’گوگل کی خود کارگاڑیوں کوحادثات سے بچانا پڑا‘

arifkarim

معطل
’گوگل کی خود کارگاڑیوں کوحادثات سے بچانا پڑا‘

150705134256_google_car_640x360_getty_nocredit.jpg

ستمبر سنہ 2014 سے لے کر نومبر سنہ 2015 کے درمیانی عرصے میں گوگل کی خود کار گاڑیوں کو 13 مرتبہ ڈرائیورز نے بچایا۔
یہ انکشاف تب ہوا جب ایک مقامی ریگولیٹر نے کمپنی سے مزید معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس کے علاوہ چھ دیگر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے بھی اپنی خود کار گاڑیوں سے ہونے والے حادثات کی معلومات فراہم کی ہیں۔

گوگل خود کار گاڑیاں بنانا چاہتا ہے لیکن کیلیفورنیا میں قائم صارفین کو مانیٹر کرنے والے ادارے ’کنزیومر واچ ڈاگ‘ کا کہنا ہے کہ کمپنی سے جاری ہونے والے اعداد و شمار اس کے اپنے ہی موقف کو کمزور بناتے ہیں۔
پرائیویسی پروجیکٹ کے ڈائریکٹر جان سمپسن نے کہا ’گوگل ایک ایسی گاڑی بنانے کی تجویز کیسے پیش کر سکتا ہے جس کا نہ کوئی سٹیرنگ ویل ہو، نہ بریکس اور نہ ہی کوئی ڈرائیور؟‘
کنزیومر واچ ڈاگ کی جانب سے جاری ہونے والی 32 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ کے مطابق کیلیفورنیا کی سڑکوں پر یہ خودکار گاڑیاں 15 ماہ کے لیے چلائی گئی تھیں جس عرصے کے دوران:

  • گوگل نےگاڑیوں کو 424,331 میل کے لیے خودکار طور پر چلایا۔
  • کچھ 272 ایسے واقعات پیش آئے جن میں گاڑیوں کے سافٹ ویئر ’ناکام‘ ہوگئے جس کے بعد ڈرائیورز کو سٹیرنگ ویل خود سنبھالنا پڑے۔
  • دو الگ واقعات میں گاڑیاں ٹریفک کونز میں جا ٹکرائیں تھیں۔
151218152040_google_car_624x351_getty_nocredit.jpg

رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے ’حادثات کے واقعات بہت کم پیش آئے ہیں اور ہمارے انجینیئرز نے ان کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد سافٹ ویئر کو بہتر بنایا ہے تاکہ یہ خودکار گاڑیاں صحیح طریقے سے چل سکیں۔‘
رپورٹ کے مطابق ’اپریل سنہ 2015 سے لے کر نومبر سنہ 2015 تک ہماری خودکار گاڑیوں نے بنا کسی حادثے کے 230,000 میل کا سفر طے کیا تھا۔‘
گوگل کے برعکس خودکار گاڑیاں بنانے والی کئی دیگر کمپنیوں نے ’کیلیفورنیا ڈیپارٹمینٹ آف موٹر وہیکلز‘ میں ’گاڑیوں کے حادثوں کی رپورٹس‘ میں کم تفصیل ظاہر کی تھی۔
ماخذ


 
آخری تدوین:

محمد سعد

محفلین
پیدل چلو ماڑا! ٹائر پھٹنے یا انجن میں آگ لگنے کا خطرہ بھی نہیں رہے گا۔ یہ سالا گاڑی تو ہے ہی بے کار چیز۔ ;)
 

arifkarim

معطل
اتنے میل اگر انسان ڈرائیو کر رہے ہوتے تو کتنے حادثے ہوتے اور کتنے لوگ مرتے؟
کیا انسانوں کے سافٹویر بھی ایسے ہی ناکام ہو جاتے ہیں:
کچھ 272 ایسے واقعات پیش آئے جن میں گاڑیوں کے سافٹ ویئر ’ناکام‘ ہوگئے جس کے بعد ڈرائیورز کو سٹیرنگ ویل خود سنبھالنا پڑے۔
 

