افغانستان ميں دہشت گرد گروہوں کے خلاف نبرد آزما ہيں۔ مقامی افغان فورسز اور سرکردہ اسلامی ممالک سميت درجنوں ممالک کی افواج عام افغان عوام کی زندگيوں کو محفوظ بنانے اور دہشت گردی کے ٹھکانوں کا قلع قمع کرنے کے ليے ہمارا ساتھ دے رہی ہيں۔ تمام فريقين کو دہشت گردی کے عالمی عفريت سے يکساں خطرات لاحق ہيں۔

جہاں تک يہ سوال ہے کہ مستقبل ميں افغانستان پر کون حکومت کرے گا تو يہ فيصلہ افغانستان کی عوام نے کرنا ہے۔

ترقی کا عمل اور عوام ميں سوچ کا ارتقاء ايسے عوامل ہيں جو نا تو امريکی فوج کی خطے ميں موجودگی کی مرہون منت ہيں اور نا ہی اس بات پر منحصر ہيں۔ ان عوامل کو وہ بنيادی انسانی جذبہ اور خواہش تقويت پہنچاتا ہے جس کے مطابق ہر انسان يہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کی اگلی نسل ايک ايسے معاشرے اور ماحول ميں پرورش پائے جو دہشت گردی اور متشدد انتہا پسندی جيسی لعنتوں سے پاک ہو۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
 

رانا

محفلین
شکر ہے کہ آپ نے آئی ایس آئی کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا۔ باقی رہا روس تو اس پر تو قطعاً بھی غصہ نہیں آنا چاہئے کہ ٹھیک اسی جگہ اسی گروہ کو آپ نے بھی روس کے خلاف ایسے ہی چھپ چھپ کر مدد دی تھی (حوالے کے لئے دیکھیں ریمبو پارٹ تھری :)

آج بھی وہی تین فریق ہیں بس روس کی جگہ آپ اور آپ کی جگہ اب روس ہے تو غصہ کس بات کا۔ دوسرے کے معاملے میں ٹانگ اڑانا آج غلط ہے تو اس وقت بھی غلط تھا۔ اس وقت روس نے ناجائز دوسرے کی زمین پر حملہ کیا تھا آج آپ نے بھی ناجائز افغانستان پر حملہ کیا ہے۔ اب آپ بھاشن دیں گے کہ ہم تو امن کے لئے کررہے ہیں تو روس بھی امن کے لئے ہی کررہا ہے۔ کیونکہ پائدار امن اسی صورت میں قائم ہوسکتا ہے جب "غیر" ملک سے آئے حملہ آور چلے جائیں۔ اور روس اس پائدار امن کے لئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ روس کا یہ موقف درست ہے یا نہیں تو اس کی درستگی پر آپ نے خود مہرتصدیق ثبت کردی طالبان کے ترلے منتیں کرکے کہ پیارے بھائی کیوں لڑتے ہو آؤ میز کرسی پر بیٹھ کر بات کرتے ہیں تم اپنا ملک سنبھالو ہم اپنا۔:)

اب آپ مزید بھاشن دیں گے لیکن آپ کے لئے ہمارے پاس وقت نہیں کہ آپ غالباً اردو محفل کی تاریخ کے واحد محفلین ہیں جنہیں یہاں مراسلے کرنے کی باقاعدہ تنخواہ ملتی ہے تو آپ کی تو فل ٹائم ڈیوٹی ہی ادھر بیٹھے رہنا ہے لیکن ہم اتنے ویلے نہیں ہیں۔ یہ بھی آپ نے ہمارا اقتباس لے لیا تو تجسس میں ادھر جھانک لیا کہ شائد ہمیں اپنے ڈپارٹمنٹ میں کوئی تگڑی قسم کی ایجنٹی ویجنٹی آفر کررہے ہوں۔:)
 
آخری تدوین:

جاسمن

مدیر
اللہ کرے کہ سب "غیرملکی" افغانستان سے چلے جائیں اور وہاں امن و سکون قائم ہو جائے۔ اللہ وہاں کے باسیوں پہ اپنا رحم فرمائے۔ آمین!
 

