15 سال بعد پاکستانی ایف-16 کا حادثہ

عسکری

معطل
پاکستان ائیر فورس کا ایک ایف-16 اے طیارہ گر کر تباہ ہوا ہے


f16-pakistan.jpg


یہ 15 سال بعد کسی پاکستانی ایف-16 کا حادثہ ہوا ہے رات کے تربیتی مشن پر پر نکلنے والے 9 ایف سولہ میں سے ایک کو نور پور گاؤں جو کہ سرگودھا کے جنوب مغرب میں 105 کلو میٹر پر واقع ہے یہ حادثہ پیش آیا ۔پائلٹ سکورڈن لیڈر سعود غلام نبی کو بار بار جہاز چھوڑنے کا کہا گیا پر انہوں نے اسے گوارا نا کیا اور جہاز کے ساتھ جان بحق ہو گئے ۔حب الوطنی سے سرشار سکوارڈن لیڈر نے اپنی جان کی بازی پاکستان کے نہایت ہی قیمتی اثاثے ایف -16 کو بچانے کی خاظر لگائی جو وہ ہار گئے ۔حادثے کی تحقیقات کے لیے ائیر فورس نے کمیٹی تشکیل دے دی ہے آخری ایف سولہ بلاک 15 سیریل نمبر 82701 22 اکتوبر 1994 کو انجن فیل کی وجہ سے تباہ ہوا تھا۔پاکستان کے پاس اس وقت 43 ایف سولہ ہیں اور 18 نئے 2010 میں شامل ہوں گے
f_16Loss.jpg
 

عسکری

معطل
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق

16 جولائی رات 10 بجے پاکستان ائیر فورس کے نائٹ ائیر کامبٹ پٹرولنگ کے لیے روزانہ کی طرح معمول کی پرواز کے لیے 9 ایف 16 طیاروں نے نمبر 11 سکواڈرن ARROWSکی طرف سے سرگودھا ائیر بیسسے ٹیک آف کیا


aad.jpg

نمبر 11 سکوڈرن بیج


ان میں 7 طیارے ایف 16 اے اور 2 طیارے ایف 16 بی ٹائپ کے تھے ائیر مینوں نے رن وے اپروچ تک جہازوں کو ٹیکسی وے پر بھی جہازوں کو معمول کی چیکنگ کی اور دن کو بھی ائیر مینز نے طیاروں کی
CFITچیک اپ کی تھی جس میں طیاروں کے 100 سے زیادہ حصوں کو کمپیوٹروں اور مینوئلی اور دوسرے آلات سے چیک کیا جاتا ہے جس میں تمام طیارے بالکل ٹھیک تھے ایف 16 اے طیاروں پر فضائی دفاع کے ہتھیار نصب کیے گئے جب کہ ایف 16 بی پر فضا سے زمین پر استمال ہونے والے ہتھیاروں کو لوڈ کیا گیا تھا۔ ان طیاروں نے مشرقی بارڈر کی نگرانی کرنی تھی۔

F16HotPad.jpg


پرواز کے 1 گھنٹے تک کوئی مسئلہ نہیں تھا تمام طیارے اپنے اپنے سیکٹروں پر پرواز کرتے رہے ۔ جب ان میں سے 3 طیارے واپس سرگودھا کی طرف ریفیولنگ کے لیے لوٹ رہے تھی تو سکواڈرن لیڈر سعود غلام نبی کے ایف سولہ نمبر84709 ایف 16 کے انجن میں فنی خرابی کی وجہ سے دھواں نکلنا شروع ہوا تو سکواڈرن لیڈر نے انجن کو آفٹر برن سے کم کر کے 2-2 پر ال دیا اور ساتھ میں آٹومیٹک فائر فائٹنگ سسٹم ان کر دیا وائرلیس پر کنٹرول روم کو اطلاع بھی کر دی کنٹرول روم میں موجود جی او سی اور بیس کمانڈر نے سکواڈرن لیڈر کو فورا طیارا چھوڑنے کا کہا پر سکواڈرن لیڈر نے انہیں بار بار تسلی دی کہ وہ اس کو 150 کلو میٹر مزید پرواز میں رکھ کر سرگودھا لینڈ کرا دیں گے ان کے اس اعتماد کی وجہ ان کا تجربہ تھا انہوں نے 3 اپریل 2006 کو ایک ایسے ہی خطرناک کام کو انجام دیتے ہوئے ایک فیول ٹینک کے خراب ہونے پر دوسرے فیول ٹینک کے ساتھ ایمر جنسی لینڈ کر کے ایک طیارے کو بچایا تھا۔انجن سے دھواں زیادہ ہوتا گیا پر سکوڈرن لیڈر اپنی بات پر قائم رہے کہ وہ طیارے کو واپس اتاریں گے سرگودھا سے 105 کلومیڑ دورموضع عوان والا خوشاب ڈسٹرکٹ کے اپر پہنچ کر انجن مکمل فیل ہو گیا اور طیارہ کوئی 17 سیکینڈز میں زمین سے جا ٹکرایا۔ حادثے کے بعد پاکستان ائیر فورس کی ریسکیو ٹیمیں ہیلی کاپٹروں پر موقع پر روانہ ہوئی اور بلیک باکس اور شہید کو جہاز سے نکالا اگر وہ چاہتے تو 3 سیکنڈز میں جہاز چھوڑ سکتے تھے پر انہوں نے اجیکشن سیٹ کے لیور کو استمال کرنے کی بجائے طیارے کو بچانے کی آخری وقت تک کوشش کی واضع رہے طیارے میںF100-PW-200 انجن لگا ہوا تھا جن کو تبدیل کرنے کا کنٹریکٹ پاکستان نے امریکہ کو 2005 میں دیا ہے اب تک 7 طیاروں کو نئے مادل کے F100-PW-229 اینجن لگ چکے ہیں۔

8_1_IMG_0888.jpg




84709 کی 2007 میں لی گئی ایک تصویر
ان کا موجودہ ایف 16 بلاک 15کیو
TV-5-9
peace gate-2
code 84709
یہ طیارہ 2 مئی 1982 کو پاکستان کو امریکہ کی طرف سے دیا گیا تھا


شہید سکواڈرن لیڈر سعود غلام نبی

saudghulamnabi01.jpg


saudghulamnabi02.jpg
 

وجی

لائبریرین
عبداللہ صاحب شاید یہ طیارہ 1982 کو پاکستان کے حوالے کیا گیا ہوگا کچھ درستگی کی ضرورت ہے
اللہ سعود غلام بنی شہید کو جزائے خیر دے آمین
 

عسکری

معطل
میں نے تاریخ سمیت لکھا ہے جناب عالی اس میں کیا درستگی کروں

یہ طیارہ 2 مئی 1982 کو پاکستان کو امریکہ کی طرف سے دیا گیا تھا

1882 کو جہاز نہیں بنے تھے ابھی
 
Top