arifkarim

معطل
پیدل چلو ماڑا! ٹائر پھٹنے یا انجن میں آگ لگنے کا خطرہ بھی نہیں رہے گا۔ یہ سالا گاڑی تو ہے ہی بے کار چیز۔ ;)
آپ کہاں سے آج سائنسی سیکشن میں نظر آ گئے۔ کئی دنوں سے آپ سے سائنسی اغلاط درست کروانے کیلئے بلواتا رہا ہوں۔
 

arifkarim

معطل
ایک بار پھر آپ کی بات سمجھ سے باہر ہے۔ انسانوں کی توجہ ہٹ جاتی ہے یا اور کوئی گڑبڑ کرتے ہیں اور حادثات موت کی ایک اہم وجہ ہے۔
آپکی بات درست ہے۔ البتہ سافٹوئیر ایرر بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ایسی ہنگامی صورت میں اگر ڈرائیور بروقت کار کو خود قابو نہ کرے تو حادثہ ہو سکتا ہے۔
 

محمد سعد

محفلین
آپکی بات درست ہے۔ البتہ سافٹوئیر ایرر بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ایسی ہنگامی صورت میں اگر ڈرائیور بروقت کار کو خود قابو نہ کرے تو حادثہ ہو سکتا ہے۔
دونوں کو ساتھ رکھنے میں حرج کیا ہے؟
انسانی ڈرائیور کی موجودگی میں بھی سامنے کی سیٹ پر بیٹھا شخص کسی حد تک معاون ڈرائیور کا کردار ادا کر ہی رہ ہوتا ہے۔
 

زیک

مسافر
آپکی بات درست ہے۔ البتہ سافٹوئیر ایرر بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ایسی ہنگامی صورت میں اگر ڈرائیور بروقت کار کو خود قابو نہ کرے تو حادثہ ہو سکتا ہے۔
سافٹویر فیلر کی تفصیل بھی پڑھیں۔ ان میں کچھ دیگر ڈرائیورز کے جارحانہ ڈرائیونگ کی وجہ سے بھی ہیں۔ ویسے بھی ابھی ڈرائیورلیس کار آنے میں وقت ہے
 

محمد سعد

محفلین
کچھ میری مدد کریں محفلین کو باور کرانے میں کہ سائنسی لڑی اصل پیپر کے لنک کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔
اس کو کچھ اس انداز میں بھی بیان کیا جا سکتا ہے۔ ایک عمومی اخبار جب سائنس کی خبر لگاتا ہے تو اس کا کردار صرف توجہ دلانے کا ہوتا ہے کہ کوئی دلچسپ کام ہوا ہے۔ اب اگر آپ اس میں مزید دلچسپی لیتے ہیں یا اس پر کہیں گفتگو کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اصل ماخذ تک تو جانا ہی پڑے گا۔ بصورت دیگر عین ممکن ہے کہ آپ جس نئی آفت پر دھواں دار بحثیں کر رہے ہوں، اس کا کہیں وجود ہی نہ ہو۔

خیر۔۔ مجھے زیادہ امید تو نہیں۔ اگر آپ بہت وسیع موضوعات کو ایک ہی عمومی فورم میں ڈال دیں گے تو کم ہی امکان ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کے ساتھ کوئی انصاف ہو پائے گا۔ ویسے ہی جیسے عمومی اخبار میں سائنس و ٹیکنالوجی کی خبروں کے ساتھ "زیادتی" ہوتی ہے۔ اخبار کے پاس تو حل یہ ہے کہ مستقل بنیاد پر کئی افراد تنخواہ پر رکھے کہ وہ تحاریر اور خبروں کے معیار کو قائم رکھیں (یہ الگ بات کہ کوئی ایسا کرتا نہیں)۔ ویب فورم البتہ زیادہ تر رضاکارانہ بنیادوں پر چلتے ہیں۔ ان کے پاس پھر سب سے آسان حل یہ بچتا ہے کہ اپنے سکوپ کو مخصوص موضوعات تک محدود کر لیں یا پھر ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے لوگ لائیں جو اپنا وقت اور توانائی معیار سازی کے کام میں لگانے میں خوشی محسوس کریں۔
 