زین

لائبریرین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

يہ کوئ خفيہ امر نہيں ہے کہ افغانستان ميں دہشت گرد گروہوں نے کم سن بچوں کو اپنے مقاصد کے ليے استعمال کرنے کے ليے بطور خودکش حملہ آوروں کے استعمال کرنے کو ترجيح دی ہے۔

علاوہ ازيں افغانستان ميں بعض بيرونی عناصر کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پنائ بھی ايک ايسی حقيقت ہے جس سے انکار ممکن نہيں ہے۔


نيٹو کے سابق کمانڈر امريکی جرنل نکلسن نے اس بات پر زور ديا ہے کہ خطے ميں منشيات اور دہشت گردی کی روک تھام کے مشترکہ مفاد کے حصول کے ليے امريکی کاوشوں پر روسی اقدامات منفی طور پر اثرانداز ہو رہے ہيں۔

انھوں نے اپنے بيان ميں کہا کہ "ہمارے ہيڈکوارٹر ميں افغان قائدين کی جانب سے ايسے ہتھيار لا کر دکھائے گئے ہيں جن کے بارے ميں ان کا کہنا تھا کہ يہ روس کی جانب سے طالبان کو ديے گئے ہيں۔"

يہاں يہ امر بھی ضروری ہے کہ يہ کوئ پہلا موقع نہيں ہے کہ ايک اہم امريکی فوجی افسر کی جانب سے افغانستان ميں مسلح جنگجوؤں کو روس کی خفيہ مدد کے حوالے سے خدشات کا اظہار کيا گيا ہے۔

گزشتہ برس امريکی سيکرٹری دفاع جم ميٹس نے بھی اسی قسم کے خدشات کا اظہار کيا تھا۔


علاوہ ازيں، اکتوبر 2017 میں افغان فوج کے کمانڈر محمد نصير ہدايت نے بھی اپنے بیان ميں يہی بات دہرائ کہ روس عملی طور پر افغانستان کے صوبہ فرح میں مداخلت کر رہا ہے۔

"ہم نے روسی ساخت کے بے شمار ہتھيار اپنے قبضے ميں ليے ہيں"

Russia accused of supplying Taliban as power shifts create strange bedfellows


يہ کوئ پہلا موقع نہيں ہے کہ جرنل نکلسن نے طالبان کے حوالے سے روسی حکمت عملی کو اجاگر کيا ہے۔

فروری 2017 ميں امريکی سينيٹ کی آرمڈ سروسز کميٹی کے سامنے اپنے بيان ميں انھوں نے اس معاملے کے حوالے سے اپنا واضح بيان ديا تھا۔

Why Is Russia Helping Anti-U.S. Insurgents In Afghanistan?


اس وقت جرنل نکلسن نے يہ بھی واضح کيا تھا کہ افغانستان ميں روسی آپريشنز سال 2016 سے جاری تھے۔

يہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ايران بھی افغانستان ميں کئ مسلح گروہوں کو لاجسٹک، معاشی اور اينٹيلی جنس کی مد ميں تعاون فراہم کرتا رہا ہے۔ امريکی محکمہ خزانہ نے ايران کے کئ شہريوں پر اس حوالے سے سرکاری سطح پر پابندياں بھی عائد کيں جو دہشت گرد کاروائيوں کی پشت پنائ ميں ملوث پائے گئے تھے۔

U.S. Treasury sanctions target Taliban, Iranian backers - Reuters


طالبان کے ليے ايران کی خفيہ امداد صرف امريکی حکومت کی جانب سے لگايا جانے والا الزام ہی نہيں ہے بلکہ گزشتہ برس افغان اينٹيلی جنس کے چيف نے بھی ايران اور روس کو تنبيہہ کی تھی کہ وہ طالبان کی خفيہ مدد سے باز رہيں۔

U.S. Treasury sanctions target Taliban, Iranian backers - Reuters


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
امریکا یا اس کی اتحادی افواج نے گزشتہ اٹھارہ سالوں میں افغانستان میں منشیات کے اڈوں بالخصوص ہلمند صوبے میں منشیات کے بڑے بڑے مراکز کیخلاف کیا کارروائی کی؟
 

Fawad -

محفلین
امریکا یا اس کی اتحادی افواج نے گزشتہ اٹھارہ سالوں میں افغانستان میں منشیات کے اڈوں بالخصوص ہلمند صوبے میں منشیات کے بڑے بڑے مراکز کیخلاف کیا کارروائی کی؟


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

گزشتہ چند ماہ کے دوران افغان حکومت نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر طالبان کے اس مکروہ کاروبار کے خلاف مہم کا آغاز کيا ہے کيونکہ اسی کاروبار سے حاصل شدہ آمدنی کی بدولت يہ دہشت گرد گروہ عام شہريوں کے خلاف پرتشدد کاروائياں کرتے ہيں۔

ہلمند صوبے ميں حکام کی جانب سے ايک حاليہ کاروائ کے دوران منشيات کی پيداوار سے متعلق ايک فيکٹری کو تباہ کيا گيا ہے۔ اس فيکٹری سے جو سامان برآمد کيا گيا اس ميں اوپيم سے بھرے ہوئے 120 ڈرم، خالص ہيروئن سے پر 55 گيلن کے 4 بڑے ڈرم، مورفين پاؤڈر کے 150 تھيلے جو قريب 60 کلوگرام تک وزنی تھے، 5 کلوگرام کے 25 تھيلے جن ميں بھوری رنگت کی ہيروئن تھی، 50 کلوگرام وزن کے 25 تھيلے جن ميں ہيروئن سے متعلق ديگر اجزاء شامل تھے۔ علاوہ ازيں، ہيرو‏ن کی تياری ميں شامل سازوسامان بھی اس فيکٹری سے برآمد کيا گيا، جسے تلف کر ديا گيا ہے۔

