’’چلتن ایکسپریس‘‘

اسد جعفری
اذیت ناک اس گاڑی کا اندازِ روانی ہے
بڑی دلدوز اس کے ہر مسافر کی کہانی ہے
سفر کی ہر صعوبت اک بلائے نا گہانی ہے
نہ روٹی ہے نہ سالن ہے نہ چائے ہے نہ پانی ہے
یہ ڈیزل کی بجائے ہر قدم پر جان کھاتی ہے
جوانی آدمی کی راستے میں بیت جاتی ہے

یہاں ایمان کی دولت بھی ہے اک جنسِ بے مایہ
نکل جاتا ہے ہر اک دل سے غمخواری کا سرمایہ
حقیقت میں یہ راز اب تک سمجھ کوئی نہیں پایا
گیا اک بار جو بیت الخلا میں پھر نہیں آیا
جو تھی جائے فراغت بن گئی جائے اماں شاید
یہی ہے گوشہ محفوظ زیرِ آسماں شاید

ترس آتا ہے رہ رہ کر مجھے ان ناتوانوں پر
پڑے ہیں بوجھ بن کے جو تھکے ہارے جوانوں پر
سلاخوں سے چمٹ کر جو کھڑے ہیں پائیدانوں پر
ہیں ان کی خانہ بربادی کے قصے آسمانوں پر
ہر اک جھٹکے پہ ٹانگیں کانپتی ہیں دم نکلتا ہے
سنبھل کر کوئی گرتا ہے کوئی گر کر سنبھلتا ہے​
 
ہمیں اسد جعفری کے تخیل نے جو سوار کر دیا یہی کافی ہے ویسے آج کل تو میرے خیال میں چلتی بھی نہیں ہے چلتن ایکسپریس
اچھا۔۔۔
جہاں تک مجھے یاد ہے،پہلے 3 ٹرینیں کوئٹہ سے پنجاب اور کے پی کے آیا کرتی تھی، چلتن، کوئٹہ اور شاید ایک کا نام اباسین تھا ۔۔!!! اب یہ تینوں نہیں چلتیں۔
کسی زمانے میں ہم نے بھی اس میں سفر کیا تھا۔ کوئٹہ سے لاہور تک
 
Top