آخری تدوین:

زیک

مسافر
اس کو کچھ اس انداز میں بھی بیان کیا جا سکتا ہے۔ ایک عمومی اخبار جب سائنس کی خبر لگاتا ہے تو اس کا کردار صرف توجہ دلانے کا ہوتا ہے کہ کوئی دلچسپ کام ہوا ہے۔ اب اگر آپ اس میں مزید دلچسپی لیتے ہیں یا اس پر کہیں گفتگو کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اصل ماخذ تک تو جانا ہی پڑے گا۔ بصورت دیگر عین ممکن ہے کہ آپ جس نئی آفت پر دھواں دار بحثیں کر رہے ہوں، اس کا کہیں وجود ہی نہ ہو۔

خیر۔۔ مجھے زیادہ امید تو نہیں۔ اگر آپ بہت وسیع موضوعات کو ایک ہی عمومی فورم میں ڈال دیں گے تو کم ہی امکان ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کے ساتھ کوئی انصاف ہو پائے گا۔ ویسے ہی جیسے عمومی اخبار میں سائنس و ٹیکنالوجی کی خبروں کے ساتھ "زیادتی" ہوتی ہے۔ اخبار کے پاس تو حل یہ ہے کہ مستقل بنیاد پر کئی افراد تنخواہ پر رکھے کہ وہ تحاریر اور خبروں کے معیار کو قائم رکھیں (یہ الگ بات کہ کوئی ایسا کرتا نہیں)۔ ویب فورم البتہ زیادہ تر رضاکارانہ بنیادوں پر چلتے ہیں۔ ان کے پاس پھر سب سے آسان حل یہ بچتا ہے کہ اپنے سکوپ کو مخصوص موضوعات تک محدود کر لیں یا پھر ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے لوگ لائیں جو اپنا وقت اور توانائی معیار سازی کے کام میں لگانے میں خوشی محسوس کریں۔
انگریزی میں ہمارے پاس سورسز زیادہ ہیں اس لئے معتبر خبر ڈھونڈی جا سکتی ہے۔ اردو میں یہ سہولت نہیں۔ خود سے مطالعہ اور سمجھ کر ترجمہ کرنا آسان نہیں اور نہ ہر کوئی کر سکتا ہے۔ مگر میں ان مشکل کاموں کی بات نہیں کر رہا۔ محص یہ کہہ رہا ہوں کہ ایک دو منٹ گوگل کے کے اصل ریسرچ کا لنک شامل کریں۔ آجکل اکثر معتبر انگریزی اخبار یہ کرتے ہیں۔
 

محمد سعد

محفلین
انگریزی میں ہمارے پاس سورسز زیادہ ہیں اس لئے معتبر خبر ڈھونڈی جا سکتی ہے۔ اردو میں یہ سہولت نہیں۔ خود سے مطالعہ اور سمجھ کر ترجمہ کرنا آسان نہیں اور نہ ہر کوئی کر سکتا ہے۔ مگر میں ان مشکل کاموں کی بات نہیں کر رہا۔ محص یہ کہہ رہا ہوں کہ ایک دو منٹ گوگل کے کے اصل ریسرچ کا لنک شامل کریں۔ آجکل اکثر معتبر انگریزی اخبار یہ کرتے ہیں۔
ہاں اتنی سی زحمت تو کی ہی جا سکتی ہے۔ خبر پیسٹ کرنے کے دو سیکنڈ کے ساتھ ماخذ تلاش کرنے کے دو منٹ شامل کر لینے میں حرج ہی کیا ہے۔ :)
 

arifkarim

معطل
ہاں اتنی سی زحمت تو کی ہی جا سکتی ہے۔ خبر پیسٹ کرنے کے دو سیکنڈ کے ساتھ ماخذ تلاش کرنے کے دو منٹ شامل کر لینے میں حرج ہی کیا ہے۔ :)
میں عام طور پر ماخذ ساتھ دیتا ہوں البتہ ہر دفعہ زیک بھائی کی طرح اویجنل ماخذ دینا ممکن نہیں ہوتا۔
 
Top