ہلمند ميں طالبان کے زير انتظام منشيات کے ايک اڈے پر امريکی فضائ بمباری آپ اس لنک پر ديکھ سکتے ہيں۔

Watch as an A-10 airstrike takes out a Taliban drug lab


سب سے ہولناک بات يہ ہے کہ اس کاروائ کے دوران اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ طالبان نے اپنی معاشی مفاد کے ليے ہيروئن کی تياری کے اس سارے عمل ميں 15 مقامی افغان بچوں کو بھی استعمال کيا جو ان کی ذہنی اور جسمانی نشونما کے ليے انتہائ مضر ہے۔

خود کو آزادی کے مقدس جنگجو قرار دينے والے طالبان درح‍قيقت دنيا بھر ميں منشيات کے 85 فيصد کاروبار کے ليے ذمہ دار ہيں۔ يہ ايک غير قانونی کاروبار ہے جس کی مجموعی آمدن کا تخمينہ قريب 60 بلين ڈالرز لگايا گيا ہے اور اس معيشت ميں سے قريب 200 ملين ڈالرز طالبان کے ہاتھوں ميں جا رہے تھے۔

حاليہ ہفتوں ميں امريکی فوج نے مقامی طالبان کے زير استعمال منشيات کے بے شمار کارخانے تباہ کيے ہيں تا کہ ان کی آمدنی کے وسائل کو روکا جا سکے۔ علاوہ ازيں ہم افغان حکومت کو ہر قسم کے وسائل فراہم کر رہے ہيں تا کہ وہ مقامی کاشتکاروں کو آمدنی کے متبادل ذرائع فراہم کر سکيں۔ افغان حکومت مقامی سطح پر اس مسلئے کو حل کرنے کے ليے پرعزم ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
 

Fawad -

محفلین
آج بھی وہی تین فریق ہیں بس روس کی جگہ آپ اور آپ کی جگہ اب روس ہے تو غصہ کس بات کا۔ دوسرے کے معاملے میں ٹانگ اڑانا آج غلط ہے تو اس وقت بھی غلط تھا۔ اس وقت روس نے ناجائز دوسرے کی زمین پر حملہ کیا تھا آج آپ نے بھی ناجائز افغانستان پر حملہ کیا ہے۔ اب آپ بھاشن دیں گے کہ ہم تو امن کے لئے کررہے ہیں تو روس بھی امن کے لئے ہی کررہا ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


يہ دليل انتہائ کمزور ہے کہ روس افغانستان ميں پرتشدد گروہوں کو خطے ميں امن اور سلامتی قائم کرنے کی غرض سے ہتھيار اور وسائل فراہم کر رہا ہے۔ يہ ايک اٹل حقيقت ہے کہ ان ہتھياروں کا اکثر استعمال عام افغان شہريوں کے خلاف ہی کيا گيا ہے۔ گزشتہ دو دہائيوں کے دوران ان دہشت گرد گروہوں کی کاروائيوں سے يہ واضح ہو جاتا ہے کہ عام افغان شہريوں کی حفاظت يا ان کی بہتری نا تو روسی ترجيحات ميں شامل ہے اور نا ہی ان
مسلح گروہوں کو اس سے کوئ غرض ہے۔

افغانستان ميں اسی کی دہائ ميں روسی جارحيت کا امريکی اور نيٹو افواج کی موجودگی سے تقابل کرنا زمينی حقائق کی دانستہ نفی اور تاريخی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ روسی افواج کے برعکس ہم افغانستان ميں علاقوں پر قبضہ کرنے يا مقامی آباديوں پر حکومت کرنے کی غرض سے نہيں آئے ہيں۔

ميں يہ بھی واضح کر دوں کہ اسی کی دہائ ميں افغانستان کی صورت حال کے برعکس، ہماری فوجی کاروائ ان واقعات کے تسلسل کا ناگزير ردعمل ہے جن ميں ہماری سرزمين پر براہراست حملہ بھی شامل ہے۔ يہی وجہ ہے کہ افغانستان ميں ہماری موجودگی کی مکمل حمايت اقوام متحدہ سميت تمام عالمی برداری نے کی ہے اور اسی بدولت کئ درجن قومیں ہمارے ساتھ شامل ہيں۔ يقینی طور پر روس کے ساتھ يہ صورت حال نہيں تھی جن کے اقدام کی ہر عالمی فورم پر مذمت کی گئ۔ بلکہ حقیقت يہ ہے کہ روسی جارحيت کے دوران افغانستان ميں روس کی موجودگی پر کڑی نقطہ چينی نے مسلسل روس کو دباؤ ميں رکھا اور يہی امر سفارتی سطح پر انھيں تنہا کرنے کا سبب بھی بنا۔

اب اگر آپ اسی کی دہائ کی صورت حال کا افغانستان کی موجودہ صورت حال سے موازنہ کريں تو يہ حقیقت توجہ طلب ہے کہ افغانستان میں ہمارے مقاصد افغانستان کے عوام اور حکومت کے علاوہ پاکستان اور دنيا کے ديگر ممالک جن ميں يورپ سے آسٹريليا، روس، چين، بھارت، مشرق وسطی اور ان تمام اسلامی ممالک سے مطابقت رکھتے ہيں جہاں متعلق دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے۔

يہ ممکن نہيں ہے کہ يہ تمام ممالک اور بے شمار خود مختار عالمی تنظيميں اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے صرف اس ليے تعاون کرنے پر رضامند ہو جائيں کہ افغانستان پر قبضے کے امريکی منصوبے کو پايہ تکميل تک پہنچايا جا سکے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
 
آخری تدوین:

زین

لائبریرین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

گزشتہ چند ماہ کے دوران افغان حکومت نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر طالبان کے اس مکروہ کاروبار کے خلاف مہم کا آغاز کيا ہے کيونکہ اسی کاروبار سے حاصل شدہ آمدنی کی بدولت يہ دہشت گرد گروہ عام شہريوں کے خلاف پرتشدد کاروائياں کرتے ہيں۔

ہلمند صوبے ميں حکام کی جانب سے ايک حاليہ کاروائ کے دوران منشيات کی پيداوار سے متعلق ايک فيکٹری کو تباہ کيا گيا ہے۔ اس فيکٹری سے جو سامان برآمد کيا گيا اس ميں اوپيم سے بھرے ہوئے 120 ڈرم، خالص ہيروئن سے پر 55 گيلن کے 4 بڑے ڈرم، مورفين پاؤڈر کے 150 تھيلے جو قريب 60 کلوگرام تک وزنی تھے، 5 کلوگرام کے 25 تھيلے جن ميں بھوری رنگت کی ہيروئن تھی، 50 کلوگرام وزن کے 25 تھيلے جن ميں ہيروئن سے متعلق ديگر اجزاء شامل تھے۔ علاوہ ازيں، ہيرو‏ن کی تياری ميں شامل سازوسامان بھی اس فيکٹری سے برآمد کيا گيا، جسے تلف کر ديا گيا ہے۔

ہلمند ميں طالبان کے زير انتظام منشيات کے ايک اڈے پر امريکی فضائ بمباری آپ اس لنک پر ديکھ سکتے ہيں۔

Watch as an A-10 airstrike takes out a Taliban drug lab


سب سے ہولناک بات يہ ہے کہ اس کاروائ کے دوران اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ طالبان نے اپنی معاشی مفاد کے ليے ہيروئن کی تياری کے اس سارے عمل ميں 15 مقامی افغان بچوں کو بھی استعمال کيا جو ان کی ذہنی اور جسمانی نشونما کے ليے انتہائ مضر ہے۔

خود کو آزادی کے مقدس جنگجو قرار دينے والے طالبان درح‍قيقت دنيا بھر ميں منشيات کے 85 فيصد کاروبار کے ليے ذمہ دار ہيں۔ يہ ايک غير قانونی کاروبار ہے جس کی مجموعی آمدن کا تخمينہ قريب 60 بلين ڈالرز لگايا گيا ہے اور اس معيشت ميں سے قريب 200 ملين ڈالرز طالبان کے ہاتھوں ميں جا رہے تھے۔

حاليہ ہفتوں ميں امريکی فوج نے مقامی طالبان کے زير استعمال منشيات کے بے شمار کارخانے تباہ کيے ہيں تا کہ ان کی آمدنی کے وسائل کو روکا جا سکے۔ علاوہ ازيں ہم افغان حکومت کو ہر قسم کے وسائل فراہم کر رہے ہيں تا کہ وہ مقامی کاشتکاروں کو آمدنی کے متبادل ذرائع فراہم کر سکيں۔ افغان حکومت مقامی سطح پر اس مسلئے کو حل کرنے کے ليے پرعزم ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
آپ چند ہفتوں کی بات کررہے ہیں جبکہ امریکہ اٹھارہ سالوں سے افغانستان میں موجود ہے

امریکا نے ان اٹھارہ سالوں میں منشیات کی فیکٹریوں کیخلاف بہت محدود کارروائی کی ہے
 